مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اور کارکن

اشاعت: 1979ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اسلامی تحریک کی کامیابی صرف نظریاتی وضاحت یا سیاسی حکمت عملی تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ اس کی بنیادی شرط وہ افراد ہیں جو اس تحریک کے علمبردار ہوں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’تحریک اور کارکن‘‘ اسی حقیقت کی تفصیلی تشریح پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی بھی اسلامی تحریک کی قوت اور استحکام دو بنیادی عناصر پر منحصر ہے: ایک مضبوط، منظم اور منصوبہ بند تنظیم، اور دوسرا کارکنوں کی فکری و اخلاقی تربیت۔ دونوں عناصر ایک دوسرے کے مکمل ہیں؛ جیسا کہ مشینری اور برقی رو کا تعلق ہوتا ہے، اسی طرح تنظیم کے بغیر تربیت بے جان ہے اور تربیت کے بغیر تنظیم بے روح۔

کتاب کا آغاز پیش لفظ سے ہوتا ہے جو دراصل اس کتاب کے مقصد اور پس منظر کی وضاحت کرتا ہے۔ مولانا مودودی نے مختلف مواقع پر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کے نام جو تقریریں اور تحریریں کیں، انہیں یکجا کر کے یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب محض اصولوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تحریک کی اخلاقی تاریخ کا ریکارڈ ہے، جس میں راہِ تحریک میں پیش آنے والی کمزوریوں اور ان کے علاج کا ذکر ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ تربیت کی کمی ایسا نقصان پہنچا سکتی ہے جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا، اور اس ضمن میں عالمِ اسلام کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ہ: وہ نقائص، جن کی تاثیر کام کو بگاڑ دیتی ہے

اس کے بعد دوسرا درجہ ان برائیوں کا ہے، جو اساس و بنیاد کو تو نہیں ڈھاتیں مگر اپنی تاثیر کے لحاظ سے کام بگاڑنے والی ہیں اور اگر تساہل و تغافل برت کر ان کو پرورش پانے کا موقع دیا جائے تو تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ شیطان انہی ہتھیاروں سے خیر کی راہ مارنے اور انسانی کوششوں کو بھلائی سے بُرائی کی طرف موڑنے اور معاشرے میں فساد ڈلوانے کا کام لیتا ہے۔ اگرچہ معاشرے کی صحت کے لیے ہر حال میں ان عیوب کا سدِ باب ضروری ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ ان افراد اور جماعتوں کو تو ان سے بالکل پاک رہنا چاہیے، جن کے پیش نظر اصلاحِ معاشرہ اور اقامتِ دینِ حق کا مقصدِ عظیم ہو۔

اس نوعیت کے عیوب کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا منبع دراصل انسان کی بعض مخصوص کم زوریاں ہیں، جن میں سے ہر ایک عیوب کے ایک پورے خاندان کو جنم دیتی ہے۔ سہولتِ فہم کے لیے مناسب طریقہ یہ ہوگا کہ ہم ایک کم زوری کو لے کر پہلے اس کی حقیقت کو سمجھیں۔ پھر یہ دیکھیں کہ وہ کس طرح کس تدریج سے عیب آفریں بنتی ہے اور نشوونما پا کر کیا خرابیاں پیدا کرتی ہے۔ اس طرح ہر برائی کا سراہم کو مل جائے گا اور ہم جان سکیں گے کہ اس کی اصلاح کے لیے کس جگہ مرہم تدبیر استعمال کرنا چاہیے۔

#### نفسانیت

انسان کی کم زوریوں میں سب سے بڑی اور سخت فساد انگیز کم زوری ”نفسانیت“ ہے۔ اس کی اصل تو حبِ نفس کا وہ فطری جذبہ ہے، جو بہ جائے خود کوئی بری چیز نہیں بلکہ اپنی حد کے اندر ضروری بھی ہے اور مفید بھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ جذبہ انسان کی فطرت میں اس کی بھلائی کے لیے ودیعت فرمایا ہے تا کہ وہ اپنی حفاظت اور اپنی فلاح و ترقی کے لیے کوشش کرے لیکن جب یہی جذبہ شیطان کی اکساہٹ سے عشق نفس اور پرستش نفس اور خود مرکزیت میں تبدیل ہو جاتا ہے تو مصدر خیر ہونے کے بہ جائے منبع شر بن جاتا ہے اور پھر ہر درجۂ ارتقاء میں اس سے عیوب کا ایک نیا سلسلہ وجود میں آتا چلا جاتا ہے۔

برائی کی طرف اس جذبے کی پیش قدمی کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ آدمی اپنی جگہ اپنے آپ کو بے عیب اور مجموعۂ محاسن سمجھ بیٹھتا ہے۔ اپنی خامیوں اور کم زوریوں کا احساس کرنے سے اغماض برتتا ہے اور اپنے ہر نقص یا قصور کی تاویل کر کے اپنے دل کو مطمئن کر لیتا ہے کہ میں ہر لحاظ سے بہت اچھا ہوں۔ یہ خود پسندی پہلے ہی قدم پر اس کی اصلاح و ترقی کا دروازہ اس کے اپنے ہاتھوں بند کر دیتی ہے۔

پھر جب یہ ”من چہ خوب“ کا احساس لیے ہوئے آدمی اجتماعی زندگی میں آتا ہے تو اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جو کچھ اس نے اپنے آپ کو فرض کر رکھا ہے وہی کچھ دوسرے بھی اسے سمجھیں۔ وہ صرف تعریف و تحسین سننا چاہتا ہے۔ تنقید اسے گوارا نہیں ہوتی تو خیر خواہانہ نصیحت تک سے اس کی خودی کو ٹھیس لگتی ہے۔ اس طرح یہ شخص اپنے لیے داخلی وسائلِ اصلاح کے ساتھ خارجی وسائلِ اصلاح کا بھی سدِ باب کر لیتا ہے۔

مگر کوئی شخص بھی دنیا میں ایسا نہیں ہو سکتا، جس کو اجتماعی زندگی میں ہر لحاظ سے اپنی خواہش اور اپنی پسند ہی کے مطابق حالات مل جائیں۔ خصوصیت کے ساتھ خود پسند اور خود پرست آدمی کو تو یہاں ہر طرف سے چرکے لگتے ہیں کیوں کہ اس کی خودی اپنے اندر وہ اسباب لیے ہوئے آتی ہے، جو معاشرے کی بے شمار خوبیوں کے ساتھ اس کا تصادم ناگزیر کرا دیتے ہیں اور معاشرے کے مجموعی حالات بھی اس کی توقعات اور خواہشات سے خواہ مخواہ ٹکراتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس شخص کو صرف اس حد پر نہیں رہنے دیتی کہ وہ بس اپنی اصلاح کے داخلی و خارجی وسائل سے محروم ہو کر رہ جائے بلکہ دوسروں کے تصادم سے چرکے اور توقعات کی شکست کے صدمے اس کی مجروح خودی کو پیہم ایک سے ایک شدید تر برائی میں مبتلا کرتے چلے جاتے ہیں۔ وہ بہت سے لوگوں کو زندگی میں اپنے سے بہتر پاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے متعلق وہ محسوس کرتا ہے کہ معاشرہ ان کو اس سے زیادہ وقعت دے رہا ہے۔ بہت سے لوگ اس کو وہ وقعت نہیں دیتے، جس کا وہ طالب ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ اس کے مراتب تک پہنچنے میں مانع ہوتے ہیں، جن کا وہ اپنے آپ کو مستحق سمجھتا ہے۔ بہت سے لوگ اس پر تنقید کرتے ہیں بلکہ اس کی تنقیص تک کر ڈالتے ہیں۔ یہ مختلف حالات اس کے دل میں کسی کے خلاف بغض اور کینے کی آگ بھڑکا دیتے ہیں۔ وہ دوسروں کے حالات کا تجسس کرتا ہے۔ دوسروں کے عیب ڈھونڈتا ہے، غیبتیں کرتا ہے اور غیبتیں سن کر لذت لیتا ہے۔ چغلیاں کھاتا ہے۔ نجوئی اور سرگوشیاں اور سازشیں کرتا پھرتا ہے۔ اگر اس کے اخلاق کی بندشیں ڈھیلی ہوں یا ان مشاغل میں پیہم مشغول رہنے سے ڈھیلی ہو جائیں تو پھر ان گناہوں سے بڑھ کر جھوٹ، افترا، بہتان اور دوسرے قبیح تر جرائم کا ارتکاب کرنے لگتا ہے۔ چغلیاں کھانے لگتا ہے۔ ان برائیوں کے چکر میں پھنس کر وہ اخلاق کی انتہائی پستیوں تک پہنچنے سے نہیں بچ سکتا۔ اِلّا یہ کہ کسی مرحلے پر پہنچ کر اسے خود ہی اپنی اس ابتدائی غلطی کا احساس ہو جائے، جس نے اسے اس راستے پر ڈالا تھا۔

یہ کیفیت اگر کسی ایک شخص کی ہو تو اس سے کوئی اجتماعی فساد رونما نہیں ہوتا اس کا اثر زیادہ سے زیادہ چند اشخاص تک پہنچ کر رہ جاتا ہے لیکن اگر اسی نفسانیت کے بہت سے مریض موجود ہوں تو ان کے شر سے پوری اجتماعی زندگی میں فساد پھیل جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جہاں آپس کی بدظنی، تجسس، عیب جوئی، غیبت اور چغل خوری کا ایک سلسلہ چل رہا ہو، وہاں بہت سے لوگ دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف برائی پال رہے ہوں اور بغض وحسد کی بنا پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہوں۔ اور جہاں بہت سی مجروح خودیاں انتقام کے جذبات سے لبریز ہوں، وہاں پھوٹ پڑے بغیر نہیں رہ سکتی۔ وہاں کوئی چیز دھڑے بندیوں کو روک نہیں سکتی۔ وہاں کسی تعمیری تعاون کا تو درکنار تعلقات کی خوش گواری تک کا امکان باقی نہیں رہتا۔ ایسے ماحول میں کشیدگی اور کش مکش ناگزیر ہے اور وہ صرف نفسانیت کے مریضوں تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ رفتہ رفتہ اچھے خاصے نیک نفس لوگ اس میں مبتلا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ ایک نیک نفس آدمی تو منہ پر تو بجا تنقید ہی کو نہیں، بے جا تنقید کو بھی گوارا کر سکتا ہے۔ مگر غیبت اس کے دل میں غبار پیدا کیے بغیر نہیں رہتی، اور اس کا کم از کم اتنا اثر تو ہوتا ہی ہے کہ غیبت کرنے والوں پر اعتماد کرنا اس کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ اس طرح ایک نیک نفس آدمی ان سب زیادتیوں کو معاف کر سکتا ہے، جو بغض یا حسد کی بنا پر اس کے ساتھ کی جائیں، وہ بدگوئی، الزام تراشی، جھوٹے پروپیگنڈے اور ان سے بھی زیادہ اذیت بخش چیزوں کو بھی نظر انداز کر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ جن لوگوں سے ان صفات کا ذاتی تجربہ اس کو ہو چکا ہو، ان سے وہ اطمینان کے ساتھ کوئی معاملہ کر سکے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس اجتماعی ماحول میں یہ عیوب بروئے کار آ جاتے ہیں وہ کس طرح شیطان کی من بھاتی چرا گاہ بن کر رہتا ہے۔ حتیٰ کہ اس میں بہتر سے بہتر آدمی بھی چاہے کش مکش سے بچ جائیں۔ کشیدگی سے نہیں بچ سکتے۔

