اسلامی ریاست
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جس میں اسلام کو محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہ سمجھ کر، بلکہ زندگی کا ایک مکمل نظامِ حیات پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام کا نفاذ صرف وعظ و تبلیغ سے ممکن نہیں؛ بلکہ اس کے لیے سیاسی اقتدار اور ریاستی طاقت کا حصول ضروری ہے۔ مولانا مودودی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جدید دور کا سیکولر تصورِ ریاست، جو دین کو ذاتی معاملہ قرار دے کر سیاست سے الگ کرتا ہے، درحقیقت جاہلیت کے محدود تصورِ مذہب کی بازگشت ہے، جسے اسلام نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کتاب کی تدوین کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے نظریاتی اصولوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں منظم انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ نہ صرف علماء و طلبہ بلکہ عام مسلمان بھی اس نظام کی حقیقت سے آشنا ہو سکیں۔
کتاب کا آغاز دیباچے سے ہوتا ہے جس میں ناشر، مرتب اور مصنف کے تعارفی خیالات شامل ہیں۔ یہاں مولانا مودودی کی سیاسی جدوجہد، گرفتاریاں اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو مؤلف کے عملی تجربات کا ادراک ہو سکے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ یہ مضامین گذشتہ پچیس برسوں میں مختلف مواقع پر لکھے گئے تھے، جنہیں اب ادارۂ معارفِ اسلامی کے زیرِ اہتمام دو حصوں میں منظم کیا گیا ہے: پہلا حصہ نظری مباحث پر مشتمل ہے اور دوسرا پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق عملی مضامین پر۔
کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہے جنہیں موضوعاتی اعتبار سے کئی مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی ابواب (دین و سیاست، اسلام کا سیاسی نظریہ، قرآن کا فلسفۂ سیاست، معنیٔ خلافت، اسلامی تصورِ قومیت، اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ) اسلامی ریاست کے نظریاتی خدوخال—حاکمیتِ الٰہی، خلافت، قومیت اور قانون کے سرچشمے—کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرتے ہیں۔ اس کے بعد کے ابواب (اسلامی ریاست کی بنیادیں، اسلامی دستور کی بنیادیں، اسلامی ریاست کا مثالی دور، قانون سازی اور اجتہاد، چند دستوری و سیاسی مسائل) عملی سطح پر ریاست کی تشکیل، حکومت کے قیام کے طریقے، اجتہاد کے اصول اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کو موضوع بناتے ہیں۔ تین ابواب خصوصی طور پر حقوق کے مسئلے کے لیے وقف ہیں: انسان کے بنیادی حقوق، غیر مسلموں (ذمیوں) کے حقوق، اور عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور۔ آخری دو ابواب—اسلامی ریاست کے رہنما اصول اور اسلامی انقلاب کی راہ—اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایسا نظام کن اصولوں پر قائم ہو اور اسے پرامن، تدریجی اور جمہوری طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے، جس کے ضمن میں پاکستان کے اکتیس نامور علماء کے متفقہ دستوری فیصلے کا متن بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"اسلامی ریاست" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ ضخیم تصنیف ہے جو دراصل ایک نشست میں لکھی گئی کتاب نہیں بلکہ اسلامک پبلیکیشنز کی طرف سے مرتب کردہ ایک وسیع مجموعہ ہے، جس میں مولانا مودودی کی تقاریر، مضامین، انٹرویوز اور ان کی دیگر کتب (خصوصاً تفہیمات اور خلافت و ملوکیت) کے اقتباسات کو موضوعِ "اسلامی ریاست" کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتب خانے میں شامل مولانا کی تصانیف میں سب سے ضخیم کتاب ہے (312 ابواب، 16 بڑے حصوں پر مشتمل)، اور ان کے سیاسی فکر کا سب سے مربوط بیان سمجھی جاتی ہے۔
