مکاتیب مودودی حصہ اول
اشاعت: 1970ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مکاتیب مودودی" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ان غیر شائع شدہ خطوط کا ایک جامع مجموعہ ہے جو مختلف افراد کے نام لکھے گئے اور جن کا تعلق دینی، فکری، سماجی، اخلاقی اور عملی زندگی کے پیچیدہ مسائل سے ہے۔ یہ خطوط محض ذاتی مراسلت تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع دائرۂ کار میں قارئین کی رہنمائی، بصیرت اور تربیت کا ذریعہ ہیں۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مولانا مودودی کے فکری و عملی رویّے کے وہ پہلو منظرِ عام پر آئیں جو ان کی تصنیفات میں ممکنہ طور پر چھپے رہ گئے ہوں، خصوصاً وہ جوابات جو ماہنامہ "ترجمان القرآن" میں شائع نہ ہو سکے تھے۔
کتاب کا آغاز تقریظ اور عرضِ مرتب سے ہوتا ہے، جو مجموعے کی اشاعت کے پس منظر، اہمیت اور ترتیب کے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کے بعد مولانا مودودی کے خطوط کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، جس میں وہ قرآن مجید کے بارے میں ایک اہم نکتہ واضح کرتے ہیں کہ قرآن نے کائناتی حقائق کو اپنے زمانے کے عام آدمی کی عقلی گرفت کے مطابق بیان کیا ہے، نہ کہ کسی خاص دور کے علمی نظریات کے قالب میں جمایا ہے۔ اسی تناظر میں وہ لفظ ’أیم‘ کی تحقیق کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ صرف عورت تک محدود نہیں بلکہ بغیر شادی کے مرد پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو علمی تحقیق کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
مولانا عمر کی مقررہ مقدار کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی عمر کا تعین کرتا ہے اور انسان کو یہ معلوم نہیں، لہٰذا کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے اپنی کوششوں سے عمر بڑھا لی ہے۔ خطوط کا یہ سلسلہ آگے چل کر کسی ایک موضوع تک محدود نہیں رہتا بلکہ ملک کے کونے کونے سے اور بیرونِ ملک (برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جرمنی، نائیجیریا اور سعودی عرب سمیت) سے موصول ہونے والے متنوع استفسارات کے جوابات پر مشتمل ہو جاتا ہے۔ ان میں تفسیری و فقہی سوالات، انفرادی رہنمائی اور روحانی مسائل کے علاوہ جماعتِ اسلامی سے متعلق سوالات اور اس دور کے سیاسی و سماجی معاملات پر مولانا کے تبصرے بھی شامل ہیں۔ ہر خط اپنے مکتوب الیہ کے مخصوص سوال کے تناظر میں لکھا گیا ہے، اس لیے کتاب کا امتیاز موضوعی وحدت میں نہیں بلکہ مولانا کے وسیع دائرہ کار اور ہر نوعیت کے استفسار پر تفصیلی، مدلل جواب دینے کے اسلوب میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
۱۵۶: بنام پوپ پال ششم
دسمبر ۱۹۶۰ء میں رومن کیتھولک چرچ کے پوپ کا ایک پیغام جو تمام دنیا کی دینی جماعتوں کے سربراہوں کے نام جاری کیا گیا تھا، مولانا محترم کو بھی وصول ہوا تھا۔ اس کے لیے مولانا محترم نے جو جواب دیا تھا وہ ترجمان القرآن باہمت فروری ۶۱ء میں شائع ہوا تھا! بشکریہ ترجمان القرآن اس مجموعے میں شائع کیا جا رہا ہے۔ (مرتب)
ڈیر پوپ پال ششم [خط انگریزی میں تھا اور ان الفاظ میں مکتوب الیہ کو خطاب کیا گیا تھا]۔