اس کے بعد یہ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ جو لوگ اصلاح و تعمیر کے لیے اجتماعی جدوجہد کرنا چاہتے ہوں، ان کی جماعت کا ان افراد سے پاک ہونا کس قدر ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نفسانیت کے جراثیم ایسی جماعت کے لیے طاعون اور ہیضے کے جراثیم سے زیادہ خطرناک ہیں ان کی موجودگی میں کسی تعمیر صالح کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

شریعتِ الہیٰ اس مرض کے آغاز سے اس کا علاج شروع کرتی ہے اور پھر ہر مرحلے پر اس کے سدِ باب کے لیے ہدایات دیتی ہے۔ قرآن و حدیث میں جگہ جگہ اہلِ ایمان کو توبہ و استغفار کی جو تلقین کی گئی ہے اس کا منشاء یہی ہے کہ مومن کسی وقت بھی اعجابِ نفس اور خود پسندی میں مبتلا نہ ہو۔ کبھی اپنے آپ کو بڑی چیز نہ سمجھے۔ ہر وقت اپنی کم زوریوں اور خامیوں کا احساس اور اپنی خطاؤں اور لغزشوں کا اعتراف ہی کرتا رہے اور بڑے سے بڑا کارنامہ انجام دینے کے بعد بھی اس پر پھولنے کے بجائے عاجزی کے ساتھ اپنے خدا کے حضور یہی درخواست پیش کرے کہ خدمت میں کوتاہیاں رہ گئی ہیں ان سے درگزر فرمایا جائے۔ نبی کریم ﷺ سے بڑھ کر مجموعۂ کمالات اور کون ہو سکتا ہے۔ اور آپ سے بڑا کارنامہ دنیا میں کس انسان نے انجام دیا ہے، مگر تاریخ کے اس عظیم ترین کارنامے کو انتہا تک پہنچا کر جب آپ فارغ ہوئے تو دربارِ الہی سے، جو تلقین آپ کو فرمائی گئی وہ یہ تھی:

<< إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ لا وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِيْ دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا لا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ط إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا >>(النصر:۱-۳)

”جب اللہ کی مدد آگئی اور فتح نصیب ہوگئی اور تم نے لوگوں کو اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے دیکھ لیا تو اب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت چاہو، یقیناً وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔“

یعنی جو کارِ عظیم تم نے انجام دیا اس کے متعلق تم یہ سمجھو کہ اس کی تعریف تمھیں نہیں بلکہ تمھارے رب کو پہنچتی ہے، جس کے فضل و کرم سے تم اتنا بڑا کام کر دکھانے میں کامیاب ہوئے۔ اور اپنے متعلق تمھارا احساس یہی ہونا چاہیے کہ جو حقِ خدمت تھا وہ پھر بھی ادا نہ ہوا۔ اس لیے انعام مانگنے کے بہ جائے اپنے رب سے یہ دعا کرو کہ خدمت میں جو کچھ کسر رہ گئی ہے اس سے درگزر فرمائے۔ چناں چہ بخاری میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ: <<كان رسول الله ﷺ يكثر ان يقول قبل موته سبحان الله و بحمده استغفر الله و اتوب اليه>> ”رسول اللہ ﷺ اپنی وفات سے پہلے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میں اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتا ہوں اور اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔“ اور ویسے بھی توبہ واستغفار ہمیشہ ہی آں حضورؐ کا معمول تھا۔ بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ انھوں نے حضورؐ کو فرماتے سنا کہ: <<والله انى استغفر الله و اتوب اليه فى اليوم اكثر من سبعين مرة>> ”خدا کی قسم میں ہر روز ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔“ اس تعلیم کی روح اگر کوئی شخص اپنے اندر جذب کرے تو اس کے ذہن میں نفسانیت کا وہ بیج کبھی جڑ ہی نہیں پکڑ سکتا، جو برگ و بار لا کر فتنہ و فساد کے بس بھرے پھل دیتا ہے۔

اس پر بھی اگر نفس میں یہ خرابی پیدا ہو ہی جائے تو شریعتِ الٰہی اخلاق اور عملی رویّے میں اس کے ظہور اور نشو و نما کو ہر قدم پر روکتی ہے، اور اس کے بارے میں سخت احکام دیتی ہے۔ مثلاً اس کا پہلا ظہور اس شکل میں ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو تنقید سے بالا تر سمجھتا اور منوانے کی کوشش کرتا ہے اور اس بات کو برداشت نہیں کرتا کہ کوئی شخص اسے غلطی پر ٹوکے۔ شریعتِ الٰہی اس کے برعکس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو تمام اہلِ ایمان پر لازم کرتی ہے۔ اور خاص طور پر ذی اقتدار ظالموں کے مقابلے میں کلمہِ حق کہنے کو تو افضل الجہاد قرار دیتی ہے تاکہ مسلم معاشرے میں برائی پر ٹوکنے اور بھلائی کرنے کی تلقین کرنے کا ایسا ماحول پیدا ہو جائے، جس میں نفسانیت پنپ نہ سکے۔

اس کا دوسرا ظہور بغض و حسد کی شکل میں ہوتا ہے، جسے آدمی ہر اس شخص کے خلاف دل میں پالنا شروع کر دیتا ہے، جس سے اس کی نفسانیت پر چوٹ لگی ہو۔ اور پھر اس سے تعلقات کی خرابی کا آغاز ہوتا ہے۔ شریعتِ الہی اس چیز کو گناہ قرار دیتی ہے اور اس پر سخت وعید سناتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ”خبردار حسد نہ کرو، کیوں کہ حسد آدمی کی نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے، جیسے آگ سوکھی لکڑیوں کو چٹ کر جاتی ہے۔“ احادیث میں متعدد الفاظ کے ساتھ حضورؐ کے یہ تاکیدی ارشادات وارد ہوئے ہیں کہ: ”ایک دوسرے سے قطع کلام نہ کرو۔ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے تعلقات توڑے رکھے۔“

اس کا تیسرا قدم بدگمانی کی طرف اٹھتا ہے اور پھر تجسس کر کے آدمی دوسروں کے عیوب ٹٹولنے لگتا ہے۔ بدگمانی کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اپنے سوا ہر ایک کے متعلق یہ ابتدائی مفروضہ قائم کرتا ہے کہ وہ ضرور برا ہے اور بہ ظاہر اس کی جو چیز قابلِ اعتراض نظر آتی ہے اس کی کوئی اچھی توجیہ کرنے کی بہ جائے ہمیشہ بری توجیہ کرتا ہے اور تحقیق کی بھی ضرورت نہیں سمجھتا۔ تجسس اسی بدگمانی کا شاخسانہ ہے۔ آدمی دوسروں کے متعلق پہلے ایک بری رائے قائم کرتا ہے پھر اس کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے ان کے حالات کی ٹوہ لگانی شروع کرتا ہے۔ قرآن ان دونوں چیزوں کو گناہ قرار دیتا ہے۔ سورۂ حجرات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: <<إِجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا>>۔ ”بہت گمان کرنے سے بچو کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرو۔“ حدیث میں نبی کریمؐ کا ارشاد ہے: ”خبردار بدگمانی نہ کرو۔ کیوں کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے۔“ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ ہم کو ٹوہ لگانے اور عیوب ٹٹولنے سے منع کیا گیا ہے۔ البتہ اگر ہمارے سامنے کوئی بات کھل جائے تو ہم اس کو پکڑیں گے۔ حضرت معاویہؓ کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم مسلمانوں کے پوشیدہ احوال کی کھوج کرید کرو گے تو ان کو بگاڑ دو گے۔“

ان مراحل کے بعد غیبت کا دور شروع ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد خواہ بدگمانی پر ہو، یا حقیقت پر، دونوں صورتوں میں کسی شخص کو ذلیل کرنے اور اس کی تذلیل سے لذت یا فائدہ اٹھانے کی خاطر اس کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا غیبت ہے۔ حدیث میں اس کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ: ”تیرا اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کا ذکر اس طرح کرنا کہ اسے معلوم ہو تو ناگوار ہو۔ نبی کریمؐ سے پوچھا گیا کہ اگر ہمارے بھائی میں وہ برائی موجود ہو، جس کا ذکر کیا گیا ہے تو کیا پھر بھی غیبت ہوگی؟ فرمایا: اگر اس میں وہ برائی ہے اور تو نے بیان کی تو غیبت کی، اور اگر اس میں وہ نہیں ہے تو غیبت سے بڑھ کر بہتان لگایا۔‘‘ قرآن اس فعل کو حرام قرار دیتا ہے۔ سورۂ حجرات میں ارشاد ہے: <<وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ>> ’’اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے، اس سے تم ضرور نفرت کرو گے۔‘‘ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ’’ہر مسلمان کی جان و مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔‘‘ اس سے مستثنیٰ صرف وہ صورتیں ہیں، جن میں کسی کی برائی کرنے کی جائز ضرورت ہے اور اس میں بدخواہی کی نیت نہ ہو۔ مثلاً کسی مظلوم کی شکایت اس لیے کرنا کہ کوئی اس کی فریادرسی کرے۔ اس کی اجازت خود قرآن میں دی گئی ہے: <<لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ>> ’’اللہ برائی پر زبان کھولنا پسند نہیں کرتا اِلّا یہ کہ کسی شخص پر ظلم ہوا ہو۔‘‘ یا مثلاً ایک شخص دوسرے شخص سے بیٹی بیاہ رہا ہو یا اس سے کوئی کاروباری معاملہ طے کر رہا ہو، اور فریقین میں سے کوئی اس معاملے میں کسی جاننے والے سے مشورہ لے۔ اس صورت میں جو برائی واقعی آدمی کے علم میں ہو اسے خیر خواہی کی بنا پر بیان کر دینا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ خود نبی کریم ﷺ نے ایسے مواقع پر برائی بیان کی ہے۔ چناں چہ حدیث میں آتا ہے کہ دو صاحبوں نے فاطمہ بنت قیس کو نکاح کا پیغام دیا۔ انھوں نے حضور ﷺ سے مشورہ طلب کیا۔ آپؐ نے انھیں خبردار کیا کہ ان میں سے ایک صاحب کنگال ہیں، اور دوسرے صاحب بیویوں کو پیٹنے کے عادی ہیں۔ اسی طرح شریعت کو غیر معتبر راویوں کی روایت سے محفوظ کرنے کے لیے ان کے عیوب بیان کرنا تمام علماء امت نے بالاتفاق جائز رکھا اور ائمہ حدیث نے عملاً اس خدمت کو انجام دیا کیوں کہ دین کے لیے اس کی ضرورت تھی۔ خلقِ خدا پر علانیہ ظلم کرنے والوں اور فسق و فجور پھیلانے والوں اور کھلے کھلے بدکردار لوگوں کی غیبت کرنا بھی جائز ہے اور نبی کریمؐ کے اپنے عمل سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ اس طرح مستثنیٰ صورتوں کے ماسوا غیبت ہر حال میں حرام ہے اور اس کا سننا بھی گناہ ہے۔ سننے والوں پر لازم ہے کہ یا تو غیبت کرنے والوں کو روکیں یا اس شخص کی مدافعت کریں، جس کی غیبت کی جا رہی ہو، یا بہ درجۂ آخر اس محفل سے اٹھ جائیں، جہاں ان کے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھایا جا رہا ہو۔

