مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اور کارکن

اشاعت: 1979ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اسلامی تحریک کی کامیابی صرف نظریاتی وضاحت یا سیاسی حکمت عملی تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ اس کی بنیادی شرط وہ افراد ہیں جو اس تحریک کے علمبردار ہوں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’تحریک اور کارکن‘‘ اسی حقیقت کی تفصیلی تشریح پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی بھی اسلامی تحریک کی قوت اور استحکام دو بنیادی عناصر پر منحصر ہے: ایک مضبوط، منظم اور منصوبہ بند تنظیم، اور دوسرا کارکنوں کی فکری و اخلاقی تربیت۔ دونوں عناصر ایک دوسرے کے مکمل ہیں؛ جیسا کہ مشینری اور برقی رو کا تعلق ہوتا ہے، اسی طرح تنظیم کے بغیر تربیت بے جان ہے اور تربیت کے بغیر تنظیم بے روح۔

کتاب کا آغاز پیش لفظ سے ہوتا ہے جو دراصل اس کتاب کے مقصد اور پس منظر کی وضاحت کرتا ہے۔ مولانا مودودی نے مختلف مواقع پر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کے نام جو تقریریں اور تحریریں کیں، انہیں یکجا کر کے یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب محض اصولوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تحریک کی اخلاقی تاریخ کا ریکارڈ ہے، جس میں راہِ تحریک میں پیش آنے والی کمزوریوں اور ان کے علاج کا ذکر ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ تربیت کی کمی ایسا نقصان پہنچا سکتی ہے جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا، اور اس ضمن میں عالمِ اسلام کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ج: لائحۂ عمل

[ماخوذ از ”مسلمانوں کا ماضی، حال اور مستقبل کے لیے لائحۂ عمل“۔ یہ وہ تقریر ہے، جو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ۱۱ نومبر ۱۹۵۱ء کو جماعت اسلامی کے اجتماعِ عام منعقدہ کراچی میں کی تھی۔(مرتب)] ہمارے مقصد و مسلک کو سمجھ لینے کے بعد کسی کو ہمارے لائحۂ عمل کے سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آسکتی۔ اس کے چار بڑے بڑے اجزا ہیں، جنھیں میں الگ الگ بیان کروں گا:

#### (۱) تطہیر افکار و تعمیر افکار

اس کا پہلا جز تطہیر افکار و تعمیر افکار ہے۔ ہم کئی سال سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور ہماری کوشش کا سلسلہ برابر جاری ہے کہ ایک طرف غیر اسلامی قدامت کے جنگل کو صاف کر کے اصلی اور حقیقی اسلام کی شاہ راہِ مستقیم کو نمایاں کیا جائے، دوسری طرف مغربی علوم و فنون اور نظامِ تہذیب و تمدن پر تنقید کر کے بتایا جائے کہ اس میں کیا کچھ غلط اور قابلِ ترک ہے اور کیا کچھ صحیح اور قابلِ اخذ اور تیسری طرف وضاحت کے ساتھ یہ دکھایا جائے کہ اسلام کے اصولوں کو زمانہِ حال کے مسائل و معاملات پر منطبق کر کے ایک صالح تمدن کی تعمیر کس طرح ہوسکتی ہے اور اس میں ایک ایک شعبہ کیا ہوگا۔ اس طریقے سے ہم خیالات کو بدلنے اور ان کی تبدیلی سے زندگیوں کا رُخ پھیرنے اور ذہنوں کو تعمیرِ نو کے لیے فکری غذا بہم پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کوشش کے نتائج ہمارے لٹریچر اور ہماری شائع شدہ تقریروں کی شکل میں آپ کے سامنے موجود ہیں۔ ہر شخص انھیں دیکھ کر معلوم کرسکتا ہے کہ ہم کس رُخ پر جارہے ہیں اور کدھر اپنی قوم کو لے جانا چاہتے ہیں۔