کتاب کی بنیادی دلیل سولہ ابواب میں اس ترتیب سے آگے بڑھتی ہے: (۱) سب سے پہلے اس نظریے کی تردید کی گئی ہے، جو جدیدیت پسند اور سیکولر قوم پرست دونوں طرح کے حلقوں میں مشترک ہے، کہ اسلام میں دین اور سیاست الگ الگ دائرے ہیں؛ (۲) اسلام کا سیاسی نظریہ پیش کیا گیا ہے، جس کی بنیاد یہ دعویٰ ہے کہ ہر نبی کا مشن دراصل انسانوں کی ناجائز حاکمیت کے خلاف دعوت تھا؛ (۳) قرآن کے فلسفہ سیاست کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۴) خلافت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے — یعنی انسان، اور خاص طور پر اہلِ ایمان کی جماعت، اللہ کے قانون کے تحت ایک تفویض شدہ اختیار استعمال کرتی ہے، اپنی خودمختار حیثیت میں حکومت نہیں کرتی؛ (۵) نسل، زبان یا علاقے کی بجائے عقیدے پر مبنی ایک مخصوص اسلامی تصورِ قومیت پیش کیا گیا ہے؛ (۶) اسلامی دستوری قانون کے مآخذ — قرآن، سنت، خلافتِ راشدہ کا تعامل، اور بعد کے مجتہدین کے فیصلے — کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۷-۸) اسلامی ریاست اور دستور کی بنیادیں بیان کی گئی ہیں، جہاں مولانا نے مشہور اصطلاح "الٰہی جمہوریت" وضع کی — ایسا نظامِ حکومت جو نہ پاپائیت ہے نہ مغربی سیکولر جمہوریت، بلکہ ایسی ریاست ہے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے جبکہ روزمرہ انتظام مشاورت، شوریٰ اور وقتاً فوقتاً حکمرانوں کے انتخاب کے ذریعے خود امت انجام دیتی ہے؛ (۹) عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو اسلامی ریاست کے "مثالی دور" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کی روشنی میں کسی بھی مدعیٔ اسلامی ریاست کو پرکھا جانا چاہیے؛ (۱۰) قانون سازی اور اجتہاد کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے — کہ انسانی مقننہ وحی کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آزادانہ اجتہاد کر سکتی ہے؛ (۱۱-۱۲) چند دستوری اور سیاسی مسائل (سیاست میں خواتین کا کردار، ارتداد کی سزا، جنگ اور غلامی کے احکام، صدرِ ریاست کا حقِ ویٹو) پر بحث کے بعد ایک پورا باب انسان کے بنیادی حقوق کے لیے وقف کیا گیا ہے — حقِ زندگی، کمزوروں کا تحفظ، عزت، معاشی تحفظ، آزادیٔ اظہار و ضمیر، ظلم کے خلاف احتجاج — جنہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ اور اس لیے خود ریاست کے لیے بھی ناقابلِ سلب قرار دیا گیا ہے؛ (۱۳) غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کے حقوق و حیثیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے — جان، مال، عبادت کی آزادی، فوجی خدمت سے استثنا، جزیہ — تاہم انہیں جدید معنوں میں "برابر شہری" کی بجائے ایک الگ قانونی درجہ دیا گیا ہے؛ (۱۴) اسلام کے تصورِ عدلِ اجتماعی کا سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے موازنہ کیا گیا ہے، اور یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام نجی ملکیت اور انفرادی کاروبار کی اجازت دیتا ہے مگر دولت کے حصول اور استعمال پر اخلاقی و قانونی حدود عائد کرتا ہے؛ (۱۵) اسلامی ریاست کے رہنما اصول دوبارہ مرتب کیے گئے ہیں؛ اور (۱۶) آخر میں مولانا نے اپنا یہ نقطۂ نظر بیان کیا ہے کہ اسلامی انقلاب دراصل کیسے برپا ہونا چاہیے — بتدریج، پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی کے ذریعے، نہ کہ اقتدار پر اچانک قبضے سے — اور اس ضمن میں 1951ء کا وہ اتفاقِ رائے شامل کیا گیا ہے جس پر پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے 31 علماء نے اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کے طور پر اتفاق کیا تھا۔
اہمیت۔ یہ کتاب (اور جس فکری سرمائے سے یہ مرتب کی گئی ہے) جماعتِ اسلامی کے سیاسی پروگرام کی اساس اور بیسویں صدی میں اسلام اور جدید ریاست کے تعلق پر ہونے والی بحث کی سب سے اہم دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔ مولانا کی اصطلاحات — حاکمیت، "الٰہی جمہوریت"، اور خلافت کا از سرِ نو تعین بطور اجتماعی امانت نہ کہ کسی ایک حکمران کا ذاتی منصب — نے پاکستان کے دستوری مباحث (اور بعد ازاں، فقہی اختلافات کے باوجود، ایران کے انقلابی گفتگو) میں استعمال ہونے والی وہ زبان فراہم کی جس کے ذریعے جدید قومی ریاست میں اسلام کے مقام پر بحث کی گئی۔ کتاب کے آخری باب میں شامل 1951ء کا علماء اتفاقِ رائے، پاکستان کی ابتدائی دستور سازی میں "قراردادِ مقاصد" پر ہونے والی بحث پر براہِ راست اثرانداز ہوا۔
