مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اور کارکن

اشاعت: 1979ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اسلامی تحریک کی کامیابی صرف نظریاتی وضاحت یا سیاسی حکمت عملی تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ اس کی بنیادی شرط وہ افراد ہیں جو اس تحریک کے علمبردار ہوں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’تحریک اور کارکن‘‘ اسی حقیقت کی تفصیلی تشریح پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی بھی اسلامی تحریک کی قوت اور استحکام دو بنیادی عناصر پر منحصر ہے: ایک مضبوط، منظم اور منصوبہ بند تنظیم، اور دوسرا کارکنوں کی فکری و اخلاقی تربیت۔ دونوں عناصر ایک دوسرے کے مکمل ہیں؛ جیسا کہ مشینری اور برقی رو کا تعلق ہوتا ہے، اسی طرح تنظیم کے بغیر تربیت بے جان ہے اور تربیت کے بغیر تنظیم بے روح۔

کتاب کا آغاز پیش لفظ سے ہوتا ہے جو دراصل اس کتاب کے مقصد اور پس منظر کی وضاحت کرتا ہے۔ مولانا مودودی نے مختلف مواقع پر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کے نام جو تقریریں اور تحریریں کیں، انہیں یکجا کر کے یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب محض اصولوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تحریک کی اخلاقی تاریخ کا ریکارڈ ہے، جس میں راہِ تحریک میں پیش آنے والی کمزوریوں اور ان کے علاج کا ذکر ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ تربیت کی کمی ایسا نقصان پہنچا سکتی ہے جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا، اور اس ضمن میں عالمِ اسلام کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ب: دعوتِ اسلامی کے تین نکات

[ یہ وہ تقریر ہے، جو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جماعت اسلامی کے کل ہند اجتماع کے موقع پر کی جو ۱۹ تا ۲۱ اپریل ۱۹۴۵ء کو دارالاسلام (پٹھان کوٹ) پنجاب میں منعقد ہوا تھا۔ تقریر کا عنوان تھا ”دعوتِ اسلامی اور اس کا طریقِ کار“۔ اس تقریر کو پڑھتے ہوئے یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ جب یہ تقریر کی گئی تھی اس وقت ابھی پاکستان کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا۔ ایک غیر مسلم حکومت ملک پر مسلط تھی، مگر تقسیم ملک کے بعد جب پاکستان قائم ہوا اور پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد منظور کی تو اب ریاست کی حیثیت تبدیل ہوگئی اور جماعت اسلامی کے نزدیک اب اس ریاست کی خدمت اور حفاظت اور اس میں اسلامی قانون کا نفاذ دینی فریضہ قرار پایا اور اس میں ملازمت کی وہ پابندیاں جو پہلے شرعی طور پر عائد تھیں ختم ہو گئیں اور مکمل اسلامی قانون کے نفاذ تک عبوری مرحلے میں اس کی عدالتوں میں مقدمات لے کر جانے اور مقدمات کی پیروی کرنے کے سلسلے میں وہ ممانعت باقی نہیں رہی، جو قرارداد مقاصد سے پہلے تھی۔(مرتب)]

اگر ہم اپنی اس دعوت کو مختصر طور پر صاف اور سیدھے الفاظ میں بیان کرنا چاہیں تو یہ تین نکات (Points) پر مشتمل ہوگی:

۱- یہ کہ ہم بندگانِ خدا کو بالعموم اور جو پہلے سے مسلمان ہیں اُن کو بالخصوص اللہ کی بندگی کی دعوت دیتے ہیں۔

۲- یہ کہ جو شخص بھی اسلام قبول کرنے یا اس کو ماننے کا دعویٰ یا اظہار کرے اُس کو ہم دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی سے منافقت اور تناقض کو خارج کردے اور جب وہ مسلمان ہے، یا بنا ہے، تو مخلص مسلمان بنے اور اسلام کے رنگ میں رنگ کر یک رنگ ہو جائے۔

۳- یہ کہ زندگی کا نظام، جو آج باطل پرستوں اور فُسّاق و فُجّار کی رہ نمائی اور قیادت و فرماں روائی میں چل رہا ہے اور معاملاتِ دنیا کے نظامِ زمام کار جو خدا کے باغیوں کے ہاتھ میں آگئی ہے۔ ہم یہ دعوت دیتے ہیں کہ اسے بدلا جائے اور رہ نمائی و امامت نظری اور عملی دونوں حیثیتوں سے مومنین وصالحین کے ہاتھ میں منتقل ہو۔

