تحریک اور کارکن
اشاعت: 1979ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
اسلامی تحریک کی کامیابی صرف نظریاتی وضاحت یا سیاسی حکمت عملی تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ اس کی بنیادی شرط وہ افراد ہیں جو اس تحریک کے علمبردار ہوں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’تحریک اور کارکن‘‘ اسی حقیقت کی تفصیلی تشریح پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی بھی اسلامی تحریک کی قوت اور استحکام دو بنیادی عناصر پر منحصر ہے: ایک مضبوط، منظم اور منصوبہ بند تنظیم، اور دوسرا کارکنوں کی فکری و اخلاقی تربیت۔ دونوں عناصر ایک دوسرے کے مکمل ہیں؛ جیسا کہ مشینری اور برقی رو کا تعلق ہوتا ہے، اسی طرح تنظیم کے بغیر تربیت بے جان ہے اور تربیت کے بغیر تنظیم بے روح۔
کتاب کا آغاز پیش لفظ سے ہوتا ہے جو دراصل اس کتاب کے مقصد اور پس منظر کی وضاحت کرتا ہے۔ مولانا مودودی نے مختلف مواقع پر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کے نام جو تقریریں اور تحریریں کیں، انہیں یکجا کر کے یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب محض اصولوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تحریک کی اخلاقی تاریخ کا ریکارڈ ہے، جس میں راہِ تحریک میں پیش آنے والی کمزوریوں اور ان کے علاج کا ذکر ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ تربیت کی کمی ایسا نقصان پہنچا سکتی ہے جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا، اور اس ضمن میں عالمِ اسلام کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
الف: دعوتِ اسلامی کی اساسات
[ یہ وہ تقریر ہے، جو ۹ مئی ۱۹۴۷ء کو دارالاسلام پٹھان کوٹ (واقع مشرقی پنجاب) میں جماعت اسلامی حلقہ شمالی ہند کے اجتماع عام کا افتتاح کرتے ہوئے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بہ حیثیت امیر جماعت اسلامی کی تھی۔ مشرقی پنجاب میں یہ جماعت کا آخری اجتماع تھا، جس کے تین مہینے بعد پورا مشرقی پنجاب مسلمانوں سے خالی ہو گیا اور جماعت کو بھی اپنا مرکز چھوڑ دینا پڑا۔
اس تقریر کے ابتدائی حصے میں مولانا محترم نے سب سے پہلے حاضرین کو تعلق باللہ اور توجہ الی اللہ کی تلقین فرمائی۔ اجتماع میں نظم و ضبط کی پابندی کی ضرورت بیان کی اور ایام اجتماع کو زیادہ سے زیادہ مفید کاموں میں صرف کر دینے پر زور دیا۔ یہ ابتدائی حصہ ہم نے خارج کر دیا ہے اور صرف اس اصولی بحث کو کتاب میں شامل کیا ہے، جو تحریک اسلامی کی دعوت کی اساس و بنیاد ہے۔ (مرتب)]
دعوتِ اسلامی کی اساسات کو بیان کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ واضح طور پر سمجھ لیں کہ وہ اصول کیا ہیں، جن کو ہم مٹانا چاہتے ہیں اور ان کی جگہ ہم اسلام کے صالح اصول قائم کرنا چاہتے ہیں۔
#### مغربی تہذیب کے فاسد اصول
موجودہ تہذیب جس پر آج دنیا کا پورا فکری، اخلاقی، تمدنی، سیاسی اور معاشی نظام چل رہا ہے، دراصل تین بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔
(۱) سیکولرازم (Secularism) یعنی لادینی یا دنیاویت
(۲) نیشنلزم (Nationalism) یعنی قوم پرستی
(۳) ڈیموکریسی (Democracy) یعنی حاکمیت جمہور
ان میں سے پہلے اصول، یعنی لادینی کا مطلب یہ ہے کہ ”خدا اور اس کی ہدایت اور اس کی عبادت کے معاملے کو ایک ایک شخص کی ذاتی حیثیت تک محدود کر دیا جائے اور انفرادی زندگی کے اس چھوٹے سے دائرے کے سوا دنیا کے باقی تمام معاملات کو ہم خالص دنیوی نقطہٴ نظر سے اپنی صواب دید کے مطابق خود جس طرح چاہیں طے کریں۔ ان معاملات میں یہ سوال خارج از بحث ہونا چاہیے کہ خدا کیا کہتا ہے اور اس کی ہدایت کیا ہے اور اس کی کتابوں میں کیا لکھا ہے۔“
