مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خواتین اور دینی مسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کے قارئین کے سوالات کے جوابات پر مبنی ایک مجموعہ ہے جو بالخصوص خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق دینی مسائل پر مرتب کیا گیا ہے۔ ابتدائی سوالات میں چند عمومی عقائد کی وضاحت (جیسے وہابیت کی حقیقت، حضرت حوا کی تخلیق، ایصالِ ثواب کے احکام) کے بعد کتاب کا بیشتر حصہ خواتین سے متعلق معاشرتی و فقہی مسائل پر مرکوز ہو جاتا ہے۔

اس میں پردہ اور حجاب کی حدود، مہر کے احکام، تعددِ ازواج، طلاق و خلع، شادی بیاہ کی رسومات، عورت کی تعلیم و ملازمت، اور نکاح میں کفاءت جیسے موضوعات پر مولانا مودودی کے مدلل و تفصیلی جوابات شامل ہیں، جن میں وہ ہر مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے رائج معاشرتی رسوم کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ایصالِ ثواب کا اللّٰہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہونا

سوال: آپ خودایصال ثواب کرنے والے کے لیے تو انفاق کوبہرحال نافع قرار دے رہے ہیں مگر متوفیٰ عزیز کے لیے نافع ہونے کو اﷲ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف قرار دے رہے ہیں۔اس تفریق کی اصل وجہ کیا ہے؟

جواب: یہ بات کہ ایصال ثواب کا میت کے لیے نافع ہونا یا نہ ہونا اﷲ کی مرضی پر موقوف ہے،تو اس کا سبب دراصل یہ ہے کہ ایصال ثواب کی نوعیت محض ایک دعا کی ہے۔ یعنی ہم اﷲ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ یہ نیک عمل جو ہم نے تیری رضا کے لیے کیا ہے، اس کا ثواب فلاں مرحوم کو دیا جائے۔اس دعا کی حیثیت ہماری دوسری دعائوں سے مختلف نہیں ہے۔ اور ہماری سب دعائیں اﷲ کی مرضی پر موقوف ہیں۔وہ مختار ہے کہ جس دعا کو چاہے قبول فرمائے اور جسے چاہے قبول نہ فرمائے۔ ہوسکتا ہے کہ ہم کسی ایسے شخص کے لیے ایصال ثواب کریں جو اﷲ کی نگاہ میں مومن ہی نہ ہو، یا سخت مجرم ہو اور اﷲ اسے کسی ثواب کا مستحق نہ سمجھے۔

ایصال ثواب کرنے والے نے اگرواقعی کوئی نیک عمل کیا ہوتواس کااجر بہرحال ضائع نہ ہوگا۔اﷲ تعالیٰ اگر متوفی کو ثواب نہ پہنچائے گا تو نیکی کرنے والے کے حساب میں اس کا اجر ضرور شامل کرے گا۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے آپ کسی شخص کے نام منی آرڈر بھیجیں۔اگر وہ منی آرڈر اس کو نہ دیا گیا ہو تو لازماًآپ کی رقم آپ کو واپس ملے گی۔ یا مثلاً آپ جیل میںکسی قیدی کو کھانا بھیجیں۔اگرحکومت یہ مناسب نہیں سمجھتی کہ ایک ظالم مجرم کو نفیس کھانے کھلائے جائیں تو وہ آپ کا بھیجا ہوا کھانا پھینک نہیں دے گی،بلکہ آپ کو واپس کردے گی۔

(ترجمان القرآن،فروری 1961ء)