خواتین اور دینی مسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کے قارئین کے سوالات کے جوابات پر مبنی ایک مجموعہ ہے جو بالخصوص خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق دینی مسائل پر مرتب کیا گیا ہے۔ ابتدائی سوالات میں چند عمومی عقائد کی وضاحت (جیسے وہابیت کی حقیقت، حضرت حوا کی تخلیق، ایصالِ ثواب کے احکام) کے بعد کتاب کا بیشتر حصہ خواتین سے متعلق معاشرتی و فقہی مسائل پر مرکوز ہو جاتا ہے۔
اس میں پردہ اور حجاب کی حدود، مہر کے احکام، تعددِ ازواج، طلاق و خلع، شادی بیاہ کی رسومات، عورت کی تعلیم و ملازمت، اور نکاح میں کفاءت جیسے موضوعات پر مولانا مودودی کے مدلل و تفصیلی جوابات شامل ہیں، جن میں وہ ہر مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے رائج معاشرتی رسوم کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
موسیقی استعمال کرنے والوں کے ساتھ تعلق داری
سوال: ایسے لوگو ں کے لیے کیا حکم ہے جو خود آلات موسیقی کا استعمال نہیں کرتے لیکن ایسے تعلق داروں کے ہاں بخوف کشیدگی چلے جاتے ہیں جوان کااستعمال کرتے ہیں؟
جواب: یہ محض ایمان کی کمزوری ہے کہ آدمی اپنے دوستوں اور عزیزوں کی ناراضی سے ڈرکرایک ناجائز کام میں حصہ لے۔رسول ﷺ اور اصحابِ رسولﷺ کے ساتھ جو لوگ اپنا حشر چاہتے ہوں،اُن کے لیے تویہی مناسب ہے کہ ایسے لوگوں سے ربط ضبط نہ رکھیں جنھیں احکامِ شریعت کی پروا نہیں۔ ورنہ جن کو ان لوگوں کے تعلقات زیادہ عزیز ہیں،انھیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ فاجرین اورصالحین کے ساتھ بیک وقت تعلق نہیں رکھا جاسکتا۔ جب تمھاری دنیا فاجروں کے ساتھ ہے تو آخرت میں بھی انھی کا ساتھ نصیب ہوگا۔
(ترجمان القرآن، جنوری،فروری 1944ء)