تنقیدی جائزہ۔ ایک محقق کی حیثیت سے اس کتاب کو پڑھنے کا تقاضا ہے کہ اسے محض اس کے اپنے موقف تک محدود نہ رکھا جائے۔ سید ولی رضا نصر اور چارلس ایڈمز جیسے محققین، جنہوں نے مولانا مودودی کے سیاسی فکر پر سب سے تفصیلی علمی مطالعے کیے ہیں، کا موقف ہے کہ ان کا نظریہ روایتی زبان میں لپٹی ہوئی ایک حقیقی جدید تشکیل ہے: قدیم فقہ سیاسیہ کی روایت "حاکمیت" کو اس طرح کسی ایک بنیادی تصور کے گرد مرتب نہیں کرتی جیسا مولانا مودودی نے کیا — یہ طرزِ استدلال جتنا کلاسیکی فقہ سے ماخوذ ہے، اتنا ہی مغرب میں مقبول عوامی حاکمیت کے تصور کے خلاف ردعمل سے بھی متاثر ہے، جس کی مولانا واضح طور پر تردید کر رہے ہیں۔ ناقدین نے کتاب کے حقوق سے متعلق ابواب میں ایک اندرونی تناؤ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے: ایک باب میں شہریوں کے لیے وسیع "بنیادی حقوق" کا اثبات کیا گیا ہے، جبکہ اگلے باب میں غیر مسلم باشندوں کو ایک الگ قانونی درجے (ذمی) میں رکھا گیا ہے جس میں سیاسی حقوق محدود ہیں (مثلاً منصبِ سربراہِ مملکت یا مکمل قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا) — حقوق کی آفاقی زبان اور شہریت کے مخصوص نظریے کے مابین یہ تناؤ بعد کے محققین، بشمول خود اسلامی فکر کی روایت کے اندر، زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ روایتی علماء کی جانب سے مولانا کے خلافت کو ایک اجتماعی/عوامی منصب کے طور پر (بجائے ایک متعین خلیفہ کے) نئے سرے سے متعین کرنے پر، اور محض عام مسلمانوں کی اکثریتی مقننہ کو اجتہاد کے وسیع اختیارات دینے پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ مطالعاتی حلقے کو چاہیے کہ اس کتاب کے دستوری نظریے کو صرف اس کے اپنے منطقی فریم ورک میں نہیں بلکہ ان تنقیدوں کی روشنی میں بھی پڑھے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- دین اور سیاست: مولانا مودودی دین اور سیاست کی علیحدگی کو رد کرتے ہیں۔ اس تفریق کے حق میں سب سے مضبوط دلائل کیا ہو سکتے ہیں، اور کتاب ان کا کیا جواب دیتی ہے؟ کیا آپ کو یہ جواب مطمئن کن لگتا ہے؟
- حاکمیتِ الٰہی بمقابلہ عوامی حاکمیت: مولانا مودودی جائز حکومت کی بنیاد عوام کی مرضی کی بجائے اللہ کی حاکمیت پر رکھتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر جدید جمہوری نظریے — کہ سیاسی اختیار عوام کی رضامندی سے حاصل ہوتا ہے — سے کس طرح مختلف ہے، اور اس سے کیا تناؤ پیدا ہوتا ہے؟
- "الٰہی جمہوریت": کیا یہ ایک مفید تیسری قسم ہے، یا تفصیل میں جانے پر یہ پاپائیت یا جمہوریت میں سے کسی ایک میں ضم ہو جاتی ہے؟ ایک حقیقی "الٰہی جمہوری" ریاست کو کسی مذہبی سیاسی جماعت کی محض حکمرانی سے کیا چیز ممتاز کرے گی؟
- خلافت کی از سرِ نو تعریف: مولانا مودودی خلافت کو ایک ہی خلیفہ کی بجائے پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی امانت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ تصور خلافت کی روایتی/کلاسیکی تفہیم سے کس طرح مختلف ہے، اور روایتی علماء نے اس پر کیا اعتراضات کیے؟
- غیر مسلم شہریوں کے حقوق: کتاب ذمیوں کے لیے وسیع تحفظات (جان، مال، عبادت، ٹیکس میں رعایت) کا اثبات کرتی ہے مگر انہیں مسلم شہریوں سے الگ قانونی درجے میں رکھتی ہے۔ اس اور کتاب کے اپنے باب "بنیادی حقوق" کی زیادہ آفاقی زبان کے مابین تناؤ پر بحث کریں۔ یہ فریم ورک ایک جدید کثیر المذاہب قومی ریاست میں کس طرح کام کرے گا؟
- بنیادی حقوق بمقابلہ بین الاقوامی انسانی حقوق: کتاب کے باب "بنیادی حقوق" میں درج حقوق کا جدید انسانی حقوق کے فریم ورک (مثلاً اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ) سے موازنہ کریں۔ کہاں مشترکات ہیں اور کہاں — بالخصوص مذہب یا جنس سے قطع نظر مساوات کے معاملے میں — اختلاف ہے؟
- اجتہاد کا دائرہ: مولانا مودودی مقننہ کو کس حد تک آزادانہ اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں، اور اس کی اہلیت کس کے پاس ہے؟ کیا عام اکثریتی مقننہ (بمقابلہ تربیت یافتہ مجتہدین) خود مولانا کے اپنے فریم ورک سے ہم آہنگ ہے؟