چند روز پہلے مجھے ڈاکٹر آر اے بٹلر، ڈائرکٹر لُویُولا ہال، لاہور کے توسط سے، آپ کا وہ نہایت قابل قدر پیغام پہنچا جس میں آپ نے نئے سال کا آغاز ایک یومِ کی تقریب سے کرنے کی اپیل کیتھولک چرچ کے معتقدین کے علاوہ تمام دنیا کے بڑے بڑے ادیان کے پیرووں اور تمام نیک خواہشات رکھنے والے لوگوں سے کی تھی۔ اس پیغام کے متعلق میں اپنے خیالات آپ تک جلدی پہنچانا چاہتا تھا، مگر رمضان اور عید الفطر کی مصروفیات میں مانع رہیں۔ اب پہلی فرصت میں، میں آپ کو خطاب کر رہا ہوں۔
میں آپ کو اس بات پر مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ نے اپنے ایک ایسے مقصد کی طرف دنیا کے انسانوں کو دعوت دیجی جو سب کا مشترکہ مقصد ہے، اور ساتھ ساتھ ان اہم اسباب کی نشاندہی بھی کی جو اس مقصد کے حصول میں سدِ راہ ہیں۔ فی الحقیقت امن ان اولین بنیادی ضروریات میں سے ہے جن پر نوع انسانی کی فلاح و بہبود کا انحصار ہے مگر اس کی خواہش اور اس کی ضرورت کا احساس رکھنے کے باوجود جن وجوہ سے انسان ہمیشہ اس سے محروم ہوتا رہا ہے اور آج بھی محروم ہے وہ وہی وجوہ ہیں جن میں سے اکثر کی طرف آپ نے صحیح طور پر دنیا کے لوگوں کو توجہ دلائی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک عملاً انھیں رفع کرنے کے لیے کچھ نہ کیا جائے گا محض پاکیزہ خواہشات اور تمناؤں کے اظہار سے کوئی امن دنیا کو میسر نہ آسکے گا۔ اس بناء پر میرے نزدیک یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص قوم، مجموعۂ اقوام اور پیروانِ مذہب کا گردہ پورے خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ خود اپنا محاسبہ کر کے دیکھے کہ اس کی اپنی کوتاہیاں کیا ہیں جو اس کے ابنائے نوع کو، اور بالآخر خود اس کو امن سے محروم کرنے کی موجب ہوتی ہیں، اور جہاں تک بھی اس کے امکان میں ہیں ان کو رفع کرنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح ہم میں سے ہر ایک کو پوری صاف گوئی کے ساتھ اصلاح کی نیت سے، نہ کہ تلخی پیدا کر اور بڑھانے کے لیے، دوسرے گروہوں کے نیک نیت لوگوں تک یہ بات پہنچانی چاہیے کہ ان کے طرز عمل میں کیا چیزیں ایسی ہیں جو اس کے گروہ کے لیے موجب اذیت ہوتی ہیں تاکہ وہ انھیں رفع کرنے کی کوشش کر سکیں۔
ٹھیک اسی غرض کے لیے میں آپ کو چند ایسے امور کی طرف توجہ دلا رہا ہوں جو مسلمانوں کے لیے اپنے مسیحی بھائیوں سے وجہ شکایت ہیں تاکہ کیتھولک چرچ کے پیشوائے اعظم ہونے کی حیثیت سے جو غیر معمولی اثر و رسوخ آپ کو مسیحی دنیا میں حاصل ہے اس سے کام لے کر آپ اُن کی اصلاح کے لیے سعی فرمائیں۔ اور میں اس بات کا خیر مقدم کروں گا کہ ہمارے مسیحی بھائیوں کے لیے ہمارے طرزِ عمل میں اگر کوئی چیز معقول وجہ شکایت ہو تو وہ ہمیں بتائی جائے۔ ہم انشاء اللہ ان کو رفع کرنے کی کوشش میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں گے۔ دنیا میں امن اور صلح و آشتی کی فضا پیدا کرنے میں ہم سب اسی طرح مددگار بن سکتے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ انصاف کریں۔ دوسروں سے فیاضانہ سلوک کرنے کی فراخ حوصلگی اگر ہم میں موجود نہ بھی ہو تو کم از کم اتنا تو ہو کہ دوسروں کی حق تلفی کرنے یا ان کو اذیت دینے سے تو ہم باز رہیں۔
مسیحی بھائیوں کے طرزِ عمل میں جو امور کسی ایک ملک یا قوم کے نہیں، پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے وجہ شکایت ہیں، انھیں میں کسی لاک لپیٹ کے بغیر مختصراً آپ سے بیان کیے دیتا ہوں۔
1: ایک مدت دراز سے مسیحی اہلِ علم اپنی تحریروں اور تقریروں میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن اور اسلام پر جو حملے کر رہے اور آج بھی جن کا سلسلہ جاری ہے، وہ مسلمانوں کے لیے انتہائی موجب اذیت ہیں۔ میں "حملے" کا لفظ قصداً استعمال کر رہا ہوں، تاکہ آپ کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ہماری شکایت معقول علمی تنقید کے خلاف ہے۔ علمی تنقید اگر دلیل کے ساتھ اور تہذیب و شائستگی کے حدود میں ہو تو خواہ وہ کیسے ہی سخت اعتراضات پر مشتمل ہو، ہم اس پر بُرا نہیں مانتے بلکہ اس کا نیز مقدم کرتے ہیں اور دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن ہمیں بجاطور پر شکایت ان حملوں کے خلاف ہے جو جھوٹے اور کذب و الزامات کی صورت میں اور نہایت دل آزار زبان میں کیے جاتے رہے اور اب تک کیے جا رہے ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، وہ حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتہائی ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہیں اور ان کے متعلق کوئی خلافِ ادب بات زبان سے نکالنا ہمارے عقیدے میں کفر ہے۔ آپ کو کوئی مثال ایسی نہیں پا سکتے کہ کسی مسلمان نے کبھی سیدنا مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ کی شان میں کوئی بے ادبی کی ہو۔ اگرچہ ہم حضرت مسیح کی اُلوہیت کے قائل نہیں ہیں، مگر ان کی نبوت پر ہمارا ویسا ہی ایمان ہے جیسا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ہے، اور کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُن پر اور دوسرے انبیاء پر بھی ایمان نہ لائے۔ اسی طرح ہم صرف قرآن ہی کو نہیں بلکہ تورات اور انجیل کو بھی خدا کی کتابیں تسلیم کرتے ہیں اور کوئی مسلمان ان مقدس کتابوں کی توہین کا خیال بھی نہیں کر سکتا۔ ہماری طرف سے اگر کبھی کوئی بحث ہوتی ہے تو اس حیثیت سے ہوتی ہے کہ بائیبل جس مشکل میں اب پائی جاتی ہے یہ کہاں تک مستند ہے، اور یہ بحث خود مسیحی علماء بھی کرتے رہتے ہیں۔ کسی مسلمان نے کبھی اس کا انکار نہیں کیا کہ حضرت موسیٰ و عیسیٰ اور بائیبل کے دوسرے انبیاء پر اللہ کا کلام نازل نہ ہوا تھا، اور مُسلمان چاہے یہ بات نہ مانتے ہوں کہ اس وقت پائی جانے والی پوری بائیبل اللہ کا کلام ہے، مگر یہ ضرور مانتے ہیں کہ اس میں اللہ کا کلام موجود ہے۔ لہٰذا ہمارے مسیحی بھائیوں کو ہم سے یہ شکایت کرنے کا کبھی موقع نہیں ملا ہے کہ ہم ان کے انبیاء کی، یا ان کی کتبِ مقدسہ کی توہین کرتے ہیں۔ بخلاف اس کے ہمیں آئے دن ان سے یہ رنج پہنچتا رہتا ہے، اور صدیوں سے اس دل آزاری کا سلسلہ چل رہا ہے کہ ان کے مصنفین اور مقررین ہمارے نبی اور ہماری کتابِ مقدس اور ہمارے دین پر سخت حملے کرتے ہیں۔ دنیا کی اسلامی اور مسیحی برادریوں کے درمیان تعلقات کی خرابی کا یہ ایک اہم سبب ہے۔ اس سے شدید باہمی منافرت پیدا ہوتی ہے، اور مزید براں اس ناروا پروپیگنڈے کا لازماً یہ نتیجہ بھی ہوتا ہے کہ مسیحی عوام کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و تحقیر کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ آپ دنیا کے امن کی بہت بڑی خدمت انجام دیں گے اگر مسیحیت کے پیروؤں کو اس طرزِ عمل میں کم از کم اتنی اصلاح کر لینے کی نصیحت کریں کہ یہ دل آزاری اور نفرت انگیزی کی حد تک نہ پہنچے۔