غیبت سے جو آگ لگتی ہے اسے پھیلانے کی خدمت چغل خوری انجام دیتی ہے اور اس میں بھی اصل محرک وہی نفسانیت کا جذبہ ہوتا ہے۔ چغل خور کسی کا خیر خواہ بھی نہیں ہوتا۔ نہ اس کا جس کی برائی کی گئی ہو اور نہ اس کا جس سے برائی کی ہو۔ وہ دوست دونوں کا بنتا ہے مگر دراصل دونوں کا بدخواہ ہوتا ہے۔ اسی لیے ایک ایک کی بات کان لگا کر سنتا ہے اور اس کی تردید نہیں کرتا۔ پھر دوست کو اس کی خبر پہنچاتا ہے تاکہ جو آگ اب تک ایک جگہ لگی ہوئی تھی وہ دوسری جگہ بھی لگ جائے۔ شریعت الٰہی میں اس چیز کو حرام کیا گیا کیوں کہ یہ فساد انگیزی میں غیبت سے بھی بڑھ کر ہے۔ قرآن مجید میں جن اوصاف کو آدمی کی بدترین صفات میں شمار کیا گیا ہے ان میں سے ایک چغل خوری کرتے پھرنا بھی ہے۔ حدیث میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ: <<لَایَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ>>، کوئی چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمایا: ’’تم بدترین انسان اس شخص کو پاؤگے، جس کے دومنھ ہیں۔ کچھ لوگوں کے پاس ایک منھ لے کر آتا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں کے پاس دوسرا منھ لے کر جاتا ہے۔‘‘ صحیح اسلامی رویہ یہ ہے کہ آدمی جہاں کسی کی غیبت سنے یا تو اس کی تردید کرے یا پھر فریقین کی موجودگی میں اس معاملے کو چھیڑ کر اس کی صفائی ایسے طریقے سے کرائے، جس سے ایک فریق کو یہ شبہ نہ ہو کہ دوسرے فریق نے اس کی موجودگی میں اس کی برائی کی تھی اور اگر غیبت کسی ایسی برائی پر ہو، جو واقعی شخص مذکور میں پائی جاتی ہو تو ایک طرف غیبت کرنے والے کو اس کے گناہ پر متنبہ کرے اور دوسری طرف اس شخص کو بھی اپنی اصلاح کے لیے توجہ دلائے، جس کی برائی بیان کی گئی تھی۔

اس سلسلۂ فساد کی انتہائی کڑی نجویٰ ہے یعنی کھسر پھسر سرگوشیاں اور خفیہ مشورے، جن سے بالآخر سازشوں اور جتھہ بندیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور ایک دوسرے کے خلاف کش مکش کرنے والے دھڑے وجود میں آتے ہیں۔ شریعت الٰہی اس کو بھی سختی کے ساتھ منع کرتی ہے۔ قرآن مجید میں اس کو ایک شیطانی حرکت قرار دیا گیا ہے: <<إِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطَانِ>> اور اس کے بارے میں یہ اصولی ہدایت دی گئی ہے کہ: <<إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَ مَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى>> ط یعنی دو یا چند آدمیوں کی علیحدگی میں گفتگو کرنا اگر نیک مقاصد کے لیے اور تقویٰ کے حدود میں ہو تو اس نجویٰ کی تعریف میں نہیں آتا، جو ممنوع ہے۔ البتہ وہ گفتگو ضرور نجوئی اور ممنوع نجوئی ہے، جو جماعت سے آنکھ بچا کر اخفا کے اہتمام کے ساتھ اس غرض کے لیے کی جائے کہ کسی بڑے کام کی اسکیم بنانی ہے۔ یا کسی دوسرے شخص یا گروہ کے خلاف کوئی کارروائی کرنی ہے یا رسول اللہ ﷺ کے احکام و فرامین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرنا ہے۔ ایمان دارانہ اور مخلصانہ اختلافات کبھی نجوئی کے متحرک نہیں ہو سکتے۔ ان کی بات چیت کھلم کھلا ہوتی ہے۔ برسرِ عام جماعت کے سامنے ہوتی ہے۔ دلیل کے ساتھ قائل کرنے یا قائل ہونے کے لیے ہوتی ہے اور اس بات چیت سے اگر اختلافات باقی بھی رہ جاتے ہیں تو وہ کبھی موجب فساد نہیں ہوتے۔ جماعت سے الگ ہٹ کر اخفا کے اہتمام کے ساتھ سرگوشیاں کرنے کی ضرورت صرف انہی اختلافات میں پیش آتی ہے، جو اگر بالکل نفسانیت پر مبنی نہ بھی ہوں تو کم از کم ان میں نفسانیت کی آمیزش ضرور ہوتی ہے۔ ایسی سرگوشیاں کبھی نتیجہ پیدا نہیں کرتیں۔ ان کی ابتدا چاہے کتنی ہی معصوم ہو۔ رفتہ رفتہ وہ پوری جماعت کو آپس کی بدگمانیوں، تفرقوں اور دھڑے بندیوں کی چھوت لگا دیتی ہیں۔ باہم پچت و پز کر کے جب چند آدمی ایک جتھے کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں تو پھر دوسرے لوگوں میں بھی ایسی ہی پچت و پز کرنے اور جتھے بنانے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے اور یہیں سے اس بگاڑ کی ابتدا ہوتی ہے، جو بہترین اہلِ خیر کی جماعتوں کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کر کے باہم دست و گریبان کر دیتا ہے۔ آخری مرحلہ وہ ہے کہ یہ بگاڑ عملاً رونما ہو جائے۔ یہ وہ چیز ہے، جس سے نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو بار بار متنبہ کیا ہے۔ شدت کے ساتھ ڈرایا ہے اور سختی کے ساتھ بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ”شیطان اب اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ عرب میں جو لوگ نماز پڑھنے لگے ہیں، وہ پھر اس کی عبادت کرنے لگیں گے۔ اب اس کی ساری امیدیں صرف اس کے اندر بگاڑ پیدا کرنے اور ان کو باہم لڑانے ہی سے وابستہ رہ گئی ہیں۔“ حتیٰ کہ آپؐ نے یہاں تک فرمایا کہ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ اس طرح کی حالت پیدا ہو جانے کی صورت میں اہلِ ایمان کو جو طریقہ سکھایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اوّل تو آدمی خود فتنہ میں حصہ لینے سے بچے، خوش قسمت ہے وہ جو فتنوں سے بچ گیا اور جو جتنا بھی اس سے دور رہے، اتنا ہی زیادہ بہتر ہے۔ اس حالت میں سونے والا جاگنے والے سے بہتر ہے اور کھڑا ہوا دوڑنے والے سے بہتر ہے۔ دوسرے اگر وہ حصہ لے تو لڑنے والوں سے ایک فریق بن کر نہیں بلکہ صدقِ دل سے اصلاح کی کوشش کرنے والا بن کر لے، جس کے متعلق صاف صاف ہدایات سورۂ حجرات کے پہلے رکوع میں دی گئی ہیں۔

نفسانیت کی اس حقیقت اور اس کے نشو و نما اور ظہور کے ان مراتب اور ہر مرتبے کے متعلق شریعت الٰہی کے ان احکام کو ذہن نشین کر لینا ان تمام لوگوں کے لیے ضروری ہے، جو خیر و اصلاح کی خدمت کرنے کے لیے مجتمع ہوں۔ ان میں سے ہر ایک شخص کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو خود پسندی کے مرض سے بچائے اور ان اخلاقی و روحانی نقصانات کو سمجھے، جو اس مرض میں مبتلا ہونے سے پہنچتے ہیں۔ ان کی جماعت کو بھی بہ حیثیت مجموعی اس معاملے میں چوکنا رہنا چاہیے کہ کہیں اس کے اندر نفسانیت کے جراثیم کو انڈے بچے دینے کا موقع نہ مل جائے۔ انھیں اپنے دائرے میں کسی ایسے شخص کی ہمت افزائی نہ کرنی چاہیے، جو اپنے اندر تنقید سن کر بپھر جائے، اپنی غلطی کا اعتراف کرنے سے استکبار برتے، انھیں ہر اس شخص کو دبانا چاہیے، جس کی باتوں سے بغض و عداوت کی بو آئے یا جس کا طرزِ عمل یہ بتا رہا ہو کہ وہ کسی شخص سے ذاتی کدورت رکھتا ہے، انھیں ایسے لوگوں کی بھی خبر لینی چاہیے، جو دوسروں کے معاملے میں بدگمانی سے کام لیں یا دوسروں کے حالات کی ٹوہ لگا کر ان کے عیوب تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ انھیں اپنی سوسائٹی میں غیبت اور نمامی کا بھی سدّ باب کرنا چاہیے اور جہاں کہیں یہ بلا اپنا سر نکالے، وہاں فوراً وہ سیدھا سیدھا اسلامی رویہ اختیار کرنا چاہیے، جس کی تشریح اوپر کی جا چکی ہے۔ انھیں خصوصیت کے ساتھ نجویٰ کے خطرات سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ جماعت میں تفرقے کی تمہید ہے۔ کسی مخلص آدمی کو اس بات کے لیے ہرگز راضی نہ ہونا چاہیے کہ کوئی شخص سرگوشی کر کے کسی اختلافی مسئلے میں اسے اپنا ساتھی بنائے اور جس وقت بھی اس امر کی ابتدائی علامات ظاہر ہوں کہ کچھ لوگ جماعت میں یہ طریقہ اختیار کر رہے ہیں، اُسی وقت جماعت کو ان کی اصلاح یا پھر ان کی سرکوبی کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ ان ساری کوششوں کے باوجود اگر جماعت کے اندر کسی جتھہ بندی کا فتنہ رونما ہو ہی جائے تو پھر مخلصین کا کام یہ نہیں ہے کہ خود بھی کونوں اور گوشوں میں خفیہ سرگوشیاں کرکے کوئی دوسرا جتھا بنانے کے لیے ساز باز شروع کر دیں، بلکہ انھیں اس فتنے سے اپنا دامن بچا کر اس کو روکنے کے لیے انفرادی تدبیریں کرنی چاہئیں اور ان میں ناکام ہونے کے بعد جماعت کے سامنے کھلم کھلا اس معاملے کو لے آنا چاہیے۔ جس جماعت میں مخلص افراد کی کثرت ہوگی، وہ اس طرح کے فتنوں سے خبردار ہو کر فوراً ہی ان کا استیصال کر دے گی اور جس میں فتنہ پسند یا بے فکر افراد زیادہ ہوں گے وہ انہی فتنوں کا شکار ہو کر رہ جائے گی۔

