مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اور کارکن

اشاعت: 1979ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اسلامی تحریک کی کامیابی صرف نظریاتی وضاحت یا سیاسی حکمت عملی تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ اس کی بنیادی شرط وہ افراد ہیں جو اس تحریک کے علمبردار ہوں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’تحریک اور کارکن‘‘ اسی حقیقت کی تفصیلی تشریح پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی بھی اسلامی تحریک کی قوت اور استحکام دو بنیادی عناصر پر منحصر ہے: ایک مضبوط، منظم اور منصوبہ بند تنظیم، اور دوسرا کارکنوں کی فکری و اخلاقی تربیت۔ دونوں عناصر ایک دوسرے کے مکمل ہیں؛ جیسا کہ مشینری اور برقی رو کا تعلق ہوتا ہے، اسی طرح تنظیم کے بغیر تربیت بے جان ہے اور تربیت کے بغیر تنظیم بے روح۔

کتاب کا آغاز پیش لفظ سے ہوتا ہے جو دراصل اس کتاب کے مقصد اور پس منظر کی وضاحت کرتا ہے۔ مولانا مودودی نے مختلف مواقع پر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کے نام جو تقریریں اور تحریریں کیں، انہیں یکجا کر کے یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب محض اصولوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تحریک کی اخلاقی تاریخ کا ریکارڈ ہے، جس میں راہِ تحریک میں پیش آنے والی کمزوریوں اور ان کے علاج کا ذکر ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ تربیت کی کمی ایسا نقصان پہنچا سکتی ہے جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا، اور اس ضمن میں عالمِ اسلام کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ج: تکمیلی اوصاف

اب تک یہ بتایا جا چکا ہے کہ معاشرے کی اصلاح اور اسلامی نظامِ زندگی کی تعمیر کا، جو کام اب درپیش ہے، اس کے لیے کن صفات کے حامل افراد درکار ہیں اور ان افراد کی اجتماعی تنظیم میں کن اوصاف کا پایا جانا ضروری ہے۔

اس سلسلے میں اب تک جن امور کا ذکر کیا گیا ہے ان کی حیثیت دراصل محض ابتدائی اور بنیادی اوصاف کی ہے۔ جس طرح ایک کاروبار کی ابتدا کرنے کے لیے ایک کم سے کم سرمایہ درکار ہوتا ہے، جس کے بغیر اسے شروع ہی نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح اس کام کے لیے یہ کم سے کم اخلاقی سرمایہ ہے، جو آغازِ کار ہی میں موجود ہونا چاہیے، ورنہ اس کا حوصلہ کرنا ہی فضول ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے افراد کے ہاتھوں کسی اسلامی نظام کے قیام کا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اسلام کو جانتے ہی نہ ہوں، یا اس کے بارے میں خود اپنے اندر ہی قلبی اطمینان اور ذہنی یک سوئی نہ رکھتے ہوں یا اس کو خود اپنے اخلاق و کردار اور اپنی عملی زندگی کا دین بنانے سے قاصر ہوں، یا اس کے قیام کی سعی کو انھوں نے اپنا مقصود ہی نہ ٹھہرایا ہو۔ اسی طرح یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر مطلوبہ اوصاف کے افراد جمع تو ہو جائیں، مگر ان کے دل باہم جڑے ہوئے نہ ہوں، ان میں تعاون اور نظم وضبط نہ ہو، ان کو مل کر کام کرنے کا ڈھنگ نہ آتا ہو اور وہ باہمی مشورہ و تنقید کے صحیح طریقوں سے نابلد ہوں، تو محض ان کا جمع ہو جانا کوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں کر سکتا۔ لہٰذا یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ وہ چار انفرادی اور چار اجتماعی اوصاف، جن کا ذکر ہم نے اب تک کیا ہے۔ درحقیقت اس کام کا سرمایۂ آغاز ہیں اور ان کی جو کچھ بھی اہمیت ہے اسی لحاظ سے ہے۔ لیکن یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ اس کام کے فروغ اور اس کی کامیابی کے لیے بس یہی اخلاقی اور روحانی سرمایہ کافی ہے۔

اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ وہ مزید اوصاف کون سے ہیں، جو اصلاح و تعمیر کے مقصد میں کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہیں۔

#### تعلق باللہ اور خلوص

ان میں اوّلین وصف تعلق باللہ اور اخلاص للہ ہے۔ دنیا کے دوسرے کام تو نفس یا خاندان یا قبیلے یا قوم و وطن کی خاطر کیے جاسکتے ہیں، ذاتی اغراض اور ماڈّی مقاصد کی ساری آلائشوں کے ساتھ کیے جاسکتے ہیں، خدا پرستی ہی نہیں، انکار خدا تک کے ساتھ کیے جاسکتے ہیں، اور ان میں ہر طرح کی دنیاوی کامیابیاں ممکن ہیں۔ لیکن اسلامی نظام زندگی کا برپا کرنا ایک ایسا کام، جس میں کوئی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک آدمی کا تعلق اللہ کے ساتھ صحیح، مضبوط اور گہرا نہ ہو، اور اس کی نیت خالصتاً اللہ ہی کے لیے کام کرنے کی نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں جس چیز کو آدمی قائم کرنا چاہتا ہے وہ اللہ کا دین ہے اور اسے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی سب کچھ اس خدا کے لیے کرے جس کا یہ دین ہے۔ اس کی رضا اس کام میں مطلوب ہونی چاہیے، اس کی محبت اس کے لیے واحد محرک ہونی چاہیے۔ اس کی تائید و نصرت پر کلی اعتماد ہونا چاہیے۔ اس سے اجر کی ساری امیدیں وابستہ ہونی چاہئیں۔ اس کی ہدایات اور اس کے امرو نہی کا اتباع ہونا چاہیے اور اس کی پکڑ کا خوف دل پر چھایا رہنا چاہیے۔ اس کے سوا جس خوف، جس لالچ اور جس محبت اور جس اتباع و اطاعت کی آمیزش بھی ہوگی اور جو دوسری غرض بھی اس کام میں شامل ہو جائے گی۔ وہ راہ راست سے قدم ہٹادے گی اور اس کے نتیجے میں اور جو کچھ بھی قائم ہو جائے بہر حال اللہ کا دین قائم نہ ہو سکے گا۔

#### فکر آخرت

اسی سے قریب تر تعلق رکھنے والا دوسرا وصف فکر آخرت ہے۔ مومن کے کام کرنے کی جگہ اگر چہ دنیا ہے اور جو کچھ اسے کرنا ہے یہیں کرنا ہے، مگر وہ کام اس دنیا کے لیے نہیں کرتا بلکہ آخرت کے لیے کرتا ہے اور اس کا مطمع نظر دنیاوی نتائج نہیں بلکہ اُخروی نتائج ہوتے ہیں۔ اسے ہر لحاظ سے وہ کام کرنا چاہیے، جو آخرت میں نافع ہے اور ہر اس مشغلے سے دست کش ہو جانا چاہیے، جس کا وہاں کوئی حاصل نہیں نکلنا ہے۔ اُسے ہر اس فائدے کو ٹھکرا دینا چاہیے، جو آخرت میں نقصان کا موجب ہو اور ہر اس نقصان کو انگیز کر لینا چاہیے، جو آخرت میں نفع بخش ہو، اسے فکر صرف آخرت کے عذاب و ثواب کی ہونی چاہیے۔ دنیا کے کسی عذاب و ثواب کی کوئی اہمیت اس کی نگاہ میں نہ ہونی چاہیے۔ اس کی کوششیں اس دنیا میں بار آور ہوں یا نہ ہوں، یہاں اس کی کام یابی ہوتی نظر آئے یا ناکامی، یہاں اس کی تعریف ہو یا ندامت، یہاں وہ انعام پائے یا آزمائشوں میں ڈالا جائے۔ ہر حال میں اس کو اس یقین کے ساتھ کام کرنا چاہیے، جس خدا کے لیے وہ یہ ساری محنتیں کر رہا ہے، اس کی نگاہ سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے، اور اس کے ہاں دارِ آخرت کی ابدی جزا سے وہ ہرگز محروم نہ رہے گا، اور وہیں کی کام یابی اصلی کام یابی ہے۔ اس ذہنیت کے بغیر آدمی کے لیے چند قدم بھی اس راہ میں صحیح رُخ پر چلنا ممکن نہیں ہے۔ دنیا کی مقصودیت کا لگاؤ کسی ادنیٰ درجے میں بھی اس کے ساتھ لگا رہ جائے تو وہ قدم میں لغزش پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ راہِ خدا میں ایک چوٹ تو نہیں دو چار چوٹیں آخر کار اس شخص کی ہمتیں توڑ دیتی ہیں، جو دنیاوی کام یابیوں کو مقصود بنا کر چلتا ہے اور اس کی کوئی کام یابی کسی نہ کسی مرحلے پر اس آدمی کے رویے میں بگاڑ پیدا کر دیتی ہے، جس کے دل کو دنیاوی مقاصد کی کوئی چاٹ نہ لگی ہو۔

