مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اور کارکن

اشاعت: 1979ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اسلامی تحریک کی کامیابی صرف نظریاتی وضاحت یا سیاسی حکمت عملی تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ اس کی بنیادی شرط وہ افراد ہیں جو اس تحریک کے علمبردار ہوں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’تحریک اور کارکن‘‘ اسی حقیقت کی تفصیلی تشریح پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی بھی اسلامی تحریک کی قوت اور استحکام دو بنیادی عناصر پر منحصر ہے: ایک مضبوط، منظم اور منصوبہ بند تنظیم، اور دوسرا کارکنوں کی فکری و اخلاقی تربیت۔ دونوں عناصر ایک دوسرے کے مکمل ہیں؛ جیسا کہ مشینری اور برقی رو کا تعلق ہوتا ہے، اسی طرح تنظیم کے بغیر تربیت بے جان ہے اور تربیت کے بغیر تنظیم بے روح۔

کتاب کا آغاز پیش لفظ سے ہوتا ہے جو دراصل اس کتاب کے مقصد اور پس منظر کی وضاحت کرتا ہے۔ مولانا مودودی نے مختلف مواقع پر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کے نام جو تقریریں اور تحریریں کیں، انہیں یکجا کر کے یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب محض اصولوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تحریک کی اخلاقی تاریخ کا ریکارڈ ہے، جس میں راہِ تحریک میں پیش آنے والی کمزوریوں اور ان کے علاج کا ذکر ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ تربیت کی کمی ایسا نقصان پہنچا سکتی ہے جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا، اور اس ضمن میں عالمِ اسلام کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اسلامی اخلاقیات کے چار مراتب

جس چیز کو ہم اسلامی اخلاقیات سے تعبیر کرتے ہیں وہ قرآن و حدیث کی رو سے دراصل چار مراتب پر مشتمل ہے: ایمان، اسلام، تقویٰ اور احسان۔ یہ چاروں مراتب یکے بعد دیگرے اس فطری ترتیب پر واقع ہیں کہ ہر بعد کا مرتبہ پہلے مرتبے سے پیدا اور لازماً اسی پر قائم ہوتا ہے اور جب تک نیچے والی منزل پختہ و محکم نہ ہو جائے دوسری منزل کی تعمیر کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ اس پوری عمارت میں ایمان کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔ اس بنیاد پر اسلام کی منزل تعمیر ہوتی ہے۔ پھر اس کے اوپر تقویٰ اور سب سے اوپر احسان کی منزلیں اٹھتی ہیں۔ ایمان نہ ہو تو اسلام و تقویٰ یا احسان کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ ایمان کم زور ہو تو اس پر کسی بالائی منزل کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا، یا ایسی کوئی منزل تعمیر کر دی جائے تو وہ بودی اور متزلزل ہوگی۔ ایمان محدود ہو تو جتنے حدود میں محدود ہوگا، اسلام، تقویٰ اور احسان بھی بس انہی حدود تک محدود رہیں گے۔ پس جب تک ایمان پوری طرح صحیح، پختہ اور وسیع نہ ہو، کوئی مردِ عاقل، جو دین کا فہم رکھتا ہو اسلام، تقویٰ یا احسان کی تعمیر کا خیال نہیں کر سکتا۔ اسی طرح تقویٰ سے پہلے اسلام اور احسان سے پہلے تقویٰ کی تصحیح، پختگی اور توسیع ضروری ہے۔ لیکن اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اس فطری و اصولی ترتیب کو نظر انداز کر کے ایمان و اسلام کی تکمیل کے بغیر تقویٰ و احسان کی باتیں شروع کر دیتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ افسوس ناک یہ ہے کہ بالعموم لوگوں کے ذہنوں میں ایمان و اسلام کا ایک نہایت محدود تصور جاگزیں ہے۔ اسی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ محض وضع قطع، لباس، نشست و برخاست، اکل و شرب اور ایسی ہی چند ظاہری چیزوں کو ایک مقرر نقشے پر ڈھال لینے سے تقویٰ کی تکمیل ہو جاتی ہے اور پھر عبادات میں نوافل و اذکار، اوراد و وظائف اور ایسے ہی بعض اعمال اختیار کر لینے سے احسان کا بلند مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ بسا اوقات اسی ”تقویٰ“ اور ”احسان“ کے ساتھ ساتھ لوگوں کی زندگیوں میں ایسی صریح علامات بھی نظر آتی ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی ان کا ایمان ہی سرے سے درست اور پختہ نہیں ہوا ہے۔ یہ غلطیاں جب تک موجود ہیں کسی طرح یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ ہم اسلامی اخلاقیات کا نصاب پورا کرنے میں کبھی کام یاب ہو سکیں گے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہمیں ایمان، اسلام، تقویٰ اور احسان کے ان چاروں مراتب کا پورا پورا تصور بھی حاصل ہو اور اس کے ساتھ ہم ان کی فطری ترتیب کو بھی اچھی طرح سمجھ لیں۔

