مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، فروری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (فروری 2026) کا شمارہ ہے جس کا بیشتر حصہ رمضان المبارک کی روحانی و تربیتی اہمیت اور قرآن فہمی کے موضوعات پر مرکوز ہے۔

شمارے میں روزے کے مقاصد، تزکیۂ نفس اور تعمیرِ سیرت پر مضامین کے ساتھ ساتھ تفسیر و تجوید کے اصولوں پر تعلیمی مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی اقتصادیات پر ایک سلسلہ وار مضمون کا آغاز، اور غزہ، کشمیر، بنگلہ دیش اور اخوان المسلمون سے متعلق حالاتِ حاضرہ کے تبصرے بھی موجود ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

قرآن فہمی: اہمیت اور اعلیٰ تعلیمی ادارے

[مروان محمد ابو راس | فروری ۲۰۲۶ | فہم قرآن] معاشرتی زندگی میں وہ افراد ہمیشہ احترام کے مستحق ہوتے ہیں، جو اپنے علم، کردار اور خدمات کے ذریعے ماحول پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اہلِ طب کا طبقہ اسی محترم گروہ سےتعلق رکھتا ہے۔ ان کی زندگی انسانیت کی خدمت اور دکھی دلوں کے لیے مرہم فراہم کرنے میں گزرتی ہے۔ اہلِ طب کے ساتھ قرآنِ کریم کا تعلق محض ظاہری یا رسمی نہیں بلکہ یہ رشتہ ایک نہایت گہرا اور فکری ہے۔ قرآنِ مجید کتابِ ہدایت ہونے کے ساتھ ساتھ <<شِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ۝۰ۥۙ (یونس ۱۰:۵۷)>> بھی ہے۔یہ نہ صرف روحانی، فکری اور اخلاقی بیماریوں کی شفاہےبلکہ اس میں جسمانی بیماریوں سے شفا کے لیے رہنمائی اور ہدایات بھی ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: <<وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ہُوَشِفَاۗءٌ (بنی اسرائیل ۱۷:۸۲)>>۔ قرآن کریم کی یہی صفت اسے انسانی زندگی کے ہرمعاملہ اور ہر مرحلے میں روشنی و ہدایت فراہم کرنے کا منبع بناتی ہے۔

جسمانی بیماریوں سے شفا کے بارے میں عبداللہ ا بن عباسؓ سے روایت ہے کہ صحابۂ کرامؓ کا ایک قافلہ سفر کے دوران ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا، جس کا سردار شدید تکلیف میں مبتلا تھا، اسے کسی زہریلے جانور نے ڈس لیا تھا۔ انھوں نےقافلے والوں کو دیکھا تو ان سے درخواست کی کہ آپ میں سے کوئی ہمارےسردار کا علاج کردے تو ہم آپ کو اتنا معاوضہ دیں گے۔ ایک صحابیؓ نےاس شخص پر سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا تو اس کی تکلیف فوراً دُور ہوگئی اور وہ ایسے اُٹھ کھڑا ہوا جیسے کسی اونٹ کی باندھی رسی کھول دی جائے اور وہ فوراً کھڑا ہوجائے۔ بعد میں جب اہل قافلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیاتو آپؐ نے فرمایا تم نے درست کیا اوراہل قافلہ کو ملے ہوئے معاوضے میں سے اپنا حصہ بھی قبول فرمایا‘‘(صحیح البخاری)۔ سورۃ الفاتحہ کا دَم کرنے والے صحابیؓ کی طرف سے یہ محض الفاظ کی قرأ ت نہیں تھی بلکہ ایک یقین، توکّل اور ایمان سے لبریز عمل تھا۔ اسی پس منظر میں سورۃ الفاتحہ کو ’سورۃ الشفاء‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ طب اور قرآنِ کریم کے باہمی رشتے پر واضح دلیل ہے،یہ ایک ایسا رشتہ ہے جس میں جسمانی علاج اور روحانی شفا ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ تعلیم کے اعلیٰ اداروں میں قرآنِ کریم کی تعلیم کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ وہ کون سے اصول ہیں، جن کی روشنی میں جدید ذہنوں اور پیشہ ورانہ ماحول میں قرآنِ کریم کی تدریس کو مؤثر بنایا جاسکتاہے؟ اور کس طرح قرآن کریم کا پیغام نہ صرف ہر طالب علم کے ذہن کوجلا بخشے بلکہ کردار کو بھی نکھار دے؟___ یہ محض تعلیمی سوالات نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق ہماری بنیادی فکر، علمی سوچ، معاشرت، ریاست اور مستقبل کی سمت کے تعین سے ہے۔