2: مسیحی مشن اور مشنری ایک مدت دراز سے مسلم ممالک میں مسیحیت پھیلانے کے لیے جو طریقے استعمال کرتے رہے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں، وہ بھی دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑی وجہ شکایت ہیں۔ دوسرے ملکوں اور آبادیوں میں ان کا جو طرزِ عمل بھی ہو اس سے ہمیں کوئی بحث نہیں۔ مگر مسلمان ملکوں اور آبادیوں میں ہمارا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ انھوں نے محض ”تبلیغ“ پر اکتفا نہیں کیا ہے، بلکہ اس سے تجاوز کر کے دوسرے متعدد ایسے طریقے اختیار کیے ہیں جو تبلیغ کے بجائے سیاسی دباؤ، معاشی طمع و تحریص، اور اخلاقی و اعتقادی تخریب کی تعریف میں آتے ہیں جنہیں مشکل ہی سے کوئی معقول آدمی اشاعت مذہب کے جائز ذرائع تسلیم کر سکتا ہے۔ افریقہ کے ایک بڑے حصہ میں انھوں نے استعماری طاقتوں کی مدد سے مسلمانوں کو تعلیم سے محروم کیا، اور درسگاہوں کے دروازے ہر اس شخص پر بند کر دیئے جو عیسائیت قبول نہ کرے۔ یا کم از کم اپنا اسلامی نام ترک کر کے میسی نام نہ اختیار کر لے۔ اس طریقے سے جو بالآخر مسیحی اقلیت پیدا کی گئی، آزادی کا دور آنے کے بعد آج وہ بہت سی ایسی افریقی ریاستوں پر سیاسی، فوجی اور معاشی حیثیت سے غالب ہے جن کی بیشتر آبادی مسلمان ہے۔ یہ ایک صریح نا انصافی تھی جو مسلم اکثریت رکھنے والے افریقی ملکوں کے ساتھ کی گئی۔ سوڈان میں برطانوی استعمار کی مدد سے مشنریوں نے جنوبی حصے کو اپنے لیے ”محفوظ علاقہ“ بنوا لیا جس میں تعلیم اور تبلیغ کا حق صرف مسیحی مشنریوں کے لیے مختص کر دیا گیا اور مسلمانوں کے لیے تبلیغ تو در کنار، دوسری اغراض تک کے لیے وہاں جانے پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
میں نہیں سمجھتا کہ اس کو کسی دلیل سے بھی اشاعت مذہب کا جائزہ معقول طریقہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ خود ہمارے ملک میں مشن ہسپتالوں اور درسگاہوں کا معروف طریق کار یہ ہے کہ وہ مسلمان مریضوں اور طلبہ سے بے تحاشا فیسیں وصول کرتے ہیں، اور جو غریب آدمی عیسائیت قبول کرے اسے علاج اور تعلیم کی سہولتیں مفت یا برائے نام خرچ پر بہم پہنچاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تبلیغ نہیں بلکہ ضمیر و ایمان کی خرید و فروخت ہے۔ علاوہ بریں ان کی درسگاہیں ہمارے ہاں ایک ایسی نسل تیار کر رہی ہیں جو نہ مسیحیت اختیار کرتی ہے نہ مسلمان رہتی ہے۔ بلکہ اپنے اخلاق و تہذیب، زبان اور طرز زندگی کے اعتبار سے ایک اجنبی عنصر بن کر رہ جاتی ہے، اور مذہبی حیثیت سے اس کے اندر مسیحیت یا اسلام کے بجائے الحاد و بے دینی کے رجحانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ کیا کوئی معقول آدمی یہ مان سکتا ہے کہ یہ مذہب کی خدمت ہے جو مسیحی مشن انجام دے رہے ہیں؟ یہی وہ وجوہ ہیں جن کی بنا پر مسلمان ملکوں میں عموماً ان مشنوں کو مذہبی تبلیغ کے بجائے اسلام اور مسلم معاشرے کے خلاف ایک سازش سمجھا جاتا ہے۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اس کے نتائج پر غور فرمائیں اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے مشنری اداروں کے طرز تبلیغ میں اصلاح کی کوشش کریں۔
