ماہنامہ ترجمان القرآن، فروری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (فروری 2026) کا شمارہ ہے جس کا بیشتر حصہ رمضان المبارک کی روحانی و تربیتی اہمیت اور قرآن فہمی کے موضوعات پر مرکوز ہے۔
شمارے میں روزے کے مقاصد، تزکیۂ نفس اور تعمیرِ سیرت پر مضامین کے ساتھ ساتھ تفسیر و تجوید کے اصولوں پر تعلیمی مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی اقتصادیات پر ایک سلسلہ وار مضمون کا آغاز، اور غزہ، کشمیر، بنگلہ دیش اور اخوان المسلمون سے متعلق حالاتِ حاضرہ کے تبصرے بھی موجود ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مقدمہ
۱- اسلامی اقتصادیات : دو مخمصے
’اسلامی اقتصادیات‘ سے کیا مراد ہے؟ اس سادہ سے سوال نے پریشان کن حد تک مختلف اور متنوع جوابات کو جنم دیا ہے۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق مختلف اہلِ علم نے اس کی ۳۰سے زائد تعریفات پیش کی ہیں۔ جب ہم اس میدان کے عملی مظاہر، یعنی نصابی کتابوں، یونی ورسٹیوں کے نصابات، علمی کانفرنسوں اور ادارہ جاتی پالیسیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو تشویش اور ابہام مزید بڑھ جاتا ہے۔ ان تمام تعریفات میں اگر کوئی قدرِ مشترک ہے تو وہ یہ مفروضہ ہے کہ اسلامی معاشیات کی ابتدا مغربی معاشی نظام کے قائم کردہ مناہج و معیارات سے ہونی چاہیے، اور اس کے بعد کچھ اسلامی اصولوں، اصطلاحات یا مقاصد کے انضمام اور کچھ مغربی اصطلاحات کی قطع و برید کے بعد اسی نظام کو ’مشرف بہ اسلام‘ کر دیا جائے۔
یہ کتاب اسی عمومی مفروضے کو کلیتاً رَد کرتی ہے۔ کتاب کا عنوان: اقتصادیاتِ اسلام: سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کی نقیض اس مقدمے کا خلاصہ ہے کہ اسلام اور سرمایہ داری انسانی مقصدِ حیات، عدلِ اجتماعی اور معاشی زندگی کے اخلاقی اصولوں کے بارے میں ایک دوسرے سے بالکل متناقض تصورات رکھتے ہیں۔ چنانچہ جب تک سرمایہ دارانہ نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے اسلامی معاشیات کی توضیح کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں گی، تب تک اس کا نتیجہ تضادات، سمجھوتوں اور فکری انتشار کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ اس بات سے یہ بھی سمجھ آ جانا چاہیے کہ :
اتنی متضاد تعریفات کیوں پائی جاتی ہیں اور کیوں ابھی تک کسی حتمی تعریف تک نہیں پہنچا جاسکا؟
دوسرا حل طلب معما یہ ہے کہ ’اسلامی‘ معاشیات کا آغاز آخر ہوا کیسے؟ ایک ایسا علم جو بیسویں صدی میں پہلی مرتبہ سامنے آیا، اور جس کی اسلامی روایت میں کوئی مثال نہیں ملتی اسے ’اسلامی‘ کیسے کہا جا سکتا ہے؟ فقہ، تفسیر اور کلام جیسے روایتی علوم طویل اور مسلسل ارتقائی تاریخ رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس دورِ جدید میں اسلامی معاشیات کا ظہور، نوآبادیاتی پس منظر اور مغرب کی معاشی بالادستی کے ردعمل میں ہوا۔ کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اصل میں صرف ایک جدید علمی ایجاد یا تخلیق ہے، جسے مذہبی لبادہ پہنا دیا گیا ہے؟ یا کوئی ایسی گہری علت موجود ہے جس کی بنا پر اسے ’اسلامی‘ کہنا درست قرار دیا جا سکتا ہے؟