#### (۱) ایمان

اس سلسلے میں سب سے پہلے ایمان کو لیجیے، جو اسلامی زندگی کی بنیاد ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ توحید و رسالت کے اقرار کا نام ایمان ہے۔ اگر کوئی شخص اس کا اقرار کر لے تو اس سے وہ قانونی شرط پوری ہو جاتی ہے، جو دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کے لیے رکھی گئی ہے اور وہ اس کا مستحق ہو جاتا ہے کہ اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کیا جائے۔ مگر کیا یہی سادہ اقرار، جو ایک قانونی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے، اس غرض کے لیے بھی کافی ہو سکتا ہے کہ اسلامی زندگی کی ساری سہ منزلہ عمارت صرف اسی بنیاد پر قائم ہو سکے؟ لوگ ایسا ہی سمجھتے ہیں اور اسی لیے جہاں یہ اقرار موجود ہوتا ہے وہاں عملی اسلام اور تقویٰ اور احسان کی تعمیر شروع کر دی جاتی ہے، جو اکثر ہوائی قلعے سے زیادہ پائیدار ثابت نہیں ہوتی۔ لیکن فی الواقع ایک مکمل اسلامی زندگی کی تعمیر کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ایمان اپنی تفصیلات میں پوری طرح وسیع اور اپنی گہرائی میں اچھی طرح مستحکم ہو۔ ایمان کی تفصیلات میں سے جو شعبہ بھی چھوٹ جائے گا اسلامی زندگی کا وہی شعبہ تعمیر ہونے سے رہ جائے گا اور اس کی گہرائی میں جہاں بھی کسر رہ جائے گی اسلامی زندگی کی عمارت اسی مقام پر بودی ثابت ہوگی۔

مثال کے طور پر ایمان باللہ کو دیکھیے، جو دین کی اوّلین بنیاد ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ خدا کا اقرار اپنی سادہ صورت سے گزر کر جب تفصیلات میں پہنچتا ہے تو لوگوں کے ذہن میں اس کی بے شمار صورتیں بن جاتی ہیں۔ کہیں وہ صرف اس حد پر ختم ہو جاتا ہے کہ بے شک خدا موجود ہے اور دنیا کا خالق ہے اور اپنی ذات میں اکیلا ہے۔ کہیں اس کی انتہائی وسعت بس اتنی ہوتی ہے کہ خدا ہمارا معبود ہے اور ہمیں اس کی پرستش کرنی چاہیے۔ کہیں خدا کی صفات اور اس کے حقوق و اختیارات کا تصور کچھ زیادہ وسیع ہو کر بھی اس سے آگے نہیں بڑھتا کہ عالم الغیب، سمیع و بصیر، سمیع الدعوات و قاضی الحاجات اور ”پرستش“ کی تمام جزوی شکلوں کا مستحق ہونے میں خدا کا کوئی شریک نہیں ہے، اور یہ کہ ”مذہبی معاملات“ میں آخری سند خدا ہی کی کتاب ہے۔ ظاہر ہے کہ ان مختلف تصورات سے ایک ہی طرز کی زندگی نہیں بن سکتی، بلکہ جو تصور جتنا محدود ہے عملی زندگی اور اخلاق میں بھی لازماً اسلامی رنگ اتنا ہی محدود ہوگا، حتیٰ کہ جہاں عام مذہبی تصورات کے مطابق ایمان باللہ اپنی انتہائی وسعت پر پہنچ جائے گا وہاں بھی اسلامی زندگی اس سے آگے نہ بڑھ سکے گی کہ خدا کے باغیوں کی وفاداری اور خدا کی وفاداری ایک ساتھ نباہ لی جائے، یا نظامِ کفر اور نظامِ اسلام کو سمو کر ایک مرکب بنا لیا جائے۔

اسی طرح ایمان باللہ کی گہرائی کا پیمانہ بھی مختلف ہے۔ کوئی خدا کا اقرار کرنے کے باوجود اپنی کسی معمولی سے معمولی چیز کو بھی خدا پر قربان کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ کوئی بعض چیزوں سے خدا کو عزیز تر رکھتا ہے مگر بعض چیزیں اسے خدا سے عزیز تر ہوتی ہیں۔ کوئی اپنی جان مال تک خدا پر قربان کر دیتا ہے مگر اپنے رجحاناتِ نفس اور اپنے نظریات و افکار کی قربانی یا اپنی شہرت کی قربانی اسے گوارا نہیں ہوتی۔ ٹھیک ٹھیک اسی تناسب سے اسلامی زندگی کی پائیداری و ناپائیداری بھی متعین ہوتی ہے اور انسان کا اسلامی اخلاق ٹھیک اسی مقام پر دغا دے جاتا ہے جہاں اس کے نیچے ایمان کی بنیاد کم زور رہ جاتی ہے۔

