مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اور کارکن

اشاعت: 1979ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اسلامی تحریک کی کامیابی صرف نظریاتی وضاحت یا سیاسی حکمت عملی تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ اس کی بنیادی شرط وہ افراد ہیں جو اس تحریک کے علمبردار ہوں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’تحریک اور کارکن‘‘ اسی حقیقت کی تفصیلی تشریح پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی بھی اسلامی تحریک کی قوت اور استحکام دو بنیادی عناصر پر منحصر ہے: ایک مضبوط، منظم اور منصوبہ بند تنظیم، اور دوسرا کارکنوں کی فکری و اخلاقی تربیت۔ دونوں عناصر ایک دوسرے کے مکمل ہیں؛ جیسا کہ مشینری اور برقی رو کا تعلق ہوتا ہے، اسی طرح تنظیم کے بغیر تربیت بے جان ہے اور تربیت کے بغیر تنظیم بے روح۔

کتاب کا آغاز پیش لفظ سے ہوتا ہے جو دراصل اس کتاب کے مقصد اور پس منظر کی وضاحت کرتا ہے۔ مولانا مودودی نے مختلف مواقع پر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کے نام جو تقریریں اور تحریریں کیں، انہیں یکجا کر کے یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب محض اصولوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تحریک کی اخلاقی تاریخ کا ریکارڈ ہے، جس میں راہِ تحریک میں پیش آنے والی کمزوریوں اور ان کے علاج کا ذکر ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ تربیت کی کمی ایسا نقصان پہنچا سکتی ہے جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا، اور اس ضمن میں عالمِ اسلام کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

د: وہ عیوب جو ہر بھلائی کی بیخ کنی کر دیتے ہیں

#### کبر و غرور

اولین اور بدترین عیب، جو ہر بھلائی کی جڑ کاٹ دیتا ہے کبر و فخر، غرور، خود پسندی اور تعلّی ہے۔ یہ ایک سراسر شیطانی جذبہ ہے، جو شیطانی کاموں کے لیے ہی موزوں ہو سکتا ہے۔ خیر کا کوئی کام اس کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ بڑائی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ بندوں میں بڑائی کا گھمنڈ ایک جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ جو شخص یا گروہ اس جھوٹے پندار میں مبتلا ہو وہ اللہ تعالیٰ کی ہر تائید سے محروم ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ اللہ کو سب سے بڑھ کر یہی چیز اپنی مخلوق میں ناپسند ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس مرض کے مریض کو کبھی راہ راست کی طرف ہدایت نہیں ملتی۔ وہ پے در پے جہالتوں اور حماقتوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہاں تک کہ آخر کار ناکامی کا منہ دیکھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ خلق خدا کے ساتھ برتاؤ میں اس سے تکبّر کا جتنا جتنا اظہار ہوتا جاتا ہے اتنی ہی اس کے خلاف نفرت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ مبغوض خلائق ہو کر وہ اس قابل ہی نہیں رہتا کہ اس کا کوئی اخلاقی اثر لوگوں میں قائم ہو سکے۔

خیر کے لیے کام کرنے والوں میں یہ بیماری کئی راہوں سے آتی ہے۔ کم ظرف لوگوں میں یہ اس راہ سے آتی ہے کہ جب ان کی دینی و اخلاقی حالت گرد و پیش کے معاشرے کی بہ نسبت کسی حد تک بہتر ہو جاتی ہے اور کچھ قابلِ خدمات بھی وہ بجا لاتے ہیں، جن کا اعتراف دوسروں کی زبانوں سے ہونے لگتا ہے تو شیطان ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے کہ اب تم واقعی بڑی چیز ہو گئے ہو اور شیطان ہی کی اکساہٹ سے وہ اپنی زبان اور اپنے طرزِ عمل سے جتانے پر اتر آتے ہیں۔ اس طرح وہ کام جس کا آغاز نیکی کے جذبے سے ہوا تھا۔ رفتہ رفتہ ایک نہایت ہی غلط راہ پر چل پڑتا ہے۔ دوسرا راستہ اس کے آنے کا یہ ہے کہ جو لوگ نیک نیتی کے ساتھ ایک طرف اپنی اور دوسری طرف خلقِ خدا کی اصلاح کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ ان کے اندر لا محالہ کچھ بھلائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اور یہ کسی نہ کسی حد تک اپنے معاشرے کی عام حالت سے ممتاز ہوتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ ان کی خدمات قابلِ قدر ہوتی ہیں اور یہ ایسے امور ہیں، جو بہ ہر حال محسوس ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ یہ امرِ واقعہ کا احساس بہ جائے خود فطری اور ناگزیر ہے۔ مگر نفس کی ایک ذرا سی اُکساہٹ اسے تکبر اور خود پسندی میں تبدیل کر دیتی ہے۔ پھر بسا اوقات ایسی صورتیں پیش آتی ہیں کہ جب ان کے مخالفین ان کے کام اور کام سے گزر کر ان کی ذات میں کیڑے ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو اپنی مدافعت میں چند باتیں کہنی پڑتی ہیں، جو چاہے بیانِ واقعی ہوں مگر اپنے محاسن کے اظہار سے خالی نہیں ہوتیں۔ اس چیز کو ایک ذرا سی بے اعتدالی جائز حد سے بڑھا کر تفاخر کے حدود میں پہنچا دیتی ہے۔ یہ ایک خطرناک چیز ہے۔

#### احساس بندگی

جس سے ہر فرد اور جماعت کو خبردار رہنا چاہیے جو خلوص کے ساتھ اصلاح کا مقصد لے کر اُٹھے۔ بلکہ ایسے ہر شخص میں فرداً فرداً اور ایسی ہر جماعت میں مجتمعاً عبدیت کا احساس نہ صرف موجود بلکہ زندہ اور تازہ رہنا چاہیے کہ کبریائی صرف خدا کی ذات کے لیے مخصوص ہے۔ بندے کا مقام عجز و نیاز کے سوا اور کچھ نہیں۔ کسی بندے میں اگر فی الواقع کوئی بھلائی پیدا ہو تو یہ اللہ کا فضل ہے۔ فخر کا نہیں، شکر کا مقام ہے اس پر اللہ کے حضور اور زیادہ عاجزی پیش کرنی چاہیے اور اس تھوڑی سی پونجی کو خیر کی خدمت میں لگا دینا چاہیے تا کہ اللہ مزید فضل سے نوازے اور یہ پونجی ترقی کرے۔ بھلائی پا کر غرورِ نفس میں مبتلا ہونا تو دراصل اسے برائی سے بدل لینا چاہیے اور یہ ترقی کا نہیں بلکہ تنزل کا راستہ ہے۔

بندگی و عاجزی کے احساس کے بعد دوسری چیز، جو انسان کو تکبر کے رجحانات سے بچا سکتی ہے وہ محاسبۂ نفس ہے۔ جو شخص اپنا ٹھیک ٹھیک حساب لگائے اور اپنی خوبیوں کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھے کہ وہ کن کم زوریوں اور خامیوں اور کوتاہیوں میں مبتلا ہے، وہ کبھی خود پسندی اور خود پرستی کے مرض کا شکار نہیں ہو سکتا۔ اپنے گناہوں اور قصوروں پر کسی کی نگاہ ہو تو استغفار سے اس کو اتنی فرصت ہی نہ ملے کہ استکبار کی ہوا اس کے سر میں سما سکے۔

اس غلط رجحان کو روکنے والی ایک اور چیز یہ ہے کہ آدمی صرف ان پستیوں کی طرف نہ دیکھے، جن سے وہ اپنے آپ کو بلند پاتا ہے۔ بلکہ دین و اخلاق کی ان بلندیوں کو بھی دیکھے، جن کے مقابلے میں وہ ابھی بہت پست ہے۔ اخلاق و روحانیت کی پستیاں بھی لامتناہی ہیں اور بلندیاں بھی لامتناہی۔ برے سے برا آدمی بھی نیچے کی طرف دیکھے تو کسی اور کو اپنے سے بدتر پا کر اپنی برتری پر فخر کر سکتا ہے مگر اس فخر کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی موجودہ حالت پر مطمئن ہو کر بہتر بننے کی کوشش چھوڑ دیتا ہے بلکہ اس سے گزر کر نفس کی شیطینت اسے یہ اطمینان بھی دلاتی ہے کہ کچھ اور زیادہ نیچے اتر جانے کی بھی ابھی گنجائش ہے۔ یہ نقطۂ نظر صرف وہی لوگ اختیار کر سکتے ہیں، جو اپنی ترقی کے دشمن ہوں۔ ترقی کی سچی طلب رکھنے والے ہمیشہ نیچے دیکھنے کی بہ جائے اوپر دیکھتے ہیں۔ ہر بلندی پر پہنچ کر مزید بلندیاں ان کے سامنے آتی ہیں، جنھیں دیکھ کر فخر کے بہ جائے اپنی پستی کا احساس ان کے دل میں خلش پیدا کرتا ہے اور یہی خلش انھیں اور زیادہ اوپر چڑھنے پر آمادہ کرتی ہے۔

ان سب چیزوں کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جماعت ہر وقت اس معاملے میں چوکنی رہے۔ اور اپنے دائرے میں کبر اور تعلی اور فخر و غرور کے ہر ظہور کا نوٹس لے کر بروقت اس کا تدارک کرے۔ مگر تدارک کی یہ کوشش کبھی ایسے طریقوں سے نہ ہونی چاہیے کہ لوگوں میں بناوٹی انکسار اور نمائشی تواضع کی بیماری پیدا ہو جائے۔ کبر کی اس سے بدتر کوئی قسم نہیں، جس پر تصنع کے ساتھ عجز و انکسار کا پردہ ڈالا گیا ہو۔

#### نمود و نمائش

دوسرا بڑا عیب، جو خیر کی جڑوں کو کھا جانے میں کبر سے کسی طرح کم نہیں، یہ ہے کہ کوئی شخص بھلائی کا کام نمود و نمائش کے لیے کرے اور اس کام میں اسے خلق کی تحسین حاصل کرنے کی فکر یا اس کی پروا ہو۔ یہ چیز صرف خلوص ہی کی نہیں حقیقت میں ایمان کی بھی ضد ہے۔ اور اسی بنا پر اسے چھپا ہوا شرک قرار دیا گیا ہے۔ خدا اور آخرت پر ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان صرف خدا کی رضا کے لیے کام کرے۔ اسی سے اجر کی آس لگائے اور دنیا کے بہ جائے آخرت کے نتائج پر نگاہ رکھے، لیکن ریا کار انسان خلق کی رضا کو مقصود بناتا ہے۔ خلق ہی کے اجر کا طالب ہوتا ہے اور دنیا ہی میں اپنا اجر نام و نمود، شہرت، ہر دل عزیزی، نفوذ و اثر اور حشمت و جاہ کی شکل میں پالینا چاہتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے خلقِ خدا کو شریک بنایا، یا اس کو مدِ مقابل بنایا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں آدمی خدا کے دین کی خواہ کتنی اور کیسی ہی خدمت کرے۔ بہ ہر حال وہ نہ خدا کے لیے ہوگی، نہ اس کے دین کی خاطر ہوگی اور نہ اس کا شمار خدا کے ہاں نیکوں میں ہوگا۔

صرف یہی نہیں کہ یہ ناپاک جذبہ نتیجے کے اعتبار سے عمل کو ضائع کر دیتا ہے، بلکہ در حقیقت اس کے ساتھ کوئی صحیح عمل کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اس جذبے کی فطری خاصیت یہ ہے کہ آدمی کو اس کام سے زیادہ کام کے اشتہار کی فکر ہوتی ہے اور اسی کو وہ کام سمجھتا ہے، جس کا ڈھنڈورہ دنیا میں پٹے اور تحسین و آفرین کا خراج وصول کر کے لائے۔ خاموش کام جس کا خدا کے سوا کسی کو پتہ نہ ہو، اس کے نزدیک کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس طرح آدمی کے عمل کا دائرہ صرف قابل اشتہار اعمال تک محدود ہو جاتا ہے اور اشتہار کا مقصود حاصل ہو جانے کے بعد خود ان کے اعمال کے ساتھ بھی اسے کوئی دل چسپی باقی نہیں رہتی۔ آغاز کار میں خواہ کتنے ہی خلوص کے ساتھ عملی زندگی کی ابتدا کی گئی ہو یہ بیماری لگتے ہی خلوص اس طرح غائب ہونا شروع ہو جاتا ہے، جیسے دق کی بیماری آدمی کی قوت حیات کو کھاتی چلی جاتی ہے۔ پھر اس کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ منظر عام سے ہٹ کر بھی نیک رہے اور اپنا فرض سمجھ کر بھی کوئی فرض بجالائے۔ وہ ہر چیز کو اس کی نمائشی قدر اور تحسین خلق کی قیمت کے لحاظ سے جانچتا ہے۔ ہر معاملے میں صرف یہ دیکھتا ہے کہ دنیا کس روش کو پسند کرتی ہے اور کسی ایسے کام کا تصور کرنا بھی اس کے لیے ناممکن ہوتا ہے، جو دنیا میں اسے غیر مقبول بنا دے۔ خواہ ایمان داری کے ساتھ اس کے ضمیر کی آواز یہی ہو کہ وہ ہے کرنے کا کام۔ گوشوں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے والوں کے لیے اس فتنے سے بچنا نسبتاً بہت آسان ہے۔ مگر جو لوگ پبلک میں آکر اصلاح اور خدمت اور تعمیر کے کام کریں، وہ ہر وقت اس خطرے میں مبتلا رہتے ہیں کہ نہ معلوم کب اس اخلاقی دق کے جراثیم ان کے اندر نفوذ کر جائیں۔ انھیں بہ ہر حال بہت سے وہ کام کرنے ہوتے ہیں، جو منظر عام پر آتے ہیں، انھیں عوام الناس کو اپنا ہم نوا بنانے اور ان کے اندر نفوذ حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے۔ ان کے کام کی بہت سی ضروریات اس بات پر بھی مجبور کرتی ہیں کہ وہ اپنے کاموں کی رودادیں شائع کریں۔ ان کی کچھ نہ کچھ خدمات ایسی بھی ہوتی ہیں، جو ان کی طرف خلق کا رجوع بڑھاتی اور زبانوں سے ان کے لیے تحسین کے کلمات نکلواتی ہیں۔ انھیں مخالفتوں سے بھی سابقہ پیش آتا ہے اور اپنی مخالفت میں بادل ناخواستہ ہی سہی، انھیں مجبوراً اپنے اچھے پہلوؤں کو نمایاں کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کہ شہرت ہو، مگر شہرت کی چاٹ نہ لگے۔ نمود و نمائش ہو مگر نمود و نمائش کی خاطر کام کرنے کی بیماری نہ لگے۔ مقبولیت ہو مگر وہ مقصود نہ بننے پائے، تحسینِ خلق ہو مگر اس کے حصول کی فکر یا اس کی پروا نہ ہو، ریا کی پیدائش کے اسباب چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہوں مگر ریا سے دامن بچا رہے۔ اس کے لیے بڑی کاوش بڑی توجہ اور بڑی محنت کی ضرورت ہے۔ ایک ذرا سا تساہل بھی اس معاملے میں ریاکاری کے جراثیم کو گھس آنے کا راستہ دے سکتا ہے۔

اس سے بچنے کے لیے انفرادی کوشش بھی ہونی چاہیے اور اجتماعی کوشش بھی۔ انفرادی کوشش کا طریقہ یہ ہے کہ ہر شخص کچھ نہ کچھ ایسے نیک اعمال کا التزام کرے، جو زیادہ سے زیادہ اخفا کے ساتھ ہوں اور ہمیشہ اپنے نفس کا جائزہ لے کر دیکھتا رہے کہ اسے زیادہ دل چسپی ان مخفی نیکیوں میں محسوس ہوتی ہے یا ان نیکیوں میں جو منظرِ عام پر آنے والی ہوں۔ اگر دوسری صورت ہو تو آدمی کو فوراً خبردار ہو جانا چاہیے کہ ریا اس کے اندر نفوذ کر رہا ہے اور اللہ سے پناہ مانگتے ہوئے پوری قوتِ ارادی کے ساتھ نفس کی اس کیفیت کو فوری بدلنے کی سعی کرنی چاہیے۔

اجتماعی کوشش کی صورت یہ ہے کہ جماعت اپنے دائرے میں ریاکارانہ رجحانات کو کبھی نہ پنپنے دے۔ اپنے کاموں میں اظہار و اعلان کو بس حقیقی ضرورت تک محدود رکھے۔ شوقِ نمائش کا ادنیٰ سا اثر بھی جہاں محسوس ہو فوراً اس کا سدِ باب کرے، جماعتی مشوروں میں یہ بات کبھی اشارۃً و کنایۃً بھی برداشت نہ کی جائے کہ فلاں کام اس لیے کرنا چاہیے کہ وہ مقبولیت کا ذریعہ ہے اور فلاں کام اس لیے نہ کرنا چاہیے کہ لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔ جماعت کا داخلی ماحول ایسا ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کی تعریف اور مذمت ہر دو سے بے نیاز ہو کر کام کرنے کی ذہنیت پیدا کرے۔ اور اس کی ذہنیت کی پرورش نہ کرے، جو مذمت سے دل شکستہ ہو اور تعریف سے غذا پائے۔ اس کے باوجود اگر کچھ افراد جماعت میں ایسے پائے جائیں، جن میں ریا کی بو محسوس ہو تو ان کی ہمت افزائی کرنے کے بہ جائے ان کے علاج کی فکر کرنی چاہیے۔

#### نیت کا کھوٹ

تیسرا بنیادی عیب نیت کا کھوٹ ہے، جس پر کسی خیر کی عمارت قائم نہیں ہو سکتی۔ خیر کا کام صرف اس خالص نیت ہی سے ہو سکتا ہے کہ دنیا میں بھلائی پھیلے اور ہم اس کے لیے سعی کر کے اللہ کے ہاں سُرخ رو ہوں۔ اس نیت کے ساتھ اپنی کوئی ذاتی یا گروہی غرض شامل نہ ہونی چاہیے۔ اپنا کوئی دنیوی مفاد پیشِ نظر نہ ہونا چاہیے حتیٰ کہ کسی تاویل کے ساتھ بھی اس مقصدِ خیر کے ساتھ اپنے اپنے کسی منفعت کی طلب یا امید کی لاگ لگی نہ رہنی چاہیے۔ ایسا ہر لوث نہ صرف یہ کہ اللہ کے ہاں آدمی کے اجر کو ضائع کر دے گا بلکہ دنیا میں بھی اس آلودگی کو لیے ہوئے کوئی صحیح کام نہ ہو سکے گا۔ نیت کی خرابی لامحالہ کردار پر اثر انداز ہو گی اور کردار کی خرابی کے ساتھ اس جدوجہد میں کام یاب ہونا ممکن نہیں ہے، جس کا اصل مقصود برائی کو مٹا کر بھلائی کو قائم کرنا ہے۔ یہاں پھر وہی مشکل پیش آتی ہے، جس کی طرف ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں۔ جزوی بھلائیوں کے لیے کام کرنے کی صورت میں نیت کو اس کھوٹ سے پاک رکھنا کچھ زیادہ دشوار نہیں ہے۔ تھوڑا سا تعلق باللہ اور جذبۂ صادق بھی اس کے لیے کافی ہو سکتا ہے مگر جن لوگوں کے پیش نظر یہ ہو کہ ایک پورے ملک کے نظام زندگی کی اصلاح کی جائے اور اسے بہ حیثیت مجموعی ان بنیادوں پر استوار کیا جائے، جو اسلام نے ہمیں دی ہیں وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے صرف تعمیر افکار یا صرف تبلیغ و تلقین، یا صرف اصلاح اخلاق کی کوششوں پر اکتفا نہیں کر سکتے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انھیں لامحالہ ملک کے سیاسی نظام کا رُخ بھی اپنے مقصد کی طرف موڑنے کے لیے بالواسطہ یا بلاواسطہ جدوجہد کرنی پڑتی ہے تاکہ اقتدار یا تو بہ راہِ راست ان کے ہاتھ میں آئے یا کسی ایسے گروہ کی طرف منتقل ہو، جسے ان کی تائید اور پشت پناہی حاصل ہو۔ دونوں صورتوں میں سے خواہ کوئی بھی صورت ہو۔ اقتدار کا تصور سیاسی نظام کی تبدیلی سے منفک نہیں ہو سکتا۔ اب تو قعر دریا میں رہ کر دامن تر نہ ہونے دینے کا معاملہ ہے کہ ایک جماعت یہ کام کرے اور پورے انہماک کے ساتھ کرے اور پھر بھی اس کے افراد کی انفرادی نیتوں اور پوری جماعت کی مجموعی نیت کو، اپنے لیے اقتدار کی طلب کا لوث نہ لگنے پائے۔ یہ چیز بڑا مجاہدۂ نفس اور بڑا تزکیۂ قلب و روح چاہتی ہے۔