#### مزاج کی بے اعتدالی

دوسرا درجہ ان خرابیوں کا ہے، جس کے لیے موزوں ترین نام ”مزاج کی بے اعتدالی“ ہے۔ نفسانیت کے مقابلے میں یہ ایک معصوم نوعیت کی کم زوری ہے کیوں کہ اس میں کسی بدنیتی، کسی برے جذبے، کسی ناپاک خواہش کا دخل نہیں ہوتا ہے لیکن خرابی پیدا کرنے کی قابلیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ نفسانیت کے بعد دوسرے نمبر پر آتی ہے۔ بسا اوقات اس کے اثرات و نتائج اتنے ہی خراب ہوتے ہیں، جتنے نفسانیت کے اثرات و نتائج۔

مزاج کی بے اعتدالی کا فطری نتیجہ نظر و فکر کی بے اعتدالی اور عمل و سعی کی بے اعتدالی ہے اور یہ چیز زندگی کے حقائق سے بہ راہِ راست متصادم ہوتی ہے۔ انسانی زندگی بے شمار متضاد عناصر کی مصالحت اور بہت سے مختلف عوامل کے مجموعی عمل کا نتیجہ ہے، جس دنیا میں انسان رہتا ہے اس کا بھی یہی حال ہے۔ انسانی افراد میں سے ہر ایک فرداً فرداً بھی ایسا ہی بنایا گیا ہے۔ اور انسانوں کے ملنے سے، جو اجتماعی ہیئت بنتی ہے اس کی کیفیت بھی یہی ہے۔ اس ساری زندگی میں کام کرنے کے لیے فکر و نظر کا ایسا توازن اور سعی و عمل کا ایسا اعتدال درکار ہے، جو مزاج کائنات کے توازن و اعتدال کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ ہو۔ حالات کے ہر پہلو پر نگاہ رکھی جائے، معاملات کے ہر رُخ کو دیکھا جائے _____ ضروریات کے ہر گوشے کو اس کا حق دیا جائے۔ فطرت کے ہر تقاضے کو ملحوظ رکھا جائے اور کمال درجے کا معیاری اعتدال چاہے نصیب نہ ہو مگر یہاں کام یابی کے لیے بہ ہر حال اعتدال ناگزیر ہے۔ جتنا بھی وہ معیار سے قریب ہوگا، اتنا ہی مفید ہوگا اور جس قدر وہ اس سے دور ہوگا اسی قدر زندگی کی حقیقتوں سے متصادم ہو کر نقصان کا موجب بنے گا۔ دنیا میں آج تک جتنا بھی فساد رونما ہوا ہے اور آج رونما ہے اسی وجہ سے ہے کہ غیر متوازن دماغوں نے انسانی مسائل یک رُخے پن سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کو حل کرنے کے لیے غیر متوازن اسکیمیں بنائیں اور ان کو نافذ کرنے کے لیے غیر معتدل طریقے اختیار کیے۔ یہی بگاڑ کا اصل سبب ہے اور بناؤ کا جو کچھ کام بھی ہوسکتا ہے فکر ونظر کے توازن اور طریقِ عمل کے اعتدال ہی سے ہوسکتا ہے۔

یہ وصف خاص طور پر تعمیر واصلاح کی اس اسکیم کو نافذ کرنے کے لیے اور بھی زیادہ ضروری ہے، جو اسلام نے ہمیں دی ہے۔ کیوں کہ وہ بہ جائے خود توازن واعتدال کے انتہائی کمال کا نمونہ ہے۔ اس کو کتابوں کے صفحات سے واقعات کی دنیا میں منتقل کرنے کے لیے تو خصوصیت کے ساتھ وہی کارفرما اور کارکن موزوں ہو سکتے ہیں، جن کی نظر اسلام کے نقشۂ تعمیر کی طرح متوازن اور جن کا مزاج اسلام کے مزاج اصلاح کی طرح معتدل ہو۔ افراط وتفریط میں مبتلا ہونے والے انتہا پسند لوگ اس کام کو بگاڑ تو سکتے ہیں، بنا نہیں سکتے۔

نتائج کے اعتبار سے بے اعتدالی کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ وہ بالعموم ناکامی کی موجب ہوتی ہے۔ نظامِ زندگی میں اصلاح وتغیر کی کوئی اسکیم بھی لے کر آپ اٹھیں، آپ کی کام یابی کے لیے صرف یہ بات کافی نہیں ہے کہ آپ خود اس کے برحق ہونے پر مطمئن ہوں، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے معاشرے کے عام انسانوں کو اس کے صحیح، مفید اور قابلِ عمل ہونے پر مطمئن کر دیں اور اپنی تحریک کو اس شکل میں لائیں اور ایسے طریقے سے چلائیں، جس سے لوگوں کی امیدیں اور رغبتیں اس کے ساتھ وابستہ ہوتی چلی جائیں۔ یہ بات صرف اسی تحریک کو نصیب ہو سکتی ہے، جو فکر ونظر میں بھی متوازن ہو اور طریقِ عمل میں بھی متوازن، ایک انتہا پسندانہ اسکیم جو انتہا پسندانہ طریقوں سے چلائی جائے عام انسانوں میں اپنے لیے رغبت اور امید پیدا کرنے کے بہ جائے معترض اور غیر مطمئن بناتی ہے اور اس کی یہ صفت خود ہی اس کی قوتِ تبلیغ اور قوتِ نفوذ کو ضائع کر دیتی ہے۔ اس کو بنانے اور چلانے کے لیے کچھ انتہا پسند لوگ اکٹھے ہو بھی جائیں تو سارے معاشرے کو اپنے جیسا انتہا پسند بنا لینا اور دنیا بھر کی آنکھیں حقائق سے بند کر دینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

خود اس جماعت کے لیے بھی یہ چیز زہر کا حکم رکھتی ہے، جو اجتماعی اصلاح و تعمیر کا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

مزاج کی بے اعتدالی کا اولین مظہر انسان کے ذہن کا ایک رُخا پن ہے۔ اس کیفیت میں مبتلا ہو کر آدمی بالعموم ہر چیز کا ایک رُخ دیکھتا ہے دوسرا رُخ نہیں دیکھتا۔ ہر معاملے میں ایک پہلو کا لحاظ کرتا ہے دوسرے کسی پہلو کا لحاظ نہیں کرتا۔ ایک سمت جس میں اس کا ذہن ایک دفعہ چل پڑتا ہے اسی کی طرف وہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ دوسری سمتوں کی جانب توجہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس سے معاملات کو سمجھنے میں مسلسل ایک خاص طرح کا عدم توازن کا ظہور ہوتا ہے۔ رائے قائم کرنے میں بھی وہ ایک ہی طرف جھکتا چلا جاتا ہے۔ جس چیز کو اہم سمجھ لیتا ہے، بس اسی کو پکڑ بیٹھتا ہے۔ دوسری ویسی ہی اہم چیزیں بلکہ اس سے بھی اہم چیزیں اس کے نزدیک غیر وقع ہو جاتی ہیں۔ جس چیز کو برا سمجھ لیتا ہے، اسی کے پیچھے پڑ جاتا ہے، دوسری ویسی ہی بلکہ اس سے زیادہ بڑی برائیاں اس کے نزدیک قابل توجہ نہیں ہوتیں۔ اصولیت اختیار کرتا ہے تو جمود کی حد تک اصول پرستی میں شدت دکھانے لگتا ہے۔ کام کے عملی تقاضوں کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ عملیت کی طرف جھکتا ہے تو بے اصولی کی حد تک عملی بن جاتا ہے اور کام یابی کو مقصود بالذات بنا کر اس کے لیے ہر قسم کے ذرائع و وسائل استعمال کر ڈالنا چاہتا ہے۔

یہ کیفیت اگر اس حد پر نہ رک جائے تو آگے بڑھ کر یہ سخت انتہا پسندی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پھر آدمی اپنی رائے پر ضرورت سے زیادہ اصرار کرنے لگتا ہے۔ اختلاف رائے میں شدت برتنے لگتا ہے۔ دوسروں کے نقطۂ نظر کو انصاف کے ساتھ نہ دیکھتا ہے اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بلکہ ہر مخالف رائے کو بدتر سے بدتر معنی پہنا کر ٹھکرانا اور ذلیل کرنا چاہتا ہے۔ یہ چیز روز بہ روز اسے دوسروں کے لیے اور دوسروں کو اس کے لیے ناقابل برداشت بناتی چلی جاتی ہے۔

اس مقام پر بھی بے اعتدالی رک جائے تو خیریت ہے۔ لیکن اگر اسے خوبی سمجھ کر مزید پرورش کیا جائے تو پھر معاملہ بد مزاجی اور چڑ چڑے پن اور تیز زبانی اور دوسروں کی نیتوں کا شک اور حملوں تک پہنچ جاتا ہے، جو کسی اجتماعی زندگی میں نبھنے والی چیز نہیں ہے۔

ایک آدمی یہ روش اختیار کرے تو زیادہ سے زیادہ اتنا ہی ہوگا کہ وہ اکیلا جماعت سے کٹ جائے گا اور اس مقصد کی خدمت سے محروم ہو جائے گا، جس کی خاطر وہ جماعت سے وابستہ ہوا تھا اس سے کوئی اجتماعی نقصان نہ ہوگا، مگر جب کسی اجتماعی ہیئت میں بہت سے غیر متوازن ذہن اور غیر معتدل مزاج جمع ہو جائیں تو پھر ایک ایک قسم کا عدم توازن ایک ایک ٹولی کی شکل اختیار کرنے لگتا ہے۔ ایک انتہا کے جواب میں دوسری انتہا پیدا ہوتی ہے۔ اختلافات شدید سے شدید تر ہوتے جاتے ہیں۔ پھوٹ پڑتی ہے، دھڑے بندی ہوتی ہے اور اس کش مکش میں وہ کام خراب ہو کر رہتا ہے، جسے بنانے کے لیے بڑی نیک نیتی کے ساتھ کچھ لوگ جمع ہوئے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ جو کام انفرادی کوششوں سے کرنے کے نہیں ہوتے بلکہ جن کی نوعیت ہی اجتماعی ہوتی ہے۔ انھیں انجام دینے کے لیے بہ ہر حال بہت سے لوگوں کو ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے۔ ہر ایک کو اپنی بات سمجھانی اور دوسروں کی بات سمجھنی ہوتی ہے۔ طبیعتوں کا اختلاف، قابلیتوں کا اختلاف، ذاتی خصوصیات کا اختلاف اپنی جگہ رہتا ہے۔ اس کے باوجود سب کو آپس میں موافقت کا ایک تعلق پیدا کرنا ہوتا ہے، جس کے بغیر کوئی تعاون ممکن نہیں ہوتا۔ اس موافقت کے لیے کسر و انکسار ناگزیر ہے اور یہ کسر و انکسار صرف معتدل مزاج کے لوگوں ہی میں ہوسکتا ہے، جن کے خیالات بھی متوازن ہوں اور طبیعتیں بھی۔ متوازن غیر متوازن لوگ بھی جمع ہوجائیں تو زیادہ دیر تک جمع نہیں رہ سکتے۔ ان کی جمعیت پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی، اور جن ٹکڑیوں میں تقسیم ہوکر ایک ایک قسم کے عدم توازن کے مریض جمع ہوں گے ان میں پھر تفرقہ رونما ہوگا یہاں تک کہ آخر کار ایک ایک امام مقتدیوں کے بغیر ہی کھڑا نظر آئے گا۔