#### حسنِ سیرت

ان دو اوصاف کی تاثیر کو، جو چیز عملاً ایک زبردست قوتِ تسخیر میں تبدیل کر دیتی ہے وہ حسنِ سیرت ہے۔ خدا کی راہ میں کام کرنے والے لوگوں کو عالی ظرف اور فراخ حوصلہ ہونا چاہیے۔ ہم درد خلائق اور خیر خواہِ انسانیت ہونا چاہیے اور کریم النفس اور شریف الطبع ہونا چاہیے، خود دار اور خوگرِ قناعت ہونا چاہیے۔ متواضع اور منکسر المزاج ہونا چاہیے۔ شیریں کلام اور نرم خو ہونا چاہیے۔ وہ ایسے لوگ ہونے چاہئیں، جن سے کسی کو شر کا اندیشہ نہ ہو اور ہر ایک ان سے خیر خواہی کا متوقع ہو، جو اپنے حق سے کم پر راضی ہوں اور دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دینے پر تیار ہوں، جو برائی کا جواب بھلائی سے دیں یا کم سے کم برائی سے نہ دیں۔ جو اپنے عیوب کے معترف اور دوسروں کی بھلائی کے قدرداں ہوں، جو اتنا بڑا دل رکھتے ہوں کہ لوگوں کی کم زوریوں سے چشم پوشی کر سکیں، قصوروں کو معاف کر سکیں، زیادتیوں سے درگزر کر سکیں، اور اپنی ذات کے لیے کسی کا انتقام نہ لیں۔ جو خدمت لے کر نہیں، خدمت کر کے خوش ہوتے ہوں، اپنی غرض کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی کے لیے کام کریں، ہر تعریف سے بے نیاز اور ہر مذمت سے بے پرواہ ہو کر وہ اپنا فرض انجام دیں اور خدا کے سوا کسی کے اجر پر نگاہ نہ رکھیں، جو طاقت سے دبائے نہ جا سکیں، دولت سے خریدے نہ جا سکیں، مگر حق اور راستی کے آگے بے تامل سر جھکا دیں، جن کے دشمن بھی ان پر بھروسا رکھتے ہوں کہ کسی حال میں ان سے شرافت اور انصاف کے خلاف کوئی حرکت سرزد نہیں ہو سکتی۔ یہ دلوں کو موہ لینے والے اخلاق ہیں۔ ان کی کاٹ تلوار کی کاٹ سے بڑھ کر اور ان کا سرمایہ سیم و زر کی دولت سے گراں تر ہے۔ کسی فرد کو یہ اخلاق میسر ہوں تو وہ اپنے گرد و پیش کی آبادی کو مسخر کر لیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی جماعت کی جماعت ان اوصاف سے متصف ہو، اور پھر وہ کسی مقصدِ عظیم کے لیے منظم سعی بھی کر رہی ہو تو ملک کے ملک اس کے آگے مسخر ہوتے چلے جاتے ہیں، حتیٰ کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔

#### صبر و استقامت

اس کے ساتھ ایک اور صفت بھی ہے، جسے کام یابی کی کلید کہنا چاہیے، اور وہ ہے صبر، یہ ایک وسیع لفظ ہے، جس کے بہت سے مفہومات ہیں اور راہِ خدا میں کام کرنے والوں کو ان میں سے ہر مفہوم کے لحاظ سے صابر ہونا چاہیے۔

صبر کا ایک مفہوم یہ ہے کہ آدمی جلد باز نہ ہو، اپنی کوششوں کے نتائج فوراً اور جلدی دیکھنے کے لیے بے تاب نہ ہو اور دیر لگتے دیکھ کر ہمت نہ ہار جائے۔ صابر آدمی کی خوبی یہ ہے کہ وہ تمام عمر ایک مقصد کے پیچھے مسلسل محنت کیے چلا جاتا ہے، اور پیہم ناکامیوں کے باوجود اپنے کام میں لگا رہتا ہے۔ اصلاحِ خلق اور تعمیرِ حیات کا کام ایسا صبر آزما ہے کہ اس صفت کے بغیر کوئی شخص اس سے عہد برآ نہیں ہو سکتا۔ یہ بہ ہر حال ہتھیلی پر سرسوں جمانا نہیں ہے۔

صبر کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ آدمی تلوّن مزاجی، ضعفِ رائے اور قلتِ عزم کی بیماری میں مبتلا نہ ہو۔ اس میں یہ صفت موجود ہو کہ جس راہ کو اس نے سوچ سمجھ کر اختیار کر لیا ہے اس پر ثابت قدم رہے اور دل کے پورے عزم و ارادے کی پوری قوت کے ساتھ اس پر بڑھتا چلا جائے۔

صبر ہی کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ آدمی مشکلات اور مصائب کا مردانہ وار مقابلہ کرے اور اپنے مقصد کی راہ میں جو تکلیف بھی پیش آ جائے اسے ٹھنڈے دل کے ساتھ برداشت کر لے۔ صابر آدمی کسی طوفان اور کسی سیلاب کے تھپیڑوں سے شکست خوردہ ہو کر منہ نہیں موڑتا۔

صبر کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ آدمی زود رنج اور مشتعل مزاج نہ ہو۔ بلکہ متحمل اور بردبار ہو، جس شخص کو اصلاح و تعمیر کا کام کرنا ہو اور جسے تعمیر کے لیے کچھ نہ کچھ ناگزیر تخریب بھی کرنی پڑے، خصوصیت کے ساتھ جب یہ خدمت اسے مدتوں کی بگڑی ہوئی سوسائٹی میں انجام دینی ہو اسے لامحالہ بڑی گندی اور گھناؤنی اور کینہ قسم کی مخالفتوں سے سابقہ پیش آ کر رہتا ہے۔ اگر وہ اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ گالیاں کھا کر ہنس دے، طعنے سن کر ٹال دے، الزام اور بہتان اور جھوٹے پروپیگنڈے کو یکسر نظر انداز کر کے پورے سکون اور جمعیت خاطر کے ساتھ اپنا کام کرتا رہے تو بہتر یہی ہے کہ وہ اس راہ میں قدم ہی نہ رکھے۔ اس لیے کہ یہ کانٹوں بھری راہ ہے، اس کا ہر کانٹا یہ عزم کیے بیٹھا ہے کہ آدمی اور جس طرف بھی چلا جائے، مگر اس سمت میں اسے ایک انچ بھی نہ بڑھنے دیا جائے گا۔ اس حالت میں جو شخص ہر کانٹے سے الجھنے لگے، وہ کیا پیش قدمی کرے گا۔ یہاں تو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے، جن کے دامن سے اگر کوئی کانٹا الجھ جائے تو وہ دامن کا وہ حصہ پھاڑ کر اس کے حوالے کر دیں اور ایک لمحے کے لیے بھی اپنی راہ کھوٹی نہ کریں۔ یہ صبر صرف مخالفوں ہی کے مقابلے میں درکار نہیں ہے بلکہ بسا اوقات اس راہ کے راہرو کو، خود اپنے ساتھیوں سے تلخ اور ناگوار باتوں سے سابقہ پیش آ جاتا ہے اور ان کے معاملے میں اگر وہ حلم و تحمل سے کام نہ لے تو پورے قافلے کی راہ مار سکتا ہے۔