#### (۲) صالح افراد کی تنظیم و تربیت

اس کا دوسرا جز صالح افراد کی تلاش، تنظیم اور تربیت ہے۔ ہم اپنی آبادیوں میں ان مردوں اور عورتوں کو ڈھونڈ رہے ہیں، جو پرانی اور نئی خرابیوں سے پاک ہوں یا اب پاک ہونے کے لیے تیار ہوں، جن کے اندر اصلاح کا جذبہ موجود ہو، جو حق کو حق مان کر اس کے لیے وقت، مال اور محنت کی کچھ قربانی کرنے پر بھی آمادہ ہوں، خواہ وہ نئے تعلیم یافتہ ہوں یا پرانے، خواہ وہ عوام میں سے ہوں یا خواص میں سے، خواہ وہ غریب ہوں یا امیر یا متوسط۔ ایسے لوگ جہاں کہیں بھی ہیں، ہم انھیں گوشۂ عافیت سے نکال کر میدان سعی و عمل میں لانا چاہتے ہیں۔ اگر ہمارے مقصد، طریق کار اور نظام جماعت کو قبول کرلیں تو انھیں اپنی جماعت کا کارکن بنا لیتے ہیں، اور اگر وہ رکنیت کی شرائط پوری کیے بغیر صرف تائید اور اتفاق پر اکتفا کریں تو ان کو اپنے حلقہ متفقین میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں، جو ایک صالح عنصر بچا کھچا موجود ہے، مگر منتشر ہونے کی وجہ سے، یا جزوی اصلاح کی پراگندہ کوشش کرنے کی وجہ سے کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر رہا ہے، اسے چھانٹ چھانٹ کر ایک مرکز پر جمع کیا جائے اور ایک حکیمانہ پروگرام کے مطابق اس کو اصلاح و تعمیر کی منظم سعی میں لگایا جائے۔

ہم صرف اس تنظیم ہی پر قناعت نہیں کر رہے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ ان منظم ہونے والوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت کا بھی انتظام کر رہے ہیں تاکہ ان کی فکر زیادہ سے زیادہ پاکیزہ، مضبوط اور قابل اعتماد ہو۔ ہمارے پیش نظر ابتدا سے یہ حقیقت ہے کہ اسلامی نظام محض کاغذی نقشوں اور زبانی دعووں کے بل پر قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کے قیام اور نفاذ کا سارا انحصار اس پر ہے کہ آیا اس کی پشت پر تعمیری صلاحیتیں اور صالح انفرادی سیرتیں موجود ہیں یا نہیں۔ کاغذی نقشوں کی خامی تو اللہ کی توفیق سے علم اور تجربہ ہر وقت رفع کر سکتا ہے، لیکن صلاحیت اور صالحیت کا فقدان سرے سے کوئی عمارت اٹھا ہی نہیں سکتا اور اٹھا بھی لے تو سہار نہیں سکتا۔

