مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، فروری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (فروری 2026) کا شمارہ ہے جس کا بیشتر حصہ رمضان المبارک کی روحانی و تربیتی اہمیت اور قرآن فہمی کے موضوعات پر مرکوز ہے۔

شمارے میں روزے کے مقاصد، تزکیۂ نفس اور تعمیرِ سیرت پر مضامین کے ساتھ ساتھ تفسیر و تجوید کے اصولوں پر تعلیمی مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی اقتصادیات پر ایک سلسلہ وار مضمون کا آغاز، اور غزہ، کشمیر، بنگلہ دیش اور اخوان المسلمون سے متعلق حالاتِ حاضرہ کے تبصرے بھی موجود ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تفسیرِ قرآن: مبادیات اور علمی لوازمات

تفسیرِ قرآن کا علم ہمیشہ سے اسلامی علوم میں مرکزی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ قرآنِ کریم جو خالقِ کائنات کا کلام ہے،اس کے الفاظ اور آیات سے اللہ تعالیٰ کی مراد کو انسانی فہم کی حد تک سمجھنے کی کوشش کا نام تفسیر ہے۔ گویا تفسیرِقرآن محض لغوی معانی تک محدود نہیں، بلکہ اللہ کے پیغام تک رسائی کا ایک ذمہ دارانہ اور دقیق علمی عمل ہے۔ مفسرین نے مختلف اسالیب میں قرآنِ کریم کے معانی اور اس کے پیغام کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھی اسالیب میں دو بنیادی اقسام زیادہ معروف ہیں، یعنی تفسیرِ تحلیلی اور تفسیرِ موضوعی۔

تفسیرِ تحلیلی اور اس کے لوازمات: تفسیرِ تحلیلی وہ طرزِ تفسیر ہے، جس میں قرآن کی آیات کو ترتیب کے ساتھ، لغت، نحو، اسبابِ نزول، احکام اور روایات کی مدد سے گہرائی میں سمجھایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر تفسیر قرطبی اوراحکام القرآن للجصاص میں ایک آیت سے ۳۰مسائل کا استنباط کیا گیا۔مفسر قرآن کے لیے ضروری ہے کہ وہ:

الفاظ کے معانی (علم المعانی) پر عبور رکھتا ہو

الفاظ کی ترکیب اور جملوں کی ساخت (یعنی علمِ نحو) سے واقف ہو

آیت کے مکمل مفہوم کو اس کے سیاق و سباق میں دیکھ سکے

اور ہر سورۃ کے مجموعی مقصد کو سامنے رکھ کر آیات کی تشریح کرسکے۔

ہر سورۃ کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں، اور ان اہداف کو جانے بغیر اس کی آیات کی صحیح تفہیم ممکن نہیں۔ اسی بنا پر مفسر کے لیے ناگزیر ہے کہ عربی زبان کی گہری بصیرت کے لیے صرف، نحو، معانی، بیان، بلاغت وغیرہ پر عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ مقاصد وحی کو بھی اچھی طرح جانتا ہو کہ جن کے بغیر قرآن کریم کی حقیقی تعبیر ممکن نہیں ہوتی۔

ناسخ و منسوخ اور جمع و تطبیق:علم تفسیر کے اہم ترین مبادیات میں سے ایک ناسخ و منسوخ کا علم ہے۔ نزول قرآنِ کریم کے بعض احکام ابتدائی مرحلے میں نازل ہوئے مگر بعد میں اُن کی جگہ نئے احکام نے لے لی۔ بعض مقامات پر تو الفاظ و حکم دونوں منسوخ ہوگئے مگر بعض مقامات پر تلاوت الفاظ تو برقرار رہی مگر حکم منسوخ کر دیا گیا۔ مفسرکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سا حکم باقی ہے اور کون سا منسوخ؟ ورنہ وہ منسوخ احکام کو جاری سمجھ کر غلط نتائج تک پہنچ سکتا ہے۔ بعض آیات میں بظاہر تعارض ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر جمع و تطبیق کے اصول کام آتے ہیں، جن کے ذریعے بظاہر مختلف دکھائی دینے والی نصوص میں ہم آہنگی واضح کی جاتی ہے۔ یہ بھی ایک مستقل علمی میدان ہے۔

محکم اور متشابہ آیات: قرآنِ کریم میں آیات دو قسم کی ہیں: محکم اور متشابہ:

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں محکم آیات بھی ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور کچھ دوسری متشابہ بھی۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں صرف متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخلاف اس کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم اس (کتاب) پر ایمان لائے ہیں، یہ سب (کا سب محکم اور متشابہ آیات) ہمارے ربّ ہی کی طرف سے ہے، اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانش مند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں‘‘۔ (الِ عمرٰن ۳:۷)

محکم آیات وہ ہیں جن کا مفہوم واضح ،قطعی اور عمل کے اعتبار سے بلاشک و تردّد ہو، جب کہ متشابہ آیات وہ ہیں، جن کی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ علم میں پختگی رکھنے والے ان آیات کے ظاہر پر ایمان لاتے ہیں اور ان کے حقیقی معنی و مراد کو اللہ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ متشابہات میں وہ آیات ہیں جو انسانی عقل سے ماورا ہیں، جیسے عرش کی حقیقت، ’اللہ کی کرسی‘ یا برزخ کا تصور وغیرہ۔ متشابہ آیات کی نشاندہی نہ تو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے فرمائی ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ علمائے کرام نے اپنے فہم اور زمانے کے مروجہّ علوم کی روشنی میں انھیں آیاتِ متشابہات میں شمار کیا ہے ، اسی لیے ان کی تعداد مختلف بیان ہوئی ہے ۔

شانِ نزول اور اسبابِ نزول: قرآن کی بعض آیات کا ترجمہ تو عام فہم ہوتا ہے، لیکن وہ کس موقع پر نازل ہوئیں، اس کا محرک کیا تھا، اور اُس کے پیچھے کون سا تاریخی پس منظر کارفرما تھا؟ یہ جاننے کے لیے شانِ نزول اور اسبابِ نزول کی معرفت ضروری ہے۔ یہ علم نہ صرف آیت کے صحیح مفہوم کو واضح کرتا ہے بلکہ اس کی حکمت کو بھی منکشف کر دیتا ہے۔کسی آیت کا شانِ نزول محض ایک مخصوص واقعہ پر ہونا ضروری نہیں بلکہ بعض اوقات ایک آیت کا اطلاق متعدد واقعات پربھی ہوسکتا ہے۔

ایسے تمام مباحث مجموعی طور پر تفسیرِ تحلیلی کے دائرے میں آتے ہیں، جو قرآن فہمی کا سب سے قدیم، مستند اور جامع طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے مفسر ہر آیت کے لفظ، معنی، پس منظر، مقصد اور احکام کو منضبط علمی اصولوں کے ساتھ بیان کرتا ہےتاکہ پڑھنے والا قرآن کریم کا گہرا فہم حاصل کرکے اپنی سوچ، فکر اور عملی زندگی اس کے مطابق ڈھال سکے۔