تحریک اور کارکن
اشاعت: 1979ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
اسلامی تحریک کی کامیابی صرف نظریاتی وضاحت یا سیاسی حکمت عملی تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ اس کی بنیادی شرط وہ افراد ہیں جو اس تحریک کے علمبردار ہوں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’تحریک اور کارکن‘‘ اسی حقیقت کی تفصیلی تشریح پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی بھی اسلامی تحریک کی قوت اور استحکام دو بنیادی عناصر پر منحصر ہے: ایک مضبوط، منظم اور منصوبہ بند تنظیم، اور دوسرا کارکنوں کی فکری و اخلاقی تربیت۔ دونوں عناصر ایک دوسرے کے مکمل ہیں؛ جیسا کہ مشینری اور برقی رو کا تعلق ہوتا ہے، اسی طرح تنظیم کے بغیر تربیت بے جان ہے اور تربیت کے بغیر تنظیم بے روح۔
کتاب کا آغاز پیش لفظ سے ہوتا ہے جو دراصل اس کتاب کے مقصد اور پس منظر کی وضاحت کرتا ہے۔ مولانا مودودی نے مختلف مواقع پر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کے نام جو تقریریں اور تحریریں کیں، انہیں یکجا کر کے یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب محض اصولوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تحریک کی اخلاقی تاریخ کا ریکارڈ ہے، جس میں راہِ تحریک میں پیش آنے والی کمزوریوں اور ان کے علاج کا ذکر ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ تربیت کی کمی ایسا نقصان پہنچا سکتی ہے جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا، اور اس ضمن میں عالمِ اسلام کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ج: جماعت اسلامی کا مقصد اور مسلک
#### مقصد
[ ماخوذ از کتاب ”جماعت اسلامی کا مقصد، تاریخ اور لائحہ عمل“۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ نومبر ۱۹۵۱ء میں شائع ہوئی، اس لیے اس مضمون کو پڑھتے وقت اُس وقت کے حالات کو سامنے رکھنا چاہیے۔ (مرتب)] جماعت اسلامی جس مقصد کے لیے قائم کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ:
”انسانی زندگی کے پورے نظام کو اس کے تمام شعبوں (فکر و نظر، عقیدہ و خیال، مذہب و اخلاق، سیرت و کردار، تعلیم و تربیت، تہذیب و ثقافت، تمدن و معاشرت، معیشت و سیاست، قانون و عدالت، صلح و جنگ اور بین الاقوامی تعلقات) سمیت خدا کی بندگی اور انبیاء علیہم السلام کی ہدایت پر قائم کیا جائے۔“
یہ مقصد اول روز سے ہمارے پیش نظر رہا ہے اور آج بھی یہی ایک مقصد ہے، جس کے لیے ہم کام کر رہے ہیں۔ اس کے سوا کوئی دوسرا مقصد نہ ہمارے پیش نظر کبھی تھا، نہ آج ہے، نہ ان شاء اللہ کبھی ہوگا۔ آج تک جس کام سے بھی ہم نے دل چسپی لی ہے اسی مقصد کے لیے لی ہے اور اسی حد تک ہماری دانست میں اس کا تعلق اس مقصد سے تھا۔
جس چیز کو ہم قائم کرنا چاہتے ہیں اس کا جامع نام قرآن کی اصطلاح میں ”دینِ حق“ ہے، یعنی وہ نظامِ زندگی، (دین) جو پیغمبروں کی لائی ہوئی ہدایت کے مطابق اللہ کی بندگی و اطاعت پر مبنی ہو، مگر اس کے لیے کبھی کبھی ہم نے ”حکومتِ الٰہیہ“ کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے، جس کا مفہوم دوسروں کے نزدیک چاہے جو کچھ بھی ہو، ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ”اللہ کو حاکمِ حقیقی مان کر پوری انفرادی و اجتماعی زندگی اس کی محکومیت میں بسر کرنا۔“ اس لحاظ سے یہ لفظ بالکل اسلام کا ہم معنی ہے۔ اسی بنا پر ہم ان تینوں اصطلاحوں (دین حق، حکومت الہیہ اور اسلام) کو مترادف الفاظ کی طرح بولتے رہے ہیں اور اس مقصد کے حصول کی جدوجہد کا نام ہم نے اقامت دین، شہادتِ حق اور تحریکِ اسلامی رکھا ہے، جن سے پہلے دو لفظ قرآن سے ماخوذ ہیں اور دوسرا لفظ عام فہم ہونے کی وجہ سے اختیار کیا گیا ہے۔ ان الفاظ میں سے کسی پر اگر لوگوں نے ناک بھوں چڑھائی ہے تو اس لیے کہ انھوں نے ہماری اصطلاح سے اپنا مفہوم مراد لے لیا۔ ہمارا مفہوم مراد لیتے تو امید نہ ہوتی کہ اس پر وہ ناراض ہوتے۔
#### ہماری دعوت تمام انسانوں کے لیے ہے
ہمارے نزدیک اسلام ان لوگوں کی جائداد نہیں ہے، جو پہلے سے مسلمان ہیں، بلکہ خدا نے یہ نعمت ان سب کے لیے بھیجی ہے، جو انسان پیدا ہوئے ہیں۔ خواہ وہ روئے زمین کے کسی خطے میں بستے ہوں۔ اس بنا پر ہمارا مقصد محض مسلمانوں ہی کی نہیں بلکہ پوری نوع انسانی کی زندگی کو دین حق پر قائم کرنا ہے۔ مقصد کی یہ وسعت آپ سے تقاضا کرتی ہے کہ ہماری اپیل عام رہے اور کسی مخصوص قوم کے مفاد کو مدنظر رکھ کر کوئی ایسا طرزِ عمل نہ اختیار کیا جائے، جو اسلام کی اس عام اپیل کو نقصان پہنچانے والا ہو یا اس کی نقیض واقع ہونا ہو۔ مسلمانوں سے ہم کو دل چسپی اس بنا پر نہیں ہے کہ ہم ان میں پیدا ہوئے ہیں اور وہ ہماری قوم ہیں بلکہ ان کے ساتھ ہماری دل چسپی کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اسلام کو مانتے ہیں، دنیا میں اس کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں، نوع انسانی تک اس کا پیغام پہنچانے کے لیے انہی کو ذریعہ بنایا جاسکتا ہے اور دوسروں کے لیے اس پیغام کو مؤثر بنانا اس کے بغیر ممکن بھی نہیں ہے کہ جو لوگ پہلے سے مسلمان ہیں وہ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں پورے اسلام کا صحیح نمونہ پیش کریں۔ اس بنا پر ہمارا راستہ ان لوگوں کے راستے سے ہمیشہ الگ رہا ہے اور آج بھی الگ ہے، جنھیں مسلمانوں سے اصل دل چسپی اس لیے ہے کہ وہ اُن کی قوم ہیں اور اسلام سے یا تو کوئی دل چسپی ہی نہیں ہے یا ہے تو اس وجہ سے ہے کہ وہ ان کی قوم کا مذہب ہے۔
#### اسلام، مسلم قومیت اور ہم
ہم نے اپنے مقصد کے لحاظ سے اپنی تحریک کو اس طرز پر اُٹھایا ہے کہ ایک طرف اس کی دعوت تمام انسانوں کے لیے عام رہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو اسلام کی مکمل، صحیح علمی اور عملی شہادت دینے کے لیے تیار کیا جائے۔ ہم نے کبھی اسلام اور مسلم قومیت کے فرق اور امتیاز کو نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دیا ہے۔ ہم نے اسلام کے اصول و احکام اور اسلامی دعوت کے مفاد کو ہمیشہ قوم اور قومی مفاد پر مقدم رکھا ہے اور جہاں کہیں ان دونوں چیزوں میں تناقض واقع ہوا ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی اسلام کی خاطر قوم اور اس کے مفاد سے لڑ جانے میں تامل نہیں ہوا ہے۔ ہم نے مسلمانوں کے قومی تحفظ کے لیے کوشش کی تو اس لیے نہیں کہ دوسری قوموں کی طرح اس قوم کا بھی امتیازی وجود برقرار رہے بلکہ صرف اس لیے کہ یہ قوم دنیا میں حق کی شہادت ادا کرنے کے لیے قائم و دائم رہے۔ ہم نے ایک آزاد مسلم مملکت کا قیام بھی چاہا تو اس غرض سے نہیں کہ روئے زمین پر ایک اور ترکی یا ایک اور مصر یا ایران کا اضافہ ہو جائے بلکہ صرف اس غرض سے کہ ایک خالص اسلامی ریاست قائم ہو، جو اسلامی نظام زندگی کا مکمل نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرے۔ ہماری اس پوزیشن کو وہ لوگ کبھی نہ سمجھ سکے، جو اسلام اور مسلم قومیت کو گڈ مڈ کرتے ہیں یا قوم کو دین پر مقدم رکھتے ہیں، یا دین کے بجائے صرف قوم سے دل چسپی رکھتے ہیں۔ ہمارے اور ان کے راستے اگر کبھی کہیں ملے بھی تو عارضی طور پر اس جگہ جہاں اتفاقاً اسلام نے ہمیں اور ان کو جمع کر دیا ورنہ اکثر ہمارے اور ان کے طرزِ فکر و عمل میں تصادم ہی رہا۔ اس تصادم کے نتیجے میں ہم کو بارہا ”غداری“ کے طعنے بھی سننے پڑے ہیں مگر یہ طعنے ہمارے لیے بالکل بے معنی ہیں۔ ہم وفاداری کا مستحق صرف خدا اور رسول کو سمجھتے ہیں۔ پھر اس کو جو خدا اور رسول کا وفادار ہو۔ اس وفاداری سے انحراف تو البتہ ہمارے نزدیک دنیا و آخرت میں لعنت کا موجب ہے لیکن اگر اس وفاداری میں ہم ثابت قدم ہوں تو پھر دوسری جس چیز کا بھی ہمیں غدار ٹھیرایا جائے وہ ہمارے لیے باعث شرم نہیں بلکہ باعث فخر ہے۔
#### ہمارا تصورِ دین
”دین حق“ اور ”اقامتِ دین“ کے تصور میں بھی ہمارے اور بعض دوسرے لوگوں کے درمیان اختلاف ہے۔ ہم دین کو محض پوجا پاٹ اور چند مخصوص مذہبی عقائد و رسوم کا مجموعہ نہیں سمجھتے، بلکہ ہمارے نزدیک یہ لفظ طریقِ زندگی اور نظامِ حیات کا ہم معنی ہے اور اس کا دائرہ انسانی زندگی کے سارے پہلوؤں اور تمام شعبوں پر حاوی ہے۔ ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ زندگی کو الگ الگ حصوں میں بانٹ کر الگ الگ اسکیموں کے تحت چلایا جاسکتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس طرح کی تقسیم اگر کی بھی جائے تو وہ قائم نہیں رہ سکتی، کیوں کہ انسانی زندگی کے مختلف پہلو، انسانی جسم کے اعضاء کی طرح، ایک دوسرے سے ممیز ہونے کے باوجود آپس میں اس طرح پیوستہ ہیں کہ وہ سب مل کر ایک کل بن جاتے ہیں اور ان کے اندر ایک ہی روح جاری و ساری ہوتی ہے۔ یہ روح اگر خدا اور آخرت سے بے نیازی اور تعلیم انبیاء سے بے تعلقی کی روح ہو تو پوری زندگی کا نظام ایک دین باطل بن کر رہتا ہے اور اس کے ساتھ خدا پرستانہ مذہب کا ضمیمہ اگر لگا کر رکھا بھی جائے تو مجموعی نظام کی فطرت بہ تدریج اس کو مضمحل کرتے کرتے آخر کار بالکل محو کر دیتی ہے اور اگر یہ روح خدا اور آخرت پر ایمان اور تعلیم انبیاء کے اتباع کی روح ہو تو اس سے زندگی کا پورا نظام ایک دین حق بن جاتا ہے، جس کے حدود عمل میں ناخدا شناسی کا فتنہ اگر کہیں رہ بھی جائے تو زیادہ دیر تک پنپ نہیں سکتا۔ اس لیے ہم جب ’’اقامت دین‘‘ کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے ہمارا مطلب محض مسجدوں میں دین قائم کرنا یا چند مذہبی عقائد اور اخلاقی احکام کی تبلیغ کر دینا نہیں ہوتا بلکہ اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ گھر اور مسجد، کالج اور منڈی، تھانے اور چھاؤنی، کورٹ اور پارلیمنٹ، ایوانِ وزارت اور سفارت خانے سب پر اسی ہی ایک خدا کا دین قائم کیا جائے، جس کو ہم نے اپنا رب اور معبود تسلیم کیا ہے اور سب کا انتظام اسی ایک رسول کی تعلیم کے مطابق چلایا جائے، جسے ہم اپنا ہادی برحق مان چکے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر ہم مسلمان ہیں تو ہماری ہر چیز کو مسلمان ہونا چاہیے۔ اپنی زندگی کے کسی پہلو کو بھی ہم شیطان کے حوالے نہیں کر سکتے۔ ہمارے ہاں سب کچھ خدا کا ہے۔ شیطان یا قیصر کا کوئی حصہ نہیں ہے۔
#### مذہب اور سیاست کی یکجائی
ہماری ان باتوں پر وہ سب لوگ برہم ہیں، جنھوں نے مذہب کا ایک محدود تصور اختیار کر رکھا ہے، جو تفریقِ دین و دنیا اور امتیازِ مذہب و سیاست کے قائل ہیں، جن کے نزدیک خدا اور قیصر کے درمیان تقسیم ہو سکتی اور ہونی چاہیے اور جن کی نگاہ میں خدا راستی کا دین، بے خدا تمدن و سیاست کے ساتھ زندگی کا بٹوارہ قبول کر سکتا ہے اور مسجد و خانقاہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر باقی سب کچھ اپنے حریف کے لیے چھوڑ سکتا ہے۔ یہ لوگ ہم پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔
کوئی کہتا ہے کہ تم مذہب کی تبلیغ کرو۔ سیاست میں کیوں دخل دیتے ہو؟ مگر ہم اس بات کے قائل ہیں کہ ’’جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘۔ ’اب کیا یہ لوگ ہم سے یہ چاہتے ہیں کہ ہماری سیاست پر چنگیزی مسلط رہے اور ہم مسجد میں ’’مذہب‘‘ کی تبلیغ کرتے رہیں؟ اور آخر وہ مذہب کون سا ہے، جس کی تبلیغ کے لیے وہ ہم سے کہہ رہے ہیں؟ اگر وہ پادریوں والا مذہب ہے، جو سیاست میں دخل نہیں دیتا تو ہم اس پر ایمان نہیں رکھتے اور اگر وہ قرآن و حدیث کا مذہب ہے، جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں تو وہ سیاست میں محض دخل ہی نہیں دیتا بلکہ اس کو اپنا ایک جز بنا کر رکھنا چاہتا ہے۔
کوئی کہتا ہے کہ تم پہلے مذہبی لوگ تھے اب سیاسی گروہ بن گئے ہو۔ حالاں کہ ہم پر کبھی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا ہے جب ہم غیر سیاسی مذہب کے لحاظ سے ’’مذہبی‘‘ رہے ہوں اور آج خدا کی لعنت ہو ہم پر اگر ہم غیر مذہبی سیاست کے لحاظ سے ’’سیاسی‘‘ بن گئے ہوں۔ ہم تو ’’اسلام‘‘ کے پیرو ہیں اور اسی کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جتنا ’’مذہبی‘‘ ہے اتنے ہی ہم مذہبی ہیں اور ابتدا سے تھے۔ تم نے نہ کل ہمیں سمجھا تھا جب کہ ہم کو ’’مذہبی‘‘ گروہ قرار دیا اور نہ آج سمجھا ہے جب کہ ہمارا نام ’’سیاسی جماعت‘‘ رکھا۔ سیاست اور مذہب میں تمھارا استاد یورپ ہے۔ اس لیے نہ تم نے اسلام کو سمجھا اور نہ ہمیں۔
کوئی کہتا ہے کہ خدا تو صرف معبود ہے۔ تم نے یہ سیاسی حاکمیت اس کے لیے کہاں سے ثابت کر دی؟ اور اس پر غضب یہ ہے کہ تم اس حاکمیت کو اللہ کے لیے مخصوص کرتے ہو اور انسانی حاکمیت کے منکر ہو۔ یہ تو خالص خارجیت ہے کیوں کہ تمھاری طرح خارجی بھی یہی کہتے ہیں کہ ’’ان الحکم الا اللہ‘‘۔ ’’ہمارے نزدیک قرآن و حدیث کی رُو سے خدا کا حق صرف عبادت و پرستش ہی نہیں ہے بلکہ طاعت و عبدیت بھی ہے۔ ان میں سے جس حق میں بھی خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کیا جائے گا شرک ہوگا، بندوں میں سے کسی کی اطاعت اگر کی جاسکتی ہے تو صرف خدا کے اذنِ شرعی کی بنا پر کی جاسکتی ہے اور وہ بھی خدا کی مقرر کردہ حدود کے اندر، رہا خدا سے بے نیاز ہو کر مستقل بالذات مطاع ہونا تو وہ تو رسول کا حق بھی نہیں ہے کہ کجا کہ کسی انسانی ریاست یا سیاسی و تمدنی ادارے کا حق ہو۔ جس قانون، عدالت اور حکومت میں خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو سند نہ مانا جائے، جس کا بنیادی اصول یہ ہو کہ اجتماعی زندگی کے جملہ معاملات میں اصول اور فروع تجویز کرنا انسانوں کا اپنا کام ہے اور جس میں قانون ساز مجلسیں خدائی احکام کی طرف رجوع کرنے کی سرے سے ضرورت ہی نہ تسلیم کرتی ہوں اور عملاً ان کے خلاف قوانین بناتی ہوں۔ اس کی اطاعت کے لزوم تو درکنار جواز تک کا کوئی ثبوت قرآن و حدیث میں موجود نہیں ہے۔ اس بلا کو زیادہ سے زیادہ صرف برداشت کیا جا سکتا ہے جب کہ انسان اس کے پنجۂ اقتدار میں گرفتار ہو جائے۔ مگر جو شخص ایسی حکومتوں کے حقِ فرماں روائی کو تسلیم کرتا ہے اور اس بات کو ایک اصولِ برحق کی حیثیت سے مانتا ہے کہ خدائی ہدایت کو چھوڑ کر انسان بہ طور خود اپنے تمدن، سیاست اور معیشت کے اصول و قوانین وضع کر لینے کے مجاز ہیں وہ اگر خدا کو مانتا ہے تو شرک میں مبتلا ہے ورنہ زندقہ میں۔ ہمارے اس مسلک کو ”خارجیت“ سے تعبیر کرنا مذہبِ اہلِ سنت کی لکھی ہوئی کتبِ اصول میں سے جس کو چاہے اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ اس میں یہی لکھا ملے گا کہ حکم دینے کا حق اللہ کے لیے خاص ہے۔ مثال کے طور پر علامہ آمدی اپنی کتاب الاحکام فی اصول الاحکام میں لکھتے ہیں: <<اعلم انه لا حاكم سوى اللّٰه ولا حكم إلاّ ما حكم به>>۔ ”جان لو کہ حاکم اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے اور حکم صرف وہ ہے جو اللہ نے دیا“۔ اور شیخ محمد خضری اپنی کتاب اصول الفقہ میں کہتے ہیں: <<ان الحكم هو خطاب اللّٰه فلا حكم إلاّ له و هذه قضية اتفق عليها المسلمون قاطیة>> ”درحقیقت حکم اللہ کے فرمان کا نام ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ حکم دینے کا حق اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ یہ ایسی بات ہے، جس پر تمام مسلمان متفق ہیں“۔ یہ صرف دو ”خارجیوں“ کے اقوال ہم نے بہ طورِ مثال نقل کر دیے ہیں۔ اس طرح کے ”خوارج“ کی آپ جس قدر چاہیں طویل فہرست دی جا سکتی ہے۔