#### (۳) اصلاح معاشرہ

اس کا تیسرا جز ہے اجتماعی اصلاح کی سعی۔ اس میں سوسائٹی کے ہر طبقے کی اس کے حالات کے لحاظ سے اصلاح شامل ہے اور اس کا دائرہ اتنا ہی وسیع ہو سکتا ہے، جتنے ہمارے ذرائع وسیع ہوں۔ ہم اپنے ارکان اور متفقین کو ان کی صلاحیتوں کے لحاظ سے مختلف حلقوں میں تقسیم کرتے ہیں اور ہر ایک کے سپرد وہ کام کرتے ہیں، جس کے لیے وہ اہل تر ہو۔ ان میں سے کوئی شہری عوام میں کام کر رہا ہے اور کوئی دیہاتی عوام میں۔ کوئی کسانوں کی طرف متوجہ ہے اور کوئی مزدوروں کی طرف۔ کوئی متوسط طبقے کو خطاب کر رہا ہے اور کوئی اونچے طبقے کو۔ کوئی سرکاری ملازمین کی اصلاح کے لیے کوشاں ہے اور کوئی تجارت پیشہ لوگوں کی اصلاح کے لیے۔ کسی کی توجہ پرانی درس گاہوں کی طرف ہے اور کسی کی نئے کالجوں کی طرف۔ کوئی جمود کے قلعوں کو توڑنے میں لگا ہوا ہے اور کوئی الحاد و فسق کے سیلاب کو روکنے میں۔ کوئی شعر و ادب کے میدان میں کام کر رہا ہے اور کوئی علم و تحقیق کے میدان میں۔ یہ سب اگرچہ اپنے الگ حلقہ ہائے کار رکھتے ہیں، مگر سب کے سامنے ایک ہی مقصد اور ایک اسکیم ہے، جس کی طرف وہ قوم کے سارے طبقوں کو گھیر کر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا متعین نصب العین یہ ہے کہ اسی ذہنی، اخلاقی اور عملی انارکی کو ختم کیا جائے، جو پرانے جمودی اور نئے انفعالی رجحانات کی وجہ سے ساری قوم میں پھیلی ہوئی ہے اور عوام سے لے کر خواص تک، سب میں صحیح اسلامی فکر، سیرت اور سچے مسلمانوں کی سی عملی زندگی پیدا کی جائے۔

یہ کام صرف وعظ و تلقین اور نشر و اشاعت اور شخصی ربط و مکالمہ ہی سے نہیں کیا جا رہا ہے، بلکہ مختلف سمتوں میں باقاعدہ تعمیری پروگرام بنا کر پیش قدمی کی جا رہی ہے۔ مثلاً ہمارے کارکن جہاں کہیں اپنی تبلیغ سے چند آدمیوں کو متفق بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہاں وہ انھیں ملا کر ایک حلقہ متفقین منظم کرتے ہیں اور پھر ان کی مدد سے ایک پروگرام کو عمل میں لانے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں، جس کے چند اجزا یہ ہیں:

بستی کی مسجدوں کی اصلاح حال۔ عام باشندوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کرانا۔ تعلیم بالغاں کا انتظام۔ کم از کم ایک دارالمطالعہ کا قیام۔ لوگوں کو ظلم و ستم سے بچانے کے لیے اجتماعی جدوجہد۔ باشندوں کے تعاون سے صفائی اور حفظان صحت کی کوشش۔ بستی کے یتیموں، بیواؤں، معذوروں اور غریب طالب علموں کی فہرستیں مرتب کرنا اور جن جن طریقوں سے ممکن ہو ان کی مدد کا انتظام کرنا اور اگر ذرائع فراہم ہو جائیں تو کوئی پرائمری اسکول، یا ہائی اسکول، یا مذہبی تعلیم کا ایسا مدرسہ قائم کرنا، جس میں تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت کا بھی انتظام ہو۔

اسی طرح ہم مزدوروں کو اشتراکیت کے زہر سے بچانے کے لیے صرف تبلیغ ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ عملاً ان کے مسائل کو حل کرنے کی سعی بھی کرتے ہیں۔ چناں چہ ہم نے مزدوروں اور کارکن طبقوں کی نئی تنظیمات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جن کی بنیاد اسلامی فکر پر رکھی گئی ہے۔ ان تنظیمات کا مقصد انصاف کا قیام ہے نہ کہ ذرائع پیداوار کو قومی ملکیت بنانا۔ ان کا مسلک جائز اور معقول حقوق کے حصول کی جدوجہد ہے نہ کہ طبقاتی کش مکش۔ ان کا طریق کار اخلاقی اور آئینی ہے نہ کہ توڑ پھوڑ اور تخریب۔ ان کے پیش نظر صرف اپنے حقوق ہی نہیں ہیں بلکہ فرائض بھی ہیں اور جو مزدور یا کارکن بھی ان میں شامل ہوتے ہیں ان پر یہ شرط عائد کی جاتی ہے کہ وہ ایمان داری کے ساتھ اپنے حصے کا فرض ضرور ادا کریں گے۔ پھر ان کا دائرہ عمل صرف اپنے طبقے کے مفاد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ تنظیمات جس طبقے سے بھی تعلق رکھتی ہیں اس کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی حالت کو بھی درست کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

