مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اور کارکن

اشاعت: 1979ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اسلامی تحریک کی کامیابی صرف نظریاتی وضاحت یا سیاسی حکمت عملی تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ اس کی بنیادی شرط وہ افراد ہیں جو اس تحریک کے علمبردار ہوں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’تحریک اور کارکن‘‘ اسی حقیقت کی تفصیلی تشریح پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی بھی اسلامی تحریک کی قوت اور استحکام دو بنیادی عناصر پر منحصر ہے: ایک مضبوط، منظم اور منصوبہ بند تنظیم، اور دوسرا کارکنوں کی فکری و اخلاقی تربیت۔ دونوں عناصر ایک دوسرے کے مکمل ہیں؛ جیسا کہ مشینری اور برقی رو کا تعلق ہوتا ہے، اسی طرح تنظیم کے بغیر تربیت بے جان ہے اور تربیت کے بغیر تنظیم بے روح۔

کتاب کا آغاز پیش لفظ سے ہوتا ہے جو دراصل اس کتاب کے مقصد اور پس منظر کی وضاحت کرتا ہے۔ مولانا مودودی نے مختلف مواقع پر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کے نام جو تقریریں اور تحریریں کیں، انہیں یکجا کر کے یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب محض اصولوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تحریک کی اخلاقی تاریخ کا ریکارڈ ہے، جس میں راہِ تحریک میں پیش آنے والی کمزوریوں اور ان کے علاج کا ذکر ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ تربیت کی کمی ایسا نقصان پہنچا سکتی ہے جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا، اور اس ضمن میں عالمِ اسلام کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

الف: صالح گروہ کے لیے کم از کم ضروری صفات

[یہ مولانا مودودیؒ کی اس تقریر کا ایک حصہ ہے، جو انھوں نے جماعت اسلامی کے اجتماع دارالاسلام (متصل پٹھان کوٹ) میں ۲۶؍ مارچ ۱۹۴۴ء کو فرمائی تھی۔ اس اجتماع میں پنجاب، سندھ، سرحد، کشمیر و بلوچستان کے ارکان جماعت شریک ہوئے تھے۔ تقریر کے آغاز میں مولانا محترم نے جماعت کی بعض کم زوریوں کی طرف توجہ دلائی اور پھر آخر میں وہ کم از کم لازمی صفات بیان کیں، جن کا صالح گروہ کے ہر ہر فرد میں پایا جانا ضروری ہے۔(مرتب)] آپ حضرات یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ آپ دراصل امتہ وسط بننے کے امیدوار ہیں، آپ کا مقصود یہ ہے کہ اس مقام بلند کو حاصل کرلیں۔ اتنے بڑے منصب کی امیدواری کے لیے اُٹھ کھڑا ہونا اور پھر نہ اس کی عظمت کو محسوس کرنا، نہ اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ایک عظیم الشان بے خبری ہے۔ اور اس سے بڑھ کر بے خبری یہ ہے کہ ایک طرف تو آپ ان کم سے کم صفات سے بھی ابھی متصف نہ ہوئے ہوں، جو اس کارِ عظیم کے لیے ضروری ہیں، اور دوسری طرف آپ تقاضا کریں کہ فوراً ہی کوئی بڑا قدم اٹھا دیا جائے۔ کیا آپ اتنا نہیں سمجھتے اور اس سے ڈرتے نہیں کہ اگر آپ نے کوئی ایسا قدم اٹھایا، جس کے لیے ضروری استعداد آپ نے اپنے اندر پیدا نہیں کی ہے، تو آپ منہ کی کھا کر پسپا ہوں گے اور اس راہ میں پیچھے ہٹنا فرار من الزحف ہے، جو خدا کی شریعت میں بہت بڑا گناہ ہے۔

اب میں مختصر طور پر آپ کو بتاؤں گا کہ وہ کم سے کم ضروری صفات کیا ہیں، جو اس دعوت کے لیے کام کرنے والوں میں ہونی چاہئیں۔ دوسری جو ایک صالح جماعت بنانے کے لیے ضروری ہیں اور تیسری وہ جو مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے ناگزیر ہیں۔

#### شخصی اوصاف:

##### مجاہدۂ نفس

شخصی اوصاف میں پہلا اور بنیادی وصف یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے نفس سے لڑ کر پہلے اسے مسلمان اور خدا کا مطیع فرمان بنائے۔ یہ وہی بات ہے، جسے حدیث میں یوں بیان فرمایا گیا ہے:

<<المجاهد من جاهد نفسه في طاعة الله>>۔ (مسند احمد)

”حقیقی مجاہد وہ ہے، جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے کش مکش کرے۔“

یعنی قبل اس کے کہ آپ باہر کی دنیا میں خدا کے باغیوں سے مقابلے کے لیے نکلیں۔ اس باغی کو مطیع بنائیے، جو خود آپ کے اندر موجود ہے اور خدا کے قانون اور اس کی رضا کے خلاف چلنے کے لیے ہر وقت تقاضا کرتا رہتا ہے۔ اگر یہ باغی آپ کے اندر پل رہا ہے، اور آپ پر اتنا قابو یافتہ ہے کہ آپ سے رضائے الہی کے خلاف اپنے مطالبے منوا سکتا ہے تو یہ ایک بالکل بے معنی بات ہے کہ آپ بیرونی باغیوں کے خلاف اعلان جنگ کریں۔ یہ تو بالکل وہی بات ہوئی کہ گھر میں شراب کی بوتل پڑی ہے اور باہر شرابیوں سے لڑائی ہو رہی ہے۔ یہ تضاد ہماری تحریک کے لیے تباہ کن ہے پہلے خود خدا کے آگے سر جھکائیے پھر دوسروں سے اطاعت کا مطالبہ کیجیے۔

##### ہجرت وسیع معنی کے لحاظ سے

جہاد کے بعد دوسرا درجہ ہجرت کا ہے۔ ہجرت کا اصل مدعا گھر بار چھوڑنا نہیں ہے بلکہ خدا کی نافرمانی سے بھاگ کر خدا کی رضا جوئی کی طرف بڑھنا ہے۔ اصلی مہاجر ترک وطن اگر کرتا ہے تو اس لیے کہ اس کے وطن میں قانون الہی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے مواقع نہیں ہیں۔ لیکن اگر کسی شخص نے گھر بار چھوڑا اور اللہ کی فرماں برداری اختیار نہ کی تو اس نے حماقت کی۔ یہ حقیقت بھی احادیث میں اچھی طرح واضح کر دی گئی ہے۔ بہ طور مثال ایک حدیث کو لیجیے آں حضور ﷺ سے عرض کیا گیا: ما الهجرة افضل یا رسول اللہ ”یا رسول اللہ کون سی ہجرت بہتر ہے۔“

جواب ملا: <<ان تهجر ماكره ربك>> ”یہ کہ تو ان چیزوں کو چھوڑ دے، جو اللہ کو ناپسند ہیں اندر کا باغی اگر مطیع نہ ہو تو آدمی کا ترکِ وطن کر دینا خدا کی بارگاہ میں کوئی وزن نہیں رکھتا۔ اس لیے یہ چاہتا ہوں کہ آپ حضرات باہر کی قوتوں سے پہلے اپنے اندر کی سرکش قوتوں سے لڑیے اور اصطلاحی کفار کو مسلمان بنانے سے پہلے اپنے نفس کو مسلمان بنائیے۔ اس معنی کو جامع تر الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ حدیث نبویؐ کے مطابق اپنے آپ کو اس گھوڑے کی طرح بنائیے، جو ایک کھونٹے سے بندھا ہوا ہے اور وہ کتنا ہی گھومے پھرے ہر حال میں اس حد سے آگے نہیں جا سکتا جہاں تک رسی اُسے جانے دیتی ہے: <<مثل الايمان كمثل الفرس في آخيته، يجول ثم يرجع الى آخيته>>۔ ایسے گھوڑے کی حالت آزاد گھوڑے سے بالکل مختلف ہوتی ہے، جو ہر میدان میں گھومتا ہے، ہر کھیت میں گھس جاتا ہے، اور جہاں ہری گھاس دیکھتا ہے وہیں پوری بے صبری کے ساتھ ٹوٹ پڑتا ہے۔ پس آپ آزاد گھوڑے کی سی کیفیت اپنے اندر سے نکالیں اور کھونٹے سے بندھے ہوئے گھوڑے کی سی کیفیت اپنے اندر پیدا کریں۔

اس کیفیت کو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرا قدم یہ اٹھائیے کہ اپنے قریبی ماحول سے جسے میں ”ہوم فرنٹ“ کہوں گا، لڑنا شروع کر دیجیے۔ گھر کے لوگ، اعزّہ، دوست اور سوسائٹی، جس میں آپ کا گہرا ربط ہے ان سب سے ایک عملی کش مکش شروع ہو جانی چاہیے۔ کش مکش اس معنی میں نہیں کہ آپ اپنے متعلقین سے کشتی لڑیں یا ان سے تو تو میں میں اور مناظرہ شروع کر دیں۔ بلکہ یہ کش مکش اس معنی میں ہونی چاہیے کہ آپ بہ حیثیت فرد اور بہ حیثیت جماعت اپنے نصب العین کے اتنے دل دادہ اور اپنے اصول و ضوابط کے اتنے پابند ہو جائیں کہ آپ کے گرد و پیش، جو لوگ کسی نصب العین کے بغیر، بے اصول زندگیاں بسر کر رہے ہیں وہ آپ کی پابندِ اصول زندگی کو گوارا نہ کر سکیں۔ آپ کی بیویاں، آپ کی اولادیں، آپ کے والدین، آپ کے رشتہ دار اور دوست آپ کے رویے کے خلاف مزاحمت کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

آپ اپنے شہر میں اجنبی ہو کر رہ جائیں۔ جہاں آپ کسب معاش کے لیے رہتے ہوں وہاں آپ کا وجود نمایاں طور پر کھٹکنے لگے۔ دفتر کی آرام کرسی، جس پر بیٹھ کر جاہ و ترقی کے خواب دیکھے جاتے ہیں آپ کے لیے انگاروں کی انگیٹھی بن کر رہ جائے۔ غرض جو جتنا زیادہ قریبی ہو اس سے اتنا ہی پہلے تصادم شروع ہو جانا چاہیے۔ جس شخص کے گھر میں میدانِ جہاد موجود ہو وہ آخر چند میل کے فاصلے پر ہی کیوں لڑنے جائے۔ پہلا معرکہ تو گھر ہی سے شروع ہونا چاہیے۔ اب تک جہاں جہاں سے اس کش مکش کی اطلاعات آرہی ہیں وہاں کے لوگوں سے مطمئن ہو رہا ہوں اور جہاں سے ایسی اطلاعات نہیں آرہی ہیں وہاں کے لیے بے تابی سے منتظر ہوں کہ ایسی کوئی اطلاع ملے۔

##### فنا فی الاسلام ہو جانا

مگر میں بر وقت یہ واضح کر دوں کہ یہ ہماری کش مکش اس ذہنیت کے ساتھ ہونی چاہیے، جس کے ساتھ ایک ڈاکٹر بیماریوں سے کش مکش کرتا ہے۔ دراصل وہ بیمار سے نہیں لڑتا بلکہ بیماری سے لڑتا ہے اور اس کی تمام تر جدوجہد ہم دردی کی روح سے لبریز ہوتی ہے وہ اگر بیمار کو کڑوی دوائیں پلاتا ہے، یا اس کے کسی عضو پر نشتر چلاتا ہے تو یہ تمام تر بر بنائے اخلاص ہوتا ہے۔ دشمنی نہیں ہوتی۔ اس کی نفرت اور اس کا غصہ بالکلیہ مرض کے خلاف ہوتا ہے نہ کہ مریض کے خلاف۔ بالکل اسی طرح اپنے ایک گم راہ بھائی کی ہدایت کو طرف لائیے وہ کبھی کسی بات سے یہ محسوس نہ کرے کہ اسے تحقیر سے دیکھا جا رہا ہے یا بہ راہِ راست اس کی فراست سے دشمنی کی جا رہی ہے۔ بلکہ وہ آپ کے اندر انسانی ہم دردی، محبت اور اخوت سے کام کرتا ہوا پائے۔ میں نے اجتماع دربھنگہ کے موقعے پر بھی مختصر یہ کہا تھا کہ اصلی تبلیغ تقریری اور تحریری مناظروں سے نہیں ہوا کرتی۔ یہ کام کرنے کے بہت ہی ادنیٰ طریقے ہیں۔ اصل تبلیغ یہ ہے کہ آپ اپنی دعوت کا مجسم ظہور اور نمونہ ہوں۔ جہاں کہیں لوگوں کی نگاہوں کے سامنے یہ نمونہ گزر جائے وہ آپ کے طرز عمل سے پہچان لیں کہ یہ ہیں خدا کی راہ کے راہی۔ جس طرح کوئی فنا فی الکانگریس، آدمی سامنے آ جاتا ہے تو کانگریسیت کی پوری تصویر آنکھوں کے سامنے پھرتی ہے۔

اسی طرح آپ ایسے فنا فی الاسلام بن جائیے کہ جہاں آپ سامنے آئیں اسلامی تحریک کا پورا نقشہ واضح ہو جائے۔ یہی وہ چیز ہے، جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ <<اذا رآها ذكر الله۔>>

