مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، فروری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (فروری 2026) کا شمارہ ہے جس کا بیشتر حصہ رمضان المبارک کی روحانی و تربیتی اہمیت اور قرآن فہمی کے موضوعات پر مرکوز ہے۔

شمارے میں روزے کے مقاصد، تزکیۂ نفس اور تعمیرِ سیرت پر مضامین کے ساتھ ساتھ تفسیر و تجوید کے اصولوں پر تعلیمی مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی اقتصادیات پر ایک سلسلہ وار مضمون کا آغاز، اور غزہ، کشمیر، بنگلہ دیش اور اخوان المسلمون سے متعلق حالاتِ حاضرہ کے تبصرے بھی موجود ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

’ٹرمپ بورڈ‘، غزہ جنگ بندی یا جنگ کی تیاری

[مسعود ابدالی | فروری ۲۰۲۶ | اخبار اُمت] صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’مجلس السلام‘ (Board of Peace) (جسے ’ٹرمپ دھونس بورڈ‘ بھی کہا جاسکتا ہے) کو عالمی سطح پر ’امن کے فروغ‘ اور غزہ کی جنگ کے بعد ’صلح و بحالی کے عمل‘ کے لیے ایک نئے بین الاقوامی ادارے کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ اس کا اعلان ’ورلڈ اکنامک فورم‘، ڈیوس میں کیا گیا، جہاں پاکستان، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، انڈونیشیا، مراکش، آذربائیجان، قازقستان، ازبکستان، ارجنٹینا اور اسرائیل سمیت تقریباً انیس ممالک نے اس دستاویز پر دستخط کیے۔ حکومتی بیانات کے مطابق ’مجلس السلام‘ کا ابتدائی مقصد غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی اور ایک عارضی نظمِ حکمرانی کا قیام ہے، جب کہ بعد ازاں اسے عالمی تنازعات کے حل کے لیے بھی استعمال کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ تاہم، منطق، عملیت اور بین الاقوامی سیاسی حقیقت کے تناظر میں یہ منصوبہ آغاز ہی سے ناکامی کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔

قیادت اور شمولیت_____محدود اور منقسم:مجلس السلام کی تشکیل میں سب سے نمایاں مسئلہ اس کی محدود اور منقسم شمولیت ہے۔ کئی مؤثر مغربی ممالک اس میں شرکت سے ہچکچاتے دکھائی دیتے ہیں۔ فرانس، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا اور بعض دیگر بڑی ریاستوں نے یا تو شرکت سے انکار کیا یا شرائط پر تحفظات کا اظہار کیا، جس سے اس ادارے کی عالمگیریت، ساکھ اور غیر جانب داری مشکوک ہو جاتی ہے۔ ایک ہمہ گیر عالمی فورم کے بجائے یہ مجلس امریکا کے زیرِ اثر ایک محدود سیاسی جتھے (Cluster) کا تاثر دیتی ہے، جس میں چندعلاقائی طاقتیں شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے کردار پر سوالات:اگرچہ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ مجلس السلام اقوامِ متحدہ کا متبادل نہیں، تاہم تاسیسی خطاب میں اقوامِ متحدہ پر یہ کہہ کر تنقید کی گئی کہ ’یہ ادارہ کہیں اور کبھی بھی مؤثر امن قائم نہ کر سکا‘۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مجلس السلام دراصل اقوامِ متحدہ کے کردار کو کمزور کرنے اور غزہ کے مستقبل پر امریکی بالادستی قائم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے متوازی یا اس سے بالا ایک عالمی ڈھانچا تشکیل دینا طویل عرصے سے اسرائیلی پالیسی سازی کا بھی حصہ رہا ہے، جس سے اس منصوبے کے پس پردہ محرکات مزید واضح ہو جاتے ہیں۔

