مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، فروری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (فروری 2026) کا شمارہ ہے جس کا بیشتر حصہ رمضان المبارک کی روحانی و تربیتی اہمیت اور قرآن فہمی کے موضوعات پر مرکوز ہے۔

شمارے میں روزے کے مقاصد، تزکیۂ نفس اور تعمیرِ سیرت پر مضامین کے ساتھ ساتھ تفسیر و تجوید کے اصولوں پر تعلیمی مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی اقتصادیات پر ایک سلسلہ وار مضمون کا آغاز، اور غزہ، کشمیر، بنگلہ دیش اور اخوان المسلمون سے متعلق حالاتِ حاضرہ کے تبصرے بھی موجود ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تفسیر موضوعی

تفسیرِ موضوعی قرآن فہمی کا وہ طریق ہے کہ جس میں کسی ایک سورۃ کے مرکزی مضامین کو سلیقے سے کھولا جاتا ہے۔ بعض سورتیں ایک ہی بڑے موضوع کے گرد گھومتی ہیں، جب کہ بعض میں کئی جہتیں اور مختلف فکری زاویے بیک وقت جلوہ گر ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر سورۃ الفاتحہ میں الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ سے مراد یہود اور الضَّآلِّينَ سے مراد نصاریٰ ہیں۔ لیکن اس اشارے کی تفصیل سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران کے مطالعہ سے کھلتی ہے۔ سورۃ البقرہ میں یہود کی سرکشی، ان کی تاریخ، اُن کے رویوں اور ان کے انحرافات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے، جب کہ سورۃ آلِ عمران میں نصاریٰ کے باطل عقائد کی تردید اور ان کے فکری انحرافات کا بیان ملتا ہے۔ اس طرح سورۃ الفاتحہ کے مختصر مگر پُراثرکلمات الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ اور الضَّآلِّينَ کی شرح دو عظیم سورتوں میں کھل کر سامنے آجاتی ہے۔

اسی طرح سورۃ البقرہ میں جہاد کا اجمالی حکم اور حکمت مذکور ہے:

<<كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَكُرْہٌ لَّكُمْ۝۰ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَخَيْرٌ لَّكُمْ۝۰ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَشَرٌّ لَّكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۝۲۱۶ (۲:۲۱۶)>> تمھیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمھیں ناگوار ہے، اور [ایسا بھی] ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں ناگوار ہو اور وہی تمھارے لیے بہتر ہو اور [یہ بھی]ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند ہو اور وہی تمھارے لیے بری ہو، اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔

یہاں قتال کی فرضیت کے حکم کے ساتھ انسان کی فطری امن پسندی کی کمزوری کو بھی بیان کردیا گیا ہے اور یہ تنبیہ بھی کرد ی گئی ہے کہ ایسے تمام احکام جو بظاہر بعض انسانی طبائع پر ناگوار گزرتے ہیں ان میں کوئی بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے، اور اللہ ہی اسےجانتا ہے، انسان نہیں جانتا، پس تمھیں جو حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو۔پھر جہاد کے تفصیلی احکام سورۃ الانفال اور سورۃ التوبہ میں بیان ہوئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہؓ کے زمانہ میں جب کوئی لشکر جہاد کے لیے روانہ کیا جاتا، تو اس کے سامنے ان دو سورتوں کی تلاوت کی جاتی تھی، تاکہ ان کے دلوں میں ثابت قدمی، بصیرت اور شجاعت پیدا ہو۔ اسی تناظر میں آج غزہ کے مجاہدین کو دیکھیں،وہ انھی آیات سے حوصلہ، قوت اور یقین حاصل کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اپنی سرزمین، اپنے حق اور مسجد ِ اقصیٰ کی آزادی کے لیے جدوجہدکرنا نہ صرف فرض ہے بلکہ اس راہ میں شہادت عزت و شرف کی علامت بھی ہے۔

اسی طرح عقیدۂ توحید کی عظمت بیان کرنے کے لیے سورۃ الانعام نازل ہوئی، جس کے نزول کے وقت ستر ہزار فرشتے اس کےہمراہ اُترےاوریہ اس سورت کے مقام و مرتبے کی گواہی ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل میں مسجد ِ اقصیٰ، بنی اسرائیل کی تاریخ اور آخر ی زمانے کے بڑے واقعات کا نہایت بلیغ نقشہ پیش کیا گیا ہے، حتیٰ کہ اس ارضِ مقدس میں یہودیوں کے انجام کا ذکربھی ملتا ہے۔

یہ تمام مثالیں واضح کرتی ہیں کہ تفسیرِ موضوعی محض ایک علمی طریقہ نہیں، بلکہ قرآن کریم کو سمجھنے کا وہ زاویہ ہے جو انسان کے سامنے معانی کے نئے دروازے کھولتا ہے۔ اس سے نہ صرف بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ بہت سے عقدے بھی کھلتے چلے جاتے ہیں۔ قرآن کریم کی معنوی وسعت اس اندازِ مطالعہ میں اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔

جب کوئی قرآن کریم کی تفسیر یا تشریح کرے تو یہ اہم حقیقت ہمیشہ اس کے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قرآن کریم اللہ خالقِ کائنات نے جبرئیل امینؑ کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر نازل فرمایا، اور مفسر دراصل اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے عظیم اور مقدس کلام کو اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوتا ہے۔لہٰذا اس کے دل میں ہرلمحہ یہ خوف بیدار رہنا چاہیے کہ وہ جو معنی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی طرف منسوب کررہا ہے شاید اللہ کی مراد وہ نہ ہو۔ یہی پاکیزہ خوف اسے بے جا قیاس، گمان اور مذموم تفسیر بالرائے سے روکنے کے لیے ایک مضبوط حصار کا کام دیتا ہے۔

