مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · ملوکیت و مسلم حکمرانی (661ء – 1924ء)

پہلی صلیبی جنگ — سقوطِ بیت المقدس

1099ء492 ہجری

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1099ء
ہجری تاریخ492 ہجری
دورملوکیت و مسلم حکمرانی

صلیبی افواج نے بیت المقدس فتح کر کے شہر میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا اور صلیبی ریاستیں قائم کیں۔

1095ء میں پوپ اربن دوم نے بازنطینی شہنشاہ کی اپیل پر یورپی مسیحیوں کو بیت المقدس کو 'آزاد' کرانے کی دعوت دی، اور یوں پہلی صلیبی جنگ کا آغاز ہوا۔ اس وقت مسلم دنیا سلجوقی امرا، فاطمی مصر اور عباسی خلافت کے درمیان بٹی ہوئی تھی اور صلیبیوں کے مقابلے میں متحد مزاحمت نہ ہو سکی۔ صلیبی لشکروں نے انطاکیہ اور الرہا (ایڈیسا) پر قبضہ کیا۔

15 جولائی 1099ء کو ایک ماہ کے محاصرے کے بعد صلیبی بیت المقدس میں داخل ہو گئے اور شہر میں مسلمانوں اور یہودیوں کا بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا۔ یورپی و عربی، دونوں قسم کے مآخذ اس ہولناک قتلِ عام کا ذکر کرتے ہیں۔ اس کے بعد بیت المقدس صلیبی سلطنت (Kingdom of Jerusalem) کا مرکز بنا۔

اس سانحے کے بعد مسلمانوں میں شام و فلسطین کے دفاع کے لیے اتحاد کا شعور آہستہ آہستہ بیدار ہوا۔ عماد الدین زنگی اور نور الدین زنگی کی جدوجہد سے یہ عمل آگے بڑھا اور بالآخر صلاح الدین ایوبیؒ کے ہاتھوں بیت المقدس کی واپسی تک پہنچا۔

ملوکیت و مسلم حکمرانیجنگیں و معرکے

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں