ماہنامہ ترجمان القرآن، فروری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (فروری 2026) کا شمارہ ہے جس کا بیشتر حصہ رمضان المبارک کی روحانی و تربیتی اہمیت اور قرآن فہمی کے موضوعات پر مرکوز ہے۔
شمارے میں روزے کے مقاصد، تزکیۂ نفس اور تعمیرِ سیرت پر مضامین کے ساتھ ساتھ تفسیر و تجوید کے اصولوں پر تعلیمی مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی اقتصادیات پر ایک سلسلہ وار مضمون کا آغاز، اور غزہ، کشمیر، بنگلہ دیش اور اخوان المسلمون سے متعلق حالاتِ حاضرہ کے تبصرے بھی موجود ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
سالانہ تربیتی کورس
رمضان المبارک ہمارے روز و شب کو سنوارنے آرہا ہے۔ یہ مسلم اُمہ کے لیے ایک ماہ کا تربیتی کورس لا رہا ہے اور تربیت ہوتی اس لیے ہے کہ تربیت حاصل کرکے مستقبل میں اُس کے مطابق کام کیا جائے۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ ایک مسلمان کو اس عملی سالانہ تربیتی کورس سے اس لیے گزارتا ہے تاکہ مستقبل کے گیارہ مہینے اللہ کی فرماں برداری میں گزارنا آسان ہوجائیں۔ اس لیے ڈیجیٹل دُنیا اور جدید ٹکنالوجی کے فوائد و نقصانات پر جو مختصر گزارشات پیش کی گئی ہیں، گو کہ وہ رمضان کے حوالے سے ہیں ، مگر حقیقتاً ایک مسلمان سال کے بارہ مہینے، مہینے کے چارہفتے، ہفتے کے سات دن، اور دن کے ۲۴ گھنٹے مسلمان ہی ہوتا ہے۔ اور ایک مسلم یا مسلمان کے معنی ہی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حکم کے آگے اپنا سر تسلیم خم کردینا ہے۔ لہٰذا یہ کام سال کے بارہ مہینہ ہمیں <<يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً (البقرہ ۲: ۲۰۸)>> کی چلتی پھرتی تصویر بنا دینے کےلیے کافی ہوجانا چاہیے۔ اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوسکا تو سمجھیں رمضان میں رحمتوں کی برسات ہمارے لیے رائیگاں گئی اور ہم اس کی سیرابی سے محروم رہ گئے ۔ اس کی بہترین مثال سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۶۴ میں دی گئی ہے جو اگرچہ کسی پر احسان کرکے جتانے کے حوالے سے ہے مگر موقع کی مناسبت سے یہ آیت ایسے لوگوں پر بھی ثبت ہوتی نظر آرہی ہے جو رمضان المبارک میں برستی رحمتوں کی برسات میں اُس کے فیوض و برکات سے سیراب ہونے سے محروم رہ گئے:
<<فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا ۭ لَا يَـقْدِرُوْنَ عَلٰي شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا ط (البقرۃ۲: ۲۶۴)>> اس کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی، اس پر جب زور کامینہ برسا، تو ساری مٹی بہہ گئی اورصرف چٹان کی چٹان رہ گئی ۔ اور انھیں کچھ بھی صلہ حاصل نہیں ہوتا اپنی کمائی کا۔