- سیاست میں خواتین کا کردار: کتاب اسلامی ریاست میں خواتین کو کیا کردار دیتی ہے، اور مطالعاتی حلقہ اسے صنف اور سیاسی شرکت کے معاصر مباحث کی روشنی میں کیسے پرکھ سکتا ہے؟
- سرمایہ داری، اشتراکیت اور مولانا کا تصورِ عدلِ اجتماعی: کتاب کی سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں پر تنقید کا خلاصہ کریں۔ کیا اس کا متبادل (نجی ملکیت مع سخت اخلاقی و قانونی حدود) دوسرے دو نظاموں میں نشاندہی کردہ مسائل کو حل کرتا ہے، یا اسے بھی نفاذ اور تعریف کے اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے؟
- "مثالی دور": مولانا مودودی عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو کسی بھی اسلامی ریاست کے لیے معیار قرار دیتے ہیں۔ ایک جدید ریاست کو ساتویں صدی کے نمونے کے مطابق پرکھنے کے فوائد اور خطرات کیا ہیں؟
- تبدیلی کا طریقہ، بتدریج یا انقلابی: مولانا مودودی اقتدار حاصل کرنے سے پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی پر زور دیتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی بیسویں صدی کی دیگر اسلامی تحریکوں سے کس طرح مختلف ہے، اور کیا یہ عملاً کامیاب رہی — مثلاً پاکستان میں خود جماعتِ اسلامی کے سفر میں؟
- آج کی معنویت: چونکہ یہ کتاب بیسویں صدی کے وسط میں پاکستان کے قیام کے مخصوص تناظر میں مرتب کی گئی، اس کے کون سے دلائل آپ کے خیال میں کسی بھی جدید مسلم اکثریتی ریاست کے لیے آج بھی متعلقہ ہیں، اور کون سے اس مخصوص لمحے تک محدود یا پرانے محسوس ہوتے ہیں؟
۲۔ اسلامی ریاست کیوں؟
ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے‘ اگر وہ بحیثیت مسلمان زندگی گزارنا چاہتے ہیں،اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں کہ وہ اپنی پوری زندگی کو خدا کی اطاعت میں دیں اور اپنے انفرادی اور اجتماعی تمام معاملات کا فیصلہ خدا کے قانون اور اس کی شریعت کے مطابق کریں۔ اسلام اس بات کو گوارا کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں کہ آپ ایمان کا اعلان تو کریں اللہ رب العالمین پر اور زندگی کے معاملات طے کریں غیر الٰہی قانون کے مطابق۔ یہ وہ سب سے بڑا تناقض ہے جس کا تصور کیا جاسکتا ہے اور اسلام اس کو گوارا کرنے کے لیے نہیں‘ اس تناقض کو مٹانے کے لیے آیا ہے، اور اسلامی ریاست اور اسلامی دستور کے مطالبے کی پشت پر دراصل یہی احساس کار فرما ہے کہ اگر مسلمان خدا کے قانون کی پیروی نہیں کرتا تو اس کا دعویِ اسلام ہی مشتبہ ہو جاتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس پر پورا قرآن دلیل ہے۔ [اقتباسات از:’ایک نہایت اہم استفتاء ‘ ص ۸تا ۱۴۔ ترجمان القرآن اگست ۱۹۴۰ء]
۱۔ قرآن کی رو سے اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے۔ خلق اسی کی ہے، لہٰذا فطرتاً امر کا حق (right of rule) بھی صرف اسی کو پہنچتا ہے۔ اس کے ملک (dominion)میں اس کی خلق پر‘ خود اس کے سوا کسی دوسرے کا امر جاری ہونا اور حکم چلنا بنیادی طور پر غلط ہے۔ صحیح راستہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ اس کے خلیفہ اور نائب کی حیثیت میں اس کے قانونِ شرعی کے مطابق حکمرانی ہو اور فیصلے کیے جائیں۔
۱۔ <<قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ>> آل عمران3: 26
کہو: اے اللہ‘ مالک الملک! تو جس کو چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے۔
۲۔ <<ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ۔>> فاطر35:13
وہ ہے اللہ‘ تمھارارب، ملک اسی کا ہے۔
۳۔ <<لَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ۔>> بنی اسرائیل17:111
بادشاہی میں کوئی اس کا شریک (partner)نہیں۔
۴۔ <<فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ ۔>> المومن40:12
لہٰذا حکم اللہ بزرگ و برتر کے لیے خاص ہے۔
۵۔ <<وَّ لَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖٓ اَحَدًا ۔>> الکہف18:26
اور وہ اپنے حکم میں کسی کو حصے دار نہیں بناتا۔
۶۔ <<اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ ۔>> اعراف7:54