جن لوگوں کو اسلام کے لیے کام کرنا ہو اور جنھیں جمع کرنے والی چیز اسلامی اصول پر نظام زندگی کی اصلاح و تعمیر کرنے کا جذبہ ہو، ولولہ ہو، انھیں اپنا محاسبہ کر کے اس بے اعتدالی کی ہر مشکل سے خود بھی بچنا چاہیے اور ان کی جماعت کو بھی یہ فکر ہونی چاہیے کہ اس کے دائرے میں یہ مرض نشو و نما نہ پائے۔ اس باب میں کتاب اللہ اور سنت رسولؐ کی وہ ہدایات ان کے پیش نظر رہنی چاہئیں، جو انتہا پسندی اور شدت سے منع کرتی ہیں۔ قرآن جس چیز کو اہل کتاب کی بنیادی غلطی قرار دیتا ہے وہ غلو فی الدین ہے: <<یٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُم>> اور اس سے بچنے کی تاکید نبی کریم ﷺ اپنے متبعین کو ان الفاظ میں فرماتے ہیں:

<<اياكم والغلوّ فانما هلک من کان قبلكم بالغلوّ فی الدّین>>

”خبردار انتہا پسندی میں نہ پڑنا کیوں کہ تم سے پہلے کے لوگ دین میں انتہا پسندی اختیار کر کے ہی تباہ ہوئے ہیں۔“

ابن مسعودؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے ایک تقریر میں تین بار فرمایا: <<هلك المتنطعون>> ”برباد ہو گئے شدت اختیار کرنے والے مبالغے اور تعمق سے کام لینے والے۔“ دعوت محمدیؐ کا امتیازی وصف اس کے لانے والے نے یہ بتایا ہے: <<بعثت بالحنيفية السمحة>>۔ یعنی آپ پچھلی امتوں کے افراط و تفریط کے درمیان وہ حنیفیت لے کر آئے ہیں، جس میں وسعت اور معاملاتِ زندگی کے ہر پہلو کی رعایت ہے۔ اس دعوت کے علم برداروں کو جس طریقے پر کام کرنا چاہیے، وہ اس کے داعیِ اوّل نے یہ سکھایا ہے:

<<يسّروا ولا تعسّروا و بشروا ولا تنفروا۔>>

’’سہولت دو، تنگ نہ کرو، بشارت دو، نفرت نہ دلاؤ۔‘‘

<<انما بعثتم ميسّرين ولم تبعثوا معسرين۔>>

’’تم سہولت دینے کے لیے بھیجے گئے ہو۔ تنگ کرنے کے لیے نہیں بھیجے گئے۔‘‘

<<ما خير رسول الله ﷺ بين امرين قطّ الا اخذ ايسرهما مالم يكن اثما۔>> (بخاری)

’’کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول کو دو معاملوں میں سے ایک کے اختیار کرنے کا موقع دیا گیا ہو اور آپ نے ان میں سے آسان ترین کو اختیار نہ کیا ہو، الا یہ کہ وہ گناہ ہو۔‘‘

<<ان الله رفيق يحب الرفق في الامر كله۔>> (بخاری مسلم)

’’اللہ نرم خو ہے اور ہر معاملے میں نرم رویے کو پسند کرتا ہے۔‘‘

<<من يحرم الرفق يحرم الخير كله۔>> (مسلم)

’’جو نرم خوئی سے محروم ہوا وہ بھلائی سے بالکل محروم ہوگیا۔‘‘

<<ان الله رفيق يحب الرفق و يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف ومالا يعطى على ما سواه۔>> (مسلم)

’’اللہ نرم خو ہے اور نرم خو آدمی کو پسند کرتا ہے، وہ نرمی پر وہ کچھ عطا کرتا ہے، جو شدت پر اور کسی دوسرے رویے پر عطا نہیں کرتا۔‘‘

ان جامع ہدایات کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ اسلامی نظامِ زندگی کے لیے کام کرنے والے لوگ اگر قرآن و سنت سے اپنے مطلب کی چیزیں چھانٹنے کے بہ جائے اپنے مزاج اور نقطۂ نظر کو ان کے مطابق ڈھالنے کی عادت ڈالیں تو ان کے اندر آپ سے آپ وہ توازن اور توسط و اعتدال پیدا ہوتا چلا جائے گا جو دنیا کے حالات و معاملات کو قرآن و سنت کے دیے ہوئے نقشے پر درست کرنے کے لیے درکار ہے۔

#### تنگ دلی

بے اعتدالی مزاج سے ملتی جلتی ایک اور کم زوری بھی انسان میں ہوتی ہے، جسے تنگ دلی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، جسے قرآن میں ”شح نفس“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جس کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ فلاح اس شخص کے لیے ہے، جو بچ گیا: <<وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ>> اور جسے قرآن تقویٰ اور احسان کے برعکس ایک غلط میلان قرار دیتا ہے: <<وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ؕ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا>> اس مرض میں جو شخص مبتلا ہو، وہ اپنی زندگی کے ماحول میں دوسروں کے لیے کم ہی گنجائش چھوڑنا چاہتا ہے۔ وہ خود جتنا بھی پھیل جائے اپنی جگہ اسے تنگ ہی نظر آتی ہے اور دوسرے جس قدر بھی اس کے لیے سکڑ جائیں، اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ بہت پھیلے ہوئے ہیں۔ اپنے لیے وہ ہر رعایت چاہتا ہے مگر دوسروں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرسکتا۔ اپنی خوبیاں اس کے نزدیک ایک صفت ہوتی ہیں اور دوسروں کی خوبیاں محض ایک اتفاقی حادثہ۔ اپنے عیوب اس کی نگاہ میں قابلِ معافی ہوتے ہیں، مگر دوسروں کا کوئی عیب وہ معاف نہیں کرسکتا، اپنی مشکلات کو تو وہ مشکلات سمجھتا ہے مگر دوسروں کی مشکلات اس کی رائے میں محض بہانہ ہوتی ہیں۔ اپنی کم زوریوں کے لیے، جو الاؤنس وہ خود چاہتا ہے دوسروں کو وہ الاؤنس دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ دوسروں کی مجبوریوں کی پروا کیے بغیر وہ ان سے انتہائی مطالبات کرتا ہے، جو خود اپنی مجبوری کی صورت میں وہ کبھی پورے نہ کرے۔ اپنی پسند اور اپنا ذوق وہ دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش کرتا ہے مگر دوسروں کی پسند اور ان کے ذوق کا لحاظ کرنا ضروری نہیں سمجھتا۔ یہ چیز ترقی کرتی ہے تو آگے چل کر خوردہ گیری و عیب چینی کی شکل اختیار کرتی ہے۔ دوسروں کی ذرا ذرا سی باتوں پر آدمی گرفت کرنے لگتا ہے اور پھر جوابی عیب چینی پر بلبلا اٹھتا ہے۔

اسی تنگ دلی کی ایک اور شکل زود رنجی، نک چڑھا پن اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا ہے، جو اجتماعی زندگی میں اس شخص کے لیے بھی مصیبت ہے، جو اس میں مبتلا ہو اور ان لوگوں کے لیے بھی مصیبت، جنھیں ایسے شخص سے واسطہ پڑے۔

کسی جماعت کے اندر اس بیماری کا گھس آنا حقیقت میں ایک خطرے کی علامت ہے، اجتماعی جدوجہد بہ ہر حال آپس کی الفت اور باہمی تعاون چاہتی ہے، جس کے بغیر چار آدمی مل کر بھی کام نہیں کر سکتے۔ مگر یہ تنگ دلی اس کے امکانات کو کم ہی نہیں، بسا اوقات ختم کر دیتی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ تعلقات کی تلخی اور باہمی منافرت ہے۔ یہ دلوں کو پھاڑ دینے والی اور ساتھیوں کو آپس میں الجھا دینے والی چیز ہے۔ اس مرض میں، جو لوگ مبتلا ہوں وہ عام معاشرتی زندگی کے لیے بھی موزوں نہیں ہو سکتے، کجا کہ کسی مقصدِ عظیم کی خدمت کے لیے موزوں قرار پاسکیں۔ خصوصیت کے ساتھ یہ صفت ان صفات کے بالکل ہی برعکس ہے، جو اسلامی نظامِ زندگی کے قیام کی جدوجہد کے لیے مطلوب ہیں۔ وہ تنگ دلی کے بہ جائے فراخ دلی، بخل کے بہ جائے فیاضی، گرفت کے بہ جائے عفو و درگزر اور سخت گیری کے بہ جائے مراعات چاہتا ہے۔ اس کے لیے حلیم اور متحمل لوگ درکار ہیں۔ اس کا بیڑا وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں، جو بڑا ظرف رکھتے ہوں۔ جن کی سختی اپنے لیے اور نرمی دوسروں کے لیے ہو، جو خود کم سے کم الاؤنس چاہیں اور دوسروں کو زیادہ سے زیادہ الاؤنس دیں۔ جو اپنے عیوب اور دوسروں کی خوبیوں پر نگاہ رکھیں۔ جو تکلیف دینے کے بہ جائے تکلیف سہنے کے خوگر ہوں اور چلتوں کو گرانے کے بہ جائے گرتوں کو تھامنے کا بل بوتا رکھتے ہوں، جو جماعت ایسے لوگوں پر مشتمل ہوگی، وہ نہ صرف خود آپس میں مضبوطی کے ساتھ جڑی رہے گی بلکہ اپنے گرد و پیش معاشرے میں بھی بکھرے ہوئے اجزا کو سمیٹتی اور اپنے ساتھ جوڑتی چلی جائے گی۔ اس کے برعکس تنگ دل اور کم ظرف لوگوں کا مجمع خود بھی بکھرے گا اور باہر بھی جس سے اس کو سابقہ پیش آئے گا، اُسے نفرت دلا کر اپنے سے دور بھگا دے گا۔

#### ضعفِ ارادہ

انسانوں میں ایک کم زوری بہ کثرت پائی جاتی ہے، جسے ہم ضعفِ ارادے کا نام دے سکتے ہیں۔

اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک تحریک کی دعوت سن کر اسے صدقِ دل سے لبیک کہتا ہے اور اوّل اوّل خاصا جوش بھی دکھاتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کی دل چسپی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اسے نہ اس مقصد سے کوئی حقیقی لگاؤ باقی رہتا ہے، جس کی خدمت کے لیے وہ آگے بڑھا تھا اور نہ اس جماعت کے ساتھ کوئی عملی وابستگی باقی رہتی ہے، جس میں وہ دلی رغبت کے ساتھ شامل ہوا تھا۔ اس کا دماغ بدستور ان دلائل پر مطمئن رہتا ہے، جن کی بنا پر اس تحریک کو اس نے برحق مانا تھا، اس کی زبان بدستور اس کے برحق ہونے کا اقرار کرتی رہتی ہے۔ اس کے دل کی شہادت بھی یہی رہتی ہے کہ یہ کام کرنے کا ہے اور ضرور ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے جذبات سرد پڑ جاتے ہیں اور قوائے عمل کی حرکت سست ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس میں کسی بدنیتی کا ذرہ برابر دخل نہیں ہوتا، مقصد سے انحراف بھی نہیں ہوتا۔ نظریے کی تبدیلی بھی قطعاً واقع نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے آدمی جماعت کو چھوڑنے کا خیال نہیں کرتا، مگر بس وہ ارادے کی کم زوری ہوتی ہے، جو ابتدائی جوش ٹھنڈا ہو جانے کے بعد مختلف شکلوں میں اپنے کرشمے دکھانے شروع کر دیتی ہے۔

ضعفِ ارادے کا ابتدائی ظہور کام چوری کی صورت میں ہوتا ہے۔ آدمی ذمے داریاں قبول کرنے سے جی چرانے لگتا ہے۔ مقصد کی راہ میں وقت، محنت اور خرچ کرنے سے گریز کرنے لگتا ہے۔ دنیا کے ہر دوسرے کام کو اس کام پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ وہ جیسے زندگی کا نصب العین قرار دے کر آیا تھا۔ اس کے اوقات میں، اس کی محنتوں میں، اس کے مال میں، اس کے نام نہاد مقصدِ حیات کا حصہ کم سے کم ہوتا چلا جاتا ہے اور جس جماعت کو وہ برحق جماعت مان کر اس سے وابستہ ہوا تھا۔ اس کے ساتھ بھی وہ صرف نظم اور ضابطے کا تعلق باقی رکھتا ہے۔ اس کے بھلے اور برے سے کوئی غرض نہیں رکھتا، نہ اس کے معاملات میں کسی قسم کی دل چسپی لیتا ہے۔

یہ حالت کچھ اس طرح بہ تدریج طاری ہوتی ہے، جیسے جوانی یا بڑھاپا آتا ہے مگر آدمی اپنی اس کیفیت پر نہ خود متنبہ ہو اور نہ کوئی اسے متنبہ کرے، تو کسی وقت بھی یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ جس چیز کو میں اپنا مقصدِ زندگی قرار دے کر جان و مال کی بازی لگانے کے لیے اُٹھا تھا اس کے ساتھ اب یہ معاملہ کرنے لگا ہوں۔ یوں محض غفلت اور بے خبری کے عالم میں آدمی کی دل چسپی و وابستگی بے جان ہوتی چلی جاتی ہے، جس سے کہ کسی روز بے خبری ہی میں اس کی طبعی موت واقع ہو جاتی ہے۔

جماعتی زندگی میں اگر پہلے آدمی کے اندر اس کیفیت کے ظہور کا نوٹس نہ لیا جائے اور اس کے نشو و نما کو روکنے کی فکر نہ کی جائے تو ایک ضعیف الارادہ شخص کی چھوت دوسرے تمام ان لوگوں کو لگنا شروع ہو جاتی ہے، جن کے اندر ضعف ارادہ پیدا ہو رہا ہو، اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ مل جاتا ہے۔ اچھے خاصے سرگرم آدمی دوسروں کو کام نہ کرتے دیکھ کر خود بھی کام چھوڑ بیٹھتے ہیں اور کوئی اللہ کا بندہ یہ نہیں سوچتا کہ میں کسی اور کے نہیں، خود اپنے مقصد حیات کی خدمت کے لیے آیا تھا۔ اگر دوسرے اپنا مقصد چھوڑ چکے ہیں تو میں اپنے مقصد سے کیوں دست بردار ہو جاؤں۔ ان لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہوتی ہے، جو صرف اس لیے جنت کے راستے پر چلنا چھوڑ دے کہ دوسرے ساتھیوں نے چھوڑ دیا ہے۔ گویا جنت اس کی اپنی منزل مقصود نہ تھی یا وہ اس شرط کے ساتھ جانا چاہتا تھا کہ دوسرے بھی وہاں جائیں اور شاید دوسروں ہی کے ساتھ وہ جہنم جانے کا ارادہ بھی کرے۔ اگر انھیں اس طرف جاتے دیکھے کیوں کہ اس کا اپنا مقصد کوئی نہیں ہے۔ جو کچھ دوسروں کا مقصد ہے وہی اس کا بھی ہے۔ اس ذہنی کیفیت میں مبتلا ہو جانے والے لوگ ہمیشہ کام نہ کرنے والوں کی مثال بناتے ہیں، کام کرنے والوں میں انھیں کوئی قابل تقلید مثال نہیں ملتی۔

تاہم بسا غنیمت ہے کہ کوئی شخص بس سیدھے سادھے طریقے پر ضعف ارادہ کی بنا پر سست پڑ جائے اور سست ہی پڑ کر رہ جائے لیکن انسانی فطرت جب ایک دفعہ کم زوری میں مبتلا ہو جاتی ہے تو دوسری کم زوریاں بھی ابھرنے لگتی ہیں اور کم ہی لوگ اس پر قادر ہوتے ہیں کہ اپنی ایک کم زوری کی مدد پر دوسری کم زوریوں کو نہ آنے دیں۔ بالعموم آدمی کو اس میں شرم محسوس ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک کم زور انسان کی حیثیت سے ظاہر کرے یا اسے برداشت کر لے جائے کہ لوگ اسے کم زور سمجھیں، وہ سیدھی طرح اس کا اعتراف نہیں کرتا کہ ضعف ارادہ نے اسے سست کر دیا ہے۔ اس کے بہ جائے وہ اس پر پردہ ڈالنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتا ہے، جن میں سے ہر طریقہ دوسرے سے بدتر ہوتا ہے۔

مثلاً وہ کام نہ کرنے کے لیے طرح طرح کے بہانے کرتا ہے اور آئے دن کوئی نہ کوئی عذر لنگ پیش کر کے ساتھیوں کو یہ فریب دینے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کے کام نہ کرنے کا اصل سبب مقصد سے لگاؤ اور دل چسپی میں کمی نہیں ہے بلکہ واقعی رکاوٹیں اس کی راہ میں حائل ہیں۔ یہ گویا سستی کی مدد پر جھوٹ کو بلانا ہے اور یہاں سے اس آدمی کا اخلاقی تنزل شروع ہوتا ہے، جس نے اوّل اوّل صرف ترقی کی بلندیوں پر چڑھنا چھوڑ دیا تھا۔

یہ حیلہ جب پرانا ہو کر بے کار ثابت ہونے لگتا ہے اور آدمی کو خطرہ ہوتا ہے کہ اب اصل کم زوری کا راز فاش ہوا چاہتا ہے تو وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ دراصل کم زوری کی وجہ سے سست نہیں ہوا ہے بلکہ جماعت کی کچھ خرابیوں نے اسے بددل کر دیا ہے۔ گویا آپ خود تو بہت کچھ کرنا چاہتے تھے مگر کیا کریں، ساتھیوں کے بگاڑ نے دل توڑ کر رکھ دیا۔ اس طرح یہ گرتا ہوا انسان جب ایک قدم نہیں جما سکتا تو اور زیادہ نیچے اتر جاتا ہے اور اپنی کم زوری کو چھپانے کی خواہش اسے یہ مظلمہ اپنی گردن پر لینے کے لیے آمادہ کر دیتی ہے کہ جس کام کو بنانے کے قابل وہ نہ رہا تھا۔ اسے اب بگاڑنے کی کوشش شروع کر دے۔

ابتدائی مرحلے میں یہ بددلی کا معاملہ مجمل رہتا ہے، کچھ پتہ نہیں چلتا کہ حضرت کیوں بددل ہیں، خرابیوں کی مبہم شکایتیں دبی زبان سے ظاہر ہوتی ہیں، مگر ان کی کوئی تفصیل معلوم نہیں ہوتی۔ ساتھی اگر حکمت سے کام لیں اور اصل مرض کو سمجھ کر اس کا مداوا کرنے کی فکر کریں تو یہ گرتا ہوا شخص مزید گرنے سے رک بھی سکتا ہے اور اوپر اٹھایا بھی جا سکتا ہے لیکن اکثر نادان دوست کچھ بے جا جوش کی وجہ سے اور کچھ اپنے جذبۂ استعجاب کی خاطر کھوج کرید شروع کر دیتے ہیں اور اسے اجمال کی تفصیل بیان کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنی بددلی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے ہر طرف نظر دوڑاتا ہے، مختلف افراد کی انفرادی کم زوریاں چن چن کر جمع کرتا ہے۔ جماعت کے نظام اور اس کے کام میں نقائص ڈھونڈتا ہے۔ اور ایک فہرست بنا کر سامنے رکھ دیتا ہے کہ یہ ہیں وہ خرابیاں، جنھیں دیکھ دیکھ کر آخر کار یہ خاکسار بددل ہو گیا ہے۔ یعنی اس کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ مجھ جیسا مرد کامل، جو سب کم زوریوں سے پاک تھا، ان کم زور ساتھیوں اور ان نقائص سے لبریز جماعت کے ساتھ کس طرح آگے چل سکتا ہے اور یہ طرزِ استدلال اختیار کرتے وقت شیطان اسے یہ بات بھلا دیتا ہے کہ اگر واقعی معاملہ یہ تھا تو سست پڑنے کے بہ جائے یہ تو اور زیادہ سرگرم ہونے کے متقاضی تھا۔ جس کام کو آپ اپنی زندگی کا نصب العین ٹھہرا کر انجام دینے کے لیے اٹھے تھے، اسے اگر دوسرے اپنی خامیوں سے بگاڑ رہے تھے، تو آپ اور زیادہ جوش و خروش کے ساتھ اسے بنانے میں لگ جاتے اور اپنی خوبیوں سے دوسروں کی ان خامیوں کا تدارک فرماتے۔ آپ کے گھر میں آگ لگی ہو اور گھر کے دوسرے افراد اسے بجھانے میں کوتاہی برتیں تو آپ بددل ہو کر بیٹھ جائیں گے یا جلتے ہوئے گھر کو بچانے کے لیے ان کوتاہ دستوں سے بڑھ کر چابک دستی دکھائیں گے۔

اس معاملے کا سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے اور اپنے آپ کو حق بہ جانب ثابت کرنے کی کوشش میں خود اپنے نامۂ اعمال کا سارا حساب دوسروں کے نامۂ اعمال میں درج کر ڈالتا ہے۔ اور بھول جاتا ہے کہ نامہ ہائے اعمال کا کوئی ریکارڈ ایسا بھی ہے، جس میں کسی کی مکاری سے ایک شوشہ بھی نہیں بدل سکتا۔ وہ دوسروں کے نامۂ اعمال میں بہت سی کم زوریاں گنواتا ہے، جن میں وہ خود مبتلا ہوتا ہے۔ وہ جماعت کے کردار میں بہت سی ان خرابیوں کی نشان دہی کرتا ہے، جن کے پیدا کرنے میں اس کا اپنا حصہ دوسروں سے کم نہیں، کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ وہ ان کاموں پر سراپا شکایت بنا ہوا نظر آتا ہے، جو اس کے اپنے کیے ہوئے ہوتے ہیں، اور جب وہ کہتا ہے کہ یہ کچھ دیکھ کر اس کا دل ٹوٹ گیا ہے تو اس کے معنی صاف یہ ہوتے ہیں کہ ان سب چیزوں سے وہ خود بری الذمہ ہے۔