3: مسیحی دنیا کے متعلق مسلمانوں کا عام احساس یہ ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک شدید جذبۂ عناد رکھتی ہے اور آئے دن ہمیں تجربہ ہوئے رہتے ہیں جو اس احساس کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ اس کا تازہ ترین تجربہ وہ ہے جو ابھی حال میں عرب اسرائیل جنگ کے موقع پر ہوا۔ اس لڑائی میں اسرائیل کی فتح پر یورپ اور امریکہ کے بیشتر ملکوں میں جس طرح خوشیاں منائی گئیں، انھوں نے تمام دنیا کے مسلمانوں کے دل میں زخم ڈال دیے ہیں۔ آپ شاید ہی کسی مسلمان ایسا پائیں گے جس نے عربوں کی شکست اور اسرائیل کی فتح پر مسیحی دنیا کے اس علی الاعلان اظہار مسرت و شادمانی اور اسرائیل کی کھلی کھلی حمایت کو دیکھ کر یہ محسوس نہ کیا ہو کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسیحیتوں کے گہرے جذبۂ عناد کا مظاہرہ ہے۔ تنہا فلسطین میں اسرائیل کی ریاست جس طرح بنی ہے، بلکہ بنائی گئی ہے، اس کی تاریخ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ دو ہزار برس سے فلسطین عرب آبادی کا وطن تھا۔ موجودہ صدی کے آغاز میں وہاں یہودی ۸ فیصدی سے زیادہ نہ تھے۔ اس حالت میں برطانوی حکومت اور مجلس اقوام نے نہ صرف اس فیصلے کی توثیق کی بلکہ برطانوی حکومت کو فلسطین کا مینڈیٹ دیتے ہوئے یہ ہدایت کی وہ یہودی ایجنسی کو باقاعدہ شریک حکومت بنا کر اس تجویز کو عملی جامہ پہنائے۔ اس کے بعد دنیا بھر کے یہودیوں کو لا کر ہر ممکن تدبیر سے فلسطین میں بسانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا یہاں تک کہ ۴۰ سال کے اندر انکی آبادی ۳۲ فیصدی تک پہنچ گئی۔ یہ ایک صریح ظلم تھا جس کے ذریعہ سے ایک قوم کے وطن میں زبردستی ایک دوسری اجنبی قوم کا وطن بنایا گیا۔ پھر ایک دوسرا اس سے بھی زیادہ ظالمانہ قدم اٹھایا گیا اور امریکہ نے کھلے بندوں دباؤ ڈال کر اقوام متحدہ سے یہ فیصلہ کرایا کہ یہودیوں کے اس مصنوعی قومی وطن کو یہودی ریاست میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس فیصلے کی رو سے ۳۲ فیصدی یہودی آبادی کو فلسطین کا ۵۵ فیصدی اور عربوں کی ۶۷ فیصدی آبادی کو ۴۵ فیصدی رقبہ الاٹ کیا گیا تھا، لیکن یہودیوں نے نہ کر طاقت کے بل پر اس ملک کا ۷۰ فیصدی رقبہ حاصل کر لیا اور مار دھاڑ اور قتل و غارت کے ذریعہ سے لاکھوں عربوں کو گھر سے بے گھر کر دیا۔ یہ ہے اسرائیل کی اصل حقیقت۔ کیا دنیا کا کوئی انصاف پسند اور ایماندار آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک جائز ریاست ہے جو فطری اور منصفانہ طریق سے بنی ہے؟ اس کا تو عین وجود ہی ایک بدترین جارحیت ہے۔ اور اس پر مزید ظلم یہ ہے کہ یہودی صرف ان حدود کے اندر محدود رہنے پر بھی راضی نہیں ہیں جو انھوں نے فلسطین میں زبردستی حاصل کی ہیں، بلکہ وہ سالہا سال سے علانیہ کہہ رہے ہیں کہ نیل سے فرات تک کا پورا علاقہ ان کا قومی وطن ہے۔ اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ یہ قوم ہر وقت یہ جارحانہ ارادہ رکھتی ہے کہ اس پورے علاقے پر جبراً قبضہ کرے اور اسکے اصل باشندوں کو زبردستی نکال کر دنیا بھر میں پھیلے ہوئے یہودیوں کو وہاں لا کر بسائے ۔ اسی جارحانہ سکیم کا ایک جز گزشتہ ماہ جون کا وہ اچانک حملہ تھا جس کے ذریعہ سے اسرائیل نے ۲۶ ہزار مربع میل علاقے پر قبضہ کیا۔ اس پورے ظلم کی ذمہ دار یھی دنیا ہے۔ اُس نے ایک قوم کے وطن میں ایک دوسری قوم کا وطن زبردستی بنوایا۔ اُس نے اس مصنوعی قومی وطن کو ایک ریاست میں تبدیل کرایا۔ اُس نے اس جابر ج ریاست کو روپے اور ہتھیاروں سے مدد دے کر اتنا طاقتور بنایا کہ وہ زبردستی اپنے توسیعی منصوبوں کو عمل میں لا سکے۔ اور اب اس ریاست کی تازہ فتوحات پر بھی یہی دنیا جشن شادمانی منا رہی ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد نہ صرف عربوں میں، بلکہ تمام دنیائے مسلمانوں میں مسیحیوں کی انصاف پسندی، اُن کی غیراندیشی اور مذہبی عناد و تعصب سے اُن کی بریت پر کوئی اعتماد باقی رہ گیا ہے؟ اور کیا آپ کا خیال ہے کہ دنیا میں امن قائم کرنے کے یہی طریقے ہیں ؟ یہ دراصل ہمارا نہیں بلکہ آپ کا کام ہے کہ مسیحی بھائیوں کو اس روش پر شرم دلائیں اور ان کی روح کو اس گندگی سے پاک کرنے کی کوشش کریں۔
4: اس سلسلے میں ایک زیادتی ایسی بھی ہے جو خود آپ کی طرف سے ہو رہی ہے، اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ ہے اور آپ کے غالباً یہ احساس نہیں ہے کہ درحقیقت وہ ایک زیادتی ہے۔ میرا اشارہ آپ کی اس تجویز کی طرف ہے کہ قدیم بیت المقدس کو بین الاقوامی کنٹرول میں دے دیا جائے۔ آپ یہ تجویز شاید اس خیال سے پیش کر رہے ہیں کہ اس طرح یہ مقدس شہر لڑائی جھگڑے سے محفوظ رہے گا۔ لیکن در حقیقت اس کا نتیجہ ایک اور ظلم کی شکل میں رونما ہو گا۔ ظاہر ہے کہ بین الاقوامی کنٹرول اسی بین الاقوامی ادارے کے ہاتھ میں ہوگا جس نے اسرائیل کی یہ مصنوعی ریاست بنائی ہے اور جو آج تک اسرائیل کی کسی جارحیت کو نہ روک سکا ہے، نہ اس کے ہو جانے کے بعد اس کا تدارک کر سکا ہے۔ اس ادارے کے کنٹرول میں جب یہ شہر آجائے گا۔ تو وہ یہودیوں کے لیے بیت المقدس میں آباد ہونے کے دروازے اسی طرح پوری پشت کھول دے گا جس طرح مجلس اقوام کے انتداب کے تحت برطانوی حکومت نے یہودی مہاجرین کے لیے فلسطین کے دروازے کھولے تھے، اور پھر یہودیوں کو بیت المقدس کی زمینیں اور عمارتیں خریدنے کی وہی سب سہولتیں بھی فراہم کر دی جائیں گی جو برطانوی انتداب اس سے پہلے فلسطین میں ان کو فراہم کر چکا ہے۔ اس طرح مختصر سی ہی مدت کے اندر یہ شہر عملاً یہودی شہر بن جائے گا - اور وہ یہودی اس پر قابض ہوں گے جن کے دلوں میں نہ مسیحی مقدسات کا کوئی احترام ہے نہ اسلامی مقدسات کا۔
میں آپکے پیغام کے جواب میں اس طویل مراسلے اور اس صاف گوئی پر معذرت خواہ ہوں۔ مگر میں آپ کو یہ بتانا اپنا فرض سمجھتا تھا کہ قیام امن کی اصل رکاوٹیں کیا ہیں جنھیں دور کرنے کے لیے عملاً کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ میں پھر اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ اگر اسلامی دنیا کی طرف سے کوئی ایسی بات ہو جسے امن عالم کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جائے تو وہ مجھے بتائی جائے۔ مجھ کو جو تھوڑا بہت اثر دنیائے اسلام میں حاصل ہے اسے میں خود بھی اس رکاوٹ کے دور کرنے میں استعمال کروں گا اور دوسرے زخماے اسلام کو بھی اس کی طرف توجہ دلاؤں گا۔
خاکسار
ابوالا علیٰ