خواتین اور دینی مسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کے قارئین کے سوالات کے جوابات پر مبنی ایک مجموعہ ہے جو بالخصوص خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق دینی مسائل پر مرتب کیا گیا ہے۔ ابتدائی سوالات میں چند عمومی عقائد کی وضاحت (جیسے وہابیت کی حقیقت، حضرت حوا کی تخلیق، ایصالِ ثواب کے احکام) کے بعد کتاب کا بیشتر حصہ خواتین سے متعلق معاشرتی و فقہی مسائل پر مرکوز ہو جاتا ہے۔
اس میں پردہ اور حجاب کی حدود، مہر کے احکام، تعددِ ازواج، طلاق و خلع، شادی بیاہ کی رسومات، عورت کی تعلیم و ملازمت، اور نکاح میں کفاءت جیسے موضوعات پر مولانا مودودی کے مدلل و تفصیلی جوابات شامل ہیں، جن میں وہ ہر مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے رائج معاشرتی رسوم کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اپنی قوم میں شادی
سوال: کیا حدیث یا قرآن میں کوئی اصولی ہدایت اس امر کی موجود ہے کہ ہر شخص اپنی قوم(ذات) میں ہی شادی کرے۔واضح رہے کہ میں کفاء ت کا اس معنی میں تو قائل ہوں کہ فریقین میں مناسبت ہونی چاہیے،غیر ضروری معیار کا فرق نہیں ہونا چاہیے۔
جواب: قرآن یا حدیث میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ ہرشخص اپنی قوم میں ہی شادی کرے۔ بلکہ نبیﷺ اور صحابہ کرام ؓ کا عمل اس کے خلاف پایا جاتا ہے۔
(ترجمان القرآن،فروری 1961ء)