ایک مکمل اسلامی زندگی کی عمارت اگر اُٹھ سکتی ہے تو صرف اُسی اقرارِ توحید پر اُٹھ سکتی ہے، جو انسان کی پوری انفرادی و اجتماعی زندگی پر وسیع ہو۔ جس کے مطابق انسان اپنے آپ کو اور اپنی ہر چیز کو خدا کی ملک سمجھے۔ اس کو اپنا اور تمام دنیا کا ایک ہی جائز مالک، معبود، مطاع اور صاحبِ امر و نہی تسلیم کرے۔ اسی کو ہدایت کا سرچشمہ مانے اور پورے شعور کے ساتھ اس حقیقت پر مطمئن ہو جائے کہ خدا کی اطاعت سے انحراف، یا اس کی ہدایت سے بے نیازی، یا اس کی ذات و صفات اور حقوق و اختیارات میں غیر کی شرکت، جس پہلو اور رنگ میں بھی ہے سراسر ضلالت ہے۔ پھر اس عمارت میں اگر استحکام پیدا ہوسکتا ہے تو صرف اسی وقت جب کہ آدمی پورے ارادے کے ساتھ یہ فیصلہ کرے کہ وہ اور اس کا سب کچھ اللہ کا ہے اور اللہ ہی کے لیے ہے۔ اپنے معیار پسند و ناپسند کو ختم کر کے اللہ کی پسند و ناپسند کے تابع کر دے۔ اپنی خودسری کو مٹا کر اپنے نظریات و خیالات، خواہشات، جذبات اور اندازِ فکر کو اُس علم کے مطابق ڈھال لے، جو خدا نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔ اپنی تمام اَن وفاداریوں کو دریا برد کردے، جو خدا کی وفاداری کے تابع نہ ہوں بلکہ اس کے مدِ مقابل بنی ہوئی ہوں یا بن سکتی ہوں۔ اپنے دل میں سب سے بلند مقام پر خدا کی محبت کو بٹھائے، اور ہر اُس بت کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے نہاں خانۂ دل سے نکال پھینکے، جو خدا کے مقابلے میں عزیز تر ہونے کا مطالبہ کرتا ہو۔ اپنی محبت اور نفرت، اپنی دوستی اور دشمنی، اپنی رغبت اور کراہیت، اپنی صلح اور جنگ، ہر چیز کو خدا کی مرضی میں اس طرح گم کردے کہ اس کا نفس وہی چاہنے لگے، جو خدا چاہتا ہے اور اسی سے بھاگنے لگے جو خدا کو ناپسند ہے۔ یہ ہے ایمان باللہ کا حقیقی مرتبہ اور آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ جہاں ایمان ہی ان حیثیات سے اپنی وسعت و ہمہ گیری اور اپنی پختگی و مضبوطی میں ناقص ہو وہاں تقویٰ یا احسان کا کیا امکان ہوسکتا ہے۔ کیا اس نقص کی کسر داڑھیوں کے طول اور لباس کی تراش خراش یا سبحہ گردانی و تہجد خوانی سے پوری کی جاسکتی ہے۔

اسی پر دوسرے ایمانیات کو بھی قیاس کر لیجیے۔ نبوت پر ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک انسان کا نفس زندگی کے سارے معاملات میں نبی کو اپنا رہ نما نہ مان لے اور اس کی رہ نمائی کے خلاف یا اس سے آزاد جتنی رہ نمایاں ہوں ان کو رد نہ کردے۔ کتاب پر ایمان اس وقت تک ناقص ہی رہتا ہے، جب تک نفس میں کتاب اللہ کے بتائے ہوئے اصول زندگی کے سوا کسی دوسری چیز کے تسلّط پر رضامندی کا شائبہ بھی باقی نہ ہو یا اتباع ما انزل اللہ کو اپنی اور ساری دنیا کی زندگی کا قانون دیکھنے کے لیے قلب و روح کی بے چینی میں کچھ کسر ہو۔ اسی طرح آخرت پر بھی ایمان مکمل نہیں کہا جاسکتا جب تک نفس پوری طرح آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے اور اخروی قدروں کے مقابلے میں دنیوی قدروں کو ٹھکرا دینے پر آمادہ نہ ہو جائے اور آخرت کی جواب دہی کا خیال اسے زندگی کی ہر راہ پر چلتے ہوئے قدم قدم پر کھٹکنے نہ لگے۔ یہ بنیادیں ہی جہاں پوری نہ ہوں آخر وہاں اسلامی زندگی کی عالی شان عمارت کس شے پر تعمیر ہوگی؟ جب لوگوں نے ان بنیادوں کی توسیع اور پختگی کے بغیر تعمیر اخلاق اسلامی کو ممکن سمجھا، تب ہی تو نوبت یہاں تک پہنچی کہ کتاب اللہ کے خلاف فیصلہ کرنے والے جج، غیر شرعی قوانین کی بنیاد پر مقدمے لڑنے والے وکیل، نظام کفر کے مطابق معاملات زندگی کا انتظام کرنے والے کارکن، کافرانہ اصول تمدن و ریاست پر زندگی کی تشکیل و تاسیس کے لیے لڑنے والے لیڈر اور پیرو، غرض سب کے لیے تقویٰ و احسان کے مراتب عالیہ کا دروازہ کھل گیا، بہ شرطے کہ وہ اپنی زندگی کے ظاہری انداز و اطوار کو ایک خاص نقشے پر ڈھال لیں اور کچھ نوافل و اذکار کی عادت ڈال لیں۔