امریکی بالادستی کا تاثر:مجلس السلام کے کلیدی اختیارات عملاً امریکی صدر کے ہاتھ میں ہوں گے۔ رکن ممالک کی شمولیت یا برطرفی، فیصلوں کی حتمی منظوری اور مالی وسائل کے استعمال پر بھی فیصلہ کن اختیار واشنگٹن کو حاصل رہے گا۔ اس صورتِ حال میں مجلس السلام ایک آزاد اور غیر جانبدار عالمی ادارے کے بجائے امریکی خارجہ پالیسی کے توسیعی آلے کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

امتیازی رویہ:مجلس السلام کے مسودۂ میثاق کے مطابق یہ ادارہ غزہ کو غیر مسلح بنانے، عبوری نظم و نسق قائم کرنے اور تعمیرِ نو کی نگرانی کرے گا۔ اس نکتے پر نیویارک کے میئر زہران ممدانی کا مؤقف خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ ان سے انتخابی مہم کے دوران پوچھا گیا کہ آیا وہ غزہ کے مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کے حامی ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر واقعی امن مطلوب ہے تو اسرائیل اور مزاحمت کار، دونوں کو ہتھیار رکھنے چاہئیں، کیونکہ ہتھیار اور پائیدار امن بیک وقت نہیں چل سکتے‘‘۔

تاہم مجوزہ منصوبے میں اسرائیل سے فوجی انخلا یا اسلحہ محدود کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ایسی صورت میں تنازعے کا ایک فریق غیر مسلح ہونے پر کیسے آمادہ ہو سکتا ہے ، جب کہ دوسرا فریق مکمل عسکری طاقت کے ساتھ بدستور موجود رہے؟ مزید یہ کہ غیر مسلح نہ ہونے کی صورت میں مزاحمت کاروں کو فنا کرنے کی دھمکیاں بھی اسی بیانیے کا حصہ ہیں، جو کسی طور پر امن سازی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

سیاسی تعمیر کی خامیاں:امن محض دستاویزوں، دستخطوں اور نمائشی تقریبات سے وجود میں نہیں آتا۔ اگر مجوزہ حل سیاسی، سماجی اور انسانی حقیقتوں کا مکمل ادراک نہ رکھتا ہو تو وہ کاغذی اعلانات سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ غزہ کے معاملے میں زمینی تباہی، امداد کی عدم بحالی، شدید انسانی بحران اور حقیقی سیاسی نمائندگی جیسے بنیادی سوالات مجلس السلام کے آئینی ڈھانچے میں واضح نہیں۔

مالی و تنظیمی ڈھانچا ___ ناکامی کے آثار: مجلس السلام کی رکنیت کے لیے فی ملک ایک ارب ڈالر کی شرط بھی اس ادارے کو عوامی سطح پر غیر جاذب بناتی ہے۔ اس نوعیت کا مالی اور اختیاراتی ڈھانچا نہ تو عالمی عوامی اعتماد پیدا کر سکتا ہے اور نہ حقیقی امن سازی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مجلس کی موجودہ صورت گری دیکھ کر چشم تصور میں ایک نمائشی ادارے کا ہیولا اُبھرتا ہے، جس کا مقصد عملی امن نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے امن کی تعبیر قائم کرنا ہے ۔

امن یا پروپیگنڈا؟:بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری کے متعدد ماہرین اس پیش رفت کو امن کے بجائے طاقت کے اظہار اور ایک نئے عالمی سیاسی بیانیے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ مجلس السلام ایک جامع اور شمولیتی (Inclusive) ادارے کے بجائے سفارتی اور داخلی سیاسی مفادات کے حصول کا آلہ بن جائے گی۔

مسلم بلاک___ نہ پائے رفتن ، نہ جائے ماندن :پاکستان سمیت بعض مسلم ممالک کی شمولیت پر خود عالمِ اسلام میں سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک ایسی مجلس میں شمولیت، جس کے فیصلے ایک ایسے فرد کے تابع ہوں جو کھلے عام غزہ کو جہنم بنانے اور اہلِ غزہ کو فنا کرنے کی دھمکیاں دے چکا ہو، مسلم اور عرب عوام کے لیے کسی طور قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