مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اور کارکن

اشاعت: 1979ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اسلامی تحریک کی کامیابی صرف نظریاتی وضاحت یا سیاسی حکمت عملی تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ اس کی بنیادی شرط وہ افراد ہیں جو اس تحریک کے علمبردار ہوں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’تحریک اور کارکن‘‘ اسی حقیقت کی تفصیلی تشریح پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی بھی اسلامی تحریک کی قوت اور استحکام دو بنیادی عناصر پر منحصر ہے: ایک مضبوط، منظم اور منصوبہ بند تنظیم، اور دوسرا کارکنوں کی فکری و اخلاقی تربیت۔ دونوں عناصر ایک دوسرے کے مکمل ہیں؛ جیسا کہ مشینری اور برقی رو کا تعلق ہوتا ہے، اسی طرح تنظیم کے بغیر تربیت بے جان ہے اور تربیت کے بغیر تنظیم بے روح۔

کتاب کا آغاز پیش لفظ سے ہوتا ہے جو دراصل اس کتاب کے مقصد اور پس منظر کی وضاحت کرتا ہے۔ مولانا مودودی نے مختلف مواقع پر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کے نام جو تقریریں اور تحریریں کیں، انہیں یکجا کر کے یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب محض اصولوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تحریک کی اخلاقی تاریخ کا ریکارڈ ہے، جس میں راہِ تحریک میں پیش آنے والی کمزوریوں اور ان کے علاج کا ذکر ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ تربیت کی کمی ایسا نقصان پہنچا سکتی ہے جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا، اور اس ضمن میں عالمِ اسلام کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

د: راہ حق کے لیے ضروری توشہ

[مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے یہ تقریر ”ہدایات“ کے عنوان سے ۱۳/نومبر ۱۹۵۱ء کو جماعت کے اجتماع عام منعقدہ کراچی کے آخری اجلاس میں فرمائی۔(مرتب)]رفقائے عزیز! چار دن کے اجتماع کے بعد اب ہم لوگ ایک دوسرے سے الگ ہو رہے ہیں۔ جتنا کام اس اجتماع میں کرنا تھا ہم کر چکے ہیں اور ایک حد تک ہم اس کا جائزہ بھی اپنے اجتماع خاص میں لے چکے ہیں۔ اب رخصت ہونے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ اپنے رفقاء سے خطاب کر کے انھیں وہ ضروری ہدایات دے دوں، جو آئندہ اس کام کو صحیح طریقے پر چلانے کے لیے مطلوب ہیں۔

#### تعلق باللہ

اولین چیز جس کی ہدایت ہمیشہ سے انبیاء اور خلفائے راشدین اور صلحائے امت ہر موقعے پر اپنے ساتھیوں کو دیتے رہے ہیں، وہ اللہ سے ڈرنے اور اس کی محبت دل میں بٹھانے اور اس کے ساتھ تعلق بڑھانے کی ہدایت ہے، میں نے بھی اسی کے اتباع میں اپنے رفقاء کو سب سے پہلے یہی نصیحت کی ہے۔ اور آئندہ بھی جب کبھی موقع ملے گا اسی کی نصیحت کرتا رہوں گا کیوں کہ یہ وہ چیز ہے، جس کو ہر دوسری چیز پر مقدم ہی ہونا چاہیے۔ عقیدے میں اللہ پر ایمان مقدم ہے۔ عبادت میں اللہ سے دل کا لگاؤ مقدم ہے۔ اخلاق میں اللہ کی خشیت مقدم ہے۔ معاملات میں اللہ کی رضا کی طلب مقدم ہے اور فی الجملہ ہماری ساری زندگی ہی کی درستی کا انحصار اس پر ہے کہ ہماری دَوڑ دھوپ اور سعی و جہد میں رضائے الٰہی کی مقصودیت ہر دوسری غرض پر مقدم ہو۔ پھر خصوصیت کے ساتھ یہ کام جس کے لیے ہم ایک جماعت کی صورت میں اٹھے ہیں، یہ تو سراسر تعلق باللہ ہی کے بل پر چل سکتا ہے۔ یہ اتنا ہی مضبوط ہوگا، جتنا اللہ کے ساتھ ہمارا تعلق مضبوط ہوگا، اور یہ اتنا ہی کم زور ہوگا جتنا خدانخواستہ اللہ کے ساتھ ہمارا تعلق کم زور ہوگا۔

ظاہر بات ہے کہ آدمی جو کام بھی کرنے اٹھتا ہے، خواہ وہ دنیا کا کام ہو یا دین کا، اس کی اصل محرک وہ غرض ہوتی ہے، جس کی خاطر وہ کام کرنے اٹھتا ہے اور اس میں سرگرمی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ اس غرض کے ساتھ آدمی کی دل چسپی میں گہرائی اور گرم جوشی ہو۔ نفس کے لیے کام کرنے والا خود غرضی کے بغیر نفس پرستی نہیں کرسکتا اور نفس کی محبت میں جتنی شدت ہوتی ہے اتنی ہی سرگرمی کے ساتھ وہ اس کی خدمت بجالاتا ہے۔ اولاد کے لیے کام کرنے والا اولاد کی محبت میں دیوانہ ہوتا ہے۔ تب ہی وہ اپنے عیش و آرام کو اولاد کی بھلائی پر قربان کرتا ہے، اور اپنی دنیا ہی نہیں، اپنی عاقبت تک اس غرض کے لیے خطرے میں ڈال دیتا ہے کہ اس کے بچے زیادہ سے زیادہ خوش حال ہوں۔ قوم یا وطن کے لیے کام کرنے والا قوم و ملک کے عشق میں گرفتار ہوتا ہے۔ تب ہی وہ قوم و ملک کی آزادی، حفاظت اور برتری کی فکر میں مالی نقصانات اٹھاتا ہے، قید و بند کی سختیاں جھیلتا ہے، شب و روز کی محنتیں صرف کرتا ہے، اور جان تک قربان کر دیتا ہے اب اگر ہم یہ کام نہ اپنے نفس کے لیے کر رہے ہیں نہ کوئی خاندانی غرض اس کی محرک ہے، نہ کوئی ملکی و قومی مفاد اس میں ہمارے پیش نظر ہے، بلکہ صرف ایک اللہ کو راضی کرنا ہمیں مطلوب ہے اور اسی کا کام سمجھ کر ہم نے اسے اختیار کیا ہے تو آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ جب تک اللہ ہی سے ہمارا تعلق گہرا اور مضبوط نہ ہو، یہ کام کبھی نہیں چل سکتا، اور اس میں سرگرمی آسکتی ہے تو اسی وقت جب کہ ہماری ساری رغبتیں اعلائے کلمۃ اللہ کی سعی میں مرکوز ہو جائیں۔ اس کام میں جو لوگ شریک ہوں ان کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہے کہ ان کا تعلق اللہ سے بھی ہو، بلکہ ان کا تعلق اللہ سے ہی ہونا چاہیے۔ اسے تعلقات میں سے ایک تعلق نہیں بلکہ ایک ہی اصلی اور حقیقی تعلق ہونا چاہیے۔ اور انھیں ہر وقت یہ فکر دامن گیر رہنی چاہیے کہ اللہ سے ان کا تعلق گھٹنے نہیں بلکہ روز بہ روز زیادہ بڑھتا اور گہرا ہوتا چلا جائے۔

اس معاملے میں ہمارے درمیان دو رائیں نہیں ہیں کہ تعلق باللہ ہی ہمارے اس کام کی جان ہے۔ جماعت کا کوئی رفیق الحمد للہ اس کی اہمیت کے احساس سے غافل نہیں ہے۔ البتہ جو سوالات اکثر لوگوں کو پریشان رکھتے ہیں وہ یہ ہیں کہ تعلق باللہ سے ٹھیک مراد کیا ہے؟ اس کو پیدا کرنے اور بڑھانے کا طریقہ کیا ہے؟ اور آخر ہم کس طرح یہ معلوم کریں کہ ہمارا تعلق واقعی اللہ سے ہے یا نہیں اور ہے تو کتنا ہے؟ ان سوالات کا کوئی واضح جواب معلوم نہ ہونے کی وجہ سے میں نے اکثر یہ محسوس کیا ہے کہ لوگ گویا اپنے آپ کو ایک بے نشان صحرا میں پا رہے ہیں جہاں کچھ پتہ نہیں چلتا کہ ان کی منزل مقصود ٹھیک کس سمت میں ہے، اور کوئی اندازہ نہیں ہوتا کہ انھوں نے کتنا راستہ طے کیا اور اب کس مرحلے میں ہیں اور آگے کتنے مراحل باقی ہیں۔ اسی وجہ سے بسا اوقات ہمارا کوئی رفیق مہم تصورات میں گم ہونے لگتا ہے، کوئی ایسے طریقوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے، جو موصل الی المقصود نہیں ہیں، کسی کے لیے مقصود سے قریب کا تعلق اور دُور کا تعلق رکھنے والی چیزوں میں امتیاز کرنا مشکل ہو رہا ہے اور کسی پر حیرت کا عالم طاری ہے۔ اس لیے آج میں صرف تعلق باللہ کی نصیحت ہی پر اکتفانہ کروں گا بلکہ اپنے علم کی حد تک ان سوالات کا بھی ایک واضح جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

#### تعلق باللہ کے معنی

تعلق باللہ سے مراد، جیسا کہ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے یہ ہے کہ آدمی کا جینا اور مرنا اور اس کی عبادتیں اور قربانیاں سب کی سب اللہ کے لیے ہوں:

<<اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ>>(الانعام: ۱۶۲)

”میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔“

اور وہ پوری طرح یکسو ہوکر، اپنے دل کو بالکل اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی بندگی کرے۔

<<وَمَآ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ۙ حُنَفَآءَ>>(البیّنہ: ۵)

”ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں، اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرکے، بالکل یک سو ہوکر۔“

نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر اپنے ارشادات میں اس تعلق کی ایسی تشریح فرمادی ہے کہ اس کے مفہوم و مدعا میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا ہے۔ حضورؐ کے بیانات کا تتبع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلق باللہ کے معنی ہیں: <<خَشْیَةُ اللّٰهِ فِی السِّرِّ وَالْعَلَانِیَةِ>> ”کھلے اور چھپے ہر کام میں اللہ کا خوف محسوس کرنا۔“ اور یہ کہ <<اَنْ تَكُوْنَ بِمَا فِیْ یَدَیِ اللّٰهِ اَوْثَقَ بِمَا فِیْ یَدَیْکَ۔>> ”اپنے ذرائع و وسائل کی بہ نسبت تیرا بھروسہ اللہ کی قدرت پر زیادہ ہو، اور یہ کہ <<مَنِ الْتَمَسَ رِضَی اللّٰهِ بِسَخَطِ النَّاسِ۔>> ”آدمی اللہ کو راضی کرنے کے لیے لوگوں کو ناراض کر لے۔“ اور اس کے بالکل برعکس بات یہ ہے کہ آدمی لوگوں کو راضی کرنے کے لیے اللہ کی ناراضگی مول لے: <<مَنِ الْتَمَسَ رِضَی النَّاسِ بِسَخَطِ اللّٰهِ۔>> پھر جب یہ تعلق بڑھتے بڑھتے اس حد کو پہنچ جائے کہ آدمی کی محبت اور دشمنی اور اس کا دینا اور روکنا جو کچھ بھی ہو اللہ کے لیے اور اللہ ہی کی خاطر ہو، اور نفسانی رغبت و نفرت کی لاگ اس کے ساتھ نہ لگی رہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے تعلق باللہ کی تکمیل کر لی ہے:

<<مَنْ اَحَبَّ لِلّٰهِ وَ اَبْغَضَ لِلّٰهِ وَ اَعْطٰی لِلّٰهِ وَ مَنَعَ لِلّٰهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْاِیْمَانَ۔>>(ابوداؤد)

پھر یہ جو آپ ہر روز رات کو اپنی دعائے قنوت میں پڑھتے ہیں۔ اس کا لفظ لفظ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے، جو تعلق آپ کا اللہ کے ساتھ ہونا چاہیے اس کے الفاظ پر غور کیجیے اور دیکھتے جائیے کہ آپ ہر رات اپنے اللہ کے ساتھ کس قسم کا تعلق رکھنے کا اقرار کیا کرتے ہیں:

<<اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَ نَسْتَهْدِیْکَ وَ نَسْتَغْفِرُکَ وَ نُؤْمِنُ بِکَ وَ نَتَوَكَّلُ عَلَیْکَ وَ نُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ كُلَّهُ وَ نَشْكُرُکَ وَلَا نَكْفُرُکَ وَ نَخْلَعُ وَ نَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ ؕ اَللّٰهُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ، وَلَکَ نُصَلِّیْ وَ نَسْجُدُ وَ اِلَیْکَ نَسْعٰی وَ نَحْفِدُ وَ نَرْجُوْ رَحْمَتَکَ وَ نَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ۔>>

”خدایا! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ پر ایمان لاتے ہیں، تیرے ہی اوپر بھروسا رکھتے ہیں، اور سب اچھی تعریفیں تیرے ہی لیے مخصوص کرتے ہیں، ہم تیرے شکر گزار ہیں، کفران نعمت کرنے والے نہیں ہیں۔ ہم ہر اس شخص کو چھوڑ دیں گے، جو تیری نافرمانی کرے، خدایا ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں، تیرے ہی لیے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں، اور ہماری ساری دوڑ دھوپ تیری طرف ہی ہے۔ ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں، یقیناً تیرا سخت عذاب ان لوگوں کو پہنچنے والا ہے، جو کافر ہیں۔‘‘

پھر اسی تعلق باللہ کی تصویر اس دعا میں پائی جاتی ہے، جو نبی کریم ﷺ رات کو تہجد کے لیے اُٹھتے وقت پڑھا کرتے تھے۔ اس میں آپ اللہ کو خطاب کر کے عرض کرتے ہیں:

<<اَللّٰهُمَّ لَكَ اَسْلَمْتُ وَ بِكَ اٰمَنْتُ، وَ عَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَيْكَ اَنَبْتُ وَ بِكَ خَاصَمْتُ وَ اِلَيْكَ حَاكَمْتُ۔>>

’’خدایا! میں تیرا ہی مطیع فرمان ہوا اور تجھی پر ایمان لایا۔ اور تیرے ہی اوپر میں نے بھروسا کیا اور تیری ہی طرف میں نے رجوع کیا۔ اور تیری خاطر میں لڑا، اور تیرے ہی حضور اپنا مقدمہ لایا۔‘‘

#### تعلق باللہ بڑھانے کا طریقہ

یہ ہے ٹھیک ٹھیک نوعیت اس تعلق کی، جو ایک مومن کو اللہ سے ہونا چاہیے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ اس تعلق کو پیدا کرنے اور بڑھانے کا طریقہ کیا ہے؟ اس کو پیدا کرنے کی صورت صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ آدمی سچے دل سے اللہ وحدہٗ لاشریک کو اپنا اور ساری کائنات کا مالک، معبود اور حاکم تسلیم کرے۔ الوہیت کی تمام صفات اور حقوق اور اختیارات کو اللہ کے لیے مخصوص مان لے اور اپنے قلب کو شرک کے ہر شائبے سے پاک کر دے۔ یہ کام جب آدمی کر لیتا ہے تو اللہ سے اس کا تعلق قائم ہو جاتا ہے۔

رہا اس تعلق کا نشو و نما تو وہ دو طریقوں پر منحصر ہے۔ ایک فکر و فہم کا طریقہ اور دوسرا عمل کا طریقہ۔

فکر و فہم کے طریقے سے اللہ کے ساتھ تعلق بڑھانے کی صورت یہ ہے کہ آپ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کی مدد سے ان نسبتوں کو تفصیل کے ساتھ اور زیادہ سے زیادہ وضاحت کے ساتھ سمجھیں، جو آپ کے اور خدا کے درمیان فطرتاً ہیں اور بالفعل ہونی چاہئیں۔ ان نسبتوں کا ٹھیک پردے کے پیچھے یقین کی آنکھوں سے نظر آنے لگے گا۔ قرآن کا شاید کوئی ایک صفحہ بھی ایسا نہیں، جس میں کسی نہ کسی ڈھنگ سے آخرت کا ذکر نہ کیا گیا ہو۔ جگہ جگہ آپ کو اس میں عالم آخرت کا نقشہ ایسی تفصیل کے ساتھ ملے گا کہ جیسے کوئی وہاں کا آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہا ہو۔ بلکہ بہت سے مقامات پر تو یہ نقشہ کشی ایسے عجیب طریقے سے کی گئی ہے کہ پڑھنے والا تھوڑی دیر کے لیے اپنے آپ کو وہاں پہنچا ہوا محسوس کرتا ہے اور اتنی کسر رہ جاتی ہے کہ اس مادی دنیا کا دھندلا سا پردہ ذرا سامنے سے ہٹ جائے تو آدمی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھ لے، جو الفاظ میں بیان کیا جا رہا ہے۔ پس قرآن کریم کو بالالتزام سمجھ کر پڑھتے رہنے سے بہ تدریج آدمی کو یہ کیفیت حاصل ہو سکتی ہے کہ اس کے ذہن پر آخرت کا خیال مسلط ہو جائے اور وہ ہر وقت یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کی مستقل قیام گاہ موت کے بعد کا عالم ہے۔ جس کی اسے دنیا کی اس عارضی زندگی میں تیاری کرنی ہے۔

اس ذہنی کیفیت کو مزید تقویت حدیث کے مطالعے سے حاصل ہوتی ہے۔ جس میں بار بار زندگی بعد الموت کے حالات بالکل ایک چشم دید مشاہدے کی شان سے آدمی کے سامنے آتے ہیں، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ کس طرح ہر وقت آخرت کے یقین سے معمور رہتے تھے۔ پھر اس کیفیت کو راسخ کرنے میں مزید مدد زیارتِ قبور سے ملتی ہے۔ جس کی واحد غرض نبی کریم ﷺ نے یہ بتائی ہے کہ آدمی کو اپنی موت یاد رہے اور وہ دنیا کی اس متاعِ غرور کے ساتھ مشغول رہتے ہوئے اس بات کو نہ بھول جائے کہ آخر کار اسے جانا وہیں ہے جہاں سب گئے ہیں اور روز چلے جا رہے ہیں۔ البتہ یہ خیال رہے کہ اس غرض کے لیے وہ مزارات سب سے کم مفید ہیں جنھیں آج بگڑے ہوئے لوگوں نے حاجت روائی و مشکل کشائی کے مراکز بنا رکھا ہے۔ ان کے بجائے آپ گورِ غریباں کی زیارت کر کے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا پھر بادشاہوں کے اُن عالی شان مقبروں کو دیکھ کر جن کے آس پاس کہیں کوئی حاجب و دربان ادب کے قاعدے سکھانے والا نہیں ہے۔

اس کے بعد عملی طریقے کو لیجیے۔ آپ کو دنیا میں رہتے ہوئے اپنی گھریلو زندگی میں، اپنے محلے اور اپنی برادری کی زندگی میں اپنے حلقۂ احباب اور حلقۂ تعارف میں، اپنے شہر اور اپنے ملک کے معاملات میں، اپنے لین دین اور اپنی معاش کے کاموں میں۔ غرض ہر آن قدم قدم پر ایسے دوراہے ملتے ہیں، جن میں سے ایک راستے کی طرف جانا ایمان بالآخرۃ کا تقاضا ہوتا ہے اور دوسرے کو اختیار کرنا دنیا پرستی کا تقاضا، ایسے ہر موقعے پر پوری کوشش کیجیے کہ آپ کا قدم پہلے راستے ہی کی طرف بڑھے اور اگر نفس کی کم زوری سے یا غفلت کی وجہ سے کبھی دوسرے راستے پر آپ چل نکلے ہوں تو ہوش آتے ہی پلٹنے کی کوشش کیجیے، خواہ کتنے ہی دور پہنچ چکے ہوں۔ پھر وقتاً فوقتاً اپنا حساب لے کر دیکھتے رہیے کہ کتنے مواقع پر دنیا آپ کو کھینچنے میں کامیاب ہوئی اور کتنی بار آپ اپنے کو آخرت کی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ جائزہ آپ کو خود ہی ناپ تول کر بتاتا رہے گا کہ آپ کے اندر فطرتِ آخرت نے کتنا نشو و نما پایا، اور ابھی کتنی کچھ کمی آپ کو پوری کرنی ہے، جس قدر کمی آپ خود محسوس کریں اسے خود ہی پورا کرنے کی کوشش کریں۔ بیرونی مدد آپ کو زیادہ سے زیادہ بہم پہنچ سکتی ہے تو اس طرح پہنچ سکتی ہے کہ دنیا پرست لوگوں کی صحبت سے بچیں اور ایسے صالح لوگوں سے ربط ضبط بڑھائیں، جو آپ کے علم میں دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والے ہوں مگر یہ یاد رکھیے کہ آج تک کوئی ذریعہ ایسا دریافت نہیں ہو سکا ہے، جو آپ کے اندر خود آپ کی اپنی کوشش کے بغیر کسی صفت کو گھٹا سکے یا ایسی کوئی نئی صفت آپ میں پیدا کر سکے، جس کا مادہ آپ کی طبیعت میں موجود نہ ہو۔

#### تعلق باللہ کی افزائش کے وسائل

اس طرزِ عمل کو اختیار کرنا درحقیقت کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ ایک نہایت دشوار گزار گھاٹی ہے، جس پر چڑھنے کے لیے بڑی طاقت درکار ہے اور یہ طاقت جن تدبیروں سے آدمی کے اندر پیدا ہوسکتی ہے وہ یہ ہیں:

۱- نماز، نہ صرف فرض اور سنت، بلکہ حسب استطاعت نوافل بھی، مگر یاد رکھیے کہ نوافل زیادہ سے زیادہ اخفاء کے ساتھ پڑھنے چاہئیں۔ تاکہ اللہ سے آپ کا ذاتی تعلق نشو و نما پائے اور اخلاص کی صفت آپ میں پیدا ہو، نفل خوانی کا اور خصوصاً تہجد خوانی کا اظہار بسا اوقات ایک خطرناک قسم کا ریا اور کبر انسان میں پیدا کر دیتا ہے۔ جو نفس مومن کے لیے سخت مہلک ہے اور یہی نقصانات دوسرے نوافل اور صدقات اور اذکار کے اظہار و اعلان میں بھی پائے جاتے ہیں۔

۲- ذکر الہی۔ جو زندگی کے تمام احوال میں جاری رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ طریقے صحیح نہیں ہیں۔ جو بعد کے ادوار میں صوفیا کے مختلف گروہوں نے خود ایجاد کیے یا دوسروں سے لیے، بلکہ بہترین اور صحیح ترین طریقہ وہ ہے، جو نبی کریم ﷺ نے اختیار فرمایا اور صحابہ کرامؓ کو سکھایا۔ آپ حضورؐ کے تعلیم کردہ اذکار اور دعاؤں میں سے جس قدر بھی یاد کرسکیں یاد کرلیں مگر الفاظ کے ساتھ ان کے معانی بھی ذہن نشین کیجیے۔ اور معانی کے استحضار کے ساتھ ان کو وقتاً فوقتاً پڑھتے رہا کیجیے۔ یہ اللہ کی یاد تازہ رکھنے اور اللہ کی طرف دل کی توجہ مرکوز رکھنے کا ایک نہایت مؤثر ذریعہ ہے۔

۳- روزہ، نہ صرف فرض، بلکہ نفل بھی۔ نفل روزوں کی بہترین اور معتدل ترین صورت یہ ہے کہ ہر مہینے تین دن کے روزوں کا التزام کر لیا جائے اور ان ایام میں خاص طور پر تقویٰ کی اس کیفیت کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، جسے قرآن مجید روزے کی اصل خاصیت بتاتا ہے۔

۴- انفاق فی سبیل اللہ، نہ صرف فرض، بلکہ نفل بھی، جہاں تک بھی آدمی کی استطاعت ہو۔ اس معاملے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ اصل چیز مال کی وہ مقدار نہیں ہے، جو آپ خدا کی راہ میں صرف کرتے ہیں، بلکہ اصل چیز وہ قربانی ہے، جو اللہ کی خاطر آپ نے کی ہو۔ ایک غریب آدمی اگر اپنا پیٹ کاٹ کر خدا کی راہ میں ایک پیسہ صرف کرے تو وہ اللہ کے ہاں اُس ایک ہزار روپے سے زیادہ قیمتی ہے، جو کسی دولت مند نے اپنی آسائشوں کا دسواں یا بیسواں حصہ قربان کر کے دیا ہو۔ اس کے ساتھ یہ بھی آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ صدقہ ان اہم ترین ذرائع میں سے ہے، جو تزکیۂ نفس کے لیے اللہ اور اس کے رسولؐ نے بتائے ہیں۔ آپ اس کے اثرات کا تجربہ خود کر کے اس طرح دیکھ سکتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ سے کوئی لغزش سرزد ہو جائے تو آپ صرف نادم ہونے اور توبہ کر لینے پر اکتفا کریں اور دوسری مرتبہ اگر کسی لغزش کا صدور ہو تو آپ توبہ کے ساتھ راہِ خدا میں کچھ صدقہ بھی کریں۔ دونوں حالتوں میں موازنہ کر کے آپ خود دیکھ لیں گے کہ توبہ کے ساتھ صدقہ آدمی کے نفس کو زیادہ پاک اور برے میلانات کے لیے زیادہ مستعد کرتا ہے۔

یہ وہ سیدھا سادہ سلوک ہے، جو قرآن و سنت نے ہمیں بتایا ہے۔ اس پر اگر عمل کریں تو ریاضتوں اور مجاہدوں اور مراقبوں کے بغیر ہی آپ اپنے گھروں میں اپنے بال بچوں کے درمیان رہتے ہوئے اور اپنے سارے دنیوی کام انجام دیتے ہوئے اپنے خدا سے اپنا تعلق بڑھا سکتے ہیں۔

#### تعلق باللہ کو ناپنے کا پیمانہ

اس کے بعد یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ ہم کیوں کر یہ معلوم کریں کہ اللہ کے ساتھ ہمارا تعلق کتنا ہے اور ہمیں کیسے پتہ چلے کہ وہ بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اسے معلوم کرنے کے لیے آپ کو خواب کی بشارتوں اور کشف و کرامات کے ظہور، اور اندھیری کوٹھڑی میں انوار کے مشاہدے کا انتظار کرنے کی کوئی حاجت نہیں ہے اس تعلق کو ناپنے کا پیمانہ تو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے قلب میں رکھ دیا ہے۔ آپ بیداری کی حالت میں اور دن کی روشنی میں ہر وقت اس کو ناپ کر دیکھ سکتے ہیں۔ اپنی زندگی کا، اپنی مساعی کا اور اپنے جذبات کا جائزہ لیجیے۔ اپنا حساب آپ خود لے کر دیکھیے کہ ایمان لا کر اللہ سے بیع کا جو معاہدہ آپ کر چکے ہیں اسے آپ کہاں تک نباہ رہے ہیں؟ اللہ کی امانتوں میں آپ کا تصرف ایک امین ہی کا سا تصرف ہے یا کچھ خیانت بھی پائی جاتی ہے؟ آپ کے اوقات اور محنتوں، قابلیتوں اور اموال کا کتنا حصہ خدا کے کام میں جا رہا ہے اور کتنا دوسرے کاموں میں؟ آپ کے اپنے مفاد اور جذبات پر چوٹ پڑے تو آپ کے غصے اور بے کلی کا کیا حال ہوتا ہے اور جب خدا کے معاملے میں بغاوت ہو رہی ہو تو اسے دیکھ کر آپ کے دل کی کڑھن اور آپ کے غضب اور بے چینی کی کیا کیفیت رہتی ہے۔ یہ اور دوسرے بہت سے سوالات ہیں، جو آپ خود اپنے نفس پر کر سکتے ہیں۔ اور اس کا جواب لے کر ہر روز معلوم کر سکتے ہیں کہ اللہ سے آپ کا کوئی تعلق ہے یا نہیں اور ہے تو کتنا ہے اور اس میں کمی ہو رہی ہے یا اضافہ ہو رہا ہے۔ رہیں بشارتیں اور کشوف و کرامات اور انوار و تجلیات، تو آپ ان کے اکتساب کی فکر میں نہ پڑیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اس مادی دنیا کے دھوکا دینے والے مظاہر میں توحید کی حقیقت کو پالینے سے بڑا کوئی کشف نہیں ہے۔ شیطان اور اس کی ذریت کے دلائے ہوئے ڈراووں اور لالچوں کے مقابلے میں راہِ راست پر قائم رہنے سے بڑی کوئی کرامت نہیں ہے۔ کفر و فسق اور ضلالت کے اندھیروں میں حق کی روشنی دیکھنے اور اس کا اتباع کرنے سے بڑا کوئی مشاہدۂ انوار نہیں ہے۔ اور مومن کو اگر کوئی سب سے بڑی بشارت مل سکتی ہے تو وہ اللہ کو رب مان کر اس پر جم جانے اور ثابت قدمی کے ساتھ اس کی راہ پر چلنے سے ملتی ہے:

<<إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِىْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ>>(حم السجدہ: ۳۰)

”جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ ”نہ ڈرو، نہ غم کرو اور خوش ہو جاؤ اس جنت کی بشارت سے، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔“

#### ترجیح آخرت

تعلق باللہ کے بعد دوسری چیز، جس کی میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ ہر حال میں دنیا پر آخرت کو ترجیح دیجیے اور اپنے ہر کام میں آخرت ہی کی فوز و فلاح کو مقصود بنائیے۔

قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ دائمی اور ابدی زندگی کا مقام آخرت ہے اور دنیا کے اس عارضی قیام میں ہم صرف اس امتحان کے لیے بھیجے گئے ہیں کہ خدا کے دیے ہوئے تھوڑے سے سروسامان، تھوڑے سے اختیارات اور گنے چنے اوقات و مواقع میں کام کر کے ہم میں سے کون اپنے آپ کو خدا کی جنت کا مستقل آباد کار بننے کے لیے موزوں ثابت کرتا ہے۔ یہاں جس چیز کا امتحان ہم سے لیا جا رہا ہے وہ یہ نہیں کہ ہم صنعتیں اور تجارتیں اور کھیتیاں اور سلطنتیں چلانے میں کیا کمالات دکھاتے ہیں اور عمارتیں اور سڑکیں کیسی اچھی بناتے ہیں اور ایک شان دار تمدن پیدا کرنے میں کتنی کامیابی حاصل کرتے ہیں، بلکہ سارا امتحان صرف اس امر کا ہے کہ ہم خدا کی دی ہوئی امانتوں میں خدا کی خلافت کا حق ادا کرنے کی کتنی قابلیت رکھتے ہیں۔ باغی اور خود مختار بن کر رہتے ہیں یا مطیع و فرماں بردار بن کر؟ خدا کی زمین پر خدا کی مرضی پوری کرتے ہیں یا اپنے نفس اور اَرْبَابٌ مِّنْ دُونِ اللّٰهِ کی مرضی؟ خدا کی دنیا کو خدائی معیار کے مطابق سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں یا بگاڑنے کی؟ اور خدا کی خاطر شیطانی قوتوں سے کش مکش اور مقابلہ کرتے ہیں یا ان کے آگے سپر ڈال دیتے ہیں؟ جنت میں آدم و حوا علیہما السلام کا جو پہلا امتحان ہوا تھا وہ دراصل اسی امر میں تھا۔ اور آخرت میں جنت کی مستقل آبادی کے لیے نوع انسانی کے افراد کا جو انتخاب ہوگا وہ بھی اسی فیصلہ کن سوال پر ہوگا پس کامیابی و ناکامی کا اصل معیار یہ نہیں ہے کہ امتحان دینے کے دوران میں کس نے تخت شاہی پر بیٹھ کر امتحان دیا اور کس نے تختۂ دار پر اور کس کی آزمائش ایک سلطنتِ عظیم دے کر گئی اور کسے ایک جھونپڑی میں آزمایا گیا۔ امتحان گاہ کے یہ وقتی اور عارضی حالات اگر اچھے ہوں تو یہ فوز و فلاح کی دلیل نہیں اور برے ہوں تو یہ خائب و خاسر رہ جانے کے ہم معنی نہیں۔ اصل کامیابی، جس پر ہماری نگاہیں جمی رہنی چاہئیں، یہ ہے کہ دنیا کی اس امتحان گاہ میں جس جگہ بھی ہم بٹھائے گئے ہوں اور جو کچھ دے کر بھی ہمیں آزمایا گیا ہو اس میں ہم اپنے آپ کو خدا کا وفادار بندہ اور اس کی مرضیات کا متبع ثابت کریں تا کہ آخرت میں ہم کو وہ پوزیشن ملے، جو خدا نے اپنے وفاداروں کے لیے رکھی ہے۔

حضرات! یہ ہے اصل حقیقت۔ مگر یہ ایسی حقیقت ہے، جسے محض ایک دفعہ سمجھ لینا اور مان جانا کافی نہیں ہے بلکہ اسے ہر وقت ذہن میں تازہ رکھنے کے لیے سخت کوشش کرنی پڑتی ہے ورنہ ہر وقت اس کا امکان رہتا ہے کہ ہم آخرت کے منکر نہ ہونے کے باوجود دنیا میں اس طریقے پر کام کرنے لگیں، جو آخرت کو بھول کر اور دنیا کو مقصود بنا کر کام کرنے والوں کا طریقہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت ایک غیر محسوس چیز ہے، جو مرنے کے بعد سامنے آنے والی ہے۔ اس دنیا میں ہم اس کا اور اس کے اچھے بُرے نتائج کا ادراک صرف ذہنی توجہ ہی سے کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس دنیا ایک محسوس چیز ہے، جو اپنی تلخیاں اور شیرینیاں ہر وقت ہمیں چکھاتی رہتی ہے اور جس کے اچھے اور برے نتائج ہر آن ہمارے سامنے آکر ہمیں یہ دھوکا دیتے رہتے ہیں کہ اصل نتائج بس یہی ہیں۔ آخرت بگڑے تو اس کی تھوڑی بہت تلخی ہمیں صرف ایک دل کے چھپے ہوئے ضمیر میں محسوس ہوتی ہے بشرطیکہ وہ زندہ ہو۔ مگر دنیا بگڑے تو اس کی چھبن ہمارا رونگٹا رونگٹا محسوس کرتا ہے اور ہمارے بال بچے عزیز واقارب، دوست آشنا اور سوسائٹی کے لوگ، سب مل جل کر اسے محسوس کرتے اور کراتے ہیں۔ اسی طرح آخرت سنورے تو اس کی کوئی ٹھنڈک ہمیں ایک گوشۂ دل کے سوا کہیں محسوس نہیں ہوتی اور وہاں بھی صرف اس صورت میں محسوس ہوتی ہے جب کہ غفلت نے دل کے اس گوشے کو سُن نہ کر دیا ہو۔ مگر اپنی دنیا کا سنوار ہمارے پورے وجود کے لیے لذت بن جاتا ہے، ہمارے تمام حواس اس کو محسوس کرتے ہیں اور ہمارا سارا ماحول اس کے احساس میں شریک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کو بہ طور ایک عقیدے کے مان لینا چاہے بہت مشکل نہ ہو، مگر اسے اندازِ فکر اور اخلاق و اعمال کے پورے نظام کی بنیاد بنا کر زندگی بھر کام کرنا سخت مشکل ہے اور دنیا کو زبان سے ہیچ کہہ دینا چاہے کتنا ہی آسان ہو مگر دل سے اس کی محبوبیت اور خیال سے اس کی مطلوبیت کو نکال پھینکنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ کیفیت بڑی کوشش سے حاصل ہوتی ہے اور پیہم کوشش کرتے رہنے سے قائم رہ سکتی ہے۔

#### فکرِ آخرت کی تربیت کے ذرائع

آپ پوچھیں گے کہ یہ کوشش ہم کیسے کریں اور کن چیزوں سے اس میں مدد لیں؟ میں عرض کروں گا کہ اس کے بھی دو طریقے ہیں ایک فکری طریقہ اور دوسرا عملی طریقہ۔

فکری طریقہ یہ ہے کہ آپ صرف اٰمَنْتُ بِالْیَوْمِ الْآخِرِ کہہ دینے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ جس سے رفتہ رفتہ آپ کو آخرت کا عالم، دنیا کے اس تحریک اسلامی کے کارکنوں میں اور اس سے دل چسپی رکھنے والے لوگوں میں بددلی پھیلنے اور پھر وہ پلٹ کر انہی آستانوں سے وابستہ ہو جائیں جہاں اسلام زیر سایہ کفر کی کسی نہ کسی جزوی خدمت ہی کو بڑی سے بڑی چیز سمجھا جاتا رہا ہے۔ جہاں پورے دین کو بہ حیثیت ایک نظام زندگی کے قائم اور غالب کرنے کا تخیل سرے سے موجود ہی نہیں رہا ہے۔ بلکہ جہاں یہ تخیل اگر پیش کیا بھی گیا ہے تو ہر طرح کی سخن سازیوں سے اس کو ایک غیر دینی تخیل ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اسے یوں مطعون کیا گیا ہے کہ گویا کفر و فسق کے مقابلے میں اسلام کو نظام غالب بنانے کی فکر سراسر ایک دنیا پرستانہ فکر ہے۔ اس حالت میں ہم کو مجبورا خانقاہی تزکیۂ نفس اور اسلامی تزکیۂ نفس کا فرق واضح کرنا پڑتا ہے اور وہ حقیقی تقویٰ اور احسان کیا ہے، جو اسلام میں مطلوب ہے اور وہ اس ٹکسالی تقویٰ اور احسان سے کس قدر مختلف ہے، جس کی تربیت ہمارے ہاں فن دین داری کے ماہرین دیا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہمیں تحریک اسلامی کے طریق اصلاح و تربیت اور نتائج بھی کھول کر بیان کرنے پڑتے ہیں تاکہ ایک صحیح دینی حس رکھنے والا آدمی خود یہ محسوس کر لے کہ اس تحریک کا اثر قبول کرنے کے بعد ابتدائی مرحلے ہی میں انسان کے اندر تقویٰ اور احسان کی جو حقیقی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے وہ عمر بھر تزکیۂ نفس کی تربیت پانے بلکہ تربیت دینے والوں میں بھی نظر نہیں آتی۔

یہ باتیں ہمیں مجبورا اپنے معترضین کی بے انصافیوں کی وجہ سے کہنی پڑتی ہیں۔ اپنی مدافعت کے لیے نہیں بلکہ تحریک اسلامی کو بچانے کے لیے کہنی پڑتی ہیں۔ لیکن انھیں کہتے وقت ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں کہ کہیں یہ باتیں ہمارے اندر اور ہمارے رفیقوں کے اندر عجب و غرور اور اپنی کاملیت کی غلط فہمی نہ پیدا کر دیں اس لیے کہ اگر خدانخواستہ یہ جھوٹا پندار ہمارے اندر پیدا ہو گیا تو ہم نے آج تک جو کچھ حاصل کیا ہے وہ کھو بیٹھیں گے۔

اس خطرے سے بچنے کے لیے میں چاہتا ہوں کہ تین حقیقتیں آپ اچھی طرح سمجھ لیں اور انھیں کبھی فراموش نہ کریں۔

پہلی بات یہ ہے کہ کمال ایک لامتناہی چیز ہے، جس کی آخری حد ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے۔ آدمی کا کام یہ ہے کہ پیہم اس کی بلندیوں پر چڑھنے کی کوشش کرتا رہے اور کسی مقام پر بھی پہنچ کر یہ گمان نہ کرے کہ وہ کامل ہو گیا ہے، جس آن کسی شخص کو یہ غلط فہمی لاحق ہوتی ہے اس کی ترقی فوراً رک جاتی ہے اور صرف رُک ہی نہیں جاتی الٹا تنزل شروع ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیے کہ بلندی پر چڑھنے ہی کے لیے نہیں، ایک بلند مقام پر ٹھہرنے کے لیے بھی ایک مسلسل جدوجہد درکار ہوتی ہے اور اس کا سلسلہ بند ہوتے ہی پستی کی کشش آدمی کو نیچے کھینچنا شروع کر دیتی ہے۔ ایک دانش مند آدمی کو کبھی نیچے جھک کر نہیں دیکھنا چاہیے کہ وہ اوپر کتنا چڑھ چکا ہے اسے اوپر دیکھنا چاہیے کہ، جو بلندیاں ابھی چڑھنے کے لیے باقی ہیں وہ اس سے کس قدر دور ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اسلام نے ہمارے سامنے انسانیت کا اتنا بلند معیار رکھا ہے، جس کی ابتدائی منزلیں بھی غیر اسلامی مذاہب و ادیان کے معیارِ کمال سے اونچی ہیں۔ اور یہ کوئی خیالی معیار نہیں ہے، بلکہ عمل کی دنیا میں انبیاء کرامؑ اور اکابر صحابہؓ اور صلحائے امت کی پاکیزہ زندگیاں اس کی بلندیوں کی نشان دہی کر رہی ہیں۔ اس معیار کو آپ ہمیشہ ذہن میں رکھیں۔ یہ آپ کو کاملیت کی غلط فہمی سے بچائے گا، اپنی پستی کا احساس دلائے گا اور ترقی کی کوششوں کے لیے ہر وقت اتنی بلندیاں آپ کے سامنے پیش کرتا رہے گا کہ عمر بھر کی جدوجہد کے بعد بھی آپ یہی محسوس کریں گے کہ ابھی بہت سی منزلیں چڑھنے کے لیے باقی ہیں۔ اپنے گرد و پیش کے دم توڑتے ہوئے مریضوں کو دیکھ کر اپنی ذرا سی تندرستی پر ناز نہ کیجیے۔ اخلاق و روحانیت کے ان پہلوانوں پر نگاہ رکھیے، جن کی جگہ آج آپ شیطان سے نبرد آزما ہونے کے لیے اکھاڑے میں اترے ہیں۔ مومن کا کام یہ ہے کہ دولتِ دین کے معاملے میں وہ ہمیشہ اپنے سے اونچے لوگوں کی طرف دیکھے تا کہ یہ دولت کمانے کی حرص کبھی اس کے اندر بجھنے نہ پائے اور دولتِ دنیا کے معاملے میں ہمیشہ اپنے سے کمتر لوگوں کی طرف دیکھے، تاکہ جتنا کچھ بھی اس کے رب نے اسے دیا ہے اس پر وہ خدا کا شکر بجالائے اور زر و مال کی پیاس تھوڑے ہی سے بجھ جائے۔ [ٹھیک یہی مضمون ہے ایک حدیث کا جس میں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں:

<<من نظر فی دینهِ الى من هو فوقه فاقتدىٰ بهِ و نظر فی دنیاه الى من هو دونه فحمد الله على ما فضله الله علیه، کتبه الله شاکراً صابراً و من نظر فی دینه الى من هو دونه و نظر فی دنیاه الى من هو فوقه تاسف على مافاته منه لم یکتبه الله شاکراً ولا صابراً>>

”جس نے اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھا اور اس کی پیروی میں آگے بڑھا، اور اپنی دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو دیکھا اور اللہ کے دیے ہوئے فضل پر اس کا شکریہ ادا کیا، وہ اللہ کے ہاں شاکر اور صابر لکھا گیا۔ بہ خلاف اس کے جس نے اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے اونچے کو دیکھا اور دنیا پانے میں جو کمی رہ گئی اس پر حسرت و اندوہ میں مبتلا ہوا وہ اللہ کے ہاں شاکر لکھا گیا نہ صابر۔“]

تیسری بات یہ ہے کہ فی الواقع ہم نے اب تک اپنے اندر جو خوبیاں پیدا کی ہیں وہ بس اس لیے خوب ہیں کہ ہمارے گرد و پیش کا بگاڑ حد سے بڑھا ہوا ہے۔ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ذرا سا دیا بھی، جسے روشن کرنے کی توفیق لوگوں کو نصیب ہوگئی۔ نمایاں نظر آنے لگا۔ ورنہ سچی بات یہ ہے کہ اسلام کے کم سے کم معیارِ مطلوب کو بھی سامنے رکھ کر جب اپنا جائزہ لیں تو ہر پہلو سے اپنی ذات میں خامیاں ہی خامیاں نظر آتی ہیں۔ پس اگر ہم اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کریں تو یہ محض ایک انکسار کے طور پر نہ ہو بلکہ ایک حقیقی اعتراف ہونا چاہیے اور اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ اپنی ایک ایک کوتاہی کو سمجھیں اور اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔

#### بے جا پندار سے احتراز

تیسری بات، جس کی میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ گزشتہ پیہم کوشش سے، جو کچھ بھی اصلاح آپ کی انفرادی سیرت اور آپ کے اجتماعی اخلاق میں رونما ہوئی ہے اس پر فخر کا جذبہ آپ کے دل میں ہرگز پیدا نہ ہو۔ آپ نہ فرداً فرداً، نہ من حیث الجماعت، کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوں کہ ہم اب کامل ہو گئے ہیں، جو کچھ بننا تھا بن چکے ہیں، کوئی مزید کمال مطلوب ایسا نہیں رہا ہے جو ہمیں حاصل کرنا ہو۔

مجھے اور جماعت کے دوسرے ذمہ دار لوگوں کو بسا اوقات ایک فتنے سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ایک زمانے سے بہ کثرت لوگ جماعت کی اور دراصل اس تحریک کی، جس کے لیے یہ جماعت کام کرنے اٹھی ہے، قدر گھٹانے کے لیے یہ مشہور کر رہے ہیں کہ یہ جماعت تو محض ایک سیاسی جماعت ہے۔ عام سیاسی پارٹیوں کی طرح کام کر رہی ہے۔ اس میں تزکیۂ نفس اور روحانیت کا کہیں نام و نشان تک نہیں ہے، اس میں تعلق باللہ اور فکرِ آخرت کا فقدان ہے، اس کے چلانے والے خود بے پیرے ہیں نہ انھوں نے کسی سلسلۂ خانقاہی سے تقویٰ اور احسان کی تربیت پائی ہے، نہ ان کے رفقاء کو اس طرح کی تربیت ملنے کا امکان ہے۔ یہ باتیں اس لیے کی جاتی ہیں کہ ٹھیک احساس و ادراک اور ذہن میں ان کا استحضار صرف اسی طریقے سے ممکن ہے کہ آپ قرآن و حدیث کو سمجھ کر پڑھیں۔ بار بار اس کے مطالعے کی تکرار کرتے رہیں اور ان کی روشنی میں جو جو نسبتیں آپ کے اور خدا کے درمیان معلوم ہوں ان پر غور و فکر کرکے اور اپنی حالت کا جائزہ لے کر دیکھتے رہیں کہ ان میں سے کس کس نسبت کو آپ نے بالفعل قائم کر رکھا ہے، کہاں تک اس کے تقاضے آپ پورے کر رہے ہیں اور کس کس پہلو میں آپ کیا کمی محسوس کرتے ہیں۔ یہ احساس اور یہ استحضار جتنا جتنا بڑھے گا، ان شاء اللہ اسی تناسب کے ساتھ اللہ سے آپ کا تعلق بھی بڑھے گا۔

مثال کے طور پر ایک نسبت آپ کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان یہ ہے کہ آپ عبد ہیں اور وہ معبود ہے۔ دوسری نسبت یہ ہے کہ آپ زمین پر اس کے خلیفہ ہیں اور اس نے اپنی بے شمار امانتیں آپ کے سپرد کر رکھی ہیں۔ تیسری نسبت یہ ہے کہ آپ ایمان لا کر اس کے ساتھ ایک بیع کا معاہدہ کرچکے ہیں، جس کے مطابق آپ نے اپنی جان و مال اس کے ہاتھ بیچی ہے اور اس نے جنت کے وعدے پر خریدی ہے۔ چوتھی نسبت آپ کے اور اس کے درمیان یہ ہے کہ آپ اس کے سامنے جواب دہ ہیں اور آپ کا حساب صرف آپ کے ظاہر ہی کے حساب سے لینے والا نہیں ہے بلکہ آپ کی جملہ حرکات و سکنات، بلکہ آپ کی نیتوں اور ارادوں تک کا ریکارڈ اس کے پاس محفوظ ہو رہا ہے۔ غرض یہ اور دوسری بہت سی نسبتیں ایسی ہیں، جو آپ کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان موجود ہیں بس انہی نسبتوں کو سمجھنے، محسوس کرنے، یاد رکھنے، اور ان کے تقاضے پورے کرنے پر اللہ کے ساتھ آپ کے تعلق کا بڑھنا اور قریب تر ہونا موقوف ہے، آپ جس قدر ان سے غافل ہوں گے اللہ سے آپ کا تعلق اتنا ہی کم زور ہوگا اور جس قدر زیادہ ان سے خبردار اور ان کی طرف متوجہ رہیں گے اسی قدر آپ کا تعلق گہرا اور مضبوط ہوگا۔

لیکن یہ فکری طریقہ اس وقت تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتا، بلکہ زیادہ سے زیادہ دیر تک نباہا بھی نہیں جاسکتا جب تک کہ عملی طریقے سے اس کو مدد اور قوت نہ پہنچائی جائے اور وہ عملی طریقہ ہے، احکام الہٰی کی مخلصانہ اطاعت اور ہر اس کام میں جان لڑا کر دوڑ دھوپ کرنا، جس کے متعلق آدمی کو معلوم ہو جائے کہ اس میں اللہ کی رضا ہے۔ احکام الہٰی کی مخلصانہ اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ جن کاموں کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کو آپ بادل نخواستہ نہیں بلکہ اپنے دل کی رغبت اور شوق کے ساتھ خفیہ اور اعلانیہ انجام دیں اور اس میں کسی دنیوی غرض کو نہیں بلکہ صرف اللہ کی خوش نودی کو ملحوظ خاطر رکھیں اور جن کاموں سے اللہ نے روکا ہے ان سے قلبی نفرت و کراہت کے ساتھ خفیہ اور اعلانیہ پرہیز کریں۔ اور اس پرہیز کا محرک کسی دنیوی نقصان کا خوف نہیں، بلکہ اللہ کے غضب کا خوف ہو۔ یہ طرزِ عمل آپ کو تقویٰ کے مقام پر پہنچا دے گا۔ اور اس کے بعد دوسرا طرزِ عمل آپ کو احساس کی منزل پر پہنچائے گا۔ یعنی یہ کہ آپ دنیا میں ہر اس بھلائی کو فروغ دینے کی کوشش کریں، جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ہر اس برائی کو دبانے کی کوشش کریں، جسے اللہ نا پسند فرماتا ہے، اور اس کی کوشش میں جان، مال، وقت، محنت اور دل و دماغ کی قابلیت غرض کسی چیز کے قربان کرنے میں بھی بخل سے کام نہ لیں۔ پھر اس راہ میں جو قربانی بھی آپ کریں اس پر کوئی فخر آپ کے دل میں پیدا نہ ہو۔ نہ یہ خیال کبھی آپ کے دل میں آئے کہ آپ نے کسی پر احسان کیا ہے۔ بلکہ بڑی سے بڑی قربانی کر کے بھی آپ یہی سمجھتے رہیں کہ آپ کا جو حق آپ پر تھا وہ پھر بھی ادا نہیں ہو سکا ہے۔

#### تربیت گاہوں سے فائدہ اٹھائیے

اسی چیز میں آپ کی مدد کرنے کے لیے ہم نے تربیت کے نئے پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت، جو تربیت گاہیں قائم کی گئی ہیں ان میں بلا تخصیص سب آ سکتے ہیں۔ تربیت کی مدت قصداً کم رکھی گئی ہے تا کہ کاروباری لوگ اور ملازمین اور زراعت پیشہ حضرات، سب کے سب اس سے بہ آسانی فائدہ اٹھا سکیں۔ تربیت کے دو اجزا رکھے گئے ہیں، ایک علمی اور دوسرا عملی۔ علمی جز میں کوشش کی جاتی ہے کہ تھوڑے وقت ہی میں قرآن و حدیث کی تعلیمات، احکام فقہ اور لٹریچر کا ایک ضروری خلاصہ آدمی کے ذہن نشین ہو جائے جس سے وہ دین کو، اس کے پورے نظام کو، اس کے تقاضوں کو، اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کے طریقوں کو، اور اس کی اقامت کے لائحہ عمل کو اچھی طرح سمجھ لے اور یہ بھی جان لے کہ اقامتِ دین کی اس سعی کے لیے کس قسم کی انفرادی سیرت اور کس طرح کا جماعتی کردار مطلوب ہے۔ عملی جز میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ چند روز تک ہمارے کارکن بیک وقت ایک جگہ رہ کر ایک ستھری اور پاکیزہ اسلامی زندگی بسر کرنے کی مشق کریں۔ ضبطِ اوقات کا، نظم عمل کا، حسنِ رفاقت کا اور اخوت و محبت کا سبق سیکھیں۔ ایک دوسرے کی خوبیاں اپنے اندر جذب کریں۔ اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے میں دوسروں سے مدد لیں، اور چند روز ہر طرح کی دنیوی مشغولیتوں سے منقطع ہو کر خالص اللہ کے لیے اپنی فکر اور توجہ اور مصروفیت کو مرتکز رکھیں۔

ہماری دلی خواہش تھی کہ ایسی تربیت گاہیں کم از کم ہر ضلع میں قائم کی جائیں اور ہمہ وقت کام کرتی رہیں۔ لیکن ابھی ہمارے پاس ایسے آدمیوں کی کمی ہے، جو اس کام کو چلانے کے اہل ہوں۔

اور دوسرے ضروری وسائل بھی کافی نہیں ہیں۔ اس لیے سردست صرف لاہور، راولپنڈی، ملتان اور کراچی میں تھوڑی تھوڑی مدت کے لیے اس کا انتظام کیا گیا ہے تاہم مجھے توقع ہے کہ اس تھوڑے سے انتظام کا بھی آپ کو بہت کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ان شاء اللہ اس کورس سے گزر کر آپ خود محسوس کریں گے کہ یہ ایک بڑا مفید پروگرام ہے، جو جماعت نے شروع کیا ہے۔ میں تمام رفقاء سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔

#### اپنے گھروں کی طرف توجہ کیجیے

اس کے بعد میں آپ سب حضرات کو یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ آپ اپنی اولاد کی اور اپنے گھر والوں کی اصلاح پر خاص توجہ دیں: <<قُوْا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيْكُمْ نَارًا>>۔ جس اولاد کے لیے اور جن بیویوں کے لیے آپ کو کھانے پینے اور پہننے کی فکر ہوتی ہے ان کے لیے سب سے بڑھ کر فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ وہ جہنم کا ایندھن نہ بننے پائیں۔ آپ کو اپنی حد تک ان کی عاقبت سنوارنے اور جنت کے راستے پر ڈالنے ہی کی کوشش کرنی چاہیے پھر اگر خدانخواستہ ان میں سے کوئی خود بگڑے تو آپ بری الذمہ ہیں۔ بہ ہر حال اس کی عاقبت خراب ہونے میں آپ کا کوئی حصہ نہ ہو۔ بسا اوقات میرے پاس اس قسم کی شکایتیں آتی رہتی ہیں کہ رفقاء جماعت اصلاحِ خلق کی جتنی فکر کرتے ہیں، اصلاحِ اہل و عیال اور اصلاحِ خاندان کی نہیں کرتے۔ ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے معاملے میں یہ شکایات درست ہوں، اور بعض کے معاملے میں مبنی بر مبالغہ۔ فرداً فرداً ایک ایک شخص کے حال کی تحقیق میرے لیے مشکل ہے اس لیے میں یہاں اس بارے میں ایک عام نصیحت پر اکتفا کرتا ہوں۔ ہم سب کی یہ تمنا ہونی چاہیے اور تمنا کے ساتھ کوشش بھی کہ دنیا میں، جو ہمیں پیارے ہیں انھیں سلامتی کی راہ پر دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں: <<رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا>> (الفرقان: ۷۴)

”اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔“

اس معاملے میں رفقاء کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی زندگی میں دل چسپی لیں اور نہ صرف اپنی اولاد کو بلکہ اپنے رفقاء کی اولاد کو بھی سنوارنے میں حصہ لیں۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ایک بچہ اپنے باپ کا اثر قبول نہیں کرتا مگر اپنے باپ کے دوستوں کا اثر قبول کر لیتا ہے۔

#### آپس کی اصلاح اور اس کا طریقہ

میں آپ کو یہ نصیحت بھی کرتا ہوں کہ آپ اپنی اور اپنے گھر والوں کی اصلاح کے ساتھ آپس میں بھی ایک دوسرے کی اصلاح کریں۔ جو لوگ خدا کی خاطر کلمۂ حق کی سربلندی کے لیے ایک جماعت بنیں انھیں ایک دوسرے کا ہم درد و مددگار اور غم خوار ہونا چاہیے۔ انھیں یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنے مقصدِ عظیم میں کام یاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ بہ حیثیت مجموعی اخلاق اور نظم کے لحاظ سے مضبوط نہ ہوں اور اس احساس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ سب ایک دوسرے کی تربیت میں مددگار بنیں اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کو سہارا دے کر خدا کی راہ میں آگے بڑھانے کی کوشش کرے۔ اسلام میں اجتماعی تزکیے کا طریقہ یہی ہے میں گرتا نظر آؤں تو آپ دوڑ کر مجھے سنبھالیں اور آپ لغزش کھا رہے ہوں تو میں بڑھ کر آپ کا ہاتھ تھام لوں۔ میرے دامن پر کوئی دھبہ نظر آئے تو آپ اسے صاف کریں اور آپ کا دامن آلودہ ہو رہا ہو میں اسے پاک کروں۔ جس چیز میں میری فلاح و بہتری آپ کو محسوس ہو اسے آپ مجھ تک پہنچائیں اور جس چیز میں آپ کی درستی مجھے محسوس ہو اسے میں آپ تک پہنچاؤں۔ مادی دنیا میں جب لوگ ایک دوسرے سے لین دین کرتے ہیں تو مجموعی طور پر سب کی خوش حالی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اخلاق و روحانیت کی دنیا میں بھی جب یہ امداد باہمی اور داد و ستد کا طریقہ چل پڑتا ہے تو پوری قوم کا سرمایہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔

باہمی اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جس شخص کی کوئی بات آپ کو کھٹکے، یا جس سے کوئی شکایت آپ کو ہو، اس کے معاملے میں آپ جلدی نہ کریں، بلکہ پہلے اسے اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔ پھر اوّلین فرصت میں خود اس شخص سے مل کر تخلیہ میں اس سے بات کریں۔ اس پوری مدت میں اس معاملہ کا ذکر غیر متعلق لوگوں سے کرنا اور شخصِ متعلق کی غیر موجودگی میں اس کا چرچا کرنا صریحاً غیبت ہے جس سے قطعی اجتناب کرنا چاہیے۔

#### اجتماعی تنقید کا صحیح طریقہ

آپس میں ایک دوسرے کی غلطیوں اور کم زوریوں پر تنقید بھی اجتماعی اصلاح کا ایک مفید طریقہ ہے، مگر تنقید کے صحیح حدود اور آداب ملحوظ نہ رکھنے سے یہ سخت نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے میں وضاحت کے ساتھ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس کی حدود اور آداب کیا ہیں:

۱- تنقید ہر وقت ہر صحبت میں نہ ہو۔

۲- تنقید کرنے والا اللہ کو شاہد سمجھ کر پہلے خود اپنے دل کا جائزہ لے لے کہ وہ اخلاص اور خیر خواہی کے جذبے سے تنقید کر رہا ہے یا اس کا محرک کوئی نفسانی جذبہ ہے۔ اگر پہلی صورت ہو تو بے شک تنقید کی جائے ورنہ زبان بند کر کے خود اپنے نفس کو اس ناپاکی سے بچانے کی فکر کرنی چاہیے۔

۳- تنقید کا لہجہ اور زبان دونوں ایسے ہونے چاہئیں، جن سے ہر سننے والے کو محسوس ہو کہ آپ فی الواقع اصلاح چاہتے ہیں۔

۴- تنقید کے لیے زبان کھولنے سے پہلے یہ اطمینان کر لیجیے کہ آپ کے اعتراض کی کوئی بنیاد واقعہ میں موجود ہے۔ بلا تحقیق کسی کے خلاف کچھ کہنا ایک گناہ ہے، جس سے فساد رونما ہوتا ہے۔

۵- جس شخص پر تنقید کی جائے اسے تحمل کے ساتھ بات سننی چاہیے۔ انصاف کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ جو بات حق ہو اسے سیدھی طرح مان لینا چاہیے اور جو بات غلط ہو اس کی بدلائل تردید کردینی چاہیے۔ تنقید سن کر طیش میں آ جانا کبر اور غرور نفس کی علامت ہے۔

