وسطی ایشیا میں دریائے طلاس کے کنارے عباسی فوج نے چینی تانگ سلطنت کی فوج کو شکست دی۔ روایت کے مطابق قیدیوں کے ذریعے کاغذ سازی کا فن مسلم دنیا اور پھر یورپ تک پہنچا۔
آٹھویں صدی کے وسط میں وسطی ایشیا (ماوراء النہر) پر اثر و رسوخ کے لیے عباسی خلافت اور چین کی تانگ سلطنت آمنے سامنے تھیں۔ فرغانہ کے تنازع میں تانگ فوج نے مداخلت کی تو عباسی گورنر زیاد بن صالح نے مقابلہ کیا۔ 751ء میں دریائے طلاس کے کنارے کئی دن کی لڑائی کے بعد عباسی فوج نے تانگ فوج کو شکست دی، خصوصاً اس وقت جب تانگ فوج کے ترک حلیف عباسیوں سے آ ملے۔
روایت ہے کہ قیدیوں میں کاغذ بنانے والے کاریگر بھی تھے جن سے سمرقند میں کاغذ سازی سیکھی گئی، اور بعد ازاں یہ فن بغداد، دمشق، مصر اور اندلس ہوتا ہوا یورپ تک پہنچا۔ اس روایت کی تفصیل پر مؤرخین میں بحث ہے، لیکن یہ حقیقت مسلم ہے کہ اسی دور کے بعد اسلامی دنیا میں کاغذ کا استعمال بہت بڑھ گیا۔
سیاسی اعتبار سے اس شکست کے بعد چین کا وسطی ایشیا میں اثر کم ہو گیا اور اس علاقے میں اسلام کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