میں یہ نہیں کہتا کہ ایسا فوراً ہو جانا چاہیے، یہ مقام تو تدریجاً ہی حاصل ہو گا۔ خدا کی راہ میں جب اپنے ماحول سے پیہم آپ کا تصادم ہوتا رہے گا اور آپ ہر آن ہر لمحہ اپنے مقصد کے لیے کوشش کرتے ہوئے قربانیاں دیتے رہیں گے تو ایک مدت میں جا کر فنائیت کی کیفیت آپ پر طاری ہوگی اور آپ اپنی دعوت کا مجسم ظہور بن سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے قرآن و حدیث کو با امعانِ نظر بار بار مطالعہ کیجیے اور دیکھیے کہ اسلام کس قسم کا انسان چاہتا ہے اور آں حضور ﷺ کس طرز کے آدمی تیار کیا کرتے تھے۔ وہ کیا صفات تھیں، جو اس تحریک کے کارکنوں میں پہلے پیدا کی گئیں اور اس کے بعد جہاد کا علم بلند کیا گیا۔ آپ میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے مزکی (حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ) نے، جو انسان تیار کیے تھے انھیں ۱۵ برس کی تیاری کے بعد میدان میں لایا گیا۔ اس تیاری کی تفصیلات معلوم کیجیے اور دیکھیے کہ یہ کس تدریج کے ساتھ ہوئی تھی۔ اس میں کن صفات کی پرورش مقدم تھی اور کن کی موخر۔ کون سی صفات کس درجے میں مطلوب تھیں اور انھیں کس حد تک ترقی دی گئی تھی اور کس مقام پر پہنچ کر اس جماعت سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب تم دنیا کا بہترین گروہ بن گئے ہو اور اس قابل ہو گئے ہو کہ نوعِ انسانی کی اصلاح کے لیے نکلو۔ یہی نمونہ خود اپنی تیاری کے لیے بھی آپ کے سامنے ہونا چاہیے۔

یہاں تفصیل کا موقع نہیں۔ میں صرف دو حدیثیں آپ کی رہ نمائی کے لیے پیش کروں گا۔ جن سے آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کام کے لیے کن صفات کے آدمی درکار ہیں۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: <<من احبّ الله و ابغض لله واعطى لِله و منع لِله فقد استكمل الايمان>> (ابوداؤد)۔ یعنی آدمی پورا مومن اس وقت بنتا ہے جب اس کی کیفیت یہ ہو جائے کہ اس کی دوستی اور دشمنی، اور اس کا دینا اور روکنا، جو ہو خالص اللہ کے لیے ہو۔ نفسانی اور دنیوی محرکات اس کے لیے ختم ہو جائیں۔ دوسری حدیث ہے کہ حضورؐ نے فرمایا:

<<امرنی ربی بتسع>>

میرے رب نے مجھے نو چیزوں کا حکم دیا ہے:

(۱) <<خشية الله فى السِرِّ والعلانية>>

’’کھلے اور چھپے ہر حال میں خدا سے ڈرتا ہوں۔‘‘

(۲) <<و كلمة العدل فى الغضب والرضا>>

’’کسی پر مہربان ہوں یا کسی کے خلاف غصہ میں ہوں دونوں حالتوں میں انصاف ہی کی بات کہوں۔‘‘

(۳) <<والقصد في الفقر والغناء>>

”خواہ فقیری کی حالت میں ہوں یا امیری کی حالت میں، بہ ہر حال راستی و اعتدال پر قائم رہوں۔“

(۴) <<و ان اصل من قطعنی>>

”اور یہ کہ جو مجھ سے کٹے میں ان سے جڑوں“

(۵) <<واعفو عَمَّنْ ظلمنی>>

”اور جو مجھ سے زیادتی کرے میں اسے معاف کروں“

(۶) <<و اُعطی من حرمنی>>

”اور جو مجھے محروم کرے میں اسے دوں“

(۷) <<و ان یکون صمتی فکراً>>

”اور یہ کہ میری خاموشی تفکر کی خاموشی ہو۔“

(۸) <<و نطقی ذکراً>>

”اور میری گفتگو ذکر الٰہی کی گفتگو ہو۔“

(۹) <<و نظری عبرةً>>

”اور میری نگاہ عبرت کی نگاہ ہو۔“

ان اوصاف مطلوبہ کا ذکر کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ان آمر بالمعروف وأنھی عن المنکر یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں نیکی کا حکم دوں اور بدی سے روکوں۔ معلوم ہوا کہ نیکی کو پھیلانے اور بدی کو ختم کرنے کے لیے، جو امتِ وسط اُٹھے اس کے فرد فرد میں یہ اوصاف ہونے چاہئیں۔ انھی اوصاف کے ساتھ یہ فریضہ ادا ہوسکتا ہے۔ یہ نہ ہوں تو ہم کبھی اپنے منصب کے مقتضیات کو پورا نہیں کر سکتے۔