صبر اس چیز کا نام بھی ہے کہ آدمی ہر خوف اور ہر لالچ کے مقابلے میں راہِ راست پر جما رہے، شیطان کی ساری ترغیبات اور نفس کی تمام خواہشات کے علی الرغم اپنا فرض بجا لائے۔ حرام سے پرہیز کرے اور حدود اللہ پر قائم رہے۔ گناہ کی ساری لذتوں اور منفعتوں کو ٹھکرا دے اور نیکی اور راستی کے ہر نقصان اور اس کی بہ دولت حاصل ہونے والی ہر محرومی کو انگیز کر جائے۔ اپنی آنکھوں سے دنیا پرستوں کی رونقِ حیات دیکھے اور اس پر ریجھنا تو درکنار، دل میں ادنیٰ سی حسرت کو بھی راہ نہ دے۔ اپنے سامنے دنیا طلبی کی راہیں کشادہ اور کامرانیوں کے مواقع موجود پائے اور دل کی پوری طمانیت کے ساتھ اس متاعِ حیات پر راضی رہے، جو اپنے مقصد کی خدمت کرتے ہوئے وہ اپنے رب کے فضل سے حاصل کر رہا ہو۔

صبر ان تمام معنوں میں کلید کام یابی ہے، جس پہلو سے بھی ہمارے کام میں بے صبری کا دخل ہوگا، اس کا برا نتیجہ ظاہر ہوکر رہے گا۔

#### حکمت

ان سب اوصاف کے ساتھ ایک نہایت اہم وصف حکمت ہے، جس پر بہت بڑی حد تک کام یابی کا انحصار ہے۔ دنیا میں جو نظام زندگی بھی قائم ہیں۔ ان کو اعلیٰ درجے کے ذہین اور ہوشیار لوگ چلا رہے ہیں اور ان کی پشت پر مادی وسائل کے ساتھ عقلی و فکری طاقتیں اور علمی و فنی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرے نظام کو قائم کر دینا اور کام یابی کے ساتھ چلا لینا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ یہ بسم اللہ کے گنبد میں رہنے والوں کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ سادہ لوح لوگ خواہ کتنے ہی نیک اور نیک نیت ہوں، اس سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔ اس کے لیے گہری بصیرت اور تدبّر کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے دانش مندی اور معاملہ فہمی درکار ہے۔ اس کام کو وہی لوگ کر سکتے ہیں، جو موقع شناس اور باتدبیر ہوں اور ان کی زندگی کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ حکمت ان سب اوصاف کے لیے ایک جامع لفظ ہے اور اس کا اطلاق دانائی و زیرکی کے متعدد مظاہر پر ہوتا ہے۔

یہ حکمت ہے کہ آدمی انسانی نفسیات کی سمجھ رکھتا ہو اور انسانوں سے معاملہ کرنا جانتا ہو۔ لوگوں کے اذہان کو اپنی دعوت سے متاثر کرنے اور ان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کے طریقوں سے واقف ہو۔ ہر شخص کو ایک ہی لگی بندھی دوا دیتا نہ چلا جائے بلکہ ہر ایک کے مزاج اور مرض کی تشخیص کر کے علاج کرے۔ سب کو ایک لکڑی سے نہ ہانکے بلکہ جن جن اشخاص اور طبقوں اور گروہوں سے اس کو سابقہ پیش آئے ان کے مخصوص حالات کو سمجھ کر ان کے ساتھ معاملہ کرے۔