اس معاملے میں صحیح نقطۂ نظر پیدا کرنے کے لیے دو بہ ظاہر متماثل چیزوں کا جوہری فرق اچھی طرح ذہن نشین ہونا چاہیے۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ مجموعی نظامِ زندگی کی تبدیلی چاہنے والا دوسری تبدیلیوں کے ساتھ سیاسی نظام کی تبدیلی آپ سے آپ اس امر کی مقتضی ہے کہ اقتدار ان لوگوں کی طرف یا ان کی پسند کے لوگوں کی طرف منتقل ہو، جو اس تبدیلی کے خواہش مند ہوں۔ مگر فرق اور بہت بڑا فرق ہے ’’اپنے لیے‘‘ اقتدار چاہنے اور اپنے اصول اور نصب العین کے لیے اقتدار چاہنے میں۔ اصول کا اقتدار چاہے عملاً اصول کے علم برداروں ہی کا اقتدار ہو۔ پھر بھی ”اصول کا اقتدار“ چاہنا اور اس کے علم برداروں کا ”اپنے لیے اقتدار“ چاہنا۔ حقیقتاً دو الگ الگ چیزیں ہیں، جن میں رُوح اور جوہر کا بہت بڑا فرق ہے۔ نیت کا کھوٹ، دوسری چیز میں ہے، نہ کہ پہلی چیز میں اور مجاہدۂ نفس جس چیز پر مرکوز ہونا چاہیے، وہ یہ ہے کہ پہلی چیز کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دینے پر بھی دوسری چیز کا ذہن میں شائبہ تک نہ آنے پائے۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کا نمونہ ہمارے سامنے ہے۔ انھوں نے مجموعی نظام زندگی کو بدل کر اسلام کے اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کی۔ یہ چیز سیاسی غلبہ و اقتدار کی بھی متقاضی تھی کیوں کہ دین کو پوری طرح غالب کر دینا اس کے بغیر ممکن نہ تھا اور عملاً اس جدوجہد کے نتیجے میں اقتدار ان کے ہاتھ میں آیا بھی لیکن اس کے باوجود کوئی ایمان دار آدمی یہ شبہ تک نہیں کرسکتا کہ ان کی جدوجہد کا مقصود ”اپنا اقتدار“ تھا۔ دوسری طرف اپنے اقتدار کے طالبوں سے تاریخ بھری پڑی ہے اور تاریخ میں ان کو ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے وہ دنیا میں موجود ہیں۔ عملاً اقتدار پانے کو اگر ایک واقعہ کی حیثیت سے لیا جائے تو دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں لیکن نیت کے لحاظ سے دونوں میں عظیم الشان فرق ہے۔ اس فرق پر دونوں کا کردار، جدوجہد کے دور کا کردار بھی اور کام یابی کے دور کا کردار بھی ناقابلِ انکار شہادت دے رہا ہے۔ جو لوگ صدقِ دل سے اصولِ اسلام کے مطابق زندگی کا ہمہ گیر اقتدار چاہتے ہوں انھیں فرداً فرداً بھی اس فرق کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر اپنی نیت درست رکھنی چاہیے اور ان کی جماعت کو مجموعی طور پر اس امر کی کوشش کرنی چاہیے کہ ”اپنا اقتدار چاہنے“ کی نیت کسی شکل میں بھی اس کے دائرے میں جگہ نہ پاسکے۔