مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، فروری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (فروری 2026) کا شمارہ ہے جس کا بیشتر حصہ رمضان المبارک کی روحانی و تربیتی اہمیت اور قرآن فہمی کے موضوعات پر مرکوز ہے۔

شمارے میں روزے کے مقاصد، تزکیۂ نفس اور تعمیرِ سیرت پر مضامین کے ساتھ ساتھ تفسیر و تجوید کے اصولوں پر تعلیمی مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی اقتصادیات پر ایک سلسلہ وار مضمون کا آغاز، اور غزہ، کشمیر، بنگلہ دیش اور اخوان المسلمون سے متعلق حالاتِ حاضرہ کے تبصرے بھی موجود ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

دینی اور دُنیاوی تعلیم کی تقسیم: ایک رکاوٹ

یہ وہ مرحلہ ہے جہاں آ کر ہمارا موجودہ تعلیمی نظام بھی ایک گہرا اور عملی خلا پیدا کرتا ہے۔ مسلم دنیا میں تعلیم کی تقسیم نے دینی مدارس اور یونی ورسٹیوں کو دو متوازی بلکہ بالکل منقطع راستوں پر ڈال دیا ہے، جس کا سب سے گہرا اثر اسلامی معاشیات جیسے بین العلومی (interdisciplinary) میدان پر پڑتا ہے۔مدارس کے طلبہ کو شرعی اصولوں، فقہی قواعد اور اخلاقی تصورات سے واقفیت کے بھرپور مواقع میسر آتے ہیں، مگر جدید معاشی نظام، اس کی ادارہ جاتی ساخت اور بنیادی مفروضات ان کے سامنے اکثر مبہم رہتے ہیں۔جدید نظامِ زر و بنکاری کی حقیقت سے بھی وہ زیادہ آگاہ نہیں ہوتے۔ نتیجتاً ان میں وہ صلاحیت ہی پیدا نہیں ہوتی کہ وہ علم معاشیات کی آفاقیت کے دعوے کو علمی طور پر پرکھ سکیں اور اس کے تاریخی و اخلاقی پس منظر کوجانچ سکیں ۔

دوسری طرف جدید یونی ورسٹیوں کے طلبہ جدید معاشیات کی تکنیکی تربیت تو حاصل کر لیتے ہیں، مگرشرعی علوم سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں۔مزید برآں یونی ورسٹیوں میں مغربی سماجی علوم ، بالخصوص معاشیات ، جس اسلوب میں پڑھائے جاتے ہیں،وہ مسئلے کو اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ سماجی علوم بشمول علم معاشیات چونکہ طبیعی سائنس کی ہیبت و ہیئت میں پروان چڑھے ہیں، اس لیے ان کے دعوؤں کو بھی اکثر طبیعیات کی طرح چند غیر متبدل قوانین کے قالب میں پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ طلب و رسد جیسے اصول بھی اس انداز میں پڑھائے جاتے ہیں گویا وہ کششِ ثقل کے قانون کی طرح ہرحال میں یکساں ہوں، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قواعد، مخصوص سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت سے وابستہ ہیں۔ جہاں منڈی کی جگہ منصوبہ بندی، یا سرکاری نرخ آ جائیں، وہاں یہ ’قوانین‘ اپنی وہ شکل برقرار نہیں رکھ پاتے، جو کتابوں میں بطور آفاقی حقیقت پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طرزِ تعلیم کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طلبہ اس علم کے مفروضات کو غیر متبدل اور اٹل حقائق سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ سو ان پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

یوں دونوں تعلیمی دھاروں میں الگ الگ مگر عمیق فکری خسارے جنم لیتے ہیں۔ مدارس میں جدید معاشی علم کی تاریخی اور ادارہ جاتی تفہیم کمزور رہتی ہے، اور یونی ورسٹیوں میں اخلاقی و شرعی بنیادوں سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ دوہری بصیرت جو جدید اسلامی معاشیات کی تفہیم اور تشکیل کے لیے ناگزیر ہے، شاذ ہی پیدا ہوتی ہے۔

اسلامی معاشیات کی ضرورت اسی مقام پر پوری شدت سے سامنے آتی ہے۔ یہ جدید معاشی علم کو سمجھ کر اس کے آفاقیت کے دعووں کی حدیں متعین کرتی ہے، ان کے تاریخی اور اخلاقی پس منظر کو بے نقاب کرتی ہے، اور پھر قرآن و سنت کی روشنی میں وہ اصولی اور عملی سوالات اٹھاتی ہے، جن کے بغیر ’جدید اسلامی معیشت‘ کی صورت گری ممکن نہیں۔ یوں اسلامی معاشیات محض ایک اضافی مضمون نہیں، بلکہ ایک ناگزیر فکری پل ہے، جو ابدی اسلامی اصولوں اور بدلتے ہوئے معاشی حقائق کے درمیان ربط قائم کرتا ہے۔

۴-مغرب کا تصورِ آفاقیت اور اس کی تاریخی بنیادیں

یہ سوال اہم ہے کہ مغربی فکر نے اپنے سماجی نظریات کو آفاقی صداقتوں کے طور پر کیوں اور کیسے پیش کرنا شروع کردیا؟ ان نظریات کے اندر ایسی کیا خصوصیت تھی کہ انھیں سب انسانوں کے لیے ہر زمانے میں قابلِ اطلاق سمجھ لیا گیا؟ اس کا جواب نظریات کے مواد میں نہیں بلکہ ان تاریخی حوادث میں پوشیدہ ہے، جن کے جواب میں یہ فکر پیدا ہوئی۔

یورپ میں صدیوں پر محیط مذہبی تنازعات کے بعد، اہلِ تنویر نے یہ جستجو شروع کردی کہ علم، اخلاق اور سیاسی اقتدار کی بنیاد وحیِ الٰہی کے سوا کسی اور چیز پر استوار کی جائے۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کی بے مہار جنگیں، کلیسائی ادارۂ تفتیش و تعزیر (Inquisition) کا ظلم و عدوان، اور فرقہ وارانہ سیاست کا انتشار اُس مہیب اور تاریک تجربے کا حصہ تھے، جس نے یورپی اذہان پر گہرے اثرات چھوڑے۔ ان حالات میں یورپ کے دانشوروں نے یہ حل تجویز کیا کہ معرفت، اخلاق اور اقتدار کی بنیاد وحی کے بجائے عقل پر رکھی جائے، ایسی عقل جو ’عالم گیر‘ ہو، ’معروضی‘ ہو، اور مذہب سے مکمل طور پر آزاد ہو۔یہ کوئی غیر جانب دار دریافت نہیں تھی، بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی کہ مذہب، جو اجتماعی زندگی کے لیے مشعلِ راہ ہوا کرتا تھا، اسے بے دخل کر کے ایک ایسے علم کو منصبِ امامت پر فائز کر دیا جائے جو بظاہر غیر جانب دار اور عالم گیر ہو۔

ڈیکارٹ کو جدید مغربی فلسفے کا بانی کہا جاتا ہے۔ اس کے افکار ایک مخصوص تاریخی بحران کا جواب تھے۔ اُس دور میں یورپ میں اسلامی تہذیب سے آنے والی علمی و سائنسی میراث نے طبیعی سائنس کو نئی سمتیں عطا کیں، مگر کلیسا کی کڑی نگرانی اور بے جا احتساب کی وجہ سے اہلِ علم کی فکری آزادی تب بھی خطرے میں تھی۔ اس خطرے سے مستقل طور پر خلاصی کے لیے ڈیکارٹ نے یہ راستہ نکالا کہ ’یقینی علم‘ کی بنیاد وحی یا روایت پر نہیں بلکہ ’عقلِ عام‘ (Common Sense) پر رکھی جائے تاکہ فرد تنِ تنہا اپنی دلیل سے آفاقی سچائی تک پہنچ سکے، اور علم کو کلیسا کی گرفت سے ایک محفوظ دائرہ مل جائے۔ وقت کے ساتھ اسی تصور نے اس تقسیم کو مضبوط کر دیا کہ ایک طرف ’دینی علم‘ ہے جس کا تعلق بس ایمان اور عبادات کے ساتھ ہے، اور دوسری طرف ’دُنیوی علم‘ ہے، جس کا دائرہ سیاست، معیشت اور سائنس پر محیط ہے۔دنیوی علم عقلِ انسانی کا خود مختار میدان قرار پایا۔ یہی دوئی(dichotomy) آگے چل کر سیکولر فکر کی بنیاد بنی، جہاں اجتماعی زندگی کے بڑے فیصلے مذہبی رہنمائی کے بجائے ’غیرمذہبی‘ عقل اور تجربے کے حوالے کر دیے گئے۔

اس طرح وہ نظریہ جو محض یورپ کے اپنے داخلی انتشار کے حل کے طور پر سامنے آیا تھا، تدریجاً اسے ’آفاقیت‘ کی سند مل گئی، یعنی جو مسئلہ یورپی تھا، وہ ’انسانی‘ بن گیا۔مغربی تعلیم اور پالیسی ساز اداروں کی ساکھ ہی اس تصور پر استوار ہوگئی کہ علم، خاص کر سماجی علوم، ’قدر سے عاری‘ اور ’معروضی‘ ہونے چاہییں۔ نوآبادیاتی استعمار نے پھر اس نظریے کی ترویج کی، اور مغربی تعلیمی نظام کے ذریعے دنیا کے چپے چپے پر اس فکر نے اپنے پنجے گاڑ دیے۔ خصوصاً معاشیات کو ایک تکنیکی سائنس کے طور پر پڑھایا گیا، یعنی ایسی سائنس جو ماورائے زمان، تہذیب و ثقافت کی قیود سے آزاد اور آفاقیت کی حامل ہے۔

