عباسی دور میں بغداد علم و تحقیق کا مرکز بنا۔ بیت الحکمت میں یونانی، فارسی اور ہندی علوم کے تراجم کا وسیع کام ہوا۔
اموی حکومت میں عرب و غیر عرب مسلمانوں کے حقوق اور ٹیکس کے نظام پر عدمِ اطمینان بڑھ چکا تھا۔ اہلِ بیت کی نمائندگی کے نام پر خراسان سے ابو مسلم خراسانی کی قیادت میں تحریک اٹھی، اور 132 ہجری (750ء) میں دریائے زاب کی جنگ میں اموی خلیفہ مروان ثانی کو شکست ہوئی۔ عباس بن عبدالمطلبؓ کی اولاد سے ابوالعباس السفاح پہلے عباسی خلیفہ بنے۔
دوسرے خلیفہ منصور نے 762ء میں بغداد کی بنیاد رکھی، جو جلد ہی دنیا کے بڑے شہروں میں شامل ہو گیا۔ ہارون الرشید اور مامون الرشید کے ادوار میں 'بیت الحکمت' میں یونانی، فارسی، سنسکرت اور شامی کتب کے عربی تراجم ہوئے، رصد گاہیں بنیں اور علمِ ریاضی، فلکیات، طب، کیمیا اور فلسفہ میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔
اسی دور میں فقہ کے ائمہ، حدیث کی بڑی کتب، تفسیر، اور لغت و نحو کی تدوین ہوئی۔ عباسی دور کی یہ علمی روایت آگے چل کر یورپ کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے بھی بنیاد بنی۔