ماہنامہ ترجمان القرآن، فروری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (فروری 2026) کا شمارہ ہے جس کا بیشتر حصہ رمضان المبارک کی روحانی و تربیتی اہمیت اور قرآن فہمی کے موضوعات پر مرکوز ہے۔
شمارے میں روزے کے مقاصد، تزکیۂ نفس اور تعمیرِ سیرت پر مضامین کے ساتھ ساتھ تفسیر و تجوید کے اصولوں پر تعلیمی مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی اقتصادیات پر ایک سلسلہ وار مضمون کا آغاز، اور غزہ، کشمیر، بنگلہ دیش اور اخوان المسلمون سے متعلق حالاتِ حاضرہ کے تبصرے بھی موجود ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلامی اقتصادیات: سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کی نقیض
[ڈاکٹر اَسعدزمان | فروری ۲۰۲۶ | نظامِ حیات] ترجمانُ القرآن کے قارئین کے لیے ہم اسلامی اقتصادیات کے جدید مباحث پر مبنی ایک اہم علمی سلسلہ پیش کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں ممتاز ماہر معاشیات اور معروف مصنف ڈاکٹر اسعد زمان کی کاوش پیش کی جارہی ہے۔ انھوں نے امریکا کی ممتاز جامعات میں تعلیم حاصل کی، ۲۲ برس کی عمر میں پی ایچ ڈی مکمل کی، اور پندرہ برس تک وہاں اعلیٰ سطح پر تدریس و تحقیق سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنا علمی رُخ اسلامی دنیا کی طرف موڑا۔ ابتدا میں ترکیہ میں خدمات انجام دیں۔ ۲۰۰۲ء میں بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد سے وابستگی کے بعد ان کی علمی کاوشیں بالخصوص اسلامی معاشیات کے میدان میں نمایاں طور پر سامنے آئیں۔ ان کی تصانیف و مقالات وسیع پیمانے پر شائع ہو چکے ہیں، اور دنیا کے مختلف تعلیمی اداروں میں اسلامی معاشیات کے نصابی مطالعہ اور علمی مباحث میں ان کے کام سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ مؤلف کی کتاب: Islamic Economics: The Polar Opposite of Capitalist Economics اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے اسلامی معاشیات کی سمت طے کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اسلامی معاشیات کو محض چند مالی احکام یا بنکاری کے چند ظاہری تبدیلیوں تک محدود نہیں کرتی، بلکہ اسے انسان، معاشرہ، مقصدِ زندگی، اجتماعی ذمہ داری اور ادارہ سازی کے بڑے سوالات کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہی زاویہ آج اُردو دان قارئین کے لیے بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں معیشت کے غالب ادارے، تعلیمی سانچے، اور پالیسی کے پیمانے زیادہ تر غیر اسلامی فکری بنیادوں پر استوار ہیں۔ ایسے میں اصلاح کی کوئی سنجیدہ کوشش اسی وقت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے جب وہ موجودہ بندوبست کو سمجھتے ہوئے متبادل راستہ دکھائے۔
زیر نظر کتاب ترکی، بنگالی اور انڈونیشی زبان میں ترجمہ ہو چکی ہے اور مختلف ملکوں میں وسیع حلقوں تک پہنچ چکی ہے۔ اردو ترجمہ اسی عالمی تسلسل کی اگلی کڑی ہے تاکہ وہ قارئین بھی براہِ راست اس بحث میں شریک ہو سکیں، جن کی علمی و فکری زبان اردو ہے اور جن کے سامنے جدید معاشی چیلنج روز بروز زیادہ شدت سے آ رہے ہیں۔
ہمیں امید ہے کہ یہ سلسلہ نہ صرف قاری کو اسلامی معاشیات کے بنیادی مباحث سے روشناس کرائے گا، بلکہ سنجیدہ فکری مکالمے کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔ خصوصاً اس پہلو سے کہ جدید مغربی معاشی فکر کن تاریخی ضروریات کے تحت بنی، اور اسلامی روایت اس کے مقابل کس نوع کی متبادل راہیں پیش کرتی ہے؟ [مدیر]