ابتداءً یہ طرزِ عمل اہل مغرب نے عیسائی پادریوں کی اس خود ساختہ دینیات (Theology) سے بے زار ہو کر اختیار کیا تھا، جو ان کے لیے زنجیر پا بن کر رہ گئی تھی، لیکن رفتہ رفتہ یہی طرزِ عمل ایک مستقل نظریہٴ حیات بن گیا اور تہذیبِ جدید کا پہلا سنگِ بنیاد قرار پایا۔ آپ نے اکثر یہ فقرہ سنا ہو گا کہ ”مذہب ایک پرائیویٹ معاہدہ ہے خدا اور بندے کے درمیان۔“ یہ مختصر سا فقرہ دراصل تہذیبِ حاضر کا ”کلمہ“ ہے۔ اس کی شرح یہ ہے کہ اگر کسی کا ضمیر گواہی دیتا ہے کہ خدا ہے اور اس کی پرستش کرنی چاہیے تو وہ اپنی انفرادی زندگی میں بہ خوشی اپنے خدا کو پوجے، مگر دنیا اور اس کے معاملات سے خدا اور مذہب کا کوئی تعلق نہیں۔ اس ”کلمہ“ کی بنیاد پر جس نظامِ زندگی کی عمارت اُٹھی ہے اس میں انسان اور انسان کے تعلق اور انسان اور دنیا کے تعلق کی تمام صورتیں خدا اور مذہب سے آزاد ہیں۔ معاشرت ہے تو اس سے آزاد، تعلیم ہے تو اس سے آزاد، معاشی کاروبار ہے تو اس سے آزاد، قانون ہے تو اس سے آزاد، پارلیمنٹ ہے تو اس سے آزاد، سیاست اور انتظامِ ملکی ہے تو اس سے آزاد، بین الاقوامی ربط و ضبط ہے تو اس سے آزاد۔ زندگی کے ان بے شمار مختلف پہلوؤں میں جو کچھ بھی طے کیا جاتا ہے، اپنی خواہش اور دانست کے مطابق طے کیا جاتا ہے اور اس سوال کو نہ صرف ناقابلِ لحاظ، بلکہ اصولاً غلط اور انتہائی تاریک خیالی سمجھا جاتا ہے کہ ان امور کے متعلق خدا نے بھی کچھ اصول اور احکام ہمارے لیے مقرر کیے ہیں یا نہیں۔ رہی انفرادی زندگی تو وہ بھی غیر دینی تعلیم اور بے دین اجتماعیت کی بہ دولت اکثر و بیشتر افراد کے معاملے میں نری دنیاوی (Secular) ہی ہو کر رہ گئی ہے اور ہوتی چلی جا رہی ہے، کیوں کہ اب بہت ہی کم افراد کا ضمیر واقعی یہ گواہی دیتا ہے کہ خدا ہے اور اس کی بندگی کرنی چاہیے۔ خصوصاً جو لوگ اس وقت تمدن کے اصلی کارفرما اور کارکن ہیں ان کے لیے تو مذہب اب ایک پرائیویٹ معاملہ بھی باقی نہیں رہا ہے۔ ان کا ذاتی تعلق بھی خدا سے ٹوٹ چکا ہے۔
دوسرے اصول، یعنی قوم پرستی کی ابتداء تو پوپ اور قیصر کے عالم گیر استبداد کے خلاف بغاوت کے طور پر ہوئی تھی اور اس کا مطلب صرف اتنا تھا کہ مختلف قومیں اپنی اپنی سیاست و مصلحت کی آپ ہی مالک و مختار ہوں، کسی عالم گیر روحانی یا سیاسی اقتدار کے ہاتھوں میں شطرنج کے مہروں کی طرح نہ کھیلیں، مگر اس معصوم آغاز سے چل کر جب یہ تخیل آگے بڑھا تو رفتہ رفتہ نوبت یہاں پہنچ گئی کہ جس جگہ سے بے دینی کی تحریک نے خدا کو بے دخل کیا تھا وہاں قوم پرستی نے قومیت کو لا بٹھایا۔ اب ہر قوم کے لیے بلند ترین اخلاقی قدر اُس کا قومی مفاد اور اس کے قومی حوصلے (Aspirations) ہیں۔ نیکی وہ ہے جو قوم کے لیے مفید ہو خواہ وہ جھوٹ ہو، بے ایمانی ہو، ظلم ہو، یا اور کوئی ایسا فعل ہو، جو پرانے مذہب و اخلاق میں بدترین گناہ سمجھا جاتا تھا۔ اور بدی وہ ہے، جس سے قوم کے مفاد کو نقصان پہنچے خواہ وہ سچائی ہو، انصاف ہو، وفائے عہد ہو، ادائے حق ہو یا اور کوئی ایسی چیز، جسے کبھی فضائل اخلاق میں شمار کیا جاتا تھا۔ افرادِ قوم کی خوبی اور زندگی و بیداری کا پیمانہ یہ ہے کہ قوم کا مفاد ان سے جس قربانی کا مطالبہ بھی کرے، خواہ وہ جان و مال اور وقت کی قربانی ہو یا ضمیر و ایمان کی، اخلاق و انسانیت کی قربانی ہو یا شرافت نفس کی، بہ ہر حال وہ اس میں دریغ نہ کریں اور متحد و منظم ہو کر قوم کے بڑھتے ہوئے حوصلوں کو پورا کرنے میں لگے رہیں۔ اجتماعی کوششوں کی غایت اب یہ ہے کہ ہر قوم ایسے افراد کی زیادہ سے زیادہ تعداد بہم پہنچائے اور ان میں ایکا اور نظم پیدا کرے تا کہ وہ دوسری قوموں کے مقابلے میں اپنی قوم کا جھنڈا بلند کریں۔