اس عمومی اصلاح کے پورے لائحہ عمل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو شخص جس حلقے اور طبقے میں بھی کام کرے مسلسل اور منظم طریقے سے کرے اور اپنی سعی کو ایک نتیجے تک پہنچائے بغیر نہ چھوڑے۔ ہم اس کے قائل نہیں ہیں کہ ہوا کے پرندوں اور آندھی کے جھکڑوں کی طرح بیچ پھینکتے چلے جائیں۔ اس کے برعکس ہم کسان کی طرح کام کرنا چاہتے ہیں، جو ایک متعین رقبے کو لیتا ہے، پھر زمین کی تیاری سے لے کر فصل کی کٹائی تک مسلسل کام کر کے اپنی محنتوں کو ایک نتیجہ تک پہنچا کر دم لیتا ہے۔ پہلے طریقے سے جنگل پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے طریقے سے باقاعدہ کھیتیاں تیار ہوا کرتی ہیں۔

#### (۴) نظام حکومت کی اصلاح

اس لائحہ عمل کا چوتھا جز نظام حکومت کی اصلاح ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی کے موجودہ بگاڑ کو دور کرنے کی کوئی تدبیر بھی کام یاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ اصلاح کی دوسری کوششوں کے ساتھ ساتھ نظام حکومت کو درست کرنے کی کوشش بھی نہ کی جائے۔ اس لیے کہ تعلیم اور قانون اور نظم و نسق اور تقسیم رزق کی طاقتوں کے بل پر جو بگاڑ اپنے اثرات پھیلا رہا ہو، اس کے مقابلے میں بناؤ اور سنوار کی وہ تدبیریں، جو صرف وعظ اور تلقین کے ذرائع پر منحصر ہوں کبھی کارگر نہیں ہو سکتیں۔ لہٰذا اگر ہم فی الواقع اپنے ملک کے نظام زندگی کو فسق و ضلالت کی راہ سے ہٹا کر دینِ حق کی صراطِ مستقیم پر چلانا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے ناگزیر ہے کہ بگاڑ کو مسندِ اقتدار سے ہٹانے اور بناؤ کو اس کی جگہ متعین کرنے کی بہ راہِ راست کوشش کریں۔ ظاہر ہے کہ اگر اہلِ خیر و اصلاح کے ہاتھ میں اقتدار ہو تو تعلیم، قانون اور نظم و نسق کی پالیسی کو تبدیل کر کے چند سال کے اندر وہ کچھ کر ڈالیں گے، جو غیر سیاسی تدبیروں سے ایک صدی میں بھی نہیں ہو سکتا۔

یہ تبدیلی کس طرح ہو سکتی ہے؟ ایک جمہوری نظام میں اس کا راستہ صرف ایک ہے اور وہ ہے انتخابی جدوجہد۔ رائے عام کی تربیت کی جائے، عوام الناس کے معیارِ انتخاب کو بدلا جائے۔ انتخاب کے طریقوں کی اصلاح کی جائے اور پھر ایسے صالح لوگوں کو اقتدار کے مقام پر پہنچایا جائے، جو ملک کے نظام کو خالص اسلام کی بنیادوں پر تعمیر کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہوں اور قابلیت بھی۔ خوش قسمتی سے قراردادِ مقاصد نے ہمارے راستے سے وہ دوسری رکاوٹیں دور کر دی ہیں، جو ہمارے لیے اب تک اس طریقے کو اختیار کرنے میں سدِ راہ بنی ہوئی تھیں۔ ان رکاوٹوں کے دور ہوتے ہی اب ہم نے انتخابات میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے اور اس کام میں وہی مقصد ہمارے پیش نظر ہے، جو میں نے ابھی آپ سے بیان کیا ہے۔