#### بندگیِ رب کا حقیقی مفہوم

اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف دعوت دینے کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ خدا کو خدا اور اپنے آپ کو خدا کا بندہ تو مان لیا جائے، مگر اس کے بعد اخلاقی و عملی اور اجتماعی زندگی ویسی کی ویسی ہی رہے، جیسی خدا کو نہ ماننے اور اس کی بندگی کا اعتراف نہ کرنے کی صورت میں ہوتی ہے۔ اسی طرح خدا کی بندگی کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ خدا کو فوق الفطری طریقے پر خالق، رازق اور معبود تسلیم کر لیا جائے مگر عملی زندگی کی فرماں روائی و حکمرانی سے اس کو بے دخل کر دیا جائے۔ اسی طرح خدا کی بندگی کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ زندگی کو مذہبی اور دنیوی دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کیا جائے اور صرف مذہبی زندگی میں جس کا تعلق عقائد، عبادات اور حرام و حلال کی چند محدود قیود سے سمجھا جاتا ہے۔ خدا کی بندگی کی جائے۔ باقی رہے دنیاوی معاملات جو تمدن، معاشرت، سیاست، معیشت، علوم و فنون اور ادب وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں تو ان میں انسان خدا کی بندگی سے بالکل آزاد رہے اور جس نظام کو چاہے خود وضع کرے یا دوسروں کے وضع کیے ہوئے کو اختیار کر لے۔ بندگیِ رب کے ان سب مفہومات کو ہم سراسر غلط سمجھتے ہیں، ان کو مٹانا چاہتے ہیں اور ہماری لڑائی جتنی شدت کے ساتھ نظام کفر کے ساتھ ہے، اتنی ہی بلکہ اس سے زیادہ شدت کے ساتھ بندگی کے ان مفہومات کے خلاف ہے، کیوں کہ ان کی بدولت دین کا تصور ہی سرے سے مسخ ہو گیا ہے۔

ہمارے نزدیک قرآن اور اس سے پہلے کی تمام آسمانی کتابیں اور محمد ﷺ اور آپ سے پہلے کے تمام پیغمبر، جو دنیا کے مختلف گوشوں میں آئے۔ ان کی بالاتفاق دعوت، جس بندگیِ رب کی طرف تھی وہ یہ تھی کہ انسان خدا کو پورے معنی میں الٰہ اور رب، معبود اور حاکم، آقا اور مالک، رہ نما اور قانون ساز، محاسب اور مجازی (جزا دینے والا) تسلیم کرے اور اپنی پوری زندگی کو خواہ وہ شخصی (Private) ہو یا اجتماعی، اخلاقی ہو یا مذہبی، تمدنی و سیاسی اور معاشی ہو یا علمی اور نظری، اسی ایک خدا کی بندگی میں سپرد کر دے۔ یہی مطالبہ ہے، جو قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے کہ <<اُدْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً>> ”تم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ۔“ یعنی اپنی زندگی کے کسی پہلو اور کسی شعبے کو بندگی رب سے محفوظ (Reserve) کر کے نہ رکھو۔ اپنے تمام وجود کے ساتھ، اپنی پوری ہستی کے ساتھ خدا کی غلامی و اطاعت میں آجاؤ۔ زندگی کے کسی معاملے میں بھی تمھارا یہ طرزِ عمل نہ ہو کہ اپنے آپ کو خدا کی بندگی سے آزاد سمجھو اور اس کی رہ نمائی اور ہدایت سے مستعفی ہو کر اور اس کے مقابلے میں خود مختار بن کر یا کسی خود مختار بنے ہوئے بندے کے پیرو یا مطیع ہو کر وہ راہ چلنے لگو، جس کی ہدایت خود خدا نے نہ دی ہو۔ بندگی کا بھی وہ مفہوم ہے، جس کی ہم تبلیغ کرتے ہیں اور جسے قبول کرنے کی سب لوگوں کو مسلمانوں اور غیر مسلموں سب کو دعوت دیتے ہیں۔

