خواتین اور دینی مسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کے قارئین کے سوالات کے جوابات پر مبنی ایک مجموعہ ہے جو بالخصوص خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق دینی مسائل پر مرتب کیا گیا ہے۔ ابتدائی سوالات میں چند عمومی عقائد کی وضاحت (جیسے وہابیت کی حقیقت، حضرت حوا کی تخلیق، ایصالِ ثواب کے احکام) کے بعد کتاب کا بیشتر حصہ خواتین سے متعلق معاشرتی و فقہی مسائل پر مرکوز ہو جاتا ہے۔
اس میں پردہ اور حجاب کی حدود، مہر کے احکام، تعددِ ازواج، طلاق و خلع، شادی بیاہ کی رسومات، عورت کی تعلیم و ملازمت، اور نکاح میں کفاءت جیسے موضوعات پر مولانا مودودی کے مدلل و تفصیلی جوابات شامل ہیں، جن میں وہ ہر مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے رائج معاشرتی رسوم کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
غیر مسلموں کے برتنوں میں کھانا
سوال: غیر مسلموں کے برتنوں میں کھانا اور پینا درست ہے یا نہیں؟
جواب: ان کے صاف دھلے ہوئے برتنوںمیں آپ کھانا کھا سکتے ہیں اگر آپ کو اطمینان ہو کہ وہ کسی حرام چیز سے ملوث نہیں ہیں۔ اطمینان نہ ہونے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ آپ دعوت وصول ہوتے ہی اپنی اوّلین فرصت میں داعی کو اپنے اصول اور مسلک سے آگاہ فرما ئیں اور ان کو لکھ بھیجیں کہ آپ کے ساتھ دعوت میں ان اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے۔
(ترجمان القرآن، اپریل1960ء)
سوال: بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں الکوہل کی تھوڑی بہت آمیزش ہوتی ہے یا ہوسکتی ہے۔ان کا استعمال جائز ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جواب: جن چیزوں میں الکوہل کی آمیزش ہو،ان کا استعمال اس وقت تک نہ کرنا چاہیے جب تک کوئی طبیب آپ کی جان بچانے کے لیے یا آپ کی صحت کو غیر معمولی نقصان سے بچانے کے لیے اس کا استعمال ناگزیر نہ بتائے۔
(ترجمان القرآن، اپریل 1960ء)