خواتین اور دینی مسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کے قارئین کے سوالات کے جوابات پر مبنی ایک مجموعہ ہے جو بالخصوص خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق دینی مسائل پر مرتب کیا گیا ہے۔ ابتدائی سوالات میں چند عمومی عقائد کی وضاحت (جیسے وہابیت کی حقیقت، حضرت حوا کی تخلیق، ایصالِ ثواب کے احکام) کے بعد کتاب کا بیشتر حصہ خواتین سے متعلق معاشرتی و فقہی مسائل پر مرکوز ہو جاتا ہے۔
اس میں پردہ اور حجاب کی حدود، مہر کے احکام، تعددِ ازواج، طلاق و خلع، شادی بیاہ کی رسومات، عورت کی تعلیم و ملازمت، اور نکاح میں کفاءت جیسے موضوعات پر مولانا مودودی کے مدلل و تفصیلی جوابات شامل ہیں، جن میں وہ ہر مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے رائج معاشرتی رسوم کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
گڑیوں(کھلونوں) کاحکم
سوال: کیا بچوں کے کھیل کا سامان، مثلاً چینی کی گولیاں،تاش،ربڑ کی چڑیاں اور لڑکیوں کے لیے گڑیاں وغیرہ فروخت کرنا جائز ہے،نیز ہندوئوں کی ضرورت کی گڑیاں بھی کیا بیچی جاسکتی ہیں؟
جواب: بچوں کے کھلونے بیچنا بجائے خود ناجائز نہیں ہے اِلّایہ کہ کسی خاص کھلونے یا کھیل کے سامان میں کوئی شرعی قباحت ہو۔رہے جانوروں اور آدمیوں کے مجسّمے، توان کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ پوری باریکی سے تمام خدوخال کے ساتھ انھیں بنایا گیا ہو۔دوسرے یہ کہ محض ایک سرسری سا ڈھانچا کسی جان دار کا ہو، جیسے لکڑی کے گھوڑے اور کپڑے کی گڑیاں۔ پہلی قسم کے مجسّموں کی فروخت جائز نہیں ہے۔البتہ دوسری قسم کے کھلونے آپ بیچ سکتے ہیں۔ رہیں ہندوئوں کی ضرورت کی گڑیاں، تو اگر وہ مشرکانہ تخیلات کی نمائندہ ہوں،مثلاًکشن جی کی مورتی یا رام چندر جی کا مجسمہ وغیرہ،تو ان کی فروخت حرام ہے۔
(ترجمان القرآن، اگست 1946ء)