یہ بھی حکمت ہے کہ آدمی اپنے کام کو اس کے کرنے کے طریقوں کو جانتا ہو اور اس کے راستے میں پیش آنے والی دشواریوں، مخالفتوں اور مزاحمتوں سے نمٹنا بھی اس کو آتا ہو۔ اسے ٹھیک ٹھیک معلوم ہونا چاہیے کہ جس مقصد کے لیے وہ سعی کرنے اٹھا ہے اس کے لیے اسے کیا کچھ کرنا ہے، کس کس طرح دور کرنا ہے اور کس کس قسم کی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

یہ بھی حکمت ہی ہے کہ آدمی اس وقت کے حالات پر نظر رکھتا ہو، مواقع کو سمجھتا ہو اور یہ جانتا ہو کہ کس موقع پر کیا تدبیر کی جانی چاہیے حالات کو سمجھے بغیر اندھا دھند قدم اٹھا دینا، بے موقع کام کرنا اور موقعے پر چوک جانا مغفل لوگوں کا کام ہے اور ایسے لوگ خواہ کتنے ہی پاکیزہ مقصد کے لیے کتنی ہی نیکی اور نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہے ہوں، کبھی کام یاب نہیں ہو سکتے۔

اور ان سب حکمتوں سے بڑھ کر راس الحکمت یہ ہے کہ آدمی دین میں تفقہ اور معاملاتِ دنیا میں بصیرت رکھتا ہو۔ محض احکام اور مسائلِ شریعت سے واقف ہونا اور انھیں پیش آمدہ حوادث پر چسپاں کر دینا منصبِ افتاء کے لیے تو کافی ہو سکتا ہے۔ مگر بگڑے ہوئے معاشرے کو درست کرنے اور نظام زندگی کو جاہلیت کی بنیادوں سے اکھاڑ کر از سرِ نو قائم کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے لیے تو ضروری ہے کہ آدمی جزئیاتِ احکام کے ساتھ کلیاتِ احکام، بلکہ پورے نظامِ دین پر نظر رکھتا ہو، پھر احکام کے ساتھ ان کی حکمت کا بھی اسے علم ہو اور وقت کے ان حالات و مسائل کو بھی وہ سمجھتا ہو، جن میں احکام کو رائج کرنا مطلوب ہو۔

مطلوبہ اوصاف کے اس مرقع کو دیکھ کر بادی النظر میں ایک آدمی ہول کھا جاتا ہے اور یہ خیال کرنے لگتا ہے کہ یہ کام تو پھر کاملین کے کرنے کا ہے۔ عام انسان کہاں سے اتنے وصف لے کر آ سکتے ہیں۔ اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ ہر صفت کا ہر شخص میں بہ درجہ کمال پایا جانا لازم نہیں ہے۔ اور نہ یہی لازم ہے کہ کسی میں وہ پہلے ہی قدم پر اپنی پوری تربیت یافتہ شکل میں موجود ہو۔ ہمارا مقصود ان باتوں کے بیان کرنے سے صرف یہ بات ذہن نشین کرنا ہے کہ جو لوگ اس کام کو کرنے کے لیے اٹھیں وہ محض ”خدمتِ قوم کا ایک کام“ سمجھ کر یونہی کھڑے نہ ہو جائیں بلکہ اپنے نفس کا جائزہ لے کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ اس کام کے لیے جو اوصاف مطلوب ہیں ان کا مادہ ان کے اندر موجود ہے یا نہیں۔ بس مادہ اگر موجود ہے تو آغازِ کار کے لیے کافی ہے۔ اس کو پرورش کرنا اور اپنی استعداد کے مطابق زیادہ سے زیادہ ممکن حد تک ترقی دینا بعد کے مراحل سے تعلق رکھتا ہے۔ جس طرح ایک ذرا سا بیج زمین میں جڑ پکڑنے کے بعد، آہستہ آہستہ غذا پا کر تناور درخت بن جاتا ہے۔ لیکن بیج ہی موجود نہ ہو تو کچھ بھی نہیں بن سکتا۔ اسی طرح صفاتِ مطلوبہ کا مادہ آدمی میں موجود نہ ہو تو مناسب سعی و کوشش سے وہ بہ تدریج کمال تک پہنچ سکتا ہے۔ مگر سرے سے مادہ موجود ہی نہ ہو تو کسی سعی اور تربیت سے اس کا پیدا ہو جانا ممکن نہیں ہے۔