۶- تنقید اور جواب تنقید اور جواب الجواب کا سلسلہ بلا نہایت نہیں چلنا چاہیے کہ وہ ایک مستقل رَدّ و کد بن کر رہ جائے۔ بات صرف اس وقت تک ہونی چاہیے جب تک دونوں طرف کے مختلف پہلو وضاحت کے ساتھ سامنے آ جائیں۔ اس کے بعد اگر معاملہ صاف نہ ہو تو گفتگو ملتوی کر دیجیے، تاکہ فریقین ٹھنڈے دل سے اپنی اپنی جگہ غور کر سکیں۔

ان حدود کو ملحوظ رکھ کر، جو تنقید کی جائے وہ نہ صرف یہ کہ مفید ہے بلکہ اجتماعی زندگی کو درست رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے اس کے بغیر کوئی تنظیم زیادہ دیر تک صحیح راستے پر گامزن نہیں رہ سکتی۔ اس تنقید سے کسی کو بھی بالاتر نہ ہونا چاہیے، میں اس کو جماعت کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر سمجھتا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ جس روز خدانخواستہ ہمارے یہاں اس کا دروازہ بند ہوا، اسی روز ہمارے بگاڑ کا دروازہ کھل جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں ابتدا سے ایک اجتماعِ خاص اس غرض سے منعقد کرتا رہا ہوں کہ اس میں سارے کام اور نظام کا پورا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ ایسے اجتماعات میں سب سے پہلے میں خود اپنے آپ کو تنقید کے لیے پیش کرتا ہوں۔ تاکہ جس کو مجھ پر یا میرے کام پر کوئی اعتراض ہو وہ اسے سب کے سامنے بے تکلف پیش کرے اور اس کی تنقید سے یا تو میری اصلاح ہوجائے، یا میرے جواب سے اس کی اور اس کی طرح سوچنے والے دوسرے لوگوں کی غلط فہمی رفع ہوجائے۔

#### سمع و طاعت اور نظم جماعت کی پابندی

ایک اور چیز جس کا احساس آپ کو دلانے کی ضرورت مجھے محسوس ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ ابھی آپ کے اندر سمع و طاعت اور نظم کی بہت کمی ہے۔ اگرچہ اپنے ماحول کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنے اندر بڑا ڈسپلن نظر آتا ہے۔ لیکن ایک طرف جب ہم اسلام کے معیارِ مطلوب کو دیکھتے ہیں اور دوسری طرف اس کٹھن کام کو دیکھتے ہیں، جو ہمیں کرنا ہے، تو سچی بات یہ ہے کہ ہمارا موجودہ ڈسپلن بہت ہی حقیر محسوس ہوتا ہے۔

آپ چند مٹھی بھر آدمی ہیں، جو تھوڑے سے وسائل لے کر میدان میں آئے ہیں اور کام آپ کے سامنے یہ ہے کہ فسق اور جاہلیت کی ہزاروں گنی زیادہ طاقت، اور لاکھوں گنے زیادہ وسائل کے مقابلے میں نہ صرف ظاہری نظامِ زندگی کو بلکہ اس کی باطنی روح تک کو بدل ڈالیں۔ آپ خواہ تعداد کے لحاظ سے دیکھ لیں یا وسائل کے لحاظ سے، آپ کے اور ان کے درمیان کوئی نسبت نہیں ہے۔ اب آخر اخلاق اور نظم کی طاقت کے سوا اور کون سی طاقت آپ کے پاس ایسی ہوسکتی ہے، جس سے آپ ان کے مقابلے میں اپنی جیت کی امید کرسکیں؟ آپ کی امانت و دیانت کا سکہ اپنے ماحول پر بیٹھا ہوا ہو، اور آپ کا نظم اتنا زبردست ہو کہ آپ کے ذمے دار لوگ جس وقت جس نقطے پر جتنی طاقت کا جمع کرنا چاہیں، ایک اشارے پر جمع کرسکیں، تب ہی آپ اپنے مقصدِ عظیم میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

اسلامی نقطہ نظر سے اقامتِ دین کی سعی کرنے والی ایک جماعت میں جماعت کے اولی الامر کی اطاعت فی المعروف دراصل اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کا ایک جز ہے۔ جو شخص اللہ کا کام سمجھ کر یہ کام کر رہا ہے اور اللہ ہی کے کام کی خاطر جس نے کسی کو اپنا امیر مانا ہے، وہ اس کے جائز احکام کی اطاعت کرکے دراصل اس کی نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرتا ہے۔ جس قدر اللہ سے اور اس کے دین سے آدمی کا تعلق زیادہ ہوگا، اتنا ہی وہ سمع و طاعت میں بڑھا ہوا ہوگا، اور جتنی اس تعلق میں کمی ہوگی اتنی ہی سمع و طاعت میں بھی کمی ہوگی۔ اس سے بڑی قابلِ قدر قربانی اور کیا ہوسکتی ہے کہ جس شخص کا آپ پر کوئی زور نہیں ہے اور جسے محض خدا کے کام کے لیے آپ نے امیر مانا ہے، اس کا حکم آپ ایک وفادار ماتحت کی طرح مانیں اور اپنی خواہش اور پسند اور مفاد کے خلاف اس کے ناگوار احکام تک کی بسر و چشم تعمیل کرتے جائیں۔ یہ قربانی چوں کہ اللہ کے لیے ہے اس لیے اس کا اجر بھی اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے اس کے برعکس جو شخص اس کام میں شریک ہونے کے بعد بھی کسی حال میں چھوٹا بننے پر راضی نہ ہو، اور اطاعت کو اپنے مرتبے سے گری ہوئی چیز سمجھے یا حکم کی چوٹ اپنے نفس کی گہرائیوں میں محسوس کرے اور تلخی کے ساتھ اس پر تلملائے یا اپنی خواہش اور مفاد کے خلاف احکام کو ماننے میں ہچکچائے، وہ دراصل اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ ابھی اس کے نفس نے اللہ کے آگے پوری طرح سرِ اطاعت خم نہیں کیا ہے اور ابھی اس کی انانیت اپنے دعوؤں سے دست بردار نہیں ہوئی ہے۔

#### اصحاب امر کو نصیحت

رفقاء کو اطاعتِ حکم کی نصیحت کرنے کے ساتھ میں اصحابِ امر کو بھی یہ نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ حکم چلانے کا صحیح طریقہ سیکھیں۔ جس شخص کو بھی نظمِ جماعت کے اندر کسی ذمہ داری کا منصب سونپا جائے اور کچھ لوگ اس کے ساتھ امر دیے جائیں۔ اس کے لیے یہ ہرگز حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھنے لگے اور اپنے تابع رفقاء پر بے جا تحکم جتانے لگے۔ اسے حکم چلانے میں کبریائی کی لذت نہ لینی چاہیے۔ اسے اپنے رفقاء سے نرمی اور ملاطفت کے ساتھ کام لینا چاہیے۔ اسے اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں کسی کارکن میں عدم اطاعت اور خودسری کا جذبہ اُبھار دینے کی ذمہ داری خود اس کے اپنے کسی غلط طریقِ کار پر عائد نہ ہو جائے۔ اسے جوان اور بوڑھے کم زور اور طاقت ور، خوش حال اور خستہ حال سب کو ایک ہی لکڑی سے نہ ہانکنا چاہیے، بلکہ جماعت کے مختلف افراد کی مخصوص انفرادی حالتوں پر نگاہ رکھنی چاہیے اور جو جس لحاظ سے بھی بجا طور پر رعایت کا مستحق ہو اس کو ویسی ہی رعایت دینی چاہیے۔ اسے جماعت کو ایسے طریقے پر تربیت دینی چاہیے کہ امیر جو کچھ مشورے اور اپیل کے انداز میں کہے رفقاء اس کو حکم کے انداز میں لیں اور اس کی تعمیل کریں، یہ دراصل جماعتی شعور کی کمی کا نتیجہ ہے کہ امیر کی ”اپیل“، اثر انداز نہ ہوکر ”حکم“ دینے کی ضرورت محسوس کرے۔ ”حکم“ تو تنخواہ دار فوج کے سپاہیوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ رضا کار سپاہی جو اپنے دل کے جذبے سے اپنے خدا کی خاطر اکٹھے ہوئے ہوں، خدا کے کام میں خود اپنے بنائے ہوئے امیر کی اطاعت کے لیے حکم کے محتاج نہیں ہوا کرتے۔ ان کو تو صرف یہ اشارہ مل جانا کافی ہے کہ فلاں جگہ تم کو اپنے رب کی فلاں خدمت بجا لانے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ کیفیت جس روز اصحاب امر اور ان کے رفقاء میں پیدا ہو جائے گی آپ دیکھیں گے کہ آپس کی وہ بہت سی بدمزگیاں آپ سے آپ ختم ہو جائیں گی۔ جو وقتاً فوقتاً پیدا ہوتی رہتی ہیں۔

#### آخری نصیحت

میری آخری نصیحت یہ ہے کہ وہ سب لوگ جو اس تحریک کے ساتھ ہیں، انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ اپنے اندر ابھاریں، خدا کے کام کو اپنے ذاتی کاموں پر ترجیح دیں اور اس کام میں دل کی وہ لگن پیدا کریں، جو انھیں چین سے نہ بیٹھنے دے۔

آپ خود ہی مسلمان نہ بنیں بلکہ اپنی جیب کو بھی مسلمان بنائیں۔ یہ بات نہ بھولیے کہ خدا کے حقوق آپ کے جسم و جان اور وقت ہی پر نہیں ہیں آپ کے مال پر بھی ہیں۔ اس حق کے لیے خدا اور رسولؐ نے کم سے کم کی حد تو مقرر کر دی ہے، مگر زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے۔ یہ حد تجویز کرنا آپ کا اپنا کام ہے۔ اپنے ضمیر سے پوچھیے کہ کتنا کچھ خدا کی راہ میں صرف کر کے آپ یہ خیال کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ جو کچھ آپ کے مال پر خدا کا حق تھا وہ آپ نے ادا کر دیا ہے۔ اس باب میں کوئی شخص کسی دوسرے کا جج نہیں بن سکتا۔ بہترین جج ہر شخص کا اپنا ضمیر و ایمان ہی ہے۔ البتہ میں اتنا ضرور کہوں گا کہ ان لوگوں کے طرزِ عمل سے سبق حاصل کیجیے، جو نہ خدا کے قائل ہیں، نہ آخرت کے اور پھر بھی وہ اپنے باطل نظریات کو فروغ دینے کے لیے ایسی ایسی قربانیاں کرتے ہیں، جنھیں دیکھ کر ہم خدا اور آخرت کے ماننے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