کوئی انسانی جماعت کم زوریوں سے خالی نہیں ہوتی، نہ کوئی انسانی کام نقائص سے پاک ہوتا ہے۔ دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی ہوسکتا ہے کہ انسانی معاشرے کی اصلاح و تعمیر کے لیے فرشتے فراہم ہوں اور سارا کام معیارِ کمال کے مطابق کریں۔ کم زوریاں ڈھونڈیے تو کہاں نہ مل جائیں گی، نقائص تلاش کیجیے تو کس جگہ وہ نہ پائے جائیں گے۔ انسانی کام کم زوریوں اور خامیوں کے ساتھ ہی ہوا کرتے ہیں اور معیارِ کمال تک پہنچنے کی ساری کوششوں کے باوجود کسی ایسی حالت پر پہنچنے کی کم از کم اس دنیا میں امید نہیں کی جاسکتی جہاں انسان اور اس کا کام سبوح و قدوس ہو جائے۔

اس حالت میں اگر کم زوریوں اور خامیوں کی نشان دہی اس غرض کے لیے ہو کہ انھیں رفع کرنے اور معیارِ کمال کی طرف بڑھنے کے لیے مزید جدوجہد کی جائے تو اس سے زیادہ مبارک کام کوئی نہیں، انسانی کاموں میں جو اصلاح و ترقی بھی ممکن ہے، اسی طریقے سے ممکن ہے اور اس سے غفلت تباہ کن ہے، لیکن اگر انفرادی کم زوریاں اور اجتماعی خامیاں اس لیے تلاش کی جائیں کہ انھیں کام نہ کرنے اور بددل ہو کر بیٹھ جانے کے لیے بہانہ بنانا ہو تو یہ خالص شیطانی وسوسہ اور نفسِ امارہ کا مکر ہے۔ یہ بہانہ بہتر سے بہتر ممکن حالات میں بھی ہر حیلہ جو انسان کو مل سکتا ہے اور اس بہانے کا سدِ باب اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک فرشتوں کی کوئی ٹولی انسانی جماعتوں کی جگہ لینے کے لیے نہ آجائے اور اس بہانے کو پیش کرنا کسی ایسے شخص کو زیب نہیں دیتا، جو خود کم زوریوں اور خامیوں سے اپنی ذاتِ اقدس کے پاک ہونے کا ثبوت مہیا نہ کر دے۔ اس طرح کی باتوں کا حاصل کبھی یہ نہیں ہوتا کہ کوئی کم زوری دور ہو یا کوئی خامی رفع ہو جائے، بلکہ یہ کم زوریوں اور خامیوں کو بڑھانے کا مجرب نسخہ ہے۔ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص اسے اختیار کر کے اپنے ارد گرد و پیش کے دوسرے تمام ضعیف الارادہ لوگوں کے لیے ایک غلط مثال بن جاتا ہے، وہ ان سب کو یہ راہ دکھا دیتا ہے کہ اپنے ضعف کا اعتراف کر کے نکو بننے سے بچیں، اور خود اپنے نفس کو بھی فریب دے کر مطمئن کریں۔ اس کی پیروی میں ہر بے عمل آدمی بددلی کا ڈھونگ رچانے لگتا ہے اور اس بددلی کو حق بہ جانب ثابت کرنے کے لیے ساتھیوں کی کم زوریاں اور جماعت کی خامیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایک فہرست تیار کرنی شروع کر دیتا ہے، پھر اس سے بدی کا ایک چکر چل نکلتا ہے۔ ایک طرف جماعت میں عیب چینی اور خردہ گیری اور الزام و جوابِ الزام کی ایک وبا پھوٹ پڑتی ہے، جو اس کے اخلاقی مزاج کا ستیا ناس کر دیتی ہے۔ دوسری طرف اچھے خاصے سرگرمِ عمل اور مخلص آدمی جو کسی ضعفِ ارادہ میں مبتلا نہ تھے۔ کم زوریوں اور خامیوں کے اس چرچے سے متاثر ہو کر بددلی کا شکار ہو جاتے ہیں اور جب اس مرض کی روک تھام کے لیے کچھ کیا جاتا ہے تو بددلوں کا ایک بلاک بننے لگتا ہے۔ بددلی ایک مسلک اور تحریک کی شکل اختیار کرتی ہے۔ بددل ہونا، بددل کرنا اور بددلی کے حق میں دلائل فراہم کرنا بہ جائے خود ایک کام بن جاتا ہے، اور جو لوگ اصل مقصد کے لیے کام کرنے میں سست ہو چکے تھے وہ اس کام میں خوب چستی دکھانے لگتے ہیں، یوں ان کی مری ہوئی دل چسپی زندہ ہوتی ہے مگر اس شان کے ساتھ کہ اس کا زندہ ہونا اس کی موت سے زیادہ افسوس ناک ہوتا ہے۔

یہ ایک خطرہ ہے، جس سے ہر اس جماعت کو خبردار رہنا چاہیے، جو اصلاح و تعمیر کی سعی کے لیے اُٹھے اور اس کے کارکنوں اور کارکنوں کو ضعفِ ارادہ کے نقصانات اور اس کی بسیط و مرکب صورتوں کے فرق اور ان میں سے ہر ایک کے اثرات و نتائج سے اچھی طرح واقف ہونا چاہیے اور اس کے ابتدائی آثار نمودار ہوتے ہی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔

ضعیف ارادہ بسیط یہ ہے کہ جماعت میں کوئی شخص اس کام کو برحق اور اس کا بیڑہ اٹھانے والی جماعت کو صحیح مانتے ہوئے عملاً سستی اور دل چسپی میں کمی دکھانی شروع کر دے۔ اس صورت کے رونما ہوتے ہی چند تدبیریں اختیار کرنی چاہئیں۔

ایک یہ کہ ایسے شخص کے حالات کی تحقیق کر کے یہ معلوم کیا جائے کہ اس کی سستی کی وجہ آیا ضعفِ ارادہ ہی ہے یا کچھ حقیقی مشکلات ہیں، جو اسے سست کر رہی ہیں، اگر حقیقی مشکلات پائی جائیں تو جماعت کو ان سے باخبر ہونا چاہیے تاکہ انھیں رفع کرنے میں ایک رفیق کی مدد بھی کی جائے اور اس کی سستی دوسروں کی نگاہ میں کوئی معنی بھی نہ پہن سکے، نہ کسی کے لیے غلط نظیر بن سکے اور اگر اصل سبب ضعفِ ارادہ ہی متحقق ہو تو بھونڈے طریقوں سے اجتناب کرتے ہوئے حکمت کے ساتھ ایسے شخص کے معاملے کو جماعت کے سامنے ان لوگوں کے معاملے سے ممیّز ہو جانا چاہیے، جو حقیقی مشکلات کی وجہ سے کام میں سرگرم نہ ہوں۔

دوسرے یہ کہ ضعیف الارادہ آدمی کی حالت، جس وقت بھی نوٹس میں آئے اس کے ضعف کو تذکیر و تلقین اور نصیحت کے ذریعے سے دور کرنے کی کوشش کر دینی چاہیے۔ خصوصیت کے ساتھ جماعت کے بہتر آدمیوں کو اس کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ اس کے مرتے ہوئے جذبے کو اکسائیں اور عملاً اسے اپنے ساتھ لگا کر حرکت میں لانے کی سعی کریں۔

تیسرے یہ کہ ایسے شخص کو ٹوکتے رہنا چاہیے تاکہ جماعت میں اس طرح کی سستی اور بے عملی ایک معمولی چیز نہ بن جائے اور دوسرے لوگ ایک دوسرے کا سہارا لے کر بیٹھتے نہ چلے جائیں اور جماعت کے اندر وقتاً فوقتاً اس امر کا محاسبہ ہوتا رہے کہ کون وقت اور محنت اور مال کا کتنا ایثار کر سکتا ہے اور کتنا کر رہا ہے اور کس کی کارگزاری اس کی واقعی استعداد سے کیا نسبت رکھتی ہے تو پھر یہ اس شخص کے لیے کسی نہ کسی حد تک خجالت کا موجب ہوگا، جو محاسبہ کی میزان میں ہلکا اتر رہا ہو اور یہ خجالت لوگوں کو سست پڑنے سے روکتی رہے گی لیکن یہ محاسبہ اس انداز سے نہ ہونا چاہیے کہ بسیط ضعفِ ارادہ کا مریض مرکّب ضعفِ ارادہ میں مبتلا ہو جائے۔ حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک شخص میں جو کم زوری پیدا ہو رہی ہے اسے اگر رفع نہ کیا جا سکے تو کم از کم بڑھنے نہ دیا جائے۔ نادانی کے ساتھ ضرورت سے زیادہ جوش دکھانے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ برائی میں پڑا ہوا آدمی اس سے شدید تر برائی کی طرف زبردستی دھکیل دیا جاتا ہے۔

ضعف ارادہ مرکب یہ ہے کہ آدمی اپنی کم زوری پر جھوٹ اور مکر کے پردے ڈالنے کی کوشش کرے اور بڑھتے بڑھتے یہ ثابت کرنے کی کوشش پر اتر آئے کہ خرابی اس میں نہیں ہے بلکہ جماعت میں ہے۔ یہ محض ایک کم زوری نہیں ہے بلکہ ایک بد اخلاقی ہے، جسے کسی ایسے جماعت میں پھلنے پھولنے نہ دینا چاہیے، جو اخلاقی بنیادوں ہی پر دنیا کی اصلاح کرنا چاہتی ہو۔

اس کا پہلا درجہ یہ ہے کہ آدمی کام نہ کرنے کے لیے جھوٹے عذرات اور بے بنیاد بہانے پیش کرے، اس چیز سے چشم پوشی کرنا خود اس شخص سے بھی بے وفائی ہے، جس میں یہ اخلاقی عیب اُبھرتا آ رہا ہو اور اس جماعت سے بھی بے وفائی ہے، جس کے ساتھ بہت سے لوگوں نے ایک مقصدِ عظیم کی خاطر جان و مال کی بازی لگائی ہو۔ ایسی جماعت میں شریک ہونے والے شخص کے اندر کم از کم اتنی اخلاقی جرآت اور ضمیر کی زندگی ہونا چاہیے کہ اگر اپنے جذبے کی کم زوری کے باعث وہ کام نہ کرے تو صاف صاف اپنی کم زوری کا اعتراف کر لے۔ اعترافِ قصور کے ساتھ ایک شخص کا عمر بھر اس کم زوری میں مبتلا رہنا اس سے بہ درجہا بہتر ہے کہ وہ ایک مرتبہ بھی اس کو چھپانے کے لیے جھوٹے بہانوں سے مدد لے۔ یہ عیب جب بھی ظاہر ہو اس پر سرزنش کرنے پر وہ اس طریقے سے باز نہ آئے تو علانیہ جماعت میں اسے ملامت کی جائے اور ان عذرات کی حقیقت کھول دی جائے، جنھیں وہ اپنے لیے حجت بنا رہا ہو، اس میں تساہل برتنے کے معنی یہ ہیں کہ جماعت کے اندر ان خرابیوں کا دروازہ کھول دیا جائے، جن کی تفصیل ہم ابھی اوپر بیان کر آئے ہیں۔