#### جماعتی اوصاف:

##### باہمی ہم دردی و محبت

یہ تو شخصی اصلاح کا پروگرام ہوا۔ اس سے آگے جماعتی حیثیت سے کچھ دوسرے اخلاقی اوصاف کی ضرورت ہے۔ جماعتی نظم کو مستحکم اور کارگر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ارکانِ جماعت کے درمیان محبت و ہم دردی ہو، آپس میں حسنِ ظن ہو، بے اعتمادی کی جگہ اعتماد ہو، آپس میں مل کر کام کرنے کی صلاحیت ہو، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنے کی عادت ہو، خود آگے بڑھیں اور دوسروں کو اپنے ساتھ آگے بڑھائیں۔ یہ اوصاف ہر جماعتی نظم کے لیے ناگزیر ہیں۔ ورنہ اگر فرداً فرداً سب لوگ اعلیٰ درجہ کی صفات حسنہ اپنے اندر پیدا کرلیں۔ لیکن منظم و مربوط نہ ہوں، آپس میں متعاون نہ ہوں۔ شانہ سے شانہ ملا کر چل نہ سکیں۔ تو ہم دنیا میں علم بردارانِ باطل کا بال تک بیکا نہیں کر سکتے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شخصی حیثیت سے بہترین انسان ہم میں ہمیشہ موجود رہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں، اور اگر آج دنیا بھر کو ہم چیلنج دے کر کہیں کہ ایسے لوگ کسی کے پاس نہ ہوں گے تو شاید اس چیلنج کا جواب کسی قوم سے نہ دیا جا سکے۔ مگر یہ معاملہ صرف انفرادی اصلاح کی حد تک ہے، جن لوگوں نے اپنی انفرادی اصلاح میں کمال حاصل کیا ہے انھوں نے زیادہ سے زیادہ یہ کیا کہ چند سو یا چند ہزار افراد پر اپنا اثر پھیلا دیا، اور تقدس کی چند یادگاریں چھوڑ کر رخصت ہو گئے۔ یہ طریقہ بڑے کام کرنے کا نہیں ہے۔ بڑے سے بڑا پہلوان، جو بھاری بوجھ اٹھانے اور کئی کئی آدمیوں کو کشتی میں پچھاڑنے کی طاقت رکھتا ہو، ایک مربوط رجمنٹ کے مقابلے میں بالکل بے کار ہے۔ اسی طرح اگر ہم میں سے کچھ لوگ انفرادی تزکیہ کی تمام منازل طے کیے ہوئے ہوں۔ لیکن ان میں اجتماعی رابطہ اور تعاون نہ ہو تو ان کی حیثیت اسی پہلوان کی سی ہے، جو کسی رجمنٹ کا عضو بن کر کام نہیں کرتا بلکہ منفرداً ایک رجمنٹ کو دعوت مبارزت دیتا ہے۔ انفرادی تزکیے کے لحاظ سے ہماری اپنی جماعت میں بھی ایسے رفقاء کی کمی نہیں ہے، جن کی حالت پر خود مجھے رشک آتا ہے۔ مگر جہاں تک جماعتی تزکیہ کا تعلق ہے، حالات افسوس ناک ہیں۔ قرآن میں اس مسئلے پر اصولی حد تک مفصل روشنی ڈالی گئی ہے اور حدیث میں اصول کی مکمل تشریحات موجود ہیں۔ پھر سیرت نبویؐ اور سیر صحابہ کے مطالعے سے مطلوبہ اجتماعی اخلاق کے عملی نمونے بھی ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ ان چیزوں کی ورق گردانی کیجیے اور ناپ تول کر دیکھیے کہ کس پہلو سے ہمارے اجتماعی نظم میں کیا اور کتنی کمی ہے اور اس کمی کو پورا کرنے کی فکر کیجیے۔

صاف بات ہے کہ اجتماعی نظم میں ایک فرد کو دوسرے افراد سے لامحالہ سابقہ پیش آتا ہے۔ اگر حسنِ ظن، ہم دردی، ایثار اور رواداری نہ ہو تو مزاجوں کا اختلاف تعاون کو چار دن بھی جاری نہیں رہنے دے گا۔ جماعتی نظم چلتا ہی اصول پر ہے کہ دوسروں کے لیے آپ اپنا کچھ چھوڑیں اور دوسرے آپ کے لیے کچھ چھوڑیں۔ اس ایثار کی ہمت نہ ہو تو کسی انقلاب کا نام بھی زبان پر نہ لانا چاہیے۔

#### مجاہدہ فی سبیل اللہ کے لوازم:

تیسری قسم کی صفات وہ ہیں، جو مجاہدہ فی سبیل اللہ کے لوازم میں شمار ہوتی ہیں۔ اُن کا بھی قرآن وحدیث میں مفصل تذکرہ موجود ہے۔ صرف تذکرہ ہی نہیں ایک ایک مطلوبہ صفت کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ وہ کس نوعیت اور کس درجے کی ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں احکام و ہدایات کو جمع کیجیے اور سمجھیے کہ مجاہدہ فی سبیل اللہ کے لیے کیا کیا تیاریاں کرنی ہیں۔ میں مختصراً ان کی طرف بھی اشارہ کر دینا چاہتا ہوں۔