تیسرے اصول، یعنی جمہور کی حاکمیت (Sovereignty of the people) کو ابتداءً بادشاہوں اور جاگیرداروں کے اقتدار کی گرفت توڑنے کے لیے پیش کیا گیا تھا اور اس حد تک بات درست تھی کہ ایک شخص یا ایک خاندان یا ایک طبقے کو لاکھوں کروڑوں انسانوں پر اپنی مرضی مسلط کر دینے اور اپنی اغراض کے لیے انھیں استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، لیکن اس منفی پہلو کے ساتھ اس کا مثبت پہلو یہ تھا کہ ایک ایک ملک اور ایک ایک علاقے کے باشندے اپنے آپ حاکم اور اپنے آپ مالک ہیں۔ اسی مثبت پہلو پر ترقی کر کے جمہوریت نے اب جو شکل اختیار کی ہے وہ یہ ہے کہ ہر قوم اپنی مرضی کی مختارِ کل ہے۔ اس کی مجموعی خواہش (یا عملاً اس کی اکثریت کی خواہش) کو پابند کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے۔ اخلاق ہو یا تمدن، معاشرت ہو یا سیاست، ہر چیز کے لیے برحق اصول وہ ہیں، جو قومی خواہش سے طے ہوں اور جن اصولوں کو قوم کی رائے عام رد کر دے وہ باطل ہیں۔ قانون، قوم کی مرضی پر منحصر ہے، جو قانون چاہے بنائے اور جس قانون کو چاہے توڑ دے یا بدل دے۔ حکومت قوم کی رضا کے مطابق بننی چاہیے، قوم ہی کی رضا کا اسے پابند ہونا چاہیے اور اس کی پوری طاقت قومی خواہش کو پورا کرنے پر صرف ہونی چاہیے۔
یہ تین اصول، جن کی تشریح میں نے مختصراً آپ کے سامنے بیان کی ہے۔ موجودہ دور کے نظامِ زندگی کی بنیاد ہیں اور اِنھی اصولوں پر وہ بے دین جمہوری قومی ریاست (Secular democratic national state) بنتی ہے، جسے آج کل اجتماعی تنظیم کی مہذب ترین معیاری صورت سمجھا جاتا ہے۔
ہمارے نزدیک یہ تینوں اصول غلط ہیں۔ صرف غلط ہی نہیں، ہم پوری بصیرت کے ساتھ یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہی اصول اُن تمام مصائب کی جڑ ہیں، جن میں آج انسانیت مبتلا ہے۔ ہماری عداوت دراصل اِنھی اصولوں سے ہے اور ہم اپنی پوری طاقت کے ساتھ ان کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ان اصولوں پر کیا اعتراض ہے اور کیوں اعتراض ہے؟ اس کی تفصیل کے لیے تو بڑی لمبی بحث درکار ہے، مگر میں اسے چند الفاظ میں آپ کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ آپ ہماری اس لڑائی کی اہمیت اچھی طرح سمجھ سکیں اور آپ کو اندازہ ہو کہ کیوں یہ معاملہ اتنا سنگین ہے کہ ان اصولوں کے خلاف جنگ کرنا ناگزیر ہے۔
#### لادینی اور اس کی قباحت
سب سے پہلے اس لادینی یا دنیاویت کو لیجیے، جو اس نظامِ زندگی کا اوّلین سنگِ بنیاد ہے۔ یہ نظریہ کہ خدا اور مذہب کا تعلق صرف آدمی کی انفرادی زندگی سے ہے۔ سراسر ایک مہمل نظریہ ہے، جسے عقل و خرد سے کوئی سروکار نہیں۔ ظاہر بات ہے کہ خدا اور انسان کا معاملہ دو حال سے خالی نہیں ہوسکتا۔ یا تو خدا انسان کا اور اس ساری کائنات کا، جس میں انسان رہتا ہے، خالق اور مالک اور حاکم ہے، یا نہیں ہے۔ اگر وہ نہ خالق ہے نہ مالک اور نہ حاکم، تب تو اس کے ساتھ پرائیویٹ تعلق کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نہایت لغو بات ہے کہ ایک ایسی غیر متعلق ہستی کی خواہ مخواہ پرستش کی جائے، جس کا ہم سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور اگر وہ فی الواقع ہمارا اور اس تمام جہانِ ہست و بود کا خالق، مالک اور حاکم ہے تو اس کے کوئی معنی نہیں ہیں کہ اس کی عمل داری (Jurisdiction) محض ایک ایک شخص کی پرائیویٹ زندگی تک محدود ہو اور جہاں سے ایک اور ایک دو آدمیوں کا اجتماعی تعلق شروع ہوتا ہے وہیں سے اس کے اختیارات ختم ہو جائیں۔ یہ حد بندی اگر خدا نے خود کی ہے تو اس کی کوئی سند ہونی چاہیے اور اگر اپنی اجتماعی زندگی میں انسان نے خدا سے بے نیاز ہو کر خود ہی خود مختاری اختیار کی ہے تو یہ اپنے خالق اور مالک اور حاکم سے اس کی کھلی بغاوت ہے۔ اس بغاوت کے ساتھ یہ دعویٰ کہ ہم اپنی انفرادی زندگی میں خدا کو اور اس کے دین کو مانتے ہیں۔ صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس کی عقل ماری گئی ہو۔ اس سے زیادہ لغو بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک ایک شخص فرداً فرداً تو خدا کا بندہ ہو مگر یہ الگ الگ بندے جب مل کر معاشرہ بنائیں تو بندے نہ رہیں۔ اجزا میں سے ہر ایک بندہ اور اجزا کا مجموعہ غیر بندہ، یہ ایک ایسی بات ہے، جس کا تصور صرف ایک پاگل ہی کر سکتا ہے۔ پھر یہ بات کسی طرح ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر ہمیں خدا کی اور اس کی رہ نمائی کی ضرورت نہ اپنی خانگی معاشرت میں ہے، نہ محلے اور شہر میں، نہ مدرسے اور کالج میں، نہ منڈی اور بازار میں، نہ پارلیمنٹ اور گورنمنٹ ہاؤس میں، نہ ہائی کورٹ اور نہ سول سیکرٹریٹ میں، نہ چھاؤنی اور پولیس لائن میں اور نہ میدان جنگ اور صلح کانفرنس میں، تو آخر اس کی ضرورت ہے کہاں؟ کیوں ایسے خدا کو مانا جائے اور اس کی خواہ مخواہ پوجا پاٹ کی جائے، جو یا تو اتنا بے کار ہے کہ زندگی کے کسی معاملے میں بھی ہماری رہ نمائی نہیں کرتا، یا معاذ اللہ ایسا نادان ہے کہ کسی معاملے میں بھی اس کی کوئی ہدایت ہمیں معقول اور قابل عمل نظر نہیں آتی؟
یہ تو اس معاملے کا محض عقلی پہلو ہے۔ عملی پہلو سے دیکھیے تو اس کے نتائج بڑے ہی خوف ناک ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی کے جس معاملے کا تعلق بھی خدا سے ٹوٹتا ہے اس کا تعلق شیطان سے جڑ جاتا ہے۔ انسان کی پرائیویٹ زندگی درحقیقت کسی چیز کا نام نہیں ہے۔ انسان ایک متمدن ہستی ہے اور اس کی پوری زندگی اصل میں اجتماعی زندگی ہے۔ وہ پیدا ہی ایک ماں اور ایک باپ کے معاشرتی تعلق سے ہوتا ہے۔ دنیا میں آتے ہی وہ ایک خاندان میں آنکھیں کھولتا ہے۔ ہوش سنبھالتے ہی اس کو ایک سوسائٹی سے، ایک برادری سے، ایک بستی سے، ایک قوم سے، ایک نظام تمدن اور نظامِ معیشت و سیاست سے واسطہ پیش آتا ہے۔ یہ بے شمار روابط جو اس کو دوسرے انسانوں سے اور دوسرے انسانوں کو اس سے جوڑے ہوئے ہیں۔ انھی کی درستی پر ایک ایک انسان کی اور مجموعی طور پر تمام انسانوں کی فلاح و بہبود کا انحصار ہے۔ اور وہ صرف خدا ہی ہے، جو انسانوں کو ان روابط کے لیے صحیح اور منصفانہ اور پائیدار اصول و حدود بتاتا ہے۔ جہاں انسان اس کی ہدایت سے بے نیاز ہو کر خود مختار بنا، پھر نہ تو کوئی مستقل اصول باقی رہتا ہے اور نہ انصاف اور راستی۔ اس لیے کہ خدا کی رہنمائی سے محروم ہو جانے کے بعد خواہش اور ناقص علم و تجربے کے سوا کوئی چیز ایسی باقی نہیں رہتی، جس کی طرف انسان رہنمائی کے لیے رجوع کر سکے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جس سوسائٹی کا نظام لادینی یا دنیاویت کے اصول پر چلتا ہے اس میں خواہشات کی بنا پر روز اصول بنتے اور ٹوٹتے ہیں۔ آپ خود دیکھ رہے ہیں کہ انسانی تعلقات کے ایک ایک گوشے میں ظلم، بے انصافی، بے ایمانی اور آپس کی بے اعتمادی گھس گئی ہے۔ تمام انسانی معاملات پر انفرادی، طبقاتی، قومی اور نسلی خود غرضیاں مسلط ہو گئی ہیں۔ دو انسانوں کے تعلق سے لے کر قوموں کے تعلق تک کوئی رابطہ ایسا نہیں رہا، جس میں ٹیڑھ نہ آگئی ہو۔ ہر ایک شخص نے، ہر ایک گروہ نے، ہر ایک طبقے نے، ہر ایک قوم اور ملک نے اپنے دائرہ اختیار میں، جہاں تک بھی اس کا بس چلا ہے، پوری خود غرضی کے ساتھ اپنے مطلب کے اصول اور قاعدے اور قانون بنا لیے ہیں اور کوئی بھی اس کی پروا نہیں کرتا کہ دوسرے اشخاص، گروہوں، طبقوں اور قوموں پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ پروا کروانے والی صرف ایک ہی طاقت رہ گئی ہے اور وہ ہے جوتا۔ جہاں مقابلے میں جوتا یا جوتے کا اندیشہ ہوتا ہے صرف وہیں اپنی حد سے زیادہ پھیلے ہوئے ہاتھ اور پاؤں کچھ سکڑ جاتے ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ جوتا کسی عالم اور منصف ہستی کا نام نہیں ہے وہ تو ایک اندھی طاقت کا نام ہے اس لیے اس کے زور سے کبھی توازن قائم نہیں ہوتا۔ جس کا جوتا زبردست ہوتا ہے وہ دوسروں کو صرف اتنا ہی نہیں سکیڑتا جتنا سکیڑنا چاہیے بلکہ وہ خود اپنی حد سے زیادہ پھیلنے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ پس لادینی اور دنیاویت کا ماحصل صرف یہ ہے کہ جو بھی اس طرز عمل کو اختیار کرے گا بے لگام، غیر ذمہ دار اور بندۂ نفس ہو کر رہے گا، خواہ وہ ایک شخص ہو یا ایک گروہ یا ایک ملک اور قوم یا مجموعۂ اقوام۔