اس کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ ایک کوتاہ عمل اور سست کار آدمی اپنی اس حالت کے لیے جماعت کے افراد کی کم زوریوں اور جماعت کے کام اور نظام کی خامیوں کا ذمہ دار ٹھہرائے اور انھیں اپنی بددلی کا سبب قرار دے۔ یہ درحقیقت خطرے کی سرخ جھنڈی ہے، جو اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ اب یہ تیسرے فتنہ پردازی کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ اس موقعے پر اس سے بددلی کے اسباب کی تفصیل پوچھنا غلط ہے۔ یہ سوال اس سے کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اسے اس فتنہ کے راستے پر چلا دیا جائے، جس کے سرے پر ابھی وہ پہنچا ہے۔ یہاں اسے عیب چینی کا اذنِ عام دینے کے بہ جائے اس کے دوستوں کو اسے خدا سے ڈرانا چاہیے اور اس کو شرم دلانا چاہیے کہ خود ایک ناقص کارنامہ اور خام کردار لے کر وہ کس منہ سے دوسروں پر تنقید کی جسارت کر رہا ہے۔ محنت کرنے والے، خدمت میں سرگرمی دکھانے والے، وقت اور مال کا ایثار دکھانے والے اگر تیری کوتاہیِ عمل کو اپنے لیے بددلی کا موجب ٹھہرائیں تو حق بجانب ہوں گے، مگر تو کہاں بددلی کا روپ دھارنے چلا ہے، جب کہ بددل کرنے والی خرابیوں کو پیدا کرنے میں تیرا اپنا حصہ دوسروں سے بڑھ کر ہی ہے اور کام خراب کرنے میں تیرا اپنا عمل دوسروں کے لیے نظیر بن رہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اپنی تمام کم زوریاں اور خامیاں جماعت کے علم میں ضرور آنی چاہئیں اور جماعت کو بھی کبھی ان کے جاننے سے کترانا اور ان کی اصلاح کی سعی سے منھ نہ موڑنا چاہیے۔ لیکن انھیں بیان نہ کرنا جماعت کے ان سرگرم خادموں کا کام ہے، جو سب سے بڑھ کر خدمت میں جان لڑانے والے ہوں وہی اس کا حق رکھتے ہیں اور وہی ایمان داری کے ساتھ تنقید بھی کر سکتے ہیں۔ کسی اخلاقی تحریک میں اس بے حیائی کی ہمت افزائی نہ کی جانی چاہیے کہ کام چور لوگ جو خدمت میں سست اور کردار میں خام ہوں، وہ لمبی زبان لے کر جماعت کی خامیاں اور کم زوریاں بیان کرنے لگیں۔ ایسی تحریک میں ان کا صحیح مقام شرمندگی و ندامت اور اعترافِ قصور کا ہے ناقد اور مصلح کا نہیں ہے۔ اس مقام پر اگر وہ خود آکر کھڑے ہوں تو یہ سخت اخلاقی بیماری کی علامت ہے اور اگر جماعت میں ان کے لیے یہ مقام تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ جماعت پر اخلاقی دیوالیہ پن مسلط ہورہا ہے۔

اس سلسلے میں یہ اصولی بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ یہ ایک محرک اور متحرک جماعت کے لیے، اس کے تندرست اعضا کے احساسات کچھ اور معنی رکھتے ہیں اور بیمار احساسات کچھ اور معنی۔ اس کے تندرست اعضا وہ ہیں، جو اپنے کام کی دھن میں لگے ہوئے ہوں، اپنا تن من دھن سب کچھ انھوں نے اس کام میں لگا دیا ہو اور جن کا نامۂ اعمال یہ بتا رہا ہو کہ وہ اپنی حدِ استطاعت تک خدمت میں کوئی کوتاہی نہیں کر رہے ہیں۔ بیمار اعضا وہ ہیں، جنھوں نے کبھی اپنی حدِ وسع کے مطابق خدمت کا حق ادا نہ کیا ہو یا جو کچھ عرصے تک سرگرم رہنے کے ٹھنڈے پڑ چکے ہوں اور جن کا نامۂ اعمال ان کی کوتاہیوں کا صریح ثبوت دے رہا ہو۔ ان دونوں کے احساسات میں وہی فرق ہے، جو تندرست آنکھ اور بیمار آنکھ کی بینائی میں ہوتا ہے۔ جماعت اپنی کم زوریوں اور خامیوں کا اگر صحیح اندازہ کر سکتی ہے تو صرف اپنے تندرست اعضاء کے احساسات کے واسطے سے کر سکتی ہے۔ وہ اعضاء جو کام نہ کر رہے ہوں اور کام چھوڑنے کے لیے اپنی بددلی کا خود اظہار کر رہے ہوں۔ کبھی اس کا قابل اعتماد واسطہ نہیں بن سکتے۔ ان کے احساسات اگر سو فی صد نہیں تو اسی نوے فی صد گم راہ کن ہوں گے اور جو جماعت خود کشی نہ کرنا چاہتی ہو، وہ ہرگز ان کے دیے ہوئے احساسات پر اپنے نتائج کی بنا نہیں رکھ سکتی۔ یہ خیال کرنا کہ خامیاں اور کم زوریاں، جو بھی سامنے لاکر رکھ دے، بس گڑ گڑا کر ہمیں ان کے آگے توبہ و استغفار شروع کر دینی چاہیے اور پھر انھی پر اپنے اندازوں کی بنا رکھ کے یہ فیصلہ بھی کر ڈالنا چاہیے کہ ہم کیا کچھ کرنے کے قابل ہیں اور کیا کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ نیکی ہو تو ہو مگر عقل مندوں کی نہیں، سادہ لوح اور مغفل لوگوں کی نیکی ہے اور دنیا میں اس طرح کے نیک لوگوں نے نہ پہلے کچھ بنایا ہے اور نہ اب کچھ بنا سکتے ہیں۔ اپنے کمال کے زعم میں مبتلا ہو جانا جتنی بڑی نادانی ہے، اس سے کچھ کم نادانی یہ نہیں کہ اپنے نقائص اور اپنی قوتِ کار کا اندازہ ہر کس و ناکس کے بیان پر کر ڈالا جائے اور یہ نہ دیکھا جائے کہ بیان کرنے والا کس حد تک صحیح صورتِ حال سمجھنے اور بیان کرنے کا اہل ہے۔

ایک اور بات جو اس مقام پر خوب سمجھ لینے کی ہے، وہ یہ ہے کہ ایک مقصد کے لیے کام کرنے والی جماعت کو اپنے سامنے اخلاق اور صلاحیتِ کار کے دو معیار رکھنے ہوتے ہیں۔ ایک معیار مطلوب، یعنی وہ انتہائی بلند معیار جس تک پہنچنے کی مسلسل جدو جہد جاری رہنی چاہیے۔ دوسرا کم سے کم قابلِ عمل ہونے کا معیار، جس کو لے کر کام چلایا جا سکتا ہو اور جس کے نیچے گر جانا قابلِ برداشت نہ ہو، ان دونوں قسموں کے معیاروں کے معاملے میں مختلف ذہنوں کے لوگ مختلف طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں۔

ایک ذہن اصل مقصد کے لیے کام کرنے کو چنداں اہمیت نہیں دیتا۔ کام بنے یا بگڑے یا بالکل ختم ہو جائے۔ یہ اس کے لیے کوئی زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ہوتا وہ اس کام کو چھوڑ کر بھی مزے سے جی سکتا ہے اور کام میں شریک رہ کر بھی اس طرح شرکت کر سکتا ہے کہ اس کے وقت مال اور قوتوں کو جونک نہ لگنے پائے۔ یہ ذہن بسا اوقات فکر و نظر کی عیاشی کے طور پر اور کبھی اپنے فرار کے لیے پر فریب معذرت کے طور پر اخلاق کے آسمانوں پر اڑتا ہے اور معیارِ مطلوب سے کم پر کسی طرح مطمئن نہیں ہوتا۔ اس سے کم جو کچھ بھی نظر آتا ہے اس پر وہ بڑی بے چینی اور بد دلی کا اظہار کرتا ہے مگر یہ بے چینی کام کے لیے نہیں کام سے فرار کے لیے ہوتی ہے، خواہ یہ فراری ذہنیت شعوری ہو یا غیر شعوری۔

دوسرا ذہن اگرچہ مقصد اور اس کے لیے کام کرنے کو بڑی اہمیت بلکہ پوری اہمیت دیتا ہے۔ مگر تخیل پرستی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے معیارِ مطلوب اور کم از کم قابلِ عمل ہونے کے معیار کا فرق ٹھیک ٹھیک ملحوظ نہیں رکھتا، یہ جو بھی بار بار الجھن میں پڑتا ہے اور پہلے قسم کے ذہن کی چھوت بڑی آسانی سے اس کو لگ جاتی ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو بھی پریشان کرتا ہے اور کام کرنے والوں کے لیے اچھی خاصی پریشانیوں کا موجب بن جاتا ہے۔

تیسرا ذہن وہ ہوتا ہے، جسے مقصد کے لیے کام کرنا اور کام چلانا ہوتا ہے اور جسے اس کام کے بناؤ اور بگاڑ کی پوری ذمے داری اپنے اوپر ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اسے اس کا مقام خود ہی اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ ہر وقت دونوں قسموں کے معیاروں کا ٹھیک ٹھیک فرق ملحوظ رکھتے ہوئے کام کرے اور یہ دیکھتا رہے کہ مقصد کی طرف پیش قدمی کی رفتار کسی معقول اور وزنی سبب کے بغیر متاثر نہ ہو۔ وہ معیار مطلوب کو کبھی فراموش نہیں کرتا۔ اس تک پہنچنے کی فکر سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ اس سے گری ہوئی ہر چیز پر سخت تشویش محسوس کرتا ہے۔ مگر کم سے کم قابلِ عمل معیار سے کام چلاتا رہتا ہے اور اس معیار سے گر جانے والے لوگوں کی وجہ سے اپنی اسکیم بدلنے کے بہ جائے انھیں ہٹا کر پھینک دینا زیادہ پسند کرتا ہے۔ اس کے لیے اپنی طاقت کا صحیح اندازہ لگانا اور اس کے مطابق کام کے پھیلاؤ اور اس کی رفتار میں کمی بیشی کرنا تو بے شک ضروری ہے۔ اس میں وہ غلطی کر جائے تو اپنے مقصد کو نقصان پہنچا دے، لیکن سخت نادان ہو گا وہ شخص، جو اس چیز کا اندازہ لگانے میں پہلی اور دوسری قسم کے ذہنوں سے رہ نمائی حاصل کرے، اس کے لیے اگر مددگار ہو سکتے ہیں تو تیسری قسم کے ذہن ہی ہو سکتے ہیں اور ان کی معرفت اسے حاصل ہونا چاہیے۔