یہ انھی دونوں گتھیوں کو سلجھانے کے لیے لکھی گئی ہے۔ مرکزی استدلال یہ ہے کہ اسلامی معاشیات، سرمایہ دارانہ نظام کی کوئی ترمیم شدہ صورت نہیں، بلکہ بالکل جداگانہ معاشی تصور کی تشکیل کا نام ہے، ایک ایسا تصور جو شریعت کے ابدی اصولوں پر بھی قائم ہواور عصرِ حاضر کی ضروریات کے مطابق اجتہادی بصیرت سے بھی مزین ہو۔نیز کتاب یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اسلامی معاشیات کا بیسویں صدی ہی میں منظرِ عام پر آنا کوئی نقص نہیں بلکہ اسلام کی ابدی صلاحیتِ اجتہاد کا بیّن ثبوت ہے۔ وہ صلاحیت جس کے ذریعے وحی کی رہنمائی ہرزمانے کے بدلتے حالات میں قابلِ اطلاق رہتی ہے۔ زیرِ نظر تمہید کے بقیہ حصے میں اسی مدعا کو معقول دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔
۲- غیر متبدل اصول اور زمانی و مکانی حقائق، اسلامی تناظر میں
اپنے ابتدائی دنوں ہی میں اسلام نے یہ عظیم اصول بتلا دیا تھا کہ ’الٰہی ہدایت ابدی ہے، مگر اس کا اطلاق ہمیشہ بدلتے ہوئے زمان و مکان کے مطابق ہوگا‘۔ قرآن و سنت عدل، امانت، رحمت اور مساوات جیسے غیر متبدل اصول فراہم کرتے ہیں، مگر ان اصولوں پر عمل درآمد کی صورتیں ہمیشہ معاشرتی حالات، تکنیکی کیفیات اور تاریخی سیاق و سباق کے مطابق بدلتی رہی ہیں۔
مثال کے طور پر مسلم معاشرے کے دفاع کے مسئلہ کو دیکھیے ۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس کا مطلب گھڑ سواری، تیراکی اور تیراندازی جیسے فنون میں مہارت تھا۔ بعد کے ادوار میں اسی ذمہ داری کا تقاضا آتشیں اسلحے اور بحری طاقت میں مہارت ہوگیا۔ آج کے دور میں اس کے ذیل میں سائبر سکیورٹی، خلائی انجینئرنگ، معاشی استحکام اور بین الاقوامی قانون جیسے شعبے داخل ہو چکے ہیں۔ اصول (دفاع کی ذمہ داری) ایک ہی رہا، مگر صورتیں بدلتی رہیں۔ غیر متبدل اقدار اور متبدل حالات کے اسی تعلق نے اجتہاد کو اسلامی روایت کا نہ صرف جائز بلکہ لازمی جزو بنادیا۔
یہ اصول معاشی زندگی پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے۔ شریعت نے معاشی عدل کے بہت واضح معیارات قائم کیے ہیں: سود کی حرمت، زکوٰۃ کی فرضیت، عقود کی پاسداری، دولت کی مسؤلیت اور محنت و مزدوری کا احترام۔ لیکن ان اصولوں کے عملی اطلاقات (ادارے، قوانین، پالیسیاں) ہمیشہ ہر دور کے معاشرتی، سیاسی اور تکنیکی حالات کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔
اسلامی تاریخ ایسے اجتہادی ارتقا سے بھری پڑی ہے۔دورِ خلافت کی متنوع مالیاتی پالیسیاں، اوقاف کی ترقی یافتہ صورتیں، منڈیاں اور حکومتی محاصل کے ضابطے، یہ سب اس امر کی زندہ مثالیں ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ابدی اصولوں کو اپنے زمانے کے نئے تقاضوں اور حالات کے مطابق برتا۔فقہاء اس اصول کی تعبیر یوں کرتے ہیں : تتغیر الفتویٰ بتغیر الزمان والمکان،یعنی زمان و مکان کے بدلنے سے فتویٰ بدل جاتا ہے ۔ چنانچہ عدل کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کو روحِ عصر کے ساتھ سمجھا اور برتا جائے۔