#### منافقت کی حقیقت

دوسری چیز، جس کی ہم دعوت دیتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اسلام کی پیروی کا دعویٰ کرنے والے یا اسلام قبول کرنے والے سب لوگ منافقانہ رویے کو بھی چھوڑیں اور اپنی زندگی کو تناقضات (Inconsistencies) سے بھی پاک کریں۔ منافقانہ رویے سے ہماری مراد یہ ہے کہ آدمی جس دین کی پیروی کا دعویٰ کرے اس کے بالکل برخلاف نظامِ زندگی کو اپنے اوپر حاوی و مسلط پا کر راضی و مطمئن رہے۔ اس کو بدل کر اپنے دین کو اس کی جگہ قائم کرنے کی کوئی سعی نہ کرے بلکہ اس کے برعکس اسی فاسقانہ و باغیانہ نظامِ زندگی کو اپنے لیے سازگار بنانے اور اس میں اپنے لیے آرام کی جگہ پیدا کرنے کی فکر کرتا رہے یا اگر اس کو بدلنے کی کوشش بھی کرے تو اس کی غرض یہ نہ ہو کہ اس فاسقانہ نظامِ زندگی کی جگہ دینِ حق قائم ہو۔ بلکہ صرف یہ کوشش کرے کہ ایک فاسقانہ نظام ہٹا کر دوسرا فاسقانہ نظام اس کی جگہ قائم ہو جائے۔ ہمارے نزدیک یہ طرزِ عمل سراسر منافقانہ ہے اس لیے کہ ہمارا ایک نظامِ زندگی پر ایمان رکھنا اور دوسرے نظامِ زندگی میں راضی رہنا بالکل ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ مخلصانہ ایمان کا اولین تقاضا یہ ہے کہ جس طریقِ زندگی پر ہم ایمان رکھتے ہیں اسی کو ہم اپنا قانونِ حیات دیکھنا چاہیں اور ہماری روح اپنی آخری گہرائیوں تک ہر اس رکاوٹ کے پیش آجانے پر بے چین و مضطرب ہو جائے، جو اس طریقِ زندگی کے مطابق جینے میں سدِ راہ بن رہی ہو۔ ایمان تو ایسی کسی چھوٹی سے چھوٹی رکاوٹ کو بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔ کجا کہ اس کا پورے کا پورا دین کسی دوسرے نظامِ زندگی کا تابع مہمل بن کر رہ گیا ہو۔ اس دین کے کچھ اجزا پر عمل ہوتا بھی ہو، تو صرف اس وجہ سے کہ غالب نظامِ زندگی نے ان کو بے ضرر سمجھ کر رعایتاً باقی رکھا ہو اور ان رعایات (Concessions) کے ماسوا ساری زندگی کے معاملات دین کی بنیادوں سے ہٹ کر غالب نظام زندگی کی بنیادوں پر چل رہے ہوں اور پھر بھی ایمان اپنی جگہ نہ صرف خوش اور مطمئن ہو بلکہ جو کچھ بھی سوچے اسی غلبۂ کفر کو اصول موضوعہ کے طور پر تسلیم کر کے سوچے۔ اس قسم کا ایمان چاہے فقہی اعتبار سے معتبر ہو، لیکن دینی لحاظ سے تو اس میں اور نفاق میں کوئی فرق نہیں ہے اور قرآن کی متعدد آیات اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ حقیقت میں نفاق ہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ بھی اپنے آپ کو بندگیِ رب کے اس مفہوم کے مطابق جس کی ابھی میں نے تشریح کی ہے۔ خدائے واحد کی بندگی میں دینے کا اقرار کریں۔ ان کی زندگی اس نفاق سے پاک ہو۔ بندگیِ حق کے اس مفہوم کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سچے دل سے یہ چاہیں کہ جو طریقِ زندگی، قانونِ حیات، جو اصول تمدن و اخلاق و معاشرت و سیاست، جو نظام فکر و عمل اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے واسطے سے ہمیں دیا ہے۔ ہماری زندگی کا پورا پورا کاروبار اسی کی پیروی میں چلے اور ہم ایک لمحے کے لیے بھی اپنی زندگی کے کسی چھوٹے سے چھوٹے شعبے کے اندر بھی اس نظامِ حق کے خلاف کسی دوسرے نظام کے تسلّط کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ اب آپ خود سمجھ لیں کہ نظامِ باطل کے تسلّط کو برداشت کرنا بھی جب کہ تقاضائے ایمان کے خلاف ہو، تو اس پر راضی و مطمئن رہنا اور اس کے قیام و بقا کی سعی میں حصہ لینا، یا ایک نظامِ باطل کی جگہ دوسرے نظامِ باطل کو سرفراز کرنے کی کوشش کرنا ایمان کے ساتھ کیسے میل کھا سکتا ہے۔

