شمالی افریقہ سے قائم ہونے والی اسماعیلی شیعہ خلافت، جس نے مصر کو اپنا مرکز بنایا اور جامعہ الازہر کی بنیاد رکھی۔ صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں ختم ہوئی۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- دولتِ اغالبہ 800ء–909ء
- خلافتِ فاطمیہ
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
اسماعیلی شیعہ تحریک نے شمالی افریقہ میں مقامی حمایت حاصل کر کے عباسی خلافت کے خلاف ایک متوازی خلافت کا اعلان کیا اور 969ء میں مصر فتح کر کے قاہرہ کو نیا دارالحکومت بنایا۔
زوال کے اسباب
اندرونی وزارتی رسّہ کشی، فوجی دھڑوں کی چپقلش اور صلیبی دباؤ نے سلطنت کو کمزور کیا، یہاں تک کہ صلاح الدین ایوبی نے 1171ء میں فاطمی خلافت کا خاتمہ کر کے سنی حکومت بحال کی۔
حکمران (14)
عبیداللہ المہدی
909ء – 934ءشمالی افریقہ میں فاطمی خلافت کی بنیاد رکھی۔
القائم بامر اللہ
934ء – 946ءخارجی بغاوتوں کا سامنا کرتے ہوئے خلافت کو مستحکم رکھا۔
المنصور باللہ
946ء – 953ءابو یزید کی بڑی بغاوت کو کچل کر خلافت کو بحران سے نکالا۔
المعز لدین اللہ
953ء – 975ءمصر فتح کیا اور جامعہ الازہر کی بنیاد رکھی۔
العزیز باللہ
975ء – 996ءجامعہ الازہر کو ایک باقاعدہ تدریسی ادارے کے طور پر ترقی دی۔
الحاکم بامر اللہ
996ء – 1021ءدار الحکمہ قائم کیا؛ ان کے متنازع فیصلوں اور پراسرار گمشدگی کے گرد کئی روایات مشہور ہیں۔
الظاہر لاعزاز دین اللہ
1021ء – 1036ءقاہرہ میں قحط و وباء کے بعد معیشت کو دوبارہ استحکام دیا۔
المستنصر باللہ
1036ء – 1094ءطویل ترین دور، جس کے آخری حصے میں شدید قحط (المستنصریہ) اور فوجی خلفشار نے خلافت کو کمزور کیا۔
المستعلی باللہ
1094ء – 1101ءوزیر الافضل شاہنشاہ کی سرپرستی میں تخت نشین ہوئے، جس پر نزاری اسماعیلیوں نے اختلاف کیا۔
الآمر باحکام اللہ
1101ء – 1130ءوزیر الافضل کے قتل کے بعد مکمل اختیار سنبھالا۔
الحافظ لدین اللہ
1130ء – 1149ءجانشینی کے بحران کے بعد خلافت کو دوبارہ مستحکم کیا۔
الظافر باعداء اللہ
1149ء – 1154ءوزرا کی رسّہ کشی کے دور میں محض علامتی خلیفہ رہے۔
الفائز بنصر اللہ
1154ء – 1160ءنابالغ عمر میں تخت نشین ہوئے، وزیر طلائع بن رزیک کے زیرِ اثر رہے۔
العاضد لدین اللہ
1160ء – 1171ءفاطمی خلافت کے آخری خلیفہ — 1171ء میں صلاح الدین ایوبی نے خلافت ختم کر کے سنی حکومت بحال کی۔
متعلقہ واقعات
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