#### (۲) اسلام

ایمان کی یہ بنیادیں، جن کا میں نے ابھی آپ سے ذکر کیا ہے، جب مکمل اور گہری ہو جاتی ہیں، تب ان پر اسلام کی منزل شروع ہوتی ہے۔ اسلام دراصل ایمان کے عملی ظہور کا دوسرا نام ہے۔ ایمان اور اسلام کا باہمی تعلق ویسا ہی ہے، جیسا بیج اور درخت کا تعلق ہوتا ہے۔ بیج میں جو کچھ اور جیسا کچھ موجود ہوتا ہے وہی درخت کی شکل میں ظاہر ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ درخت کا امتحان کر کے بہ آسانی یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ بیج میں کیا تھا اور کیا نہ تھا۔ آپ نہ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ بیج نہ ہو اور درخت موجود ہو اور نہ یہی ممکن ہے کہ زمین بنجر بھی نہ ہو اور بیج اس میں موجود بھی ہو، پھر بھی درخت پیدا نہ ہو۔ ایسا ہی معاملہ ایمان اور اسلام کا ہے۔ جہاں ایمان موجود ہو گا، لازماً اس کا ظہور آدمی کی عملی زندگی میں، اخلاق میں، برتاؤ میں، تعلقات کے کٹنے اور جڑنے میں، دوڑ دھوپ کے رُخ میں، مذاق و مزاج کی افتاد میں، سعی و جہد کے راستوں میں، اوقات اور قوتوں اور قابلیتوں کے مصرف میں، غرض مظاہر زندگی کے ہر ہر جزو میں ہو کر رہے گا۔ ان میں سے جس پہلو میں بھی اسلام کے بہ جائے غیر اسلام ظاہر ہو، یقین کر لیجیے کہ اس پہلو میں ایمان موجود نہیں ہے یا ہے تو بالکل بودا اور بے جان ہے۔ اور اگر عملی زندگی ساری کی ساری ہی غیر مسلمانہ شان سے بسر ہو رہی ہو، تو جان لیجیے کہ دل ایمان سے خالی ہے یا زمین اتنی بنجر ہے کہ ایمان کا بیج برگ و بار نہیں لا رہا ہے۔ بہ ہر حال میں نے جہاں تک قرآن و حدیث کو سمجھا ہے، یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ دل میں ایمان ہو اور عمل میں اسلام نہ ہو۔

(اس موقعے پر ایک صاحب نے اٹھ کر پوچھا کہ ایمان اور عمل کو آپ ایک ہی چیز سمجھتے ہیں یا ان دونوں میں کچھ فرق ہے؟ اس کے جواب میں کہا:)

آپ تھوڑی دیر کے لیے اپنے ذہن سے ان بحثوں کو نکال دیں، جو فقہا اور متکلمین نے اس مسئلے میں کی ہیں اور قرآن سے اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اعتقادی ایمان اور عملی اسلام لازم و ملزوم ہیں۔ اللہ تعالیٰ جگہ جگہ ایمان اور عمل صالح کا ساتھ ساتھ ذکر کرتا ہے اور تمام اچھے وعدے، جو اس نے اپنے بندوں سے کیے ہیں انہی لوگوں سے متعلق ہیں، جو اعتقاداً مومن اور عملاً مسلم ہوں۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں جہاں منافقین کو پکڑا ہے وہاں ان کے عمل ہی کی خرابیوں سے ان کے ایمان کے نقص پر دلیل قائم کی ہے اور عملی اسلام ہی کو حقیقی ایمان کی علامت ٹھیرایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قانونی لحاظ سے کسی شخص کو کافر ٹھیرانے اور امت سے اس کا رشتہ کاٹ دینے کا معاملہ دوسرا ہے اور اس میں انتہائی احتیاط ملحوظ رہنی چاہیے۔ مگر میں یہاں اس ایمان و اسلام کا ذکر نہیں کر رہا ہوں، جس پر دنیا میں فقہی احکام مترتب ہوتے ہیں، بلکہ یہاں ذکر اس ایمان و اسلام کا ہے، جو خدا کے ہاں معتبر ہے اور جس پر اخروی نتائج مترتب ہونے والے ہیں۔ قانونی نقطۂ نظر کو چھوڑ کر حقیقتِ نفس الامری کے لحاظ سے اگر آپ دیکھیں گے تو یقیناً یہی پائیں گے کہ جہاں عملاً خدا کے آگے سپراندازی اور سپردگی و حوالگی میں کمی ہے، جہاں نفس کی پسند خدا کی پسند سے مختلف ہے، جہاں خدا کی وفاداری کے ساتھ غیر کی وفاداری نبھ رہی ہے، جہاں خدا کا دین قائم کرنے کی سعی کے بہ جائے دوسرے مشاغل میں انہماک ہے، جہاں کوششیں اور محنتیں راہِ خدا کے بہ جائے دوسری راہوں میں صرف ہو رہی ہیں۔ وہاں ضرور ایمان میں نقص ہے اور ظاہر ہے کہ ناقص ایمان اور احسان کی تعمیر نہیں ہوسکتی، خواہ ظاہر کے اعتبار سے متقیوں کی سی وضع بنانے اور محسنین کے سے بعض اعمال کی نقل اتارنے کی کتنی ہی کوشش کی جائے۔ ظاہر فریب شکلیں اگر حقیقت کی روح سے خالی ہوں تو ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے، جیسی ایک نہایت خوب صورت آدمی کی لاش بہترین وضع و ہیئت میں موجود ہو مگر اس میں جان نہ ہو۔ اس خوب صورت لاش کی ظاہری شان سے دھوکا کھا کر آپ اگر کچھ توقعات اس سے وابستہ کر لیں گے تو واقعات کی دنیا اپنے پہلے ہی امتحان میں اس کا ناکارہ ہونا ثابت کر دے گی اور تجربے سے آپ کو خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ ایک بدصورت مگر زندہ انسان ایک خوب صورت مگر بے روح لاش سے بہ ہر حال زیادہ کارگر ہوتا ہے۔ ظاہر فریبوں سے آپ اپنے نفس کو تو ضرور دھوکا دے سکتے ہیں، لیکن عالمِ واقعہ پر کچھ بھی اثر نہیں ڈال سکتے اور نہ خدا کی میزان ہی میں کوئی وزن حاصل کر سکتے ہیں۔ پس اگر آپ کو ظاہری نہیں بلکہ وہ حقیقی تقویٰ اور احسان مطلوب ہو، جو دنیا میں دین کا بول بالا کرنے اور آخرت میں خیر کا پلڑا جھکانے کے لیے درکار ہے تو میری اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے کہ اوپر کی یہ دونوں منزلیں کبھی نہیں اُٹھ سکتیں جب تک ایمان کی بنیاد مضبوط نہ ہو جائے اور اس کی مضبوطی کا ثبوت عملی اسلام یعنی بالفعل اطاعت و فرماں برداری سے نہ مل جائے۔