#### تناقض کی حقیقت

اس نفاق کے بعد دوسری چیز جس کو ہم، ہر پرانے اور نئے مسلمان کی زندگی سے خارج کرنا چاہتے ہیں اور جس کے خارج کرنے کی ہر مدّعیِ ایمان کو دعوت دیتے ہیں وہ تناقض ہے۔ تناقض سے ہماری مراد یہ ہے کہ آدمی جس چیز کا زبان سے دعویٰ کرے عمل سے اس کی خلاف ورزی کرے۔ نیز یہ بھی تناقض ہے کہ آدمی کا اپنا عمل ایک معاملے میں کچھ ہو اور دوسرے معاملے میں کچھ۔ اس لیے اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اپنی پوری زندگی کو خدا کی بندگی میں دے دیا ہے تو اسے جان بوجھ کر کوئی حرکت بھی ایسی نہ کرنی چاہیے، جو بندگیِ رب کی ضد ہو اور اگر بشری کم زوری کی بنا پر ایسی کوئی حرکت اس سے سرزد ہو جائے تو اسے اپنی غلطی کا اعتراف کر کے پھر بندگی رب کی طرف پلٹنا چاہیے۔ ایمان کے مقتضیات میں سے یہ بھی ایک اہم مقتضا ہے کہ پوری زندگی صبغۃ اللہ میں رنگی ہوئی ہو، پچرنگی اور چورنگی تو درکنار دورنگی زندگی بھی دعویٰ ایمان کے ساتھ میل نہیں کھاتی۔ ہمارے نزدیک یہ بات بہروپیے پن سے کم نہیں ہے کہ ہم ایک طرف تو خدا اور آخرت اور وحی اور نبوت اور شریعت کو ماننے کا دعویٰ کریں اور دوسری طرف دنیا کی طلب میں لپکے ہوئے ان درس گاہوں کی طرف خود دوڑیں، دوسروں کو اُن کا شوق دلائیں اور آپ خود اپنے اہتمام میں ایسی درس گاہیں چلائیں، جن میں انسان کو خدا سے دور کرنے والی، آخرت کو بھلا دینے والی، مادہ پرستی میں غرق کر دینے والی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایک طرف ہم خدا کی شریعت پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کریں اور دوسری طرف ان عدالتوں کے وکیل اور جج بنیں اور انھی عدالتوں کے فیصلوں پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کریں، جو شریعتِ غیر الہی کی بنیاد پر قائم کی گئی ہوں۔ ایک طرف ہم مسجد میں جا جا کر نمازیں پڑھیں اور دوسری طرف مسجد سے باہر نکلتے ہی اپنے گھر کی زندگی میں، اپنے لین دین میں، اپنی معاش کی فراہمی میں، اپنی شادی بیاہ میں، اپنی میراثوں کی تقسیم میں، اپنی سیاسی تحریکوں میں اور اپنے سارے دنیوی معاملات میں خدا اور اس کی شریعت کو بھول کر، کہیں اپنے نفس کے قانون کی، کہیں اپنی برادری کے رواج کی، کہیں اپنی سوسائٹی کے طور طریقوں کی اور کہیں خدا سے پھرے ہوئے حکمرانوں کے قوانین کی پیروی میں کام کرنے لگیں۔ ایک طرف ہم اپنے خدا کو بار بار یقین دلائیں کہ ہم تیرے ہی بندے ہیں اور تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور دوسری طرف ہر اس بت کی پوجا کریں، جس کے ساتھ ہمارے مفاد، ہماری دل چسپیاں اور ہماری محبتیں اور آسائشیں کچھ بھی وابستگی رکھتی ہوں۔ یہ اور ایسے ہی بے شمار تناقضات، جو آج مسلمانوں کی زندگی میں پائے جاتے ہیں، جن کے موجود ہونے سے کوئی ایسا شخص جو بینائی رکھتا ہو انکار نہیں کر سکتا۔ ہمارے نزدیک وہ اصلی گھن ہیں، جو امتِ مسلمہ کی سیرت و اخلاق کو اور اس کے دین و ایمان کو اندر ہی اندر کھائے جاتے ہیں اور آج زندگی کے ہر پہلو میں مسلمانوں سے جن کم زوریوں کا اظہار ہو رہا ہے، ان کی اصل جڑ یہی تناقضات ہیں۔ ایک مدت تک مسلمانوں کو یہ اطمینان دلایا جاتا رہا ہے کہ تم شہادت توحید و رسالت زبان سے ادا کرنے اور روزہ و نماز وغیرہ چند مذہبی اعمال کو لینے کے بعد خواہ کتنے ہی غیر دینی اور غیر ایمانی طرزِ عمل اختیار کر جاؤ، بہ ہر حال نہ تمہارے اسلام پر کوئی آنچ آ سکتی ہے اور نہ تمہاری نجات کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ اس ڈھیل (Allowance) کی حدود اس حد تک بڑھیں کہ نماز روزہ بھی مسلمان ہونے کے لیے شرط نہ رہا اور مسلمانوں میں عام طور پر یہ تخیل پیدا کر دیا گیا کہ ایک طرف ایمان اور اسلام کا اقرار ہو اور دوسری طرف ساری زندگی اس کی ضد ہو، تب بھی کچھ نہیں بگڑتا: <<لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّا اَيَّامًا مَعْدُوْدَةً>> اسی چیز کا نتیجہ آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کے نام کے ساتھ ہر فسق، ہر کفر اور ہر معصیت و نافرمانی اور ہر ظلم و سرکشی کا جوڑ آسانی سے لگ جاتا ہے اور مسلمان مشکل ہی سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ جن راہوں میں وہ اپنے اوقات، اپنی محنتیں، اپنے مال، اپنی قوتیں اور قابلیتیں اور اپنی جانیں کھپا رہے ہیں اور جن مقاصد کے پیچھے ان کی انفرادی اور اجتماعی کوششیں صرف ہو رہی ہیں وہ اکثر ان کے ایمان کی ضد ہیں، جس کا وہ دعویٰ رکھتے ہیں۔ یہ صورت حال جب تک جاری رہے گی، اسلام کے دائرے میں نو مسلموں کا داخلہ بھی کوئی مفید نتیجہ پیدا نہ کر سکے گا۔ کیوں کہ جو منتشر افراد اس کان نمک میں آتے جائیں گے وہ اسی طرح نمک بنتے چلے جائیں گے۔ پس ہماری دعوت کا ایک لازمی عنصر یہ ہے کہ ہم ہر مدعیِ ایمان کی زندگی کو ان تناقضات سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہر مومن سے یہ ہے کہ وہ حنیف ہو، یکسو ہو، ایک رنگ مومن و مسلم ہو۔ ہر اس چیز سے کٹ جانے اور نہ کٹ سکتا ہو تو پیہم کٹنے کی جدّ و جہد کرتا رہے، جو ایمان کی ضد اور مسلمانہ طریق زندگی کے منافی ہو اور خوب اچھی طرح مقتضیات ایمان میں سے ایک ایک تقاضے کو سمجھے اور اسے پورا کرنے کی پیہم سعی کرتا رہے۔

