خواتین اور دینی مسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کے قارئین کے سوالات کے جوابات پر مبنی ایک مجموعہ ہے جو بالخصوص خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق دینی مسائل پر مرتب کیا گیا ہے۔ ابتدائی سوالات میں چند عمومی عقائد کی وضاحت (جیسے وہابیت کی حقیقت، حضرت حوا کی تخلیق، ایصالِ ثواب کے احکام) کے بعد کتاب کا بیشتر حصہ خواتین سے متعلق معاشرتی و فقہی مسائل پر مرکوز ہو جاتا ہے۔
اس میں پردہ اور حجاب کی حدود، مہر کے احکام، تعددِ ازواج، طلاق و خلع، شادی بیاہ کی رسومات، عورت کی تعلیم و ملازمت، اور نکاح میں کفاءت جیسے موضوعات پر مولانا مودودی کے مدلل و تفصیلی جوابات شامل ہیں، جن میں وہ ہر مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے رائج معاشرتی رسوم کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
نکاح و طلاق کےملکی قوانین اور شریعت
سوال: کیا عائلی قوانین کے نفاذ کے بعد کوئی شخص اگر شریعت کے مطابق کسی قسم کی طلاق دے تو وہ واقع ہوجائے گی؟ مذکورہ قوانین کی روسے تو طلاق کے نافذ ہونے کے لیے کچھ خاص شرائط عائد کردی گئی ہیں؟
جواب: کسی حکومت کے قوانین سے نہ تو شریعت میں کوئی ترمیم ہوسکتی ہے اور نہ وہ شریعت کے قائم مقام بن سکتے ہیں۔اس لیے جو طلاق شرعی قواعد کی رو سے دے دی گئی ہو وہ عند اﷲ اور عند المسلمین نافذ ہوجائے گی خواہ ان قوانین کی رو سے وہ نافذ نہ ہو۔ او رجو طلاق شرعاً قابل نفاذ نہیں ہے وہ ہرگز نافذ نہ ہو گی،خواہ یہ قوانین اس کو نافذ قرار دیں۔اب مسلمانو ں کو خود سوچ لینا چاہیے کہ وہ اپنے نکاح وطلاق کے معاملات خدا اور رسول ﷺ کی شریعت کے مطابق طے کرنا چاہتے ہیں یا ان عائلی قوانین کے مطابق۔
(ترجمان القرآن،مئی 1962ء)