#### (۳) تقویٰ

تقویٰ کی بات کرنے سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ تقویٰ ہے کیا چیز؟ تقویٰ حقیقت میں کسی وضع و ہیئت اور کسی خاص طرزِ معاشرت کا نام نہیں ہے بلکہ دراصل وہ نفس کی اُس کیفیت کا نام ہے، جو خدا ترسی اور احساسِ ذمے داری سے پیدا ہوتی ہے اور زندگی کے ہر پہلو میں ظہور کرتی ہے۔ حقیقی تقویٰ یہ ہے کہ انسان کے دل میں خدا کا خوف ہو۔ عبدیت کا شعور ہو۔ خدا کے سامنے اپنی ذمے داری و جواب دہی کا احساس ہو۔ اور اس بات کا زندہ ادراک موجود ہو کہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے جہاں خدا نے ایک مہلتِ عمر دے کر مجھے بھیجا ہے اور آخرت میں میرے مستقبل کا فیصلہ بالکل اس چیز پر منحصر ہے کہ میں اس دیے ہوئے وقت کے اندر اس امتحان گاہ میں اپنی قوتوں و قابلیتوں کو کس طرح استعمال کرتا ہوں۔ اس سرو سامان میں کس طرح تصرف کرتا ہوں، جو مشیتِ الٰہی کے تحت مجھے دیا گیا ہے اور ان انسانوں کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہوں، جن سے قضائے الٰہی نے مختلف حیثیتوں سے میری زندگی متعلق کر دی ہے۔ یہ احساس و شعور جس شخص کے اندر پیدا ہو جائے اس کا ضمیر بیدار ہو جاتا ہے۔ اس کی دینی حس تیز ہو جاتی ہے۔ اس کو وہ ہر چیز کھٹکنے لگتی ہے، جو خدا کی پسند سے مختلف ہو۔ وہ اپنے نفس کا آپ جائزہ لینے لگتا ہے کہ میرے اندر کس قسم کے رجحانات و میلانات پرورش پا رہے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کا خود محاسبہ کرنے لگتا ہے کہ میں کن کاموں میں اپنا وقت اور اپنی قوتیں صرف کر رہا ہوں۔ وہ صریح ممنوعات تو درکنار مشتبہ امور میں بھی مبتلا ہوتے ہوئے خود جھجھکنے لگتا ہے۔ اس کا احساسِ فرض اسے مجبور کر دیتا ہے کہ تمام اوامر کو پوری فرماں برداری کے ساتھ بجالائے۔ اس کی خدا ترسی ہر اس موقعے پر اس کے قدم میں لرزش پیدا کر دیتی ہے جہاں حدود اللہ سے تجاوز کا اندیشہ ہو۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی نگہ داشت آپ سے آپ اس کا وتیرہ بن جاتی ہے اور اس خیال سے بھی اس کا ضمیر کانپ اُٹھتا ہے کہ کہیں اس سے کوئی بات حق کے خلاف سرزد نہ ہو جائے۔ یہ کیفیت کسی ایک شکل یا کسی مخصوص دائرے میں ہی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ آدمی کے پورے طرزِ فکر اور اس کے تمام کارنامۂ زندگی میں اس کا ظہور ہوتا ہے اور اس کے اثر سے ایک ایسی ہموار و یک رنگ سیرت پیدا ہوتی ہے، جس میں آپ ہر پہلو سے ایک ہی طرز کی پاکیزگی و صفائی پائیں گے۔ بہ خلاف اس کے جہاں تقویٰ بس اس چیز کا نام رکھ لیا گیا ہے کہ آدمی چند مخصوص شکلوں کی پابندی اور مخصوص طریقوں کی پیروی اختیار کرے اور مصنوعی طور پر اپنے آپ کو ایک ایسے سانچے میں ڈھال لے جس کی پیمائش کی جا سکتی ہو، وہاں آپ دیکھیں گے کہ وہ چند اشکالِ تقویٰ جو سکھا دی گئی ہیں، اُن کی پابندی تو انتہائی اہتمام کے ساتھ ہو رہی ہے، مگر اس کے ساتھ زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں وہ اخلاق، وہ طرزِ فکر اور وہ طرزِ عمل بھی ظاہر ہو رہے ہیں، جو مقامِ تقویٰ تو درکنار، ایمان کے ابتدائی مقتضیات سے بھی مناسبت نہیں رکھتے۔ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کی تمثیلی زبان میں مچھر چھانے جا رہے ہیں اور اونٹ بے تکلفی کے ساتھ نگلے جا رہے ہیں۔