اقامت دین کے کام میں رفقاء کو جیسا انہماک ہونا چاہیے اس میں بھی ابھی مجھے بہت کمی محسوس ہوتی ہے۔ بعض رفیق تو بلاشبہ پوری سرگرمی سے کام کر رہے ہیں، جسے دیکھ کر جی خوش ہو جاتا ہے اور دل سے ان کے حق میں دُعا نکلتی ہے۔ مگر بیشتر حضرات میں ابھی تک دل کی لگن نظر نہیں آتی۔ فسق و فجور کی گرم بازاری اور خدا کے دین کی بے بسی دیکھ کر ایک مومن کے قلب میں، جو آگ لگنی چاہیے اس کی تپش کم ہی لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ آپ کو اس پر کم سے کم اتنی بے چینی تو لاحق ہو جتنی اپنے بچے کو بیمار دیکھ کر، یا اپنے گھر میں آگ لگنے کا خطرہ محسوس کر کے ہوا کرتی ہے۔ یہ معاملہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لیے سرگرمی اور انہماک کی حد تجویز کر سکتا ہو۔ اس کا فیصلہ تو ہر شخص کو اپنے ضمیر کا جائزہ لے کر خود ہی کرنا چاہیے کہ کتنا کچھ کام کر کے وہ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہو سکتا ہے کہ حق پرستی کے تقاضے اس نے پورے کر دیے ہیں۔ البتہ آپ کی عبرت کے لیے ان باطل پرستوں کی سرگرمیوں پر ایک نگاہ ڈال لینا کافی ہے، جو دنیا میں کسی نہ کسی دین باطل کو فروغ دینے کے درپے ہیں اور اس کے لیے سر دھڑ کی بازیاں لگا رہے ہیں۔

#### خواتین کے لیے ہدایات

اب تک جو کچھ میں نے کہا ہے اس کا بیشتر حصہ مردوں اور عورتوں کے لیے مشترک تھا اب میں خاص طور پر کچھ باتیں ان خواتین سے عرض کروں، جو ہمارے ساتھ وابستہ ہیں یا اس سے دل چسپی رکھتی ہیں۔

اولین ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ اپنے دین سے زیادہ سے زیادہ واقفیت حاصل کریں۔ نہ صرف قرآن سمجھ کر پڑھیں بلکہ کچھ نہ کچھ حدیث اور فقہ کا مطالعہ بھی کریں۔ نہ صرف دین کی بنیادی باتوں اور ایمان کے تقاضوں کو جانیں بلکہ یہ بھی معلوم کریں کہ آپ کی ذاتی زندگی، گھر کی زندگی، خاندان کی زندگی اور عام معاشرتی زندگی کے بارے میں دین کے احکام کیا ہیں۔ احکام دینی سے عورتوں کی عام ناواقفیت ان اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے، جن کی بہ دولت مسلمان گھروں میں غیر شرعی طریقے رائج ہوئے ہیں، بلکہ جاہلیت کی رسموں تک نے راہ پالی ہے۔ آپ کو سب سے پہلے خود اپنی اس خامی کو رفع کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔

دوسرا کام یہ ہے کہ آپ کو دین کا جو علم حاصل ہو اس کے مطابق آپ اپنی عملی زندگی کو، اپنے اخلاق اور سیرت کو اور اپنے گھر کی زندگی کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔ ایک مسلمان عورت میں کیریکٹر کی یہ مضبوطی ہونی چاہیے کہ وہ جس چیز کو حق سمجھے اس پر سارے گھر اور سارے خاندان کی مخالفت و مزاحمت کے باوجود ڈٹ جائے اور جس چیز کو باطل سمجھے اسے کسی کے زور دینے پر بھی قبول نہ کرے۔ ماں، باپ، شوہر اور خاندان کے دوسرے بزرگ یقیناً اس کے مستحق ہیں کہ ان کی فرماں برداری کی جائے، ان کا ادب و لحاظ کیا جائے، ان کے مقابلے میں نشوز اور خودسری نہ اختیار کی جائے۔ مگر سب کے حقوق اللہ اور اس کے رسولؐ کے حقوق سے نیچے ہیں نہ کہ ان کے اوپر۔ خدا اور رسولؐ کی نافرمانی کے راستے پر جو بھی آپ کو چلانا چاہے آپ اس کی فرماں برداری سے صاف انکار کر دیں، خواہ وہ باپ ہو یا شوہر۔ اس معاملے میں آپ ہرگز کسی سے نہ دبیں۔ بلکہ اس کا جو بدتر سے بدتر نتیجہ آپ کی دنیوی زندگی کو برباد کرتا نظر آئے اس کو بھی تو کلاً علی اللّٰہ گوارا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ دین کے اتباع میں آپ جتنی مضبوطی دکھائیں گی۔ ان شاء اللہ اتنا ہی آپ کے ماحول پر اچھا اثر پڑے گا اور بگڑے ہوئے گھروں کو درست کرنے کا آپ کو موقع ملے گا۔ اس کے برعکس بے جا اور غیر شرعی مطالبات کے آگے آپ جس قدر جھکیں گی، آپ کی اپنی زندگی بھی برکات سے محروم رہے گی اور آپ اپنے گرد و پیش کی سوسائٹی کو بھی ایمان و اخلاق کی کم زوری کا ایک برا نمونہ دیں گی۔

تیسرا کام آپ کے ذمے یہ ہے کہ تبلیغ و اصلاح کے معاملے میں اپنے گھر کے لوگوں، اپنے بھائی بہنوں، اور اپنے قریبی رشتے داروں کی طرف سب سے پہلے اور سب سے زیادہ توجہ کریں۔ جن بہنوں کو اللہ نے اولاد دی ہے ان کے ہاتھ میں تو گویا اللہ نے امتحان کے وہ پرچے دے دیے ہیں، جن پر اگر وہ کام یابی کے نمبر نہ لے سکیں تو پھر دوسرا کوئی پرچہ بھی ان کے اس نقصان کی تلافی نہ کر سکے گا۔ ان کی توجہ کی مستحق سب سے بڑھ کر ان کی اولاد ہے، جسے دین اور دینی اخلاق کی تربیت دینا ان کی ذمے داری ہے۔ شادی شدہ خواتین کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے شوہروں کو راہِ راست دکھائیں، اور اگر وہ راہِ راست پر ہوں تو اس پر چلنے میں ان کی زیادہ سے زیادہ مدد کریں۔ ایک لڑکی ادب و احترام کے پورے حدود ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے باپ اور اپنی ماں تک بھی کلمۂ حق پہنچا سکتی ہے اور کم از کم اچھی کتابیں تو ان کے مطالعہ کے لیے پیش کر ہی سکتی ہے۔

چوتھا کام، جسے آپ کو فرض سمجھتے ہوئے انجام دینا چاہیے یہ ہے کہ جس قدر وقت بھی آپ اپنے خانگی فرائض سے بچا سکتی ہوں، وہ دوسری عورتوں تک دین کا علم پہنچانے میں صرف کریں۔ چھوٹی لڑکیوں کو تعلیم دیجیے۔ بڑی عمر کی ان پڑھ عورتوں کو پڑھائیے۔ پڑھی لکھی عورتوں تک اسلامی کتابیں پہنچائیے۔ عورتوں کے باقاعدہ اجتماعات کر کر کے ان کو دین سمجھائیے، یا تقریر نہیں کر سکتی ہوں تو مفید چیزیں سنائیے۔ غرض آپ جس جس طرح بھی کام کر سکتی ہوں کریں اور امکانی حد تک پوری کوشش کریں کہ آپ کے حلقۂ تعارف میں عورتوں سے جہالت اور جاہلیت دور ہو۔

تعلیم یافتہ خواتین پر اس وقت ایک اور فرض بھی عائد ہوتا ہے، جو ایک لحاظ سے اپنی اہمیت میں دوسرے تمام کاموں سے بڑھ کر ہے وہ یہ کہ اس وقت مغرب زدہ طبقے کی خواتین عورتوں کو جس گم راہی، بے حیائی اور ذہنی و اخلاقی آوارگی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ اور جس طرح حکومت کے ذرائع و وسائل سے کام لے کر عورتوں کو غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں، ان کا پوری طاقت سے مقابلہ کیا جائے، یہ کام صرف مردوں کے کیے نہیں ہوسکتا۔ مرد جب اس گم راہی کی مخالفت کرتے ہیں تو عورتوں کو یہ کہہ کہہ کر بہکایا جاتا ہے کہ یہ مرد تو تم کو غلام رکھنے پر تلے ہوئے ہیں، ان کی تو ہمیشہ سے یہی مرضی رہی ہے کہ عورتیں چار دیواریوں میں گھٹ گھٹ کر مرتی رہیں اور انھیں آزادی کی ہوا نہ لگنے پائے۔ اس لیے ہمیں اس فتنے کا سدِ باب کرنے میں عورتوں کی مدد کی سخت ضرورت ہے۔ خدا کے فضل سے ہمارے ملک میں ایسی شریف اور خدا پرست خواتین کی کمی نہیں ہے، جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور ان اپوائی بیگمات سے علم اور ذہانت اور زبان و قلم کی طاقت میں کسی طرح کم نہیں ہیں۔ اب یہ ان کا کام ہے کہ آگے بڑھ کر ان کو منہ توڑ جواب دیں۔ وہ انھیں بتائیں کہ مسلمان عورت حدود اللہ سے باہر قدم نکالنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہے۔ وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہیں کہ مسلمان عورت اس ترقی پر لعنت بھیجتی ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے خدا اور اس کے رسولؐ کی مقرر کی ہوئی حدیں توڑنی پڑیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان کا یہ کام بھی ہے کہ منظم ہو کر اس حقیقی ضرورت کو جس کی خاطر حدود شکنی کو ناگزیر کہا جاتا ہے اسلامی حدود کے اندر پورا کر کے دکھائیں۔ تاکہ ہر گم راہ کرنے والے اور کرنے والی کا ہمیشہ کے لیے منہ بند ہو جائے۔