خواتین اور دینی مسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کے قارئین کے سوالات کے جوابات پر مبنی ایک مجموعہ ہے جو بالخصوص خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق دینی مسائل پر مرتب کیا گیا ہے۔ ابتدائی سوالات میں چند عمومی عقائد کی وضاحت (جیسے وہابیت کی حقیقت، حضرت حوا کی تخلیق، ایصالِ ثواب کے احکام) کے بعد کتاب کا بیشتر حصہ خواتین سے متعلق معاشرتی و فقہی مسائل پر مرکوز ہو جاتا ہے۔
اس میں پردہ اور حجاب کی حدود، مہر کے احکام، تعددِ ازواج، طلاق و خلع، شادی بیاہ کی رسومات، عورت کی تعلیم و ملازمت، اور نکاح میں کفاءت جیسے موضوعات پر مولانا مودودی کے مدلل و تفصیلی جوابات شامل ہیں، جن میں وہ ہر مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے رائج معاشرتی رسوم کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اشتہاری تصویریں
سوال: اشتہار کے لیے کیلنڈر وغیرہ پر آ ج کل عورتوں کی تصاویر بنانے کا بہت رواج ہے،نیز مشہور شخصیتوں اور قومی رہبروں کی تصاویر بھی استعمال کی جاتی ہیں، اس کے علاوہ تجارتی اشیا کے ڈبوں اور بوتلوں اور لفافوں پر چھاپی جاتی ہیں۔ ان مختلف صورتوں سے ایک مسلمان تاجر اپنا دامن کیسے بچا سکتا ہے؟
جواب: اگر کوئی اشتہار یا کیلنڈر خودآپ چھپوائیں تو اسے تصویر سے پاک رکھیں۔ اور ضرورتاً اگر آپ کو اپنی ذات کے لیے کیلنڈروںوغیرہ کا استعمال کرنا پڑے تو اوّل تو بے تصویر لیجیے، ورنہ تصاویر کو چھپا دیجیے یامسخ کردیجیے۔لیکن ڈبوں اور بوتلوں اور لفافوں پر آپ کہاں تک تصاویر کومٹا سکتے ہیں۔ موجودہ تصویر پرست دنیا نے قسم کھالی ہے کہ کسی چیز کو تصویر سے خالی نہ چھوڑے گی۔ڈاک کے ٹکٹوں اور سکّوں تک پر تصاویر موجود ہیں۔یہ ہمہ گیر نظامِ طاغوت اپنی ناپاکیوں اور غلاظتوں کو جڑ سے لے کر شاخوں اور پتوں تک پھیلاتا چلا جارہا ہے۔بس اپنی حدِ امکان تک اپنا دامن بچائیے اور اس حد سے آگے جو کچھ ہے،اس سے اپنے آپ کو اور دنیا کو بچانے کے لیے یہ سعی کیجیے کہ نظامِ باطل کا تسلط ختم ہو اور نظامِ حق کا اقتدار جمے۔ اس کی جڑ کٹے گی تو شاخیں آپ ہی جھڑ جائیں گی۔
(ترجمان القرآن ، اگست 1946ء)