جو کچھ اب تک کہا جا چکا ہے۔ اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ اصلاح و تعمیر کے لیے ایک صحیح لائحۂ عمل جتنا ضروری ہے۔ اس سے بہت زیادہ ضروری ایسے کارکنوں کا وجود ہے، جو اس کام کے لیے موزوں اخلاقی اوصاف رکھتے ہوں کیوں کہ آخر کار جس چیز کو معاشرے سے نبرد آزما اور اقامتِ دین کی آزمائشوں سے دوچار ہونا ہے وہ کسی لائحۂ عمل کی دفعات نہیں بلکہ ان لوگوں کی اجتماعی و انفرادی سیرت ہے، جو میدانِ عمل میں کام کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ اس لیے ہمیں کسی لائحۂ عمل اور پروگرام کو طے کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کام کے لیے کیسے کارکن درکار ہیں۔ ان کو کن اوصاف سے متصف اور کن برائیوں سے پاک ہونا چاہیے اور ایسے کارکنوں کی تیاری کے ذرائع کیا ہیں۔ اس حقیقت کو واضح کرنے کے بعد ہم نے اوصافِ مطلوبہ کو تین حصوں میں بیان کیا ہے۔

اوّلاً وہ اوصاف، جو بنیادِ کار کی حیثیت سے اس کام میں حصہ لینے والے ہر فرد کے اندر موجود ہونی چاہئیں اور وہ یہ ہیں (۱) دین کا صحیح فہم (۲) اس پر پختہ ایمان (۳) اس کے مطابق سیرت و کردار اور (۴) اس کی اقامت کو مقصدِ زندگی بنانا۔ ثانیاً وہ اوصاف ہیں، جو اس خدمت کے لیے اٹھنے والی جماعت میں پائے جانے چاہئیں اور وہ یہ ہیں (۱) باہمی محبت، حسنِ ظن، اخلاص، ہم دردی و خیر خواہی اور ایک دوسرے کے لیے ایثار (۲) آپس کے مشورے سے کام کرنا اور مشاورت کے اسلامی آداب کو ملحوظ رکھنا (۳) نظم و ضبط و با قاعدگی، تعاون اور ٹیم اسپرٹ۔ تنقید بغرضِ اصلاح، جو سلیقے اور معقول طریقے سے ہو، جس سے جماعت کے اندر رونما ہونے والی خامیوں کا ہر وقت تدارک ہو سکے، نہ کہ خرابیوں میں اُلٹا اضافہ ہو۔

ثالثاً وہ اوصاف، جو اقامتِ دین کی جد و جہد کو صحیح خطوط پر چلانے اور کام یابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے ناگزیر ہیں یعنی (۱) اللہ کے ساتھ گہرا تعلق اور اسی کی رضا کے لیے کام کرنا (۲) آخرت کی باز پرس کو یاد رکھنا اور اجرِ آخرت کے سوا کسی دوسری چیز پر نگاہ نہ رکھنا (۳) حسنِ اخلاق (۴) صبر (۵) حکمت۔

اب ہمیں یہ دکھانا ہے کہ وہ بڑی بڑی برائیاں کیا ہیں، جن سے اس مقصدِ عظیم کے خادموں کو پاک ہونا چاہیے۔