#### اسلامی حکومت
کچھ اور لوگ ہیں جو چبا چبا کر پوچھتے ہیں کہ یہ حکومتِ الہیہ یا اسلامی حکومت کا قیام کس نبی کی دعوت کا مقصود رہا ہے؟ مگر ہم پوچھتے ہیں کہ یہ قرآن اور توراۃ میں عقائد و عبادات کے ساتھ دیوانی اور فوجداری قوانین اور صلح و جنگ کے احکام اور معیشت و معاشرت کے قواعد و ضوابط اور سیاسی تنظیم کے اصول بیان ہوئے ہیں، کیا یہ سب محض تفننِ طبع کے لیے ہیں؟ کیا یہ آپ کے اختیارِ تمیزی پر چھوڑا گیا ہے کہ کتاب اللہ کی تعلیمات میں سے، جس چیز کو چاہیں جزوِ دین مانیں اور جسے چاہیں غیر ضروری زوائد میں شمار کریں؟ کیا انبیاۓ بنی اسرائیل علیہم السلام اور خاتم النبیین محمد ﷺ نے، جو سیاسی نظام قائم کیے وہ ان کی پیغمبرانہ دعوت کے مقاصد میں سے نہ تھے محض اتفاقات سے فائدہ اٹھا کر انھوں نے اپنا شوقِ فرماں روائی پورا کیا تھا؟ کیا دنیا میں کوئی قانون اس لیے بھی بنایا جاتا ہے کہ صرف اس کی تلاوت کر لی جائے، اس کا نفاذ سرے سے مقصود ہی نہ ہو؟ کیا واقعی ایمان اسی چیز کا نام ہے کہ ہم روز اپنی نمازوں میں کتاب اللہ کی وہ آیات پڑھیں، جن میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کے متعلق اصول اور احکام بیان ہوئے ہیں اور رات دن ہماری زندگی کے اکثر و بیشتر معاملات ان کے خلاف چلتے رہیں۔
#### مسلک
خدا کی بندگی، جس پر ہم پورے نظام زندگی کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بارے میں بھی ہمارا ایک واضح مسلک ہے اور وہ مختلف گروہوں کو مختلف وجوہ سے پسند نہیں آتا۔ ہمارے نزدیک ہر شخص اس کا مختار نہیں ہے کہ اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق جس طرح چاہے خدا کی بندگی کرے بلکہ اس کی ایک ہی صحیح صورت ہے اور وہ اس شریعت کی پابندی ہے، جو محمد ﷺ لے کر آئے ہیں۔ اس شریعت کے معاملے میں کسی مسلمان کے اس حق کو ہم تسلیم نہیں کرتے کہ وہ شریعت کی جن باتوں کو چاہے قبول کرے اور جن باتوں کو چاہے رد کر دے بلکہ ہم اسلام کے معنی ہی اطاعتِ حکمِ خداوندی اور اتباعِ شریعتِ محمدیؐ سمجھتے ہیں۔ شریعت کے علم کا ذریعہ ہمارے نزدیک صرف قرآن پاک نہیں ہے بلکہ حدیثِ رسول بھی ہے اور قرآن وحدیث سے استدلال کا صحیح طریقہ ہمارے نزدیک یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے نظریات پر خدا اور رسول کی ہدایات کو ڈھالے۔ پھر ہم نہ تو تقلیدِ جامد کے قائل ہیں، جس میں اجتہاد کی جگہ نہ ہو اور نہ ایسے اجتہاد کے قائل ہیں کہ ہر بعد کی نسل اپنے سے پہلے کی نسلوں کے سارے کام پر پانی پھیر دے اور بالکل نئے سرے سے ساری عمارت اٹھانے کی کوشش کرے۔
اس مسلک کا ہر جزو ایسا ہے، جس سے ہماری قوم کا کوئی نہ کوئی گروہ ہم سے ناراض ہے۔ کوئی سرے سے خدا کی بندگی کا قائل ہی نہیں ہے۔ کوئی شریعت سے بے نیاز ہو کر اپنی صواب دید کے مطابق خدا کی بندگی کرنا چاہتا ہے۔ کوئی شریعت میں اپنا اختیار چلانا چاہتا ہے اور اس کا مطالبہ یہ ہے کہ جو کچھ اسے پسند ہے وہ اس شریعت میں رہے اور جو اسے پسند نہیں ہے وہ شریعت سے خارج ہو جائے۔ کوئی قرآن و حدیث سے قطع نظر کر کے اپنے من گھڑت اصولوں کا نام اسلام رکھے ہوئے ہے، کوئی حدیث کو چھوڑ کر صرف قرآن کو مانتا ہے، کوئی اصول اور نظریات کہیں باہر سے لے آیا ہے یا اپنے دل سے گھڑ کر لایا ہے اور پھر زبردستی قرآن و حدیث کے ارشادات کو ان پر ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کسی کو تقلیدِ جامد پر اصرار ہے اور کوئی تمام پچھلے ائمہ کے کارناموں کو دریا بُرد کر کے نیا اجتہاد کرنا چاہتا ہے۔