حقیقی تقویٰ اور مصنوعی تقویٰ کے اس فرق کو یوں سمجھیے کہ ایک شخص تو وہ ہے، جس کے اندر طہارت و نظامت کی حس مضبوط ہے اور پاکیزگی کا ذوق پایا جاتا ہے۔ ایسا شخص گندگی سے فی نفسہٖ نفرت کرے گا خواہ وہ جس شکل میں بھی ہو اور طہارت کو بہ جائے خود اختیار کر لے گا خواہ اس کے مظاہر کا احاطہ نہ ہو سکتا ہو۔ بہ خلاف اس کے ایک دوسرا شخص ہے، جس کے اندر طہارت کی حس موجود نہیں ہے مگر وہ گندگیوں اور طہارتوں کی ایک فہرست لیے پھرتا ہے، جو کہیں سے اس نے نقل کر لی ہیں۔ یہ شخص ان گندگیوں سے تو سخت اجتناب کر لے گا، جو اس نے فہرست میں لکھی ہوئی پائی ہیں، مگر بے شمار ایسی گھناؤنی چیزوں میں آلودہ پایا جائے گا جو ان گندگیوں سے بدرجہا زیادہ ناپاک ہوں گی، جن سے وہ بچ رہا ہے، صرف اس وجہ سے کہ وہ اُس فہرست میں درج ہونے سے رہ گئیں۔ یہ فرق جو میں آپ سے عرض کر رہا ہوں، یہ محض ایک نظری فرق نہیں ہے بلکہ آپ اس کو اپنی آنکھوں سے ان حضرات کی زندگیوں میں دیکھ سکتے ہیں، جن کے تقویٰ کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ ایک طرف ان کے ہاں جزئیاتِ شرع کا یہ اہتمام ہے کہ داڑھی ایک خاص مقدار سے کچھ بھی کم ہو تو فسق کا فیصلہ نافذ کر دیا جاتا ہے۔ پائنچہ ٹخنے سے ذرا نیچے ہو جائے تو جہنم کی وعید سنادی جاتی ہے۔ اپنے مسلکِ فقہی کے فروعی احکام سے ہٹنا ان کے نزدیک گویا دین سے نکل جانا ہے لیکن دوسری طرف دین کے اصول و کلیات سے ان کی غفلت اس حد کو پہنچی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کی پوری زندگی کا مدار انھوں نے رخصتوں اور سیاسی مصلحتوں پر رکھ دیا ہے۔ اقامتِ دین کی سعی سے گریز کی بے شمار راہیں انھوں نے نکال رکھی ہیں۔ غلبۂ کفر کے تحت ”اسلامی زندگی“ کے نقشے بنانے ہی میں ان کی ساری محنتیں اور کوششیں صرف ہورہی ہیں اور انھی کی غلط رہ نمائی نے مسلمانوں کو اس چیز پر مطمئن کیا ہے کہ ایک غیر اسلامی نظام کے اندر رہتے ہوئے، بلکہ اس کی خدمت کرتے ہوئے بھی ایک محدود دائرے میں مذہبی زندگی بسر کر کے وہ دین کے سارے تقاضے پورے کر سکتے ہیں۔ اس سے آگے کچھ مطلوب نہیں ہے، جس کے لیے وہ سعی کریں۔ پھر اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اگر کوئی ان کے سامنے دین کے اصلی مطالبے پیش کرے اور سعی اقامتِ دین کی طرف توجہ دلائے تو صرف یہی نہیں کہ وہ اس کی بات سنی ان سنی کر دیتے ہیں، بلکہ کوئی حیلہ، کوئی بہانہ اور کوئی چال ایسی نہیں چھوڑتے، جو اس کام سے خود بچنے اور مسلمانوں کو بچانے کے لیے استعمال نہ کریں۔ اس پر بھی ان کے تقویٰ پر کوئی آنچ نہیں آتی اور نہ مذہبی ذہنیت رکھنے والوں میں سے کسی کو یہ شک ہوتا ہے کہ ان کے تقویٰ میں کوئی کسر ہے۔ اسی طرح حقیقی اور مصنوعی تقویٰ کا فرق بے شمار شکلوں میں ظاہر ہوتا رہتا ہے مگر آپ اسے تب ہی محسوس کر سکتے ہیں کہ تقویٰ کا اصلی تصور آپ کے ذہن میں واضح طور پر موجود ہو۔