یہی علمی و عملی شعور ہمارے مرکزی استدلال کی اساس ہے۔ عہدِ حاضر میں مسلمان ایسے معاشی مسائل کا شکار ہیں جن کی نوعیت نہایت گنجلک، ہمہ گیر اور ماضی سے یکسر مختلف ہے: ریاستیں اور خاندان قرض کے جال میں جکڑے ہوئے ہیں، مہنگائی میں اضافے اور کرنسی کی قدر میں مسلسل گراوٹ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے ، بنکاری نظام قرض کی بنیاد پر پیسے کی تخلیق کے ذریعے معیشت کو غیر فطری سمت میں دھکیل رہا ہے، اور عالمی مالیاتی اداروں کی عائد کردہ شرائط کے تحت قومی پالیسیاں تشکیل پا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ اجارہ داریوں کا پھیلاؤ، میڈیا اور اشتہارات کے ذریعے خواہشات کی صنعت کا فروغ، اور محنت کش انسان کی قدر و منزلت کی پامالی نئی اور زیادہ پیچیدہ صورتوں میں سامنے آ رہی ہے۔ ان مسائل کا جواب مروجہ جدید نظاموں کی اندھی تقلید میں ہے، نہ ماضی کے کسی جامد تصور کی ہوبہو نقالی میں۔ صائب راستہ یہی ہے کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں معاشی معیارات پر از سرِ نو غور و فکر کیا جائے اور پھر ان کی بنیاد پر ادارے اور پالیسیاں وضع کی جائیں۔اسلامی معاشیات کی ذمہ داری اسی کارِ خیر کو انجام دینا ہے ۔
۳- تاریخی تجربات اور معاشرتی نظریات کی تشکیل
خیالات کبھی خلا میں جنم نہیں لیتے۔ معاشرتی نظریات خواہ ان کا تعلق معاشیات سے ہو، سیاست سے یا قانون سے زمان و مکان سے بے نیاز مجرد صداقتیں نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی تاریخی مسئلے کے جواب کے طور پر سامنے آتے ہیں، جنھیں مفکرین اپنے عہد کے فکری، سماجی اور اخلاقی بحرانوں سے نبرد آزما ہو کر وضع کرتے ہیں۔ کسی نظریے کو اس کے شانِ نزول سے کاٹ کر سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے سوال سنے بغیر ہی جواب سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
جس طرح اسلامی روایت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم ابدی اصولوں کو اجتہاد کے ذریعے بدلتے حالات پر منطبق کریں، بالکل اسی طرح دیگر فکری روایات کو بھی ان کے تاریخی پس منظر کے ساتھ سمجھنا ناگزیر ہے۔ جب کسی نظریے کے نتائج کو ماورائے تاریخ ’آفاقی صداقت‘ سمجھ لیا جائے، گویا وہ کسی تاریخی تجربے کے بجائے عقلِ محض سے مستنبط ہوں، تو نہ صرف اس نظریے کی تفہیم مسخ ہوجاتی ہے بلکہ خود وہ مسئلہ اور وہ زمانہ بھی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے، جس کے جواب میں وہ نظریہ وجود میں آیا تھا۔
اسی اصول کا اطلاق جدید مغربی معاشی فکر پر بھی ہوتا ہے۔یہ فکر کسی ماورائے زمان و مکان ’عقلِ محض‘ کی ریاضت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ یورپ کی مخصوص مذہبی کشاکش اور اس کے بعد ’تحریکِ تنویر‘ (Enlightenment Movement)کے فکری ماحول میں بتدریج تشکیل پائی۔ اس دور میں یہ رجحان مضبوط ہوتا چلا گیا کہ ’مذہب کو محض ایک نجی معاملہ قرار دے کر‘ اجتماعی اور معاشی نظمِ حیات سے الگ کر دیا جائے۔ اسی تاریخی تناظر میں، جیسا کہ آر ایچ ٹاؤنی جیسے مؤرخ نے اپنی کتاب Religion and the Rise of Capitalismمیں واضح کیا ہے ’’معاشی سرگرمیوں کے اخلاقی پیمانے بدلنے لگے: نفع، سود اور دولت کی اندھی دوڑ کو رفتہ رفتہ ’جواز‘ فراہم کیا گیا، اور اُخروی جواب دہی کے تصورات عملی زندگی سے دور ہوتے چلے گئے‘‘۔
