مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، فروری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (فروری 2026) کا شمارہ ہے جس کا بیشتر حصہ رمضان المبارک کی روحانی و تربیتی اہمیت اور قرآن فہمی کے موضوعات پر مرکوز ہے۔

شمارے میں روزے کے مقاصد، تزکیۂ نفس اور تعمیرِ سیرت پر مضامین کے ساتھ ساتھ تفسیر و تجوید کے اصولوں پر تعلیمی مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی اقتصادیات پر ایک سلسلہ وار مضمون کا آغاز، اور غزہ، کشمیر، بنگلہ دیش اور اخوان المسلمون سے متعلق حالاتِ حاضرہ کے تبصرے بھی موجود ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اخوان المسلمون کا سیاسی سفر

اخوان المسلمون کا سیاسی سفر

اخوان المسلمون نے ۵۰ کے عشرے کے اوائل سے ہی سیاسی عمل میں حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ ۵۴-۱۹۵۱ء کے انتخابات میں اس کے بعض ارکان نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔ ۱۹۵۶ءمیں بطور جماعت پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا ،پھر ایک عرصے تک انتخابی میدان سے باہر رہے۔ ۱۹۸۴ءمیں پھر انتخابات میں حصہ لیا اور آٹھ میں سے تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ غرض اب تک کے سیاسی سفر میں جماعت کے کئی ذمہ داران اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

۱۹۸۹ء میں جماعت نے ’’اسلام ہی حل ہے‘‘ کے نعرے پر انتخاب لڑا اور تاریخی کامیابی حاصل کی۔ ۸۰ میں سے ۲۲نشستیں حاصل کر کے پارلیمنٹ میں نمایاں کردار ادا کرنا شروع کیا، اور جوں جوں اپوزیشن کا لہجہ سخت ہوتا گیا تو اس سے حکومتی شاہی حلقوں میں ایک بار پھر خوف کی لہر دوڑ گئی۔۱۹۸۶ء میں یرموک یونی ورسٹی میں احتجاج ہوئے اور حکومت نے اخوان کے طلبہ قائدین کو گرفتار کر لیا۔ جماعت کے بہت سے اراکین کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا۔ یہ گویا حکومت اور اخوان المسلمون کا پہلا ٹکراؤ تھا۔

۹۰ کے عشرے میں ’اسرائیل - اُردن امن مذاکرات‘ شروع ہوئے تو یہ اخوان اور حکومت کے درمیان اختلافات کا مرکزی نکتہ بن گئے۔ اخوان المسلمون اُردن نے شدت کے ساتھ ان مذاکرات کی مخالفت کی اور انھیں حرام تک قرار دیا۔ اُردنی عوام کی آواز بنتے ہوئے اخوان المسلمون نے اسرائیل اُردن امن مذاکرات کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے منظم کیے ۔ یوں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سڑکوں پر،اخوان المسلمون حکومت کی ایسی اپوزیشن بن چکے تھے، جن کا اثر و نفوذ یونینز میں، یونی ورسٹیوں اور مساجد میں ہر جگہ نمایاں تھا۔ریاستی اسٹیبلشمنٹ نے جماعت کے اس اثر و نفوذ سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اسے محدود کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے شروع کیے۔

۱۹۹۲ء میں بیرونی تعلقات رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ اس موقع پر اور اس بحران سےبچنے کے لیے اخوان المسلمون نے ایک سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نام جبهۃ العمل الاسلامی تھا۔۱۹۹۳ء میں حکومت نے الیکشن قوانین میں مزید ترامیم کیں، جن کا واضح مقصد اخوان المسلمون کے اثر و نفوذ اور پارلیمنٹ میں اس کے وجود کو محدود ترکرنا تھا۔ ۱۹۹۳ء کے انتخابات میں حکومت نے دھاندلی کی اور اخوان کو صرف ۱۷ نشستیں حاصل ہوئیں۔ اس سے اخوان کی صفوں میں حکومت کے خلاف مزید شدت پیدا ہوگئی۔۱۹۹۴ء میں اسرائیل -اُردن امن معاہدہ (معاہدۂ وادی عربہ)وجود میں آیا۔اخوان المسلمون نے پارلیمنٹ میں اس معاہدے کے خلاف ووٹ دیا۔ حکومت کی طرف سے پابندیوں کے باعث اخوان المسلمون نے ۱۹۹۷ء کے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا۔

