مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · ملوکیت و مسلم حکمرانی (661ء – 1924ء)

الخوارزمی کا علمِ الجبرا — مسلم سائنسدانوں کی ایجاد

820ء204 ہجری

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ820ء
ہجری تاریخ204 ہجری
دورملوکیت و مسلم حکمرانی

محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے 'الجبر و المقابلہ' تصنیف کی، جس سے جدید الجبرا (Algebra) کی بنیاد پڑی۔

محمد بن موسیٰ الخوارزمیؒ (تقریباً 780ء–850ء) بغداد کے بیت الحکمت سے وابستہ ریاضی دان، ماہرِ فلکیات اور جغرافیہ دان تھے۔ خلیفہ مامون الرشید کی سرپرستی میں انہوں نے 'الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ' لکھی، جس میں الجبرا کو پہلی بار ایک باقاعدہ علم کے طور پر پیش کیا گیا۔ 'الجبر' کا مطلب ہے ٹوٹے ہوئے کو جوڑنا (مساوات کے دونوں طرف توازن قائم رکھنا)، اور اسی سے انگریزی لفظ Algebra نکلا۔

انہوں نے ہندی اعداد و شمار (ہندسوں اور صفر) کے نظام پر بھی کتاب لکھی، جس کے لاطینی تراجم کے ذریعے یہ نظام یورپ پہنچا اور آج کے عالمی اعداد کی بنیاد بنا۔ ان کے نام 'الخوارزمی' سے 'الگورتھم' (Algorithm) کی اصطلاح بنی، جو آج کمپیوٹر سائنس کی بنیادی اصطلاح ہے۔

خوارزمی کی 'صورۃ الارض' جغرافیے کی اہم کتاب تھی اور ان کے فلکیاتی جداول بھی بعد کے ماہرین کے کام آئے۔ ان کے کام کو مسلم دنیا کی علمی ترقی اور یورپ تک اس کی منتقلی کی نمایاں مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

علمی ارتقاءایجادات و سائنس

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں