مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اور کارکن

اشاعت: 1979ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اسلامی تحریک کی کامیابی صرف نظریاتی وضاحت یا سیاسی حکمت عملی تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ اس کی بنیادی شرط وہ افراد ہیں جو اس تحریک کے علمبردار ہوں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’تحریک اور کارکن‘‘ اسی حقیقت کی تفصیلی تشریح پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی بھی اسلامی تحریک کی قوت اور استحکام دو بنیادی عناصر پر منحصر ہے: ایک مضبوط، منظم اور منصوبہ بند تنظیم، اور دوسرا کارکنوں کی فکری و اخلاقی تربیت۔ دونوں عناصر ایک دوسرے کے مکمل ہیں؛ جیسا کہ مشینری اور برقی رو کا تعلق ہوتا ہے، اسی طرح تنظیم کے بغیر تربیت بے جان ہے اور تربیت کے بغیر تنظیم بے روح۔

کتاب کا آغاز پیش لفظ سے ہوتا ہے جو دراصل اس کتاب کے مقصد اور پس منظر کی وضاحت کرتا ہے۔ مولانا مودودی نے مختلف مواقع پر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کے نام جو تقریریں اور تحریریں کیں، انہیں یکجا کر کے یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب محض اصولوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تحریک کی اخلاقی تاریخ کا ریکارڈ ہے، جس میں راہِ تحریک میں پیش آنے والی کمزوریوں اور ان کے علاج کا ذکر ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ تربیت کی کمی ایسا نقصان پہنچا سکتی ہے جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا، اور اس ضمن میں عالمِ اسلام کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

الف: ہمارا طریقِ کار، اس کی حکمتیں اور فائدے

#### پہلا فائدہ

[یہ مضمون مولانا محترم کی اس تقریر کا دوسرا حصہ ہے، جس کا عنوان ہے ”دعوت اسلامی اور اس کا طریق کار“۔ اس کا پہلا حصہ ہم کتاب کے پہلے باب میں نقل کر آئے ہیں۔ اس حصے کو بھی پڑھتے وقت برعظیم ہند کی تقسیم سے پہلے کے حالات کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔(مرتب)] میں آپ کے سامنے مختصر طور پر اس طریقِ کار کو پیش کروں گا، جو ہم نے اپنی اس دعوت کے لیے اختیار کیا ہے۔ ہماری دعوت کی طرح ہمارا یہ طریقِ کار بھی دراصل قرآن اور انبیاء علیہم السلام کے طریقے سے ماخوذ ہے۔ جولوگ ہماری دعوت قبول کرتے ہیں، ان سے ہمارا اولین مطالبہ یہی ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو عملاً اور بالکلیہ بندگیِ رب میں دے دو اور ان تمام چیزوں سے اپنی زندگی کو پاک کرنے کی کوشش کرو، جو تمھارے ایمان کی ضد ہیں۔ یہیں سے ان کے اخلاق و سیرت کی تعمیر اور ان کی آزمائش کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں نے بڑی بڑی امنگوں (Ambitions) کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی انھیں اپنے اونچے اونچے خوابوں کی عمارتیں اپنے ہاتھ سے ڈھا دینی پڑتی ہیں اور اس زندگی میں قدم رکھنا پڑتا ہے، جس میں جاہ و منصب اور معاشی خوش حالیوں کے امکانات انھیں اپنی زندگی میں تو درکنار اپنی دوسری تیسری پشت میں بھی دور دور نظر نہیں آتے۔ جن لوگوں کی معاشی خوش حالی کسی مرہونہ زمین یا کسی مغصوبہ جائداد یا کسی ایسی میراث پر قائم تھی، جس میں حق داروں کے حقوق مارے گئے تھے۔ انھیں بسا اوقات دامن جھاڑ کر اس خوش حالی سے کنارہ کش ہوجانا پڑتا ہے۔ صرف اس لیے کہ جس خدا کو انھوں نے اپنا آقا تسلیم کیا ہے۔ اس کے منشاء کے خلاف کسی مال کا کھانا ان کے ایمان کے منافی ہے۔ جن لوگوں کے وسائلِ زندگی غیر شرعی تھے یا نظامِ باطل سے وابستہ تھے۔ ان کو ترقیوں کے خواب دیکھنا تو درکنار موجودہ وسائل سے حاصل کی ہوئی روٹی کا بھی ایک ٹکڑا حلق سے اتارنا ناگوار ہونے لگتا ہے اور وہ ان وسائل کو پاک تر وسائل سے خواہ وہ حقیر ترین ہی کیوں نہ ہوں، بدلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگتا ہے۔ پھر جیسا کہ ابھی میں آپ کے سامنے بیان کر چکا ہوں۔ اس مسلک کو عملاً اختیار کرتے ہی آدمی کا قریب ترین ماحول اس کا دشمن بن جاتا ہے۔ اس کے اپنے والدین، اس کے بھائی بند، اس کی بیوی اور بچے اور اس کے جگری دوست سب سے پہلے اس کے ایمان کے ساتھ قوت آزمائی شروع کر دیتے ہیں اور بسا اوقات اس مسلک کا پہلا اثر ظاہر ہوتے ہی آدمی کا اپنا گہوارہ جس میں وہ نازوں سے پالا گیا تھا۔ اس کے لیے زنبور خانہ بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ ہے وہ ابتدائی تربیت گاہ جو صالح و مخلص اور قابل اعتماد سیرت کے کارکن فراہم کرنے کے لیے قدرت الہی نے ہمارے لیے خود بخود پیدا کر دی ہے۔ ان ابتدائی آزمائشوں میں جو لوگ ناکام ہو جاتے ہیں وہ آپ سے آپ چھٹ کر الگ ہو جاتے ہیں اور ہمیں ان کو چھانٹ پھینکنے کی زحمت گوارا نہیں کرنی پڑتی اور جو لوگ ان میں پورے اترتے ہیں وہ ثابت کر دیتے ہیں کہ ان کے اندر کم از کم اتنا اخلاص، اتنی یکسوئی، اتنا صبر اور عزم، اتنی مضبوطی سیرت ضرور موجود ہے، جو خدا کی راہ میں قدم رکھنے اور پہلے مرحلۂ امتحان سے کامیاب گزر جانے کے لیے ضروری ہے۔ اس مرحلے کے کامیاب لوگوں کو ہم نسبتاً زیادہ بھروسے اور اطمینان کے ساتھ لے کر دوسرے مرحلے کی طرف پیش قدمی کر سکتے ہیں، جو آگے آنے والا ہے اور جس میں اس سے زیادہ آزمائشیں پیش آنے والی ہیں۔ وہ آزمائش پھر ایک دوسری بھٹی تیار کریں گی، جو اسی طرح کھوٹے سکّوں کو چھانٹ کر پھینک دے گی اور زرِ خالص کو اپنی گود میں رکھ لے گی۔ جہاں تک ہمارا علم ساتھ دیتا ہے ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ انسانی معادن سے کار آمد عناصر کو چھانٹنے اور ان کو زیادہ کار آمد بنانے کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جاتا رہا ہے اور جو تقویٰ ان بھٹیوں میں تیار ہوتا ہے، چاہے وہ فقہی ناپ تول میں پورا نہ اترے اور خانقاہی معیاروں پر بھی ناقص نکلے مگر صرف اسی طرز سے تیار کیے ہوئے تقویٰ میں یہ طاقت ہو سکتی ہے کہ انتظام دنیا کی بھاری ذمے داریوں کا بوجھ سنبھال سکے اور ان عظیم الشان امانتوں کا بار اٹھا سکے، جن کے ایک قلیل جزو کا وزن بھی خانقاہی تقویٰ کی برداشت سے باہر ہے۔

#### دوسرا فائدہ

اس کے ساتھ دوسری چیز جو ہم اپنے ارکان پر لازم کرتے ہیں، یہ ہے کہ جس حق کی روشنی انھوں نے پائی ہے اس سے وہ اپنے قریبی ماحول کو اور ان سب لوگوں کو جن سے ان کا قرابت یا دوستی یا ہم سائیگی یا لین دین کا تعلق ہے روشناس کرانے کی کوشش کریں اور انھیں اس کی طرف آنے کی دعوت دیں۔ یہاں پھر آزمائشوں کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو اس تبلیغ کی وجہ سے مبلغ کی اپنی زندگی درست ہوتی ہے کیوں کہ یہ کام شروع کرتے ہی بے شمار خورد بین اور دید بان (Searchlight) اس کی ذات کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور مبلغ کی زندگی میں اگر کوئی چھوٹی چیز بھی اس کے ایمان اور اس کی دعوت کے منافی موجود ہو تو یہ مفت کے محتسب اسے نمایاں کر کے مبلغ کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور تازیانے لگا لگا کر اسے مجبور کرتے ہیں کہ اپنی زندگی کو اس سے پاک کرے۔ اگر مبلغ فی الواقع اس دعوت پر سچے دل سے ایمان لایا ہو تو وہ ان تنقیدوں پر جھنجھلانے اور تاویلوں سے اپنے عمل کی غلطی کو چھپانے کی کوشش نہ کرے گا بلکہ ان لوگوں کی خدمات سے فائدہ اٹھائے گا، جو مخالفت کی نیت سے ہی سہی مگر بہ ہر حال اس کی اصلاح میں بغیر کسی معاوضے کی سعی و محنت کرتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس برتن کو بیسیوں ہاتھ مانجھنے میں لگ جائیں اور مانجھتے ہی چلے جائیں وہ چاہے کتنا ہی کثیف ہو آخر کار مجلّا و مصفّا ہو کر رہے گا۔