۱۹۹۹ء میں حالیہ شاہِ اردن، شاہ عبداللہ ثا نی برسرِ اقتدار آئے۔ ان کے دور میں اخوان اور حکومت کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات، گویا دائمی اختلاف کی صورت اختیار کرتے چلے گئے۔ اُردن کی حکومت نے حماس کو اپنے دفاتر بند کرنے اور اُردن سے نکل جانے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ اُردن کی آبادی کا بڑا حصہ فلسطینیوں پر مشتمل ہے۔حماس کی جلاوطنی سے اخوان المسلمون کے اندر داخلی طور پر بھی اختلافات پیدا ہوئے۔

۲۰۰۱ء سے ۲۰۰۳ءتک حکومت نے پارلیمنٹ برخواست کیے رکھی۔ اس دوران ۲۰۰کے قریب مختلف ایسےآرڈی ننس جاری کیے، جن سے سیاسی عمل اور سیاسی آزادیوں پر قدغن لگی۔ ۲۰۰۴ء میں اخوان المسلمون نے یونینز پر لگنے والی پابندیوں کے جواب میں مظاہروں کی قیادت کی۔

۲۰۰۶ءمیں حکومت نے اخوان المسلمون کے عوامی بہبود کے سب سے بڑے ادارے جمعیۃ المرکز الاسلامی پر پابندی عائد کردی۔ ۲۰۰۷ء کے بلدیاتی انتخابات میں اخوان نے حصہ لیا، لیکن پولنگ کے آغاز کے دو ہی گھنٹے بعد دھاندلی کا الزام لگا کر بائیکاٹ کر دیا۔ ۲۰۰۷ء کے قومی انتخابات میں بھی اخوان نے حصہ لیا، لیکن صرف چھ نشستیں حاصل ہوئیں۔اس کے بعد اخوان نے سیاسی اصلاحات، دستوری ترامیم اور پارلیمنٹ کے اختیارات میں اضافے پر اپنی پوری سیاسی توجہ مرکوز کر لی، اور ان مقاصد کے حصول کے لیے بائیں بازو کی جماعتوں اور قوم پرست جماعتوں سے بھی گفت و شنید کی۔ ۲۰۱۰ء کے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا گیا کہ پابندیاں برقرار تھیں ۔

۲۰۱۱ء میں ربیعِ عربی (عرب بہار) کا آغاز ہوا۔ حکومت نے عوامی احتجاج سے بچنے کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی قائم کر دی، تاہم اخوان المسلمون نے کمیٹی میں شرکت کرنے سے انکار کرتے ہوئے دیگر اپوزیشن پارٹیوں اور قبائلی قوتوں کے ساتھ مل کر ایک اتحاد بنایا، اور دستور میں وسیع ترترامیم اور ملک میں سیاسی و اقتصادی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ اتحاد کے اہم مطالبات درج ذیل تھے: پارلیمنٹ کی تشکیل و برخاست کے شاہی اختیارات کو دستوری ترمیم کے ذریعے ختم کیا جائے، پارلیمنٹ کو حکومت کے چناؤ میں زیادہ اختیار حاصل ہو، سینیٹ میں نامزدگی کے بجائے اس کابھی انتخاب ہو ، اینٹی کرپشن قوانین بہتر بنائے جائیں، اور انتخابی قانون کو یکسربدلا جائے۔

پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر حکومت کے خلاف احتجاج ہوا جو پورے ملک میں پھیل گیا ۔ شدید احتجاج کے جواب میں شاہ عبداللہ دوم نے انتخابی قوانین میں ترمیم اور دیگر اصلاحات متعارف کرائیں۔ اخوان المسلمون نے انتخابی قوانین میں ترمیم کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ۲۰۱۳ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔

۲۰۱۴ء میں اخوان المسلمون نے اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے ایک احتجاج منظم کیا جو پُرتشدد ہوگیا اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اور گرفتاریاں ہوئیں۔ حکومت کے ساتھ تعلقات میں اس وقت بدترین موڑ آیا جب ۳۱؍ افراد کو اُن انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا جو اسرائیل نے فراہم کی تھیں۔ علاوہ اَزیں نائب مرشدِ عام زکی ارشید کو ڈیڑھ سال تک جیل میں رکھا گیا کہ انھوں نے متحدہ عرب امارات کے خلاف بیان دیا ہے۔