میری ان باتوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وضع قطع، لباس اور معاشرت کے ظاہری پہلوؤں کے متعلق، جو آداب و احکام حدیث سے ثابت ہیں میں ان کا استخفاف کرنا چاہتا ہوں یا انھیں غیر ضروری قرار دیتا ہوں۔ خدا کی پناہ اس سے کہ میرے دل میں ایسا کوئی خیال ہو۔ دراصل جو کچھ میں آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اصل شے حقیقتِ تقویٰ ہے نہ کہ یہ مظاہر۔ حقیقتِ تقویٰ جس کے اندر پیدا ہوگی اس کی پوری زندگی ہمواری و یک رنگی کے ساتھ اسلامی زندگی بنے گی۔ اسلام اپنی پوری ہمہ گیری کے ساتھ اس کے خیالات میں، اس کے جذبات و رجحانات میں، اس کے مذاقِ طبیعت میں، اس کے اوقات کی تقسیم اور اس کی قوتوں کے مصارف میں، اس کی سعی کی راہوں میں، اس کے طرزِ زندگی اور معاشرت میں، اس کی کمائی اور خرچ میں، غرض اس کی حیاتِ دنیوی کے سارے ہی پہلوؤں میں رفتہ رفتہ نمایاں ہوتا چلا جائے گا۔ بہ خلاف اس کے اگر مظاہر کو حقیقت پر مقدم رکھا جائے گا اور ان پر بے جا زور دیا جائے گا اور حقیقی تقویٰ کی تخم ریزی اور آبیاری کے بغیر مصنوعی طور پر چند ظاہری احکام کی تعمیل کرادی جائے گی، تو نتائج وہی کچھ ہوں گے، جن کا میں نے ابھی آپ سے ذکر کیا ہے۔ پہلی چیز دیر طلب اور صبر آزما ہے، بہ تدریج نشو و نما پاتی اور ایک مدت کے بعد برگ و بار لاتی ہے، جس طرح بیج سے درخت کے پیدا ہونے اور پھل پھول لانے میں کافی دیر لگا کرتی ہے۔ اسی لیے سطحی مزاج کے لوگ اس سے اُپراتے ہیں۔ بہ خلاف اس کے دوسری چیز جلدی اور آسانی سے پیدا کر لی جاتی ہے۔ جیسے ایک لکڑی میں پتے اور پھل اور پھول باندھ کر درخت کی سی شکل بنا دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ تقویٰ کی پیداوار کا یہی ڈھنگ آج مقبول ہے، لیکن ظاہر ہے کہ جو توقعات ایک فطری درخت سے پوری ہوتی ہیں وہ اس قسم کے مصنوعی درختوں سے تو کبھی پوری نہیں ہو سکتیں۔

#### (۴) احسان

اب احسان کو لیجیے، جو اسلام کی بلند ترین منزل ہے۔ احسان دراصل اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کے ساتھ اس قلبی لگاؤ، اس گہری محبت، اس سچی وفاداری اور فدویت و جاں نثاری کا نام ہے، جو مسلمان کو فنا فی الاسلام کر دے۔ تقویٰ کا اساسی تصوّر خدا کا خوف ہے، جو انسان کو اس کی ناراضی سے بچنے پر آمادہ کرے اور احسان کا اساسی تصوّر خدا کی محبت ہے، جو آدمی کو اس کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے ابھارے۔ ان دونوں چیزوں کے فرق کو ایک مثال سے یوں سمجھیے کہ حکومت کے ملازموں میں سے ایک تو وہ لوگ ہیں، جو نہایت فرض شناس و تن دہی سے وہ تمام خدمات ٹھیک ٹھیک بجا لاتے ہیں، جو ان کے سپرد کی گئی ہوں۔ تمام ضابطوں اور قاعدوں کی پوری پوری پابندی کرتے ہیں اور کوئی کام ایسا نہیں کرتے، جو حکومت کے لیے قابلِ اعتراض ہو۔ دوسرا طبقہ ان مخلص وفاداروں اور جاں نثاروں کا ہوتا ہے، جو دل و جان سے حکومت کے ہوا خواہ ہوتے ہیں۔ صرف وہی خدمات انجام نہیں دیتے، جو ان کے سپرد کی گئی ہوں، بلکہ ان کے دل کو ہمیشہ یہ فکر لگی رہتی ہے کہ سلطنت کے مفاد کو زیادہ سے زیادہ کس طرح ترقی دی جائے۔ اس دُھن میں وہ فرض اور مطالبہ سے زائد کام کرتے ہیں۔ سلطنت پر کوئی آنچ آئے تو وہ جان و مال اور اولاد سب کچھ قربان کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ قانون کی کہیں خلاف ورزی ہو تو ان کے دل کو چوٹ لگتی ہے۔ کہیں بغاوت کے آثار پائے جائیں تو وہ بے چین ہو جاتے ہیں اور اسے فرو کرنے میں جان لڑا دیتے ہیں۔ جان بوجھ کر خود سلطنت کو نقصان پہنچانا تو درکنار اس کے مفاد کو کسی طرح نقصان پہنچتے دیکھنا بھی ان کے لیے نا قابل برداشت ہوتا ہے اور اس خرابی کے رفع کرنے میں وہ اپنی حد تک کوشش کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ دنیا میں بس ان کی سلطنت ہی کا بول بالا ہو اور زمین کا کوئی چپہ ایسا باقی نہ رہے جہاں اس کا پھریرا نہ اڑے۔ ان دونوں میں سے پہلی قسم کے لوگ اس حکومت کے متقی ہوتے ہیں اور دوسری قسم کے لوگ اس کے محسن۔ اگرچہ ترقیاں متقین کو بھی ملتی ہیں اور بہ ہر حال ان کے نام اچھے ہی ملازموں کی فہرست میں لکھے جاتے ہیں۔ مگر جو سرفرازیاں محسنین کے لیے ہیں ان میں کوئی دوسرا ان کا شریک نہیں ہوتا۔ بس اسی مثال پر اسلام کے متقیوں اور محسنوں کو بھی قیاس کر لیجیے۔ اگرچہ متقین بھی قابلِ قدر اور قابلِ اعتماد لوگ ہیں، مگر اسلام کی اصلی طاقت محسنین کا گروہ ہے۔ اصلی کام جو اسلام چاہتا ہے کہ دنیا میں ہو، وہ اسی گروہ سے بن آ سکتا ہے۔