##### صبر

سب سے پہلی صفت جس پر زور دیا گیا ہے صبر ہے۔ صبر کے بغیر خدا کی راہ میں کیا، کسی راہ میں بھی مجاہدہ نہیں ہوسکتا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ خدا کی راہ میں اور قسم کا صبر مطلوب ہے اور دنیا کے لیے مجاہدہ کرتے ہوئے اور قسم کا صبر مطلوب ہے۔ مگر بہ ہر حال صبر ہے ناگزیر۔ صبر کے بہت سے پہلو ہیں۔ ایک پہلو یہ ہے کہ جلد بازی سے شدید اجتناب کیا جائے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ کسی راہ میں جدو جہد کرتے ہوئے دشواریوں اور مخالفتوں اور مزاحمتوں کے مقابلے میں استقامت دکھائی جائے اور قدم پیچھے نہ ہٹایا جائے۔ تیسرا پہلو یہ ہے کہ کوششوں کا کوئی نتیجہ اگر جلدی حاصل نہ ہو تب بھی ہمت نہ ہاری جائے، اور پیہم سعی جاری رکھی جائے ایک اور پہلو یہ ہے کہ مقصد کی راہ میں بڑے سے بڑے خطرات، نقصانات اور خوف اور طمع کے مواقع بھی اگر پیش آجائیں تو قدم کو لغزش نہ ہونے پائے اور یہ بھی صبر ہی کا ایک شعبہ ہے کہ اشتعال جذبات کے سخت سے سخت مواقع پر بھی آدمی اپنے ذہن کا توازن نہ کھوئے۔ جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی قدم نہ اٹھائے۔ ہمیشہ سکون عقل اور ٹھنڈی قوت فیصلہ کے ساتھ کام کرے۔ پھر حکم صرف صبر ہی کا نہیں مصابرت کا بھی ہے یعنی مخالف طاقتیں اپنے باطل مقاصد کے لیے جس صبر کے ساتھ ڈٹ کر سعی کر رہی ہیں اسی صبر کے ساتھ آپ بھی ڈٹ کر اُن کا مقابلہ کریں۔ اسی لیے ”اصبروا“ کے ساتھ ”صابرو!“ کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ جن لوگوں کے مقابلے میں آپ حق کی علم برداری کے لیے اٹھنے کا داعیہ رکھتے ہیں ان کے صبر کا اپنے صبر سے موازنہ کیجیے، اور سوچیے کہ آپ کے صبر کا کیا تناسب ہے۔ شاید ہم ان کے مقابلے میں دس فیصدی کا دعویٰ کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ باطل کے غلبے کے لیے، جو صبر وہ دکھا رہے ہیں اس کا اندازہ کرنے کے لیے موجودہ جنگ کے حالات پر نظر ڈالیے۔ کس طرح وقت آپڑنے پر ان لوگوں نے اپنے ان کارخانوں، شہروں اور ریلوے اسٹیشنوں کو اپنے ہاتھوں سے پھونک ڈالا، جن کی تعمیر اور تیاری میں سالوں کی محنتیں اور بے شمار روپیہ صرف کیا گیا تھا۔ یہ ان ٹینکوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں، جو فوجوں کو اپنے آہنی پہیوں تلے کچل ڈالتے ہیں۔ یہ دشمن کے ان بمبار طیاروں کے سائے میں استقامت سے کھڑے رہتے ہیں، جو موت کے پر لگا کر اڑتے ہیں۔ جب تک ان کے مقابلے میں ہمارا جسم ۱۰۵ فیصد کے تناسب پر نہ پہنچ جائے ان سے کوئی ٹکر لینے کی جرات نہیں کی جاسکتی۔ جب سر و سامان کے لحاظ سے ہم ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے تو پھر سر و سامان کی کمی کو صبر ہی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔

##### ایثار

دوسری چیز جو مجاہدہ کا لازمہ ہے ایثار کی صفت ہے۔ وقت کا ایثار، محنتوں کا ایثار اور مال کا ایثار۔ ایثار کے اعتبار سے بھی باطل کا جھنڈا اٹھانے والی طاقتوں کے مقابلے میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ حالاں کہ بے سروسامانی کی تلافی کے لیے ہمیں ایثار میں بھی ان سے میلوں آگے ہونا چاہیے۔ مگر یہاں صورت واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص بیس، پچاس، سو اور ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کے عوض اپنی پوری صلاحیتیں خود اپنے دشمن کے ہاتھ بیچ دیتا ہے اور اس طرح ہماری قوم کا کارآمد جوہر بیکار ہو جاتا ہے۔ یہ دماغی صلاحیتیں رکھنے والا طبقہ اتنی ہمت نہیں رکھتا کہ ایک بڑی آمدنی کو چھوڑ کر یہاں محض بقدر ضرورت قلیل معاوضے پر اپنی خدمات پیش کردے۔ پھر فرمائیے کہ اگر یہ لوگ اتنا ایثار بھی نہ کریں گے، اور اس راہ میں پتہ مار کر کام نہ کریں گے تو پھر اسلامی تحریک کیسے پھل پھول سکتی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ کوئی تحریک محض والنٹیروں کے بل پر نہیں چل سکتی جماعتی نظم میں والنٹیروں کو اسی درجے کی اہمیت حاصل ہے، جیسی ایک آدمی کے نظام جسمانی میں ہاتھ اور پاؤں کو ہے۔ یہ ہاتھ اور پاؤں اور دوسرے اعضاء کس کام کے ہوسکتے ہیں۔ اگر ان سے کام لینے کے لیے دھڑکنے والے دل اور سوچنے والے دماغ موجود نہ ہوں۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں والنٹیئروں سے کام لینے کے لیے اعلیٰ درجے کے جنرل چاہئیں، مگر مصیبت یہ ہے کہ جن کے پاس دل اور دماغ کی قوتیں ہیں وہ دنیوی ترقیوں کے دل دادہ ہیں اور مارکیٹ میں اسی کی طرف جاتے ہیں، جو زیادہ قیمت پیش کرے۔ نصب العین سے ہماری قوم کے بہترین افراد کی وابستگی ابھی اس درجے کی نہیں ہے کہ وہ اس کی خاطر اپنے منافع کو بلکہ منافع کے امکانات تک کو قربان کرسکیں۔ اس ایثار کو لے کر اگر آپ یہ توقع کریں کہ وہ مفسدین عالم، جو روزانہ کروڑوں روپیہ اور لاکھوں جانوں کا ایثار کر رہے ہیں، ہم سے کبھی شکست کھا سکتے ہیں، تو یہ چھوٹا منہ بڑی بات ہے۔

##### دل کی لگن

مجاہدہ فی سبیل اللہ کے لیے تیسری صفت دل کی لگن ہے۔ محض دماغی طور پر ہی کسی شخص کا اس تحریک کو سمجھ لینا اور اس پر صرف عقلاً مطمئن ہو جانا، یہ اس راہ میں اقدام کے لیے صرف ایک ابتدائی قدم ہے۔ لیکن اتنے سے تاثر سے کام چل نہیں سکتا۔ یہاں تو اس کی ضرورت ہے کہ دل میں ایک آگ بھڑک اٹھے۔ زیادہ نہیں تو کم از کم اتنی آگ تو شعلہ زن ہونی چاہیے جتنی اپنے بچے کو بیمار دیکھ کر ہو جاتی ہے اور آپ کو کھینچ کر ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہے۔ یا اتنی جتنی گھر میں غلہ نہ پا کر بھڑکتی ہے اور آدمی کو تگ و دو پر مجبور کر دیتی ہے اور چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ سینوں میں وہ جذبہ ہونا چاہیے، جو ہر وقت آپ کو اپنے نصب العین کی دھن میں لگائے رکھے۔ دل و دماغ کو یکسو کر دے اور تو جہات کو اس کام پر ایسا مرکوز کر دے کہ اگر ذاتی یا خانگی یا دوسرے غیر متعلق معاملات کبھی آپ کی توجہ کو اپنی طرف کھینچیں بھی تو آپ سخت ناگواری کے ساتھ ان کی طرف کھنچیں۔ کوشش کیجیے کہ اپنی ذات کے لیے آپ قوت اور وقت کا کم سے کم حصہ صرف کریں اور آپ کی زیادہ سے زیادہ جدوجہد اپنے مقصد حیات کے لیے ہو۔ جب تک یہ دل کی لگن نہ ہو گی، اور آپ ہمہ تن اپنے آپ کو اس کام میں جھونک نہ دیں گے، محض زبانی جمع خرچ سے کچھ نہ بنے گا۔ بیشتر لوگ دماغی طور پر ہمارا ساتھ دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن کم لوگ ایسے ملتے ہیں، جو دل کی لگن کے ساتھ تن من دھن سے اس کام میں شریک ہوں۔ میرے ایک قریبی رفیق نے جن سے میرے ذاتی اور جماعتی تعلقات بہت گہرے ہیں حال ہی میں دو برس کی رفاقت کے بعد مجھ سے یہ اعتراف کیا کہ اب تک میں محض دماغی اطمینان کی بنا پر شریک جماعت تھا مگر اب یہ چیز دل میں اتر گئی ہے اور اس نے نہاں خانۂ روح پر قبضہ جما لیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر شخص اسی طرح اپنے اوپر خود تنقید کر کے دیکھے کہ کیا ابھی تک وہ اس جماعت کا محض ایک دماغی رکن ہے یا اس کے دل میں مقصد کے عشق کی آگ مشتعل ہو چکی ہے پھر اگر دل کی لگن اپنے اندر نہ محسوس ہو تو اسے پیدا کرنے کی فکر کی جائے۔ جہاں دل کی لگن ہوتی ہے وہاں کسی ٹھیلنے اور اکسانے والے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس قوت کے ہوتے ہوئے یہ صورت حال کبھی پیدا نہیں ہو سکتی کہ اگر کہیں جماعت کا ایک رکن پیچھے ہٹ گیا، یا نقل مقام پر مجبور ہو گیا تو وہاں کا سارا کام ہی چوپٹ ہو گیا۔ بہ خلاف اس کے ہر شخص اس طرح کام کرے گا جس طرح وہ اپنے بچے کو بیمار پا کر کیا کرتا ہے۔