#### قوم پرستی اور اس کی تباہ کاریاں
اب دوسرے اصول کو لیجیے۔ قوم پرستی کی، جو تشریح ابھی تھوڑی دیر پہلے میں آپ کے سامنے کر چکا ہوں وہ اگر آپ کے ذہن میں تازہ ہے تو آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کتنی بڑی لعنت ہے، جو اس دور میں انسانیت پر مسلط ہوئی ہے۔ ہمارا اعتراض قومیت (Nationality) پر نہیں ہے، کیوں کہ وہ ایک فطری حقیقت ہے۔ ہم قومی خیر خواہی کے بھی مخالف نہیں ہیں بشرطیکہ اس کے اندر دوسری قوموں کی بدخواہی شامل نہ ہو۔ ہمیں محبت پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے بشرطیکہ وہ قومی تعصب اور اپنی قوم کی بے جا پاسداری اور دوسروں سے نفرت کی حد تک نہ جا پہنچے۔ ہم قومی آزادی کو بھی صحیح سمجھتے ہیں کیوں کہ اپنے معاملات کو خود انجام دینا اور اپنے گھر کا آپ انتظام کرنا ہر قوم کا حق ہے اور ایک قوم پر دوسری قوم کی حکومت درست نہیں ہے۔ دراصل جو چیز ہمارے نزدیک قابلِ اعتراض بلکہ قابلِ نفرت ہے، قوم پرستی (Nationalism) ہے، اس قوم پرستی کی کوئی حقیقت اس کے سوا نہیں ہے کہ یہ قومی خود پرستی کا دوسرا نام ہےــــــ اگر ایک سوسائٹی کے اندر اس شخص کا وجود ایک لعنت ہے، جو اپنے نفس اور اپنی غرض کا بندہ ہو اور اپنے مفاد کے لیے سب کچھ کر گزرنے کے لیے تیار ہو، اگر ایک بستی کے اندر وہ خاندان ایک لعنت ہے، جس کے افراد اپنے خاندانی مفاد کے اندھے پرستار ہوں اور جائز و ناجائز تمام ذرائع سے بس اپنا بھلا کرنے پر تلے ہوئے ہوں، اگر ایک ملک کے اندر وہ طبقہ ایک لعنت ہے، جو اپنی طبقاتی خود غرضی میں اندھا ہو رہا ہو اور دوسروں کے بھلے برے کی پروا کیے بغیر صرف اپنے فائدے کے پیچھے پڑ جائے (مثلاً بلیک مارکیٹنگ کرنے والے) تو آخر انسانیت کے وسیع دائرے میں وہ خود غرض قوم ایک لعنت کیوں نہیں ہے، جو اپنے قومی مفاد کو اپنا خدا بنا لے اور ہر جائز و ناجائز طریقے سے اس کی پوجا کرنے لگے؟ آپ کا ضمیر گواہی دے گا کہ تمام خود غرضیوں اور نفسانیتوں کی طرح یہ قومی خود غرضی و نفسانیت بھی یقیناً ایک لعنت ہے مگر آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج اس تہذیب جدید نے تمام قوموں کو اسی لعنت میں مبتلا کر دیا ہے اور اس کی بدولت ساری دنیا ایسے قومی اکھاڑوں میں تبدیل ہو گئی ہے، جن میں سے ہر اکھاڑے کی دوسرے اکھاڑے سے لاگ ڈانٹ ہے اور دو عالم گیر دنگل ہو چکنے کے بعد ابھی پسینہ بھی خشک نہیں ہوا ہے کہ تیسرے دنگل کے لیے ڈنڈ خم تازہ کیے جا رہے ہیں۔
#### مغربی جمہوریت کا فساد
تیسرا اصول پہلے دونوں اصولوں کے ساتھ مل کر اس بلا کی تکمیل کر دیتا ہے، جیسا کہ میں ابھی عرض کر چکا ہوں۔ موجودہ تہذیب میں جمہوریت کے معنی ہیں جمہور کی حاکمیت، یعنی ایک علاقے کے لوگوں کی مجموعی خواہش کا اپنے علاقے میں مختارِ مطلق ہونا اور ان کا قانون کے تابع نہ ہونا بلکہ قانون کا ان کی خواہش کے تابع ہونا اور حکومت کی غرض صرف یہ ہونا کہ اس کا نظم اور اس کی طاقت لوگوں کی اجتماعی خواہشات کو پورا کرنے کے کام آئے۔ اب غور کیجیے کہ پہلے تو لادینی نے ان لوگوں کو خدا کے خوف اور اخلاق کے مستقل اصولوں کی گرفت سے آزاد کرکے بے لگام اور غیر ذمے دار اور بندۂ نفس بنا دیا، پھر قوم پرستی نے ان کو شدید قسم کی قومی خود غرضی اور اندھی عصبیت اور قومی غرور کے نشے سے بدمست کر دیا اور اب یہ جمہوریت اٹھی بے لگام بدمست بندگانِ نفس کی خواہشات کو قانون سازی کے مکمل اختیارات دیتی ہے اور حکومت کا واحد مقصد یہ قرار دیتی ہے کہ اس کی طاقت ہر اس چیز کے حصول میں صرف ہو، جس کی یہ لوگ اجتماعی طور پر خواہش کریں۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کی خود مختار صاحبِ حاکمیت قوم کا حال آخر ایک طاقت ور بدمعاش سے کس بات میں مختلف ہوگا۔ جو کچھ ایک بدمعاش فرد خود مختار اور طاقت ور ہو کر چھوٹے پیمانے پر کرے گا وہی تو اس سے بہت زیادہ بڑے پیمانے پر اس طرح کی ایک قوم کرے گی۔ پھر جب دنیا میں صرف ایک ہی قوم ایسی نہ ہو بلکہ ساری متمدن قومیں اسی ڈھنگ پر بے دینی، قوم پرستی اور جمہوریت کے اصولوں پر منظم ہوں تو دنیا بھیڑیوں کا میدان جنگ نہ بنے گی تو اور کیا بنے گی۔
یہ وجوہ ہیں، جن کی بنا پر ہم ہر اُس نظامِ اجتماعی کو فاسد سمجھتے ہیں، جو ان تین اصولوں کی بنیاد ہے۔ ہماری دشمنی لادینی قومی جمہوری نظام سے ہے خواہ اس کے قائم کرنے اور چلانے والے مغربی ہوں یا مشرقی، غیر مسلم ہوں یا نام نہاد مسلمان۔ جہاں جس ملک اور جس قوم پر بھی یہ بلا مسلّط ہوگی، ہم بندگانِ خدا کو اس سے ہوشیار کرنے کی فکر کریں گے کہ اسے دفع کرو۔
#### تین صالح اصول
ان تینوں اصولوں کے جواب میں ہم دوسرے تین اصول پیش کرتے ہیں اور سب انسانوں کے ضمیر سے اپیل کرتے ہیں کہ انھیں جانچ کر، پرکھ کر خود دیکھ لو کہ تمھارا اپنا بھلا اور ساری دنیا کا بھلا ان پاک اصولوں میں ہے یا اُن خبیث اصولوں میں؟
(۱) لادینی کے مقابلے میں خدا کی بندگی و اطاعت
(۲) قوم پرستی کے مقابلے میں انسانیت
(۳) جمہور کی حاکمیت کے مقابلے میں خدا کی حاکمیت اور جمہور کی خلافت
#### خدا پرستی کے معنی
پہلے اصول کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب اس خدا کو اپنا آقا تسلیم کریں، جو ہمارا اور تمام کائنات کا خالق، مالک اور حاکم ہے۔ ہم اس سے آزاد اور بے نیاز بن کر نہیں بلکہ اس کے تابع فرمان اور اس کی رہ نمائی کے پیرو بن کر زندگی بسر کریں۔ ہم صرف اس کی پوجا ہی نہ کریں بلکہ اس کی اطاعت اور بندگی بھی کریں۔ ہم صرف فرداً فرداً اپنی پرائیویٹ حیثیت ہی میں اس کے احکام اور ہدایات کے پابند نہ ہوں بلکہ اپنی اجتماعی زندگی کے بھی ہر پہلو میں اسی کے پابند ہوں۔ ہماری معاشرت، ہمارا تمدن، ہماری معیشت، ہمارا نظامِ تعلیم و تربیت، ہمارے قوانین، ہماری عدالتیں، ہماری حکومت، ہماری صلح و جنگ اور ہمارے بین الاقوامی تعلقات، سب کے سب اُن اصولوں اور حدوں کے پابند ہوں، جو خدا نے مقرر کیے ہیں۔ ہم اپنے دنیوی معاملات کو طے کرنے میں بالکل آزاد ہوں بلکہ ہماری آزادی اُن سرحدوں کے اندر محدود ہو، جو خدا کے مقرر کیے ہوئے اصول اور حدود نے کھینچ دی ہیں۔ یہ اصول اور حدود ہر حال میں ہمارے اختیارات سے بالاتر رہیں۔
#### انسانیت کا مطلب
دوسرے اصول کا مطلب یہ ہے کہ خدا پرستی کی بنیاد پر، جو نظام زندگی بنے اس میں قوم، نسل، وطن، رنگ اور زبان کے فرق و امتیاز کی بنا پر کسی قسم کے تعصبات اور خود غرضیاں راہ نہ پائیں۔ وہ ایک قومی نظام کے بہ جائے ایک اصولی نظام ہونا چاہیے، جس کے دروازے ہر اُس انسان کے لیے کھلے ہوئے ہوں، جو اُس کے بنیادی اصولوں کو مان لے اور جو انسان بھی ان کو مان جائے وہ بغیر کسی امتیاز کے پورے مساویانہ حقوق کے ساتھ اس میں شریک ہو سکے۔ اس نظام میں شہریت (Citizenship) کی بنیاد پیدائش اور نسل و وطن پر نہ رکھی جائے بلکہ صرف اصول پر رکھی جائے۔ رہے وہ لوگ جو ان اصولوں پر مطمئن نہ ہوں یا کسی وجہ سے اُن کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوں تو اُن کو مٹانے اور دبانے اور ہضم کرنے کی کوشش نہ ہو بلکہ وہ متعین حقوق کے ساتھ اس نظام کی حفاظت (Protection) میں رہیں اور ان کے لیے ہر وقت یہ موقع کھلا رہے کہ جب بھی ان اصولوں کی صحت و درستی پر ان کا اطمینان ہو جائے وہ برابر کے حقوق کے ساتھ اپنی آزادانہ مرضی سے اس نظام کے شہری بن سکیں۔ یہ چیز جس کو ہم اصولِ انسانیت سے تعبیر کر رہے ہیں قومیت کی نفی نہیں کرتی بلکہ اسے اس کی صحیح فطری حد میں رکھتی ہے۔ اس میں قومی محبت کے لیے جگہ ہے۔ مگر قومی تعصب کے لیے جگہ نہیں ہے۔ قومی خیر خواہی جائز ہے مگر قومی خود غرضی حرام ہے۔ قومی آزادی مُسلّم ہے اور ایک قوم پر دوسری قوم کے خود غرضانہ تسلّط سے بھی سخت انکار ہے مگر ایسی قومی آزادی ہرگز تسلیم نہیں ہے، جو انسانیت کو ناقابلِ عبور سرحدوں میں تقسیم کر دے۔ اصولِ انسانیت کا مطالبہ یہ ہے کہ اگرچہ ہر قوم اپنے گھر کا انتظام آپ کرے اور کوئی قوم من حیث القوم دوسری قوم کی تابع نہ ہو، لیکن تمام وہ قومیں جو تہذیبِ انسانی کے بنیادی اصولوں میں متفق ہو جائیں اُن کے درمیان انسانی فلاح و ترقی کے کاموں میں پورا تعاون ہو، مسابقت (Competition) کے بجائے معاونت ہو، باہم امتیازات اور تعصبات اور تفریقیں نہ ہوں بلکہ تہذیب و تمدن اور اسبابِ زندگی کا آزادانہ لین دین ہو، اور اس مہذب نظامِ زندگی کے تحت زندگی بسر کرنے والی دنیا کا ہر انسان اس پوری دنیا کا شہری ہو نہ کہ ایک ملکِ قوم کا حتیٰ کہ وہ کہہ سکے کہ ”ہر ملک ملکِ ماست کہ ملکِ خدائے ماست“۔ موجودہ حالت کو ہم ایک قابلِ نفرت حالت سمجھتے ہیں، جس میں ایک انسان نہ تو خود ہی اپنی قوم اور ملک کے سوا کسی دوسری قوم اور ملک کا وفادار ہو سکتا ہے اور نہ کوئی قوم اپنے افراد کے سوا دوسری کسی قوم کے افراد پر اعتماد کر سکتی ہے۔ آدمی اپنے ملک کے حدود سے باہر نکلتے ہی یہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کی زمین میں ہر جگہ اس کے لیے رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں، ہر جگہ وہ چوروں اور اُچکّوں کی طرح شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، ہر جگہ پوچھ گچھ ہے، تلاشیاں ہیں، زبان و قلم اور نقل و حرکت پر پابندیاں ہیں اور کہیں اس کے لیے نہ آزادی ہے نہ حقوق۔ ہم اس کے مقابلے میں ایسا عالم گیر نظام چاہتے ہیں، جس میں اصولوں کی وحدت کو بنیاد بنا کر قوموں کے درمیان وفاق قائم ہو اور اس وفاق میں بالکل مساویانہ اور مشترک شہریت (Common citizenship) اور بے روک ٹوک آمد و رفت کا طریقہ رائج ہو۔ ہماری آنکھیں پھر ایک دفعہ یہ منظر دیکھنا چاہتی ہیں کہ آج کا کوئی ابنِ بطوطہ اٹلانٹک کے ساحل سے بحر الکاہل کے جزائر تک اس طرح جائے کہ کہیں بھی وہ غیر (Alian) نہ ہو اور ہر جگہ اس کے لیے جج، مجسٹریٹ، وزیر یا سفیر بن جانے کا موقع ہو۔
#### خلافتِ جمہور کا مفہوم
اب تیسرے اصول کو لیجیے۔ ہم جمہوری حاکمیت کے بہ جائے جمہوری خلافت کے قائل ہیں۔ شخصی بادشاہی (Monarchy)، امیروں کے اقتدار اور طبقوں کی اجارہ داری کے ہم بھی اتنے ہی مخالف ہیں جتنا موجودہ زمانے کا کوئی بڑے سے بڑا جمہوریت پرست ہوسکتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں تمام لوگوں کے یکساں حقوق، مساویانہ حیثیت اور کھلے مواقع پر ہمیں بھی اتنا ہی اصرار ہے جتنا مغربی جمہوریت کے کسی بڑے سے بڑے حامی کو ہوسکتا ہے۔ ہم بھی اس بات کے قائل ہیں کہ حکومت کا انتظام اور حکمرانوں کا انتخاب تمام باشندوں کی آزادانہ مرضی اور رائے سے ہونا چاہیے۔ ہم بھی اس نظامِ زندگی کے سخت مخالف ہیں، جس میں لوگوں کے لیے اظہارِ رائے کی آزادی، اجتماع کی آزادی اور سعیِ عمل کی آزادی نہ ہو، یا جس میں پیدائش اور نسل اور طبقات کی بنا پر بعض لوگوں کے لیے مخصوص حقوق اور بعض دوسرے لوگوں کے لیے مخصوص رکاوٹیں ہوں۔ یہ امور جو جمہوریت کا اصل جوہر (Essence) ہیں، ان میں ہماری جمہوریت اور مغربی جمہوریت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے، جو اہل مغرب نے ہمیں سکھائی ہو۔ ہم اس جمہوریت کو اس وقت سے جانتے ہیں اور دنیا کو اس کا بہترین عملی نمونہ دکھا چکے ہیں جب کہ مغربی جمہوریت پرستوں کی پیدائش میں ابھی سینکڑوں برس کی دیر تھی۔ دراصل ہمیں اس نوخیز جمہوریت سے، جس چیز میں اختلاف اور نہایت سخت اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ یہ جمہور کی مطلق العنان بادشاہی کا اصول پیش کرتی ہے اور ہم اس کو حقیقت کے اعتبار سے غلط اور نتائج کے اعتبار سے تباہ کن سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بادشاہی (Soverignty) صرف اس کا حق ہے، جس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، جو ان کی پرورش اور بالیدگی کا سامان کر رہا ہے، جس کے سہارے پر ان کی اور ساری دنیا کی ہستی قائم ہے اور جس کے زبردست قانون کی گرفت میں کائنات کی ایک ایک چیز جکڑی ہوئی ہے اس کی واقعی اور حقیقی بادشاہی کے اندر، جس بادشاہی کا بھی دعویٰ کیا جائے گا، خواہ ایک شخص اور ایک خاندان کی بادشاہی ہو یا ایک قوم اور اس کے عوام کی، بہ ہر حال وہ ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہ ہوگا اور اس غلط فہمی کی چوٹ کائنات کے اصل بادشاہ پر نہیں بلکہ اس احمق مدعی پر پڑے گی، جس نے اپنی قدر خود نہ پہچانی۔ اس حقیقت کی موجودگی میں صحیح بھی یہی ہے اور نتائج کے اعتبار سے انسان کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ خدا کو حاکم مان کر انسانی زندگی کا نظامِ حکومت خلافت و نیابت کے نظریے پر بنایا جائے۔ یہ خلافت بلاشبہ جمہوری ہونی چاہیے۔ جمہور کی رائے ہی سے حکومت کے امیر یا ناظمِ اعلیٰ کا انتخاب ہونا چاہیے۔ اُنھی کی رائے سے اہل شوریٰ منتخب ہونے چاہئیں۔ اُنھی کے مشورے سے حکومت کے سارے انتظامات چلنے چاہئیں۔ ان کو تنقید و احتساب کا کھلا حق ہونا چاہیے، لیکن یہ سب کچھ اس احساس و شعور کے ساتھ ہونا چاہیے کہ ملک خدا کا ہے، ہم مالک نہیں بلکہ نائب ہیں اور ہمیں اپنے ہر کام کا حساب اصل مالک کو دینا ہے۔ نیز وہ اخلاقی اصول اور وہ قانونی احکام اور حدود اپنی جگہ اٹل ہونے چاہئیں، جو خدا نے ہماری زندگی کے لیے مقرر کر دیے ہیں۔ ہماری پارلیمنٹ کا اساسی نظریہ یہ ہونا چاہیے:
جن امور میں ہمیں ہدایات دی ہیں ان میں ہم قانون سازی نہیں کریں گے بلکہ اپنی ضروریات کے لیے خدا کی ہدایات سے تفصیلی قوانین اخذ کریں گے۔
اور جن امور میں خدا نے ہدایات نہیں دی ہیں ان میں ہم یہ سمجھیں گے کہ خدا نے خود ہی ہم کو آزادی عمل بخشی ہے اس لیے صرف انہی امور میں ہم باہمی مشورے سے قوانین بنائیں گے۔ مگر یہ قوانین لازماً اس مجموعی سانچے کے مزاج سے مطابقت رکھنے والے ہوں گے، جو خدا کی اصولی ہدایات نے ہمارے لیے بنا دیا ہے۔
پھر یہ ضروری ہے کہ اس پورے نظام تمدن و سیاست کی کارفرمائی اور اس کا انتظام ان لوگوں کے سپرد ہو، جو خدا سے ڈرنے والے اور اس کی اطاعت کرنے والے اور ہر کام میں اس کی رضا چاہنے والے ہوں، جن کی زندگی گواہ ہو کہ وہ خدا کے حضور اپنی پیشی اور جواب دہی کا یقین رکھتے ہیں، جن کی پبلک پرائیویٹ دونوں قسم کی زندگیوں سے یہ شہادت ملے کہ وہ بے لگام گھوڑے کی طرح نہیں ہیں، جو ہر کھیت میں چرتا اور ہر حد کو پھاندتا پھرتا ہو، بلکہ ایک الہی ضابطے کی رسی سے بندھے ہوئے اور ایک خدا پرستی کے کھونٹے سے مربوط ہیں اور ان کی ساری چلت پھرت اسی حد تک محدود ہے جہاں تک وہ رسی انھیں جانے دیتی ہے۔
حضرات! یہ تینوں اصول، جن کی بہت ہی مختصر تشریح میں آپ کے سامنے بیان کی ہے۔ موجودہ تہذیب کی قوم پرستانہ لادینی جمہوری حاکمیت کے مقابلے میں ایک خدا پرستانہ انسانی جمہوری خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں اور اسی کا قیام ہمارا نصب العین ہے۔ یہ بات تو آپ بیک نظر معلوم کر سکتے ہیں کہ ان دونوں نظاموں کے درمیان کیا اختلاف ہے۔ اب یہ فیصلہ آپ کے اپنے ضمیر پر منحصر ہے کہ ان میں سے کون بہتر ہے، کس میں آپ کی فلاح ہے، کس کے قیام کا آپ کو خواہش مند ہونا چاہیے اور کس کے قائم کرنے اور قائم رکھنے میں آپ کی قوتیں صرف ہونی چاہئیں۔