لیکن یہ محض ایک دعویٰ اور بے بنیاد مفروضہ ہے، علمی حقیقت نہیں۔ مغربی معاشی و سماجی نظریات کے رَگ و پَے میں جو بنیادی مفروضات سرایت کیے ہوئے ہیں، جیسے انسانی خودغرضی، لذت پسندی، عقل پرستی، بے محابا مقابلہ، اور ریاست کا مخصوص کردار، یہ سب یورپ کے مخصوص اخلاقی و سیاسی تجربات کی پیداوار ہیں، نہ کہ انسانیت کی آفاقی فطرت کے یقینی حقائق۔ انھیں ’آفاقی‘ بنا کر پیش کرنے کے پیچھے خود ایک تاریخی ضرورت کارفرما رہی۔ ابتدا میں یہ دعویٰ اس لیے مفید تھا کہ نئی سائنسی و فکری کاوشوں کے لیے کلیسا کی نگرانی سے پرے ایک محفوظ میدان میسر ہو۔ بعد کے دور میں یہی دعویٰ نوآبادیاتی نظام کے لیے بھی نہایت کارآمد ثابت ہوا۔ یورپی فکر کو ’عقلِ عام‘ کا معیار قرار دے کر یہ تاثر پھیلایا گیا کہ ’غیر یورپی اقوام عقل و تدبیر میں کم تر ہیں، اس لیے ان پر حکومت کرنا اور انھیں ’مہذب‘ بنانا نہ صرف جائز بلکہ قابلِ توصیف ذمہ داری ہے‘۔

مگر یہ ملحوظ رہے کہ ہماری تنقید کا مقصود فی نفسہٖ عقل یا جدید علم کی نفی نہیں، بلکہ مغربی افکار کو’حتمی جواب‘ سمجھنے کے بجائے ان کو تاریخی و تہذیبی سیاق میں رکھ کر پرکھنا ہے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو جائے تو اگلا نتیجہ خود بخود سامنے آتا ہے۔ سماج کی سمت متعین کرنے والے مقاصد اگر مختلف ہوں تو ان مقاصد کو پورا کرنے والے ادارے بھی لازماً مختلف ہوں گے۔ ادارے دراصل وہ عملی سانچے ہیں جن کے ذریعے کوئی معاشرہ اپنی اجتماعی ترجیحات ( عدل، فلاح، مساوات، یا محض نفع و نمو) کو حقیقت بناتا ہے۔ اسی لیے جب اسلامی اصولِ تنظیمِ معاشرہ سرمایہ دارانہ مقاصد سے مختلف ہیں تو اسلامی معیشت کے ادارے بھی مختلف ہوں گے۔

مثال کے طور پر ’بینک‘ کا مرکزی محرک سرمائے کی بڑھوتری اور منافع کی توسیع ہے، جب کہ ’وقف‘ کا بنیادی مقصد فیاضی، خدمت اور دیرپا اجتماعی کفالت ہے۔ اسی وجہ سے اسلامی تاریخ میں طویل عرصے تک ’اوقاف‘ معاشرتی زندگی کا مرکزی ستون رہے۔ ’اوقاف‘ نے تعلیم، صحت، غریبوں کی کفالت، مسافروں کی خدمت، اور شہری سہولیات تک کے لیے وہ بنیادی ڈھانچا فراہم کیا جس نے معاشرے کی تشکیل کی۔ اِس کے برعکس جدید یورپی تاریخ میں ’بینک‘ سے وابستہ ادارے ریاست، صنعت اور تجارت کے لیے سرمایہ کی فراہمی اور ارتکاز کا مرکزی وسیلہ بنتے گئے، اور رفتہ رفتہ مالی نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار پائے۔