خدانخواستہ اگر آپ کا بچہ بیمار ہو تو آپ اس کی زندگی و موت کے سوال کو بالکلیہ کسی دوسرے پر ہرگز نہیں چھوڑ سکتے۔ ممکن نہیں کہ آپ یہ عذر کر کے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں کہ کوئی تیمار دار نہیں، کوئی دوا لانے والا نہیں، کوئی ڈاکٹر کے پاس جانے والا نہیں۔ اگر کوئی نہ ہو تو آپ سب کچھ خود بنیں گے۔ کیوں کہ بچہ کسی دوسرے کا نہیں آپ کا اپنا ہے۔ سوتیلا باپ تو بچے کو مرنے کے لیے چھوڑ بھی سکتا ہے مگر حقیقی باپ اپنے جگر کے ٹکڑے کو کیسے چھوڑ دے گا۔ اس کے تو دل میں آگ لگی ہوتی ہے۔ اسی طرح اس کام سے بھی اگر آپ کا قلبی تعلق ہو تو آپ دوسروں پر نہیں چھوڑ سکتے اور نہ یہ ممکن ہے کہ کسی دوسرے کی نااہلی یا غلط روی یا بے توجہی کو بہانہ بنا کر آپ اسے مر جانے دیں گے اور اپنے دوسرے مشاغل میں جا کر منہمک ہو جائیں گے۔ یہ سب باتیں اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ خدا کے دین اور اس کی اقامت و سربلندی کے مقصد سے آپ کا رشتہ محض ایک سوتیلا رشتہ ہے۔ حقیقی رشتہ ہو تو آپ میں سے ہر شخص اس راہ میں اپنی جان لڑا کر کام کرے۔ میں آپ سے صاف کہتا ہوں کہ اگر آپ اس راہ میں کم از کم اتنے قلبی لگاؤ کے بغیر قدم بڑھائیں گے جتنا آپ اپنے بیوی بچوں سے رکھتے ہیں، تو انجام پسپائی کے سوا کچھ نہ ہوگا اور یہ ایسی بری پسپائی ہو گی کہ مدتوں تک ہماری نسلیں اس تحریک کا نام لینے کی جرأت بھی نہ کر سکیں گی۔ بڑے بڑے اقدامات کا نام لینے سے پہلے اپنی قوتِ قلب کا اپنی اخلاقی طاقت کا جائزہ لیجیے اور مجاہدہ فی سبیل اللہ کے لیے جس دل گردے کی ضرورت ہے وہ اپنے اندر پیدا کیجیے۔

##### سعی پیہم

چوتھی ضروری صفت اس راہ میں یہ ہے کہ ہمیں مسلسل اور پیہم سعی اور منضبط (Systematic) طریقے سے کام کرنے کی عادت ہو۔ ایک مدت دراز سے ہماری قوم اس طریق کار کی عادی رہی ہے کہ جو کام ہو کم سے کم وقت میں ہو جائے، جو قدم اٹھایا جائے ہنگامہ آرائی اس میں ضرور ہو۔ چاہے مہینہ دو مہینہ میں سب کیا کرایا غارت ہو کے رہ جائے۔ اس عادت کو ہمیں بدلنا چاہیے۔ اس کی جگہ بتدریج اور بے ہنگامہ کام کرنے کی مشق ہونی چاہیے۔ چھوٹے سے چھوٹا کام بھی، جو بہ جائے خود ضروری ہو، اگر آپ کے سپرد کر دیا جائے، تو بغیر کسی نمایاں اور معجل نتیجے کے اور بغیر کسی داد کے آپ اپنی پوری عمر صبر کے ساتھ اسی کام میں کھپا دیں۔ مجاہدہ فی سبیل اللہ میں ہر وقت میدان گرم ہی نہیں رہا کرتا ہے اور نہ ہر شخص اگلی ہی صفوں میں لڑ سکتا ہے۔ ایک وقت کی میدان آرائی کے لیے بسا اوقات پچیس پچیس سال تک لگاتار خاموش تیاری کرنی پڑتی ہے۔ اور اگلی صفوں میں اگر ہزاروں آدمی لڑتے ہیں تو ان کے پیچھے لاکھوں آدمی جنگی ضروریات کے لیے ان چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگے رہتے ہیں، جو ظاہر میں نظر میں بہت حقیر ہوتے ہیں۔