احسان کی اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد آپ خود ہی اندازہ کرلیں کہ جو لوگ اپنی آنکھوں سے خدا کے دین کو کفر سے مغلوب دیکھیں، جن کے سامنے حدود اللہ پامال ہی نہیں بلکہ کالعدم کر دی جائیں، خدا کا قانون عملاً ہی نہیں بلکہ باضابطہ منسوخ کر دیا جائے، خدا کی زمین پر خدا کا نہیں بلکہ اس کے باغیوں کا بول بالا ہو رہا ہو۔ نظامِ کفر کے تسلط سے نہ صرف انسانی سوسائٹی میں اخلاقی و تمدنی فساد برپا ہو بلکہ خود امتِ مسلمہ بھی نہایت سرعت کے ساتھ اخلاقی و عملی گم راہیوں میں مبتلا ہو رہی ہو، اور یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ان کے دلوں میں نہ کوئی بے چینی پیدا ہو، نہ اس حالت کو بدلنے کے لیے کوئی جذبہ بھڑکے، بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے نفس کو اور عام مسلمانوں کو غیر اسلامی نظام کے غلبے پر اصولاً و عملاً مطمئن کر دیں، ان کا شمار آخر محسنین میں کس طرح ہو سکتا ہے؟ اس جرمِ عظیم کے ساتھ محض یہ بات انھیں احسان کے مقامِ عالی پر کیسے سرفراز کر سکتی ہے کہ وہ چاشت اور اشراق اور تہجد کے نوافل پڑھتے رہے، ذکر و شغل اور مراقبے کرتے رہے، حدیث و قرآن کے درس دیتے رہے۔ جزئیات فقہ کی پابندی اور چھوٹی چھوٹی سنتوں کے اتباع کا سخت اہتمام فرماتے رہے اور تزکیۂ نفس کی خانقاہوں میں دین داری کا وہ فن سکھاتے رہے، جس میں حدیث و فقہ اور تصوف کی باریکیاں تو ساری موجود تھیں مگر ایک نہ تھی تو وہ حقیقی دین داری، جو ”سر داد نہ داد دست در دست یزید“ کی کیفیت پیدا کرے اور ”بازی اگرچہ پا نہ سکا سر تو کھو سکا“ کے مقام وفاداری پر پہنچا دے۔ آپ دنیوی ریاستوں اور قوموں میں بھی وفادار اور غیر وفادار کی اتنی تمیز ضرور نمایاں پائیں گے کہ اگر ملک میں بغاوت ہو جائے یا ملک کے کسی حصے پر دشمن کا قبضہ ہو جائے تو باغیوں اور دشمنوں کے تسلط کو جو لوگ جائز تسلیم کریں یا ان کے تسلط پر راضی ہو جائیں اور ان کے ساتھ مغلوبانہ مصالحت کر لیں، یا ان کی سرپرستی میں کوئی ایسا نظام بنائیں، جس میں اصلی اقتدار کی باگیں انھی کے ہاتھ میں رہیں اور کچھ ضمنی حقوق اور اختیارات انھیں بھی مل جائیں، تو ایسے لوگوں کو کوئی ریاست اور کوئی قوم اپنا وفادار ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتی، خواہ وہ قومی فیشن کے کیسے ہی سخت پابند اور جزئی معاملات میں قومی قانون کے کتنے ہی شدید پیرو ہوں۔ آج آپ کے سامنے زندہ مثالیں موجود ہیں کہ جو ملک جرمنی کے تسلط سے نکلے ہیں وہاں ان لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ ہو رہا ہے، جنھوں نے جرمن قبضے کے زمانے میں تعاون و مصالحت کی راہیں اختیار کی تھیں۔ ان سب ریاستوں اور قوموں کے پاس وفاداری کو جانچنے کا ایک ہی معیار ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص نے دشمن کے تسلط کی مزاحمت کس حد تک کی، اُس کو مٹانے کے لیے کیا کام کیا اور اُس اقتدار کو واپس لانے کی کیا کوشش کی، جس کی وفاداری کا وہ مدعی تھا۔ پھر کیا معاذ اللہ خدا کے متعلق آپ کا یہ گمان ہے کہ وہ اپنے وفاداروں کو پہچاننے کی اتنی تمیز بھی نہیں رکھتا جتنی دنیا کے ان کم عقل انسانوں میں پائی جاتی ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ بس داڑھیوں کا طول، ٹخنوں اور پانچوں کا فاصلہ، تسبیحوں کی گردش، اور اوراد و وظائف اور نوافل اور مراقبے کے مشاغل اور ایسی ہی چند اور چیزیں دیکھ کر ہی دھوکا کھا جائے گا کہ آپ اس کے سچے وفادار اور جاں نثار ہیں؟