مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خواتین اور دینی مسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کے قارئین کے سوالات کے جوابات پر مبنی ایک مجموعہ ہے جو بالخصوص خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق دینی مسائل پر مرتب کیا گیا ہے۔ ابتدائی سوالات میں چند عمومی عقائد کی وضاحت (جیسے وہابیت کی حقیقت، حضرت حوا کی تخلیق، ایصالِ ثواب کے احکام) کے بعد کتاب کا بیشتر حصہ خواتین سے متعلق معاشرتی و فقہی مسائل پر مرکوز ہو جاتا ہے۔

اس میں پردہ اور حجاب کی حدود، مہر کے احکام، تعددِ ازواج، طلاق و خلع، شادی بیاہ کی رسومات، عورت کی تعلیم و ملازمت، اور نکاح میں کفاءت جیسے موضوعات پر مولانا مودودی کے مدلل و تفصیلی جوابات شامل ہیں، جن میں وہ ہر مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے رائج معاشرتی رسوم کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

وہابی اور نجد کا فرقہ

سوال: کیا کسی حدیث میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ نجد سے ایک فتنہ اُٹھے گا ؟کیا یہ حدیث مذکورہ بالا فرقے پر منطبق ہوتی ہے؟

جواب: نجد یا مشرق کی طرف سے ایک فتنہ اُٹھنے کی خبر تو حدیث میں دی گئی ہے (صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب: قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: الفتنۃ من قبل المشرق،حدیث 6563 ) مگر اس کو محمد بن عبدالوہاب پر چسپاں کرنا محض گروہ بندی کے اندھے جوش کا نتیجہ ہے ۔ایک فریق جب دوسرے فریق سے لڑنا چاہتا ہے تو ہر ہتھیار اس کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، حتیٰ کہ خدا اور رسولﷺ کو بھی ایک فریق جنگ بنانے سے دریغ نہیں کرتا۔

(ترجمان القرآن ، جولائی ،اکتوبر 1944ء)