کارل پولانی کی کتاب The Great Transformation:Economic and Political Origins of Our Times کے مطابق، جب معیشت کو معاشرت سے کاٹ کر ایک خودمختار منڈی کے سانچے میں ڈھالا گیا، تو انسان اور سماج کے مقاصد بھی عملاً محض دنیاوی کامیابی تک محدود ہوگئے، یعنی طاقت، دولت اور خواہشات کی تسکین۔ اگر اس پورے تاریخی پس منظر کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہی عارضی اور مخصوص مفروضے ’آفاقی سچائیوں‘ کے رُوپ میں نظر آنے لگتے ہیں۔ یہی رویہ مغربی معاشی فکر کی درست تفہیم میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے،اور اس کے متبادل نظریات کی تشکیل کے راستے میں بھی ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔
بدقسمتی سے یہ تاریخی بے بصیرتی آج مغرب اور مسلم دنیا دونوں میں عام ہو چکی ہے ۔ البتہ اس کے اسباب دونوں جگہ مختلف ہیں۔ مغرب میں ’تحریکِ تنویر‘ کے فکری رہنمائوں نے علم کو شعوری طور پر الٰہیات سے کاٹنے کی کوشش کی۔عقل کو خودمختار، غیر جانب دار اور تمام تاریخی و مذہبی قیود سے بالاتر قرار دیا گیا۔ اسی دعوے نے ’سماجی علوم کی معروضیت‘ کے نئے تصور کو جنم دیا۔ ’آفاقیت پرستی‘ کے نظریے کی ترویج سے جدید مغربی تعقل کو ایسی بالادستی حاصل ہوگئی کہ مغربی نظریات اب محض نظریات نہ رہے، بلکہ ایسی آفاقی صداقتوں کے قالب میں پیش کیے جانے لگے جو ہر عہد کے ہرشخص پر یکساں لاگو ہوں۔
اسلامی تعلیمات کی آفاقیت اپنی جگہ مسلّم ہے، مگر اس آفاقیت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم ہردور میں ان تعلیمات کے عملی نفاذ کے وسائل سے بخوبی آگاہ ہوں۔ مثال کے طور پر قرآن و سنت بار بار بھوکوں کو کھانا کھلانے اور محتاجوں کی کفالت کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ حکم ابدی ہے، لیکن آج اس کو مؤثر طور پر پورا کرنے کے لیے زراعت، آبپاشی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، طلب اور رسد، اور جدید پیداواری تکنیکوں کا فہم ضروری ہے، ورنہ نیک نیتی کے باوجود غربت و افلاس کا مسئلہ برقرار ر ہے گا۔ اسی طرح سود، زکوٰۃ، اور مالی معاملات سے متعلق شرعی اصول بھی ابدی ہیں،مگر ان کے اطلاق کے لیے جدید کرنسی، بنکاری اور مالیاتی نظام کی ساخت کو سمجھے بغیر کوئی بامعنی پیش رفت ممکن نہیں۔شرعی اصولوں کی آفاقیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماضی کی جزئیات کو من و عن حال پر چسپاں کیا جانے لگے ، وگرنہ تصورِ اجتہاد ایک بے معنی شے بن کر رہ جائے گا۔
خلاصہ یہ کہ آفاقیت کا غلط تصور جہاں جدید علوم کے فہم میں خرابی کا باعث بنتا ہے ، وہیں اسلامی علوم کے ناقص یا غیر صائب اطلاق کا سبب بھی بن سکتاہے ۔ اسی لیےعلوم کے تاریخی ارتقا سے واقفیت اَزبس ضروری ہے ۔