#### امامت میں تغیر کی ضرورت

اب ہماری دعوت کے تیسرے نکتے کو لیجیے، ابھی جن دو نکات کی تشریح میں آپ کے سامنے کر چکا ہوں۔ یہ تیسرا نکتہ اُن سے بالکل ایک منطقی نتیجے کے طور پر نکلتا ہے۔ ہمارا اپنے آپ کو بندگیِ رب کے حوالے کر دینا اور اس کی حوالگی و سپردگی میں ہمارا منافق نہ ہونا، بلکہ مخلص ہونا اور پھر ہمارا اپنی زندگی کو تناقضات سے پاک کر کے مسلم حنیف بننے کی کوشش کرنا، لازمی طور پر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس نظامِ زندگی میں انقلاب چاہیں جو آج کفر، دہریت، شرک، فسق و فجور اور بداخلاقی کی بنیادوں پر چل رہا ہے اور جس کے نقشے بنانے والے مفکرین اور جس کا عملی انتظام کرنے والے مدبرین سب کے سب خدا سے پھرے ہوئے اور اس کی شرائع کے قیود سے نکلے ہوئے لوگ ہیں۔ جب تک زمامِ کار ان لوگوں کے ہاتھ میں رہے گی اور جب تک علوم و فنون، آرٹ اور ادب، تعلیم و تدریس، نشر و اشاعت، قانون سازی اور تنفیذِ قانون، مالیات، صنعت و حرفت، تجارت اور انتظام ملکی اور تعلقات بین الاقوامی، ہر چیز کی باگ ڈور یہ لوگ سنبھالے ہوئے رہیں گے کسی شخص کے لیے دنیا میں مسلمان کی حیثیت سے زندگی بسر کرنا اور خدا کی بندگی کو اپنا ضابطۂ حیات بنا کر رہنا نہ صرف عملاً محال ہے، بلکہ اپنی آئندہ نسلوں کو اعتقاداً بھی اسلام کا پیرو چھوڑ جانا غیر ممکن ہے۔ اس کے علاوہ صحیح معنوں میں جو شخص بندۂ رب ہو، اس پر منجملہ دوسرے فرائض کے ایک اہم ترین فرض یہ بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ خدا کی رضا کے مطابق دنیا کے انتظام کو فساد سے پاک کرے اور اصلاح پر قائم کرے اور یہ ظاہر بات ہے کہ یہ مقصد اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک کہ زمامِ کار صالحین کے ہاتھ میں نہ ہو۔ فساق و فجار اور خدا کے باغی اور شیطان کے مطیع دنیا کے امام و پیشوا اور منتظم رہیں اور پھر دنیا میں ظلم و فساد، بداخلاقی اور گم راہی کا دور دورہ نہ ہو۔ یہ عقل اور فطرت کے خلاف ہے اور آج تجربے و مشاہدے سے کالشمس فی النہار ثابت ہو چکا ہے کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔ پس ہمارا مسلم ہونا خود اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم دنیا کے ائمۂ ضلالت کی پیشوائی ختم کر دینے اور غلبہ کفر و شرک کو مٹا کر دینِ حق کو اس کی جگہ قائم کرنے کی سعی کریں۔

#### امامت میں انقلاب کیسے ہوتا ہے

مگر یہ تغیر محض چاہنے سے نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت بہ ہر حال دنیا کا انتظام چاہتی ہے اور دنیا کے انتظام کے لیے کچھ صلاحیتیں، قوتیں اور صفات درکار ہیں، جن کے بغیر کوئی گروہ اس انتظام کو ہاتھ میں لینے اور چلانے کے قابل نہیں ہو سکتا۔ اگر مومنین صالحین کا ایک منظم جتھا ایسا موجود نہ ہو، جو انتظام دنیا کو چلانے کی اہلیت رکھتا ہو، تو پھر مشیت الٰہی غیر مومن اور غیر صالح لوگوں کو اپنی دنیا کا انتظام سونپ دیتی ہے، لیکن اگر کوئی گروہ ایسا موجود ہو جائے، جو ایمان بھی رکھتا ہو، صالح بھی ہو اور ان صفات اور صلاحیتوں اور قوتوں میں کفار سے بڑھ جائے، جو دنیا کا انتظام چلانے کے لیے ضروری ہیں تو مشیت الٰہی نہ ظالم ہے اور نہ فساد پسند کہ پھر بھی اپنی دنیا کا انتظام فساق و فجار اور کفار ہی کے ہاتھ میں رہنے دے۔ پس ہماری دعوت صرف اسی حد تک نہیں ہے کہ دنیا کی زمام کار فساق و فجار کے ہاتھ سے نکل کر مومنین صالحین کے ہاتھ میں آئے بلکہ ایجاباً (Positively) ہماری دعوت یہ ہے کہ اہل ایمان و صلاح کا ایک ایسا گروہ منظم کیا جائے، جو نہ صرف اپنے ایمان میں پختہ، نہ صرف اپنے اسلام میں مخلص و یک رنگ اور نہ صرف اپنے اخلاق میں صالح و پاکیزہ ہو بلکہ اس کے ساتھ ان تمام اوصاف اور قابلیتوں سے بھی آراستہ ہو، جو دنیا کی کارگاہ حیات کو بہترین طریقے پر چلانے کے لیے ضروری ہیں اور صرف آراستہ ہی نہ ہو بلکہ موجودہ کارفرماؤں اور کارکنوں سے ان اوصاف اور قابلیتوں میں اپنے آپ کو فائق تر ثابت کر دے۔