ہلاکو خان کی قیادت میں منگول افواج نے بغداد کو تباہ کیا، جس سے عباسی خلافت اور بیت الحکمت کی علمی میراث کو شدید نقصان پہنچا۔
تیرہویں صدی کے وسط میں منگولوں نے چنگیز خان کے جانشینوں کی قیادت میں ایران اور وسطی ایشیا کی خوارزم شاہی سلطنت کو تباہ کر دیا تھا۔ ہلاکو خان ایک بڑی فوج کے ساتھ عراق کی طرف بڑھا؛ عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کی فوج کمزور اور حکومت داخلی اختلافات کا شکار تھی، اور اسمعیلی قلعے ختم ہونے کے بعد منگولوں کے سامنے کوئی بڑی رکاوٹ نہ رہی۔
جنوری–فروری 1258ء میں بغداد کا محاصرہ ہوا؛ 10 فروری کو شہر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوا۔ منگول فوجوں نے کئی دن تک قتلِ عام کیا۔ مؤرخین ہلاکتوں کی تعداد میں لاکھوں تک کے اعداد بیان کرتے ہیں (جن کی صحت پر بحث ہے)۔ کتب خانے، مدرسے اور بیت الحکمت کے ذخائر تباہ ہوئے اور روایت ہے کہ دریائے دجلہ کا پانی کتابوں کی سیاہی سے کالا ہو گیا۔ خلیفہ کو قتل کر دیا گیا۔
اس سانحے کے ساتھ پانچ سو سالہ عباسی خلافت کا عملی خاتمہ ہوا اور مسلم دنیا کا علمی و سیاسی مرکز ٹوٹ گیا۔ مصر کے مملوکوں نے عباسی خاندان کے ایک فرد کو قاہرہ میں علامتی خلیفہ بنا کر منصبِ خلافت کا تسلسل برقرار رکھا۔