#### تیسرا فائدہ

پھر اس تبلیغ سے ہمارے کارکنوں میں بہت سے اوصاف کو بالیدگی حاصل ہوتی ہے، جنھیں آگے چل کر دوسرے میدانوں میں کسی اور شکل سے ہم کو استعمال کرنا ہے۔ جب مبلغ کو طرح طرح کے دل شکن حالات سے گزرنا پڑتا ہے کہیں اس کی ہنسی اڑائی جاتی ہے، کہیں اس پر طعنے اور آوازے کسے جاتے ہیں، کہیں گالیوں اور دوسری جہالتوں سے اس کی تواضع کی جاتی ہے، کہیں اس پر الزامات کی بوچھاڑ کی جاتی ہے، کہیں اس کو فتنوں میں الجھانے کی نت نئی تدبیریں کی جاتی ہیں، کہیں اسے گھر سے نکال دیا جاتا ہے، میراث سے محروم کیا جاتا ہے، دوستیاں اور رشتے داریاں اس سے منقطع کر لی جاتی ہیں اور اس کے لیے اپنے ماحول میں سانس تک لینا دشوار کر دیا جاتا ہے تو ان حالات میں، جو کارکن نہ ہمت ہارے، نہ حق سے پھرے، نہ باطل پرستوں کے آگے سپر ڈالے، نہ مشتعل ہو کر اپنے دماغ کا توازن کھوئے۔ بلکہ اس کے برعکس حکمت اور تدبّر اور ثابت قدمی اور راست بازی اور پرہیزگاری اور ایک سچے حق پرست کی سی ہم دردی و خیر خواہی کے ساتھ اپنے مسلک پر قائم اور اپنے ماحول کی اصلاح میں پیہم کوشاں رہے۔ اس کے اندر ان اوصاف عالیہ کا پیدا ہونا اور نشو و نما پانا یقینی ہے، جو آگے چل کر ہماری اس جد و جہد کے دوسرے مرحلوں میں اس سے بہت زیادہ پیمانے پر درکار ہوں گے۔

#### طریق دعوت

اس تبلیغ کے سلسلے میں ہم نے وہی طریقِ کار اپنے کارکنوں کو سکھانے کی کوشش کی ہے، جو قرآن مجید میں تعلیم فرمایا گیا ہے، یعنی یہ کہ حکمت اور موعظۂ حسنہ کے ساتھ خدا کے راستے کی طرف دعوت دیں، تدریج اور فطری ترتیب کو ملحوظ رکھتے ہوئے لوگوں کے سامنے دین کے اوّلین بنیادی اصولوں کو اور پھر رفتہ رفتہ ان کے مقتضیات اور لوازم کو پیش کریں، کسی کو اس کی قوتِ ہضم سے بڑھ کر خوراک دینے کی کوشش نہ کریں، فروع کو اصول پر اور جزئیات کو کلیات پر مقدم نہ کریں، بنیادی خرابیوں کو رفع کیے بغیر ظاہری برائیوں اور بیرونی شاخوں کو چھانٹنے اور کاٹنے میں اپنا وقت ضائع نہ کریں، غفلت اور اعتقادی و عملی گم راہیوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کے ساتھ نفرت و کراہیت کا برتاؤ کرنے کے بجائے ایک طبیب کی سی ہم دردی و خیر خواہی کے ساتھ ان کے علاج کی فکر کریں۔ گالیوں اور پتھروں کے جواب میں دعائے خیر کرنا سیکھیں، ظلم اور ایذا رسانی پر صبر کریں، جاہلوں سے بحثوں اور مناظروں اور نفسانی مجادلوں میں نہ الجھیں، لغو اور بیہودہ باتوں سے عالی ظرف اور شریف لوگوں کی طرح درگزر کریں، جو لوگ حق سے مستغنی بنے ہوئے ہوں۔ ان کے پیچھے پڑنے کے بجائے ان لوگوں کی طرف توجہ کریں، جن کے اندر کچھ طلب حق پائی جاتی ہو خواہ وہ دنیوی اعتبار سے کتنے ہی نا قابل توجہ سمجھے جاتے ہوں اور اپنی اس تمام سعی و جہد میں ریا اور نمود و نمائش سے بچیں، اپنے کارناموں کو گنانے اور فخر کے ساتھ ان کا مظاہرہ کرنے اور لوگوں کی تو جہات اپنی طرف کھینچنے کی ذرہ برابر کوشش نہ کریں، بلکہ جو کچھ کریں، اس نیت اور اس یقین و اطمینان کے ساتھ کریں کہ ان کا سارا عمل خدا کے لیے ہے اور خدا بہر حال ان کی خدمات سے بھی واقف ہے اور ان کی خدمات کی قدر بھی اس کے ہاں ہونی ہے، خواہ خلق اس سے واقف ہو یا نہ ہو اور خلق کی طرف سے سزا ملے یا جزا یہ طریقِ کار غیر معمولی صبر اور حلم اور لگاتار محنت چاہتا ہے۔ اس میں ایک مدت دراز تک مسلسل کام کرنے کے بعد بھی شان دار نتائج کی وہ ہری بھری فصل لہلہاتی نظر نہیں آتی، جو سطحی اور نمائشی کام شروع کرتے ہی دوسرے دن سے تماشائیوں اور مداریوں کا دل لبھانا شروع کر دیتی ہے۔ اس میں ایک طرف خود کارکن کے اندر وہ گہری بصیرت، وہ سنجیدگی، وہ پختہ کاری اور وہ معاملہ فہمی پیدا ہوتی ہے، جو اس تحریک کے زیادہ صبر آزما اور زیادہ محنت وحکمت چاہنے والے مراحل میں درکار ہونے والی ہے اور دوسری طرف اس سے تحریک اگرچہ آہستہ رفتار سے چلتی ہے مگر اس کا ایک ایک قدم مستحکم ہوتا چلا جاتا ہے۔ صرف ایسے ہی طریقِ تبلیغ سے سوسائٹی کا مکھن نکال کر تحریک میں جذب کیا جا سکتا ہے۔ اوچھے اور سطحی لوگوں کی بھیڑ جمع کرنے کی بجائے اس طریقِ تبلیغ سے سوسائٹی کے صالح ترین عناصر تحریک کی طرف کھنچتے ہیں اور وہ سنجیدہ (Serious) کارکن تحریک کو میسر آتے ہیں، جن میں سے ایک ایک آدمی کی شرکت ہزار بوالفضولوں کے انبوہ سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔

#### طریقِ کار کا ایک اہم جز اور اس کے مضمرات

ہمارے طریقِ کار کا ایک بڑا اہم جز یہ ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو نظامِ باطل کی قانونی اور عدالتی حفاظت سے خود بہ خود محروم کر لیا ہے اور علی الاعلان دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہم اپنے انسانی حقوق، اپنے مال و جان اور عزت و آبرو کسی چیز کی عصمت بھی قائم رکھنے کے لیے اس نظام کی مدد حاصل کرنا نہیں چاہتے، جس کو ہم باطل سمجھتے ہیں، لیکن اس چیز کو ہم نے تمام ارکان پر لازم نہیں کیا ہے بلکہ ان کے سامنے ایک بلند معیار رکھ دینے کے بعد ان کو اختیار دے دیا ہے کہ چاہیں تو اس معیار کی انتہائی بلندیوں تک پہنچ جائیں ورنہ حالات کی مجبوریوں سے شکست کھا کھا کر جس قدر پستی میں گرنا چاہیں گرتے چلے جائیں، البتہ پستی کی ایک حد ہم نے مقرر کر دی ہے کہ اس سے گزر جانے والے کو ہم اپنی جماعت میں نہ رکھیں گے، یعنی ایسا شخص جو جھوٹا مقدمہ بنانے یا جھوٹی شہادت دے یا ایسی مقدمہ بازی میں الجھے، جس کے لیے کسی مجبوری کا عذر نہ پیش کیا جا سکے۔ بلکہ وہ سراسر منفعت طلبی یا نفسانیت کی تسکین یا دوستی اور رشتہ داری کی عصبیت ہی پر مبنی ہو، ہماری جماعت میں جگہ نہیں پا سکتا۔

بہ ظاہر لوگ ہمارے اس طریق کار کی حکمتوں کو جو ہم نے قانون و عدالت کے معاملے میں اختیار کیا ہے پوری طرح نہیں سمجھتے۔ اس لیے وہ طرح طرح کے سوالات ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ مگر فی الحقیقت اس کے بے شمار فائدے ہیں۔ اس کا اولین فائدہ یہ ہے کہ ہم اپنا ایک بااصول جماعت ہونا اپنے عمل سے اور ایسے عمل سے ثابت کر دیتے ہیں، جو محض تفریحی نوعیت ہی نہیں رکھتا بلکہ صریح طور پر نہایت تلخ اور انتہائی کڑی آزمائشیں اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا کے سوا کسی کو انسانی زندگی کے لیے قانون بنانے کا حق نہیں ہے اور جب ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ حاکمیت (Sovereignty) صرف خدا کا حق ہے اور خدا کی اطاعت اور اس کے قانون کی پابندی کے بغیر کوئی زمین میں حکم چلانے کا مجاز نہیں ہے اور جب ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جو قانون الہٰی کی سند کے بغیر معاملات انسانی کا فیصلہ کرے وہ کافر، فاسق اور ظالم ہے تو ہمارے اس عقیدے اور ہمارے اس دعویٰ سے خود بہ خود یہ بات لازم آ جاتی ہے کہ ہم اپنے حقوق کی بنیاد کسی غیر الہٰی قانون پر نہ رکھیں اور حق اور غیر حق کا فیصلہ کسی ایسے حاکم کی حکومت پر نہ چھوڑیں، جس کو ہم باطل سمجھتے ہیں۔ اپنے عقیدے کے اس تقاضے کو اگر ہم سخت سے سخت نقصانات اور انتہائی خطرات کے مقابلے میں بھی پورا کر کے دکھا دیں تو یہ ہماری راستی اور ہماری مضبوطی سیرت اور ہمارے عقیدے اور عمل کی مطابقت کا ایسا بین ثبوت ہو گا، جس سے بڑھ کر کسی دوسرے ثبوت کی حاجت نہیں رہتی اور اگر کسی نفع کی امید یا کسی نقصان کا خطرہ یا کسی ظلم و ستم کی چوٹ ہم کو مجبور کر دے کہ ہم اپنے عقیدے کے خلاف کام کر گزریں تو یہ ہماری کم زوری کا اور ہماری سیرت کے بودے پن کا ایک نمایاں ترین ثبوت ہو گا، جس کے بعد کسی دوسرے ثبوت کی ضرورت نہ رہے گی۔

اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اپنے ارکان کی پختگی اور ان کے قابل اعتماد یا نا قابل اعتماد ہونے کا اندازہ کرنے کے لیے ہمارے پاس یہ ایک ایسی کسوٹی ہو گی، جس سے ہم بہ آسانی یہ معلوم کرتے رہیں گے کہ ہم میں سے کون لوگ کتنے پختہ ہیں اور کس سے کس قسم کی آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

اس کا تیسرا اور عظیم الشان فائدہ یہ ہے کہ ہمارے ارکان یہ مسلک اختیار کرنے کے بعد آپ سے آپ اس بات پر مجبور ہوجائیں گے کہ سوسائٹی کے ساتھ اپنے تعلقات کو قانون کی بنیادوں پر قائم کرنے کے بجائے اخلاق کی بنیادوں پر قائم کریں۔ ان کو اپنا اخلاقی معیار اتنا بلند کرنا پڑے گا، اپنے آپ کو اپنے ماحول میں اس قدر راست باز، متدین، اتنا خدا ترس اور اس قدر خیر مجسم بنانا پڑے گا کہ لوگ خود بہ خود ان کے حقوق، ان کی عزت اور ان کی جان و مال کا احترام کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ کیوں کہ اس اخلاقی تحفظ کے سوا ان کے لیے دنیا میں اور کوئی تحفظ نہ ہوگا اور قانونی تحفظ سے محروم ہونے اور پھر اخلاقی تحفظ حاصل کرنے کی صورت میں ان کی حیثیت دنیا میں بالکل ایسی ہو کر رہ جائے گی، جیسے جنگل میں ایک بکری بھیڑیوں کے درمیان رہتی ہو۔

اس کا چوتھا فائدہ یہ ہے اور یہ بھی کچھ کم اہم نہیں ہے کہ ہم اس طرح اپنے آپ کو اور اپنے مفادات و حقوق کو خطرے میں ڈال کر موجودہ سوسائٹی کی اخلاقی حالت کو برہنہ کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیں گے۔ جب لوگ یہ ماننے کے بعد کہ ہم پولیس اور عدالت سے اپنی حفاظت کے لیے کوئی مدد لینے والے نہیں ہیں۔ ہمارے حقوق پر علی الاعلان ڈاکے ماریں گے تو یہ اس بات کا نمایاں ترین ثبوت ہوگا کہ ہمارے ملک کی اور ہماری سوسائٹی کی اخلاقی حالت کس قدر کھوکھلی ہے، کتنے آدمی ہیں جو صرف اس وجہ سے شریف بنے ہوئے ہیں کہ قانون نے ان کو شریف بنا رہنے پر مجبور کر رکھا ہے، کتنے آدمی ہیں، جو ہر قسم کی خیانت اور بے ایمانی کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں بہ شرطے کہ ان کو اطمینان ہو جائے کہ دنیا میں ان پر کوئی گرفت کرنے والا نہیں ہے، کتنے آدمی ہیں، جنھوں نے مذہب اور اخلاق اور انسانیت کے جھوٹے لبادے اوڑھ رکھے ہیں حالاں کہ اگر موقع میسر آجائے اور کوئی رکاوٹ موجود نہ ہو تو ان سے بدترین اخلاقی اور لامذہبیت اور حیوانیت کا صدور نہایت آسانی سے ہو سکتا ہے۔ یہ اخلاقی ناسور جو چھپا ہوا ہے اور اندر ہی اندر ہماری قومی سیرت کو گلا اور سڑا رہا ہے ہم اس کو علی رؤوس الاشہاد بے پردہ کر کے رکھ دیں گے تا کہ ہمارے ملک کا اجتماعی ضمیر چونک پڑے اور اسے ٹھیک ٹھیک اندازہ ہو کہ جس مرض سے وہ اب تک غفلت برت رہا ہے وہ کتنی دُور پہنچ چکا ہے۔

#### استدراک

مارچ ۱۹۴۹ء میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد منظور کی۔ اس کے بعد پاکستان اصول و عقیدے کے لحاظ سے اسلامی ریاست کی حیثیت اختیار کر گیا۔ اس آئینی تغیر کے بعد جماعت اسلامی کے نقطۂ نظر میں بھی تبدیلی واقع ہونا لازمی تھا۔ چناں چہ اس کے بعد جماعت نے جو نیا لائحۂ عمل وضع کیا وہ چار بڑے بڑے مقاصد پر مشتمل ہے:

اول یہ کہ اس مملکت کو ان تمام فکری اور عملی رجحانات سے بچایا جائے، جو اسے اسلام کے راستے سے منحرف کرنے والے ہیں۔

دوم یہ کہ عوام الناس کی ذہنی اور اخلاقی اصلاح کی جائے یہاں تک کہ ہمارا معاشرہ جاہلیت کی بنیادوں سے ہٹ کر اسلام کی صالح بنیادوں پر قائم ہو اور اس قابل بن جائے کہ اس میں برائیاں دبیں اور بھلائیاں نشوونما پائیں۔

سوم یہ کہ ہماری اس نئی مملکت کی تعمیر لازماً انھی بنیادوں پر ہو، جو قرارداد مقاصد میں متعین کر دی گئی ہیں اور کسی ایسی تدبیر کو نہ چلنے دیا جائے، جو قرارداد مقاصد کو بالائے طاق رکھ کر یہاں ایک غیر اسلامی طرز کا نظام حکومت قائم کرنے کے لیے اختیار کی جائے۔

چہارم یہ کہ آئینی ذرائع سے اس مملکت کی موجودہ قیادت کو ایک صالح قیادت سے تبدیل کیا جائے اور اسے بروئے کار لا کر قوانین، نظم و نسق، تعلیم، مالیات، معاشی نظام، فلاح عمومی، دفاع اور خارجہ سیاست میں ایسی اصلاحات کی جائیں، جن سے پاکستان دنیا میں اسلام کی صحیح نمائندہ ریاست بن جائے۔ [ملاحظہ ہو کتاب: ’’جماعت اسلامی کا مقصد، تاریخ اور لائحہ عمل‘‘۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن یکم نومبر ۱۹۵۱ء کو شائع ہوا۔ مرتب]