۵- جدید تناظر میں اسلامی اصولوں کی تطبیق اور اجتہاد

اگر مغربی فکر کی خرابی یہ ہے کہ وہ اپنے مخصوص تاریخی تجربے کو آفاقی صداقت بنا کر پیش کرتی ہے، تو ہمارے ہاں ایک اور نوعیت کی مشکل درپیش ہے۔ وہ یہ ہے کہ شریعت کے آفاقی اصولوں کو عصرِ حاضر کے پیچیدہ معاشی اور مالیاتی مسائل پر منطبق کرنے کے لیے جدید نظامِ معیشت کی جس سطح کی سنجیدہ اور گہری تفہیم کی ضرورت ہے ، وہ ہمارے مذہبی حلقے میں کمیاب ہے۔ ’اجتہاد‘ کے لیے دینی علوم میں رسوخ ایک عمر کا تقاضا کرتا ہے، اور جدید معیشت کی تہہ در تہہ حقیقتوں کو سمجھنا بھی محض سطحی مطالعے سے ممکن نہیں۔ اسی لیے یہ میدان انفرادی کوشش سے بڑھ کر اجتماعی، فکری اور ادارہ جاتی کاوش کا طالب ہے۔

اسلامی شریعت کی رہنمائی اپنی اصل میں آفاقی ہے۔ عدل، امانت، حقوق و فرائض، فلاحِ عامہ اور ظلم کی حرمت جیسے اصول ہر زمانے میں معتبر چلے آرہے ہیں، مگر ان اصولوں کا درست نفاذ حالات، وسائل اور سماجی ساخت کی حقیقی تفہیم کے بغیر ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے سلف نے ہردور میں اپنے زمانے کے نئے مسائل کو سامنے رکھ کر ’اجتہاد‘ کیا، یعنی پہلے درست صورتِ مسئلہ کی تشخیص کی ، پھر شریعت کے اصولوں کی روشنی میں اس کا حل تجویز کیا۔ آج بھی اصل ضرورت یہی ہے کہ جدید نظامِ معیشت کی حقیقت اور ساخت کو سمجھا جائے، تاکہ شرعی اصولوں کی تطبیق محض ظاہری مشابہت کے بجائے مضبوط اور بامعنی بنیاد پر ہو سکے۔

اس فرق کو ’حج‘ کی مثال سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ شریعت ’حج‘ کے مناسک متعین کرتی ہے، یعنی احرام، طواف، سعی، وقوفِ عرفہ وغیرہ___ مگر ان مناسک تک پہنچنے اور انھیں ادا کرنے کے انتظامات ہر دور میں بدلتے رہے ہیں۔ آج کا پاکستانی حاجی آن لائن رجسٹریشن، بینک ادائیگی، سفری و سرکاری دستاویزات، ویزہ و کوٹہ سسٹم، اور بین الاقوامی سفر کے پیچیدہ نظام سے گزر کر ہی حرمین تک پہنچتا ہے۔ یہ امور مناسک کا حصہ نہیں، لیکن موجودہ دور میں انھی کے ذریعے حج عملاً ممکن ہوتا ہے۔ فقہ نے ہمیشہ مقاصد اور ذرائع میں امتیاز قائم رکھا ہے، جو اس امر کا غماز ہے کہ شریعت کے آفاقی احکام کے درست اطلاق کے لیے عصرِ حاضر کے نظاموں اور وسائل کو سمجھنا ناگزیر ہے۔

یہاں ایک اور بنیادی فرق کا ادراک بھی ضروری ہے۔ طبیعیات اور دیگر طبیعی علوم (Natural Sciences) میں درسی کتابیں عموماً ایسے علم تک لے جاتی ہیں، جس کے نتائج دنیا بھر میں یکساں طور پر نمایاں ہوتے ہیں۔ ان علوم کی بنیاد اُن خارجی مظاہر پر ہے، جن کے باہمی تعلقات بڑی حد تک مستقل رہتے ہیں، اور انھی کی بدولت ایسی ٹکنالوجی وجود میں آتی ہے، جو ہماری روزمرہ زندگی پہ براہِ راست اثرانداز ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جدید سماجی علوم بالخصوص معاشیات کو بھی اسی سائنسی ہیئت کے ساتھ ’قدرسے ماورا‘ اور ’آفاقی‘ بنا کر پیش کیا گیا، حالاں کہ ان کے عملی نتائج اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ دنیا آج بھی نہ ختم ہونے والی جنگوں، بڑھتی ہوئی سماجی ناہمواریوں، معاشی بحرانوں، اور انسان، معاشرہ اور ماحول پر بڑھتے دباؤ کا شکار ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمان اہلِ علم کے لیے جدید معاشیات کو سمجھنے کا مطلب صرف درسی ماڈلز اور اصطلاحات یاد کرنا نہیں، بلکہ ان نظریات کے تاریخی پس منظر اور کارفرما مفروضات کو پہچاننا بھی ہے، تاکہ اپنی معیشت اور اپنے مسائل کو دوسروں کے مخصوص تاریخی تجربات سے اخذ کردہ نام نہاد ’آفاقی قواعد‘ کے بجائے اپنے سماجی حقائق اور شریعت کے مقاصد کی روشنی میں سمجھا اور سنوارا جاسکے۔