خواتین اور دینی مسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کے قارئین کے سوالات کے جوابات پر مبنی ایک مجموعہ ہے جو بالخصوص خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق دینی مسائل پر مرتب کیا گیا ہے۔ ابتدائی سوالات میں چند عمومی عقائد کی وضاحت (جیسے وہابیت کی حقیقت، حضرت حوا کی تخلیق، ایصالِ ثواب کے احکام) کے بعد کتاب کا بیشتر حصہ خواتین سے متعلق معاشرتی و فقہی مسائل پر مرکوز ہو جاتا ہے۔
اس میں پردہ اور حجاب کی حدود، مہر کے احکام، تعددِ ازواج، طلاق و خلع، شادی بیاہ کی رسومات، عورت کی تعلیم و ملازمت، اور نکاح میں کفاءت جیسے موضوعات پر مولانا مودودی کے مدلل و تفصیلی جوابات شامل ہیں، جن میں وہ ہر مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے رائج معاشرتی رسوم کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
دعوت میں شراب پیش کرنا
سوال: یہاں نائیجیریا میں اگر کچھ لوگوں کو دعوت دی جائے تو اس میں شراب دی جاسکتی ہے یا نہیں،کیونکہ یہاں کے لوگ بغیر شراب کے دعوت ہی نہیں سمجھتے اور اگر اس کا استعمال نہ کیا جائے تو اس کا کیا بدل دیا جائے؟
جواب: آپ خود جن لوگوں کو مدعو کریں،ان کو ہرگز شراب نہ پلائیں۔دعوت دینے سے پہلے آپ کو انھیں آگاہ کردینا چاہیے کہ آپ دعوت میں اپنے اصول کے خلاف کسی کو شراب نہیں پیش کرسکتے۔اس شرط پر جو لوگ آپ کی دعوت قبو ل کریں،صرف انھی کو مدعو کیجیے۔شراب کا بدل پیش کرنا ہو تو پاکستان یا ہندستان سے شربت روح افزا یا ایسا ہی کوئی اور خوش رنگ ومعطر مشروب منگوا لیجیے۔اُمید ہے کہ وہ ان لوگوں کو بہت پسند آئےگا۔
( ترجمان القرآن، اپریل 1960ء)