اعلٰی تعلیمی اداروں میں تعلیم و تفہیمِ قرآن کی اہمیت: اعلیٰ تعلیم کے ادارے صرف ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ یا میڈیا کے ماہرین تیار کرنے کی فیکٹریاں نہیں ہوتے، یہ دراصل قوموں کے مستقبل کا سانچہ تراشنے والے مراکز ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ،اسلامی ممالک میں ان اداروں کی ذمہ داری صرف پیشہ ورانہ مہارتوں کی تعلیم تک محدود نہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ اپنے طلبہ کے ذہن اور دل میں قرآنی فکر ، اسلامی تعلیم اورایمانی بصیرت کی روشنی بھی پیدا کرنے کی کوشش کریں، تاکہ جب یہ نوجوان آگے چل کر ریاست کے اساتذہ، حکمران، جرنیل، سائنس دان یا پالیسی ساز بنیں،تو ان کے فیصلوں میں قرآن کا نور، سنت کی حکمت اور ایمان کا وزن شامل ہو۔اگر ذہن اسلامی فکر سے خالی ہو اور دل میں ایمان کا چراغ بجھا ہوا ہو تو محض پیشہ ورانہ قابلیت دنیا میں شہرت تو دے سکتی ہے، لیکن دُنیا و آخرت میں حصولِ فلاح کے حوالے سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہی اصول ہتھیاروں، فوجوں، ٹکنالوجی، ایٹم بم اور میزائلوں پر بھی صادق آتا ہے۔ جب تک ان کا استعمال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے تابع نہ ہو، یہ طاقت نہیں بلکہ خسارے کا سودا بن جاتا ہے، یہ ایسی آگ ہوسکتی ہےجو انھیں چلانے والے کو بھی جلا ڈالتی ہے۔

اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے غزہ کے تعلیمی اداروں نے ایک عظیم الشان مثال قائم کی ہے، وہاں عصری علوم، طب، انجینئرنگ اور ٹکنالوجی کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت، جہاد، صبر، توکّل اور شجاعت کی تعلیم کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسی تعلیم نے انھیں کم وسائل کے باوجود طاقت ور قوموں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنا دیا ہے۔ ان کا حوصلہ، ان کا عزم کسی فوجی اکیڈمی کی نہیں، قرآنی نور کی پیداوار ہے ۔ غزہ میں لاکھوں لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ گھر، مساجد، مدار س، یونی ورسٹیاں اور ہسپتال ملبے کاڈھیر بن چکے ہیں۔ ڈاکٹر شہید ہو گئے، دوائیں ختم ہو گئیں، علاج کا سامان باقی نہیں رہا،یہاں دل د ہلا دینے والے مناظرہیں۔ماؤں کے چہروں پر آنسو تو ہیں مگر شکوہ نہیں۔ ملبے کے ڈھیر پربھی حفظ اور تعلیم و تعلّمِ قرآن کے حلقے جاری ہیں۔اہلِ غزہ کا حوصلہ آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ انھیں پختہ یقین ہے کہ کفرسے حقوق مانگےنہیں جاتےبلکہ یہ جہاد وقتال سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہ جنگ ختم نہیں ہوئی اور جب تک مسجد اقصیٰ آزاد نہیں ہوتی، تب تک جہاد وقتال جاری رہے گا۔اہلِ فلسطین شہادتیں دیتے رہیں گے، انھیں قرآن کے اس اعلان پر کامل یقین ہے :

<<وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ اَمْوَاتًا۝۰ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ۝۱۶۹ۙ فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ۝۰ۙ وَيَسْـتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ۝۰ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْھِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۝۱۷۰ (اٰل عمرٰن ۳:۱۶۹-۱۷۰)>> جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے ربّ کے پاس رزق پا رہے ہیں، جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے اس پر خوش وخرم ہیں، اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔

وہ جانتے ہیں کہ ان کا سہارا نہ ٹینک ہیں نہ طیارے،بلکہ وہ کلام ہے جس نے انھیں ٹوٹنے نہیں دیا۔ ان کے چہروں پر صبر کی روشنی ہے، ان کی دعاؤں میں یقین کی حرارت ہے۔ دل میں ایک درد ضرور ہے،مگر زبان پر شکوہ نہیں۔ بس وہ یہ کہتے ہیں کہ اُمت مسلمہ غفلت سے دوچار ہے۔ جب دل روحِ قرآن سے خالی ہو جائیں، جب روح اسلام کے نور سے محروم ہو جائے، پھر جسم تو زندہ رہتا ہے مگردل مرجاتےہیں۔اس لیے اُمت مسلمہ کو جگانے، اس کی روح میں زندگی کی حرارت دوبارہ بھرنے، اور اس کے مُردہ جسم میں جان ڈالنے کا واحد علاج یہی ہے کہ امت پوری قوت کے ساتھ دوبارہ رجوع الی القرآن کرے۔ خالق کائنات نے قوموں کے عروج و زوال کو ان کے تعلق بالقرآن سے منسلک کر رکھا ہے۔ اس حقیقت کی خبر اس رحمٰن و رحیم خالق نے اپنے آخری رسول مخبر صادق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ان الفاظ میں دی ہے: اِنَّ اللہَ یَرْفَعُ بِھٰذا الْکِتٰبِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخِرِیْنَ (صحیح مسلم، کتاب فضائل القرآن) اس قانونِ الٰہی کے مطابق تعلق بالقرآن کا نُور ہی اُمت مسلمہ کو خاک سے اٹھا کر اپنے حقیقی منصب پر فائز کرکے دُنیا کا پیشوا اور انسانیت کا رہنمابنا سکتا ہے۔