مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، فروری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (فروری 2026) کا شمارہ ہے جس کا بیشتر حصہ رمضان المبارک کی روحانی و تربیتی اہمیت اور قرآن فہمی کے موضوعات پر مرکوز ہے۔

شمارے میں روزے کے مقاصد، تزکیۂ نفس اور تعمیرِ سیرت پر مضامین کے ساتھ ساتھ تفسیر و تجوید کے اصولوں پر تعلیمی مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی اقتصادیات پر ایک سلسلہ وار مضمون کا آغاز، اور غزہ، کشمیر، بنگلہ دیش اور اخوان المسلمون سے متعلق حالاتِ حاضرہ کے تبصرے بھی موجود ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اخوان المسلمون کے اندرونی اختلافات

اس سارے سفر میں اخوان المسلمون اختلافات کا شکار بھی ہوئی ۔ دو رائے کے حاملین تو ہمیشہ سے ہی اخوان المسلمون کا حصہ رہے ہیں، جنھیں کبھی عقاب (یعنی سخت موقف والے) اور فاختاؤں (نرم موقف والے)سے تشبیہ دی جاتی رہی۔ فاختائی دھڑے کا کہنا تھا کہ دیگر سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے اور مقامی مسائل کی سیاست کو اولیت دی جائے، جب کہ عقابی دھڑے کے زیادہ تر افراد کا تعلق چونکہ فلسطین سے تھا، اس لیے ان کا اصرار تھا کہ فلسطین ایشو کو اخوان المسلمون کی سیاست میں اوّلیت دی جائے کہ اُردن کی بڑی آبادی فلسطینی نژاد ہے۔

۲۰۱۲ء میں فاختائی دھڑے کا مطالبہ سامنے آیا کہ اخوان المسلمون (مصر) سے قطع تعلق کر لیا جائے، اور پھر ۲۰۱۴ء میں اسی گروپ نے اخوان المسلمون کی تنظیمی قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ اختلاف بڑھا تو ۲۰۱۵ء میں جماعت کو اپنے ۱۰؍ اراکین کی رکنیت منسوخ کرنی پڑی، جن میں ایک نمایاں ترین نام عبدالمجید ذنیبات کا بھی تھا۔ایک ماہ کے اندر اندر علیحدہ کیے جانے والے اراکین نے جمعیت اخوان المسلمون کے نام سے الگ جماعت کی بنیاد رکھی، جس کی سربراہی عبدالمجید ذنیبات کر رہے تھے۔ حکومت ِ اُردن نے ان باہمی اختلاف کو اور ہوا دی۔ اور نئی قائم ہونے والی ’جمعیت اخوان المسلمون‘ کو اُردن میں اخوان المسلمون کا قانونی وارث قرار دیتے ہوئے باقاعدہ رجسٹر کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے اخوان المسلمون کی ملٹی ملین ڈالر مالیت کی سات املاک پر قبضہ کر لیا اور انھیں ’جمعیت اخوان المسلمون‘ کے نام کر دیا۔ اور باقاعدہ اعلان کردیا کہ جماعت اخوان المسلمون کو عوامی سطح پر کوئی سرگرمی نہیں کرنے دی جائے گی۔

۲۰۱۵ءکے آخر میں جماعت میں ایک اور اختلاف در آیا جب ’جبھۃ العمل الاسلامی‘ کے ۴۰۰؍ اراکان نے استعفا دے دیا، ان میں اخوان المسلمون کے چند نمایاں رہنما بھی شامل تھے۔ علیحدہ ہونے والے اراکین نے ۲۰۱۶ء میں نہ صرف نئی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی بلکہ علی الاعلان اخوان المسلمون کے نظریات سے لاتعلقی کا بیان بھی دیا۔

اخوان المسلمون نے اس عرصے میں عوامی امنگوں کے قریب تر رہتے ہوئے اور مقتدر حلقوں کے ساتھ افہام و تفہیم کا آغاز کیا۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ اخوان المسلمون مصر کے ساتھ لاتعلقی کا اعلان کیا، لیکن حکومت نے جماعت پر لگائی ہوئی پابندی نہیں ہٹائی، نیز حکومت نے جماعت کو اس کے اندرونی تنظیمی انتخابات کے انعقاد سے روک دیا اور اس کے مرکزی دفتر کو بھی سیل کر دیا۔ جماعت نے حکومتی پابندی کے باوجود اپنی دعوتی اور سماجی سرگرمیاں جاری رکھیں اور اس طرح جبھۃ العمل الاسلامی کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔جبھۃ العمل الاسلامی نے ریاستی کارفرماؤں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کی، نیز علاقائی اور داخلی چیلنجوں سے نمٹنے میں بھی مستعدی دکھائی۔سیاسی موقف اور اپنے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کی۔ اب اس کا سیاسی موقف ’اسلام ہی حل ہے‘ کے بجائے سویلین اداروں کی ترقی اور شہریوں کے عزت و وقار کی بحالی بن گیا۔ نیز اس جبھۃ نے اپنے انتخابی پروگرام میں اندرونی ملکی مسائل کو موضوع بنایا۔ ممبرشپ عیسائیوں اور خواتین کے لیے بھی کھول دی گئی اور نوجوانوں کا کردار مؤثر بنایا گیا۔

۲۰۱۶ء کے انتخابات میں اخوان المسلمون کے بنائے ہوئے اتحاد ’نیشنل الائنس برائے اصلاح‘ نے ۱۵ نشستیں جیت لیں، جب کہ حکومت کی حمایت یافتہ جمعیۃ الاخوان کے حصے میں صرف ایک نشست آئی، اور وہ بھی اس لیے کہ انھوں نے نیشنل کانفرنس کی فہرست پر الیکشن لڑا تھا۔

۲۰۱۹ء میں ایک بار پھر تعلقات میں اس وقت دراڑ آئی جب حکومت نے اساتذہ کے احتجاج کا الزام اخوان پر لگایا۔ ۲۰۲۰ء میں عدالتی حکم کے ذریعے اخوان المسلمون کو تحلیل کرنے اور اس کے تمام اثاثہ جات ضبط کرنے کا فیصلہ صادر ہوا، البتہ جبھۃ العمل الاسلامی، جو جماعت کا سیاسی ونگ تھا، کو کام کرنے کی آزادی حاصل رہی۔

۲۰۲۲ء کے انتخابات میں جبھۃ العمل الاسلامی نے آٹھ نشستیں جیت لیں، البتہ انتخابی دھاندلی کی بنا پر بلدیاتی اور یونین انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا۔ ۲۰۲۳ء میں طوفان الاقصیٰ کے بعد جماعت اخوان المسلمون نے اسرائیل سے تعلقات پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے دھرنا دیا، اور الیکشن میں جبھۃ العمل الاسلامی ۳۱ پارلیمانی نشستیں جیت کر موجودہ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت سے اُبھری۔

دوسری طرف اپریل ۲۰۲۵ء میں حکومت نے ۱۶؍ افراد کو میزائل اور ڈرون تیار کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا اور کہا کہ ’یہ لوگ اُردن کے اندر سیکیورٹی تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے‘۔ ۲۰؍اپریل ۲۰۲۵ء کو حکومت نے اخوان المسلمون کو کالعدم قرار دے دیا، اور اخوان کے افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کو غیر قانونی قرار دے دیا۔