خبردار! خلق اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے۔
۷۔ <<یَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْئٍ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَکُلَّہٗ لِلّٰہِ ۔>> آل عمران3:154
لوگ پوچھتے ہیں کیا امر میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہے؟ کہہ دو کہ امر سارا اللہ کے لیے مخصوص ہے۔
اس اصل الاصول کی بنا پر قانون سازی کا حق انسان سے سلب کرلیا گیا ہے، کیونکہ انسان مخلوق اور رعیت ہے‘ بندہ اور محکوم ہے‘ اور اس کاکام صرف اس قانون کی پیروی کرنا ہے جو مالک الملک نے بنایا ہو، البتہ قانون الٰہی کی حدود کے اندر استنباط و اجتہاد سے تفصیلاتِ فقہی مرتب کرنے کا معاملہ دوسرا ہے جس کی اجازت ہے۔ نیز جن امور میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی صریح حکم نہ دیا ہو‘ ان میں روح شریعت اور مزاج اسلام کو ملحوظ رکھتے ہوئے‘ قانون بنانے کا حق اہل ایمان کو حاصل ہے، کیونکہ ایسے امور میں کسی صریح حکم کا نہ ہونا بجائے خود یہ معنی رکھتا ہے کہ ان کے متعلق ضوابط و احکام مقرر کرنے کا قانونی حق اہل ایمان کو دے دیا گیا ہے۔ لیکن جو بنیادی بات سامنے رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے قانون کو چھوڑ کر جو شخص یا ادارہ خود کوئی قانون بناتا ہے، یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قانون کو تسلیم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے وہ طاغوت و باغی اور خارج از اطاعتِ حق ہے‘ اور اس سے فیصلہ چاہنے والا اور اس کے فیصلے پر عمل کرنے والا بھی بغاوت کا مجرم ہے:
۱۔ <<وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّ ھٰذَا حَرَامٌ ۔>> النحل16:116
اور تم اپنی زبانوں سے جن چیزوں کا ذکر کرتے ہو‘ ان کے متعلق جھوٹ گھڑ کر یہ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال (lawfull)ہے اور یہ حرام (unlawfull)ہے۔
۲۔ <<اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ ۔>> الاعراف7:3
جو کچھ تمھارے رب کی طرف سے تمھاری طرف اتارا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے اولیا (اپنے ٹھیرائے ہوئے کارسازوں) کی پیروی نہ کرو۔
۳۔ <<وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔>> المائدہ5:45
اور جو اس قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو ایسے تمام لوگ کافر ہیں۔
۴۔ <<اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْابِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْٓا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ ۔>> النساء4:60
اے نبیؐ! کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں اس ہدایت پر ایمان لانے کا جو تم پر اور تم سے پہلے کے انبیاء پر اتاری گئی ہے، اور پھر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملے کا فیصلہ طاغوت سے کرائیں حالانکہ انھیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ طاغوت سے کفر کریں (یعنی اس کے حکم کو تسلیم نہ کریں)۔
خداوند ِ عالم کی زمین پر صحیح حکومت اور عدالت صرف وہ ہے‘ جو اس قانون کی بنیاد پر قائم ہو‘ جو اس نے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے‘ اسی کا نام خلافت ہے [ارشاد ہوتا ہے:]
۱۔ <<وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ۔>> النساء4:64
اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ حکم الٰہی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔
۲۔ <<اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَا اَرٰ کَ اللّٰہُ ۔>> النساء4: 64
اے نبیؐ! ہم نے تمھاری طرف کتاب برحق نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اسی روشنی کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمھیں دکھائی ہے۔
۳۔ <<وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَہُمْ وَاحْذَرْہُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللہُ اِلَيْكَ۰ۭ۔>> المائدہ5:49
اور یہ کہ تم ان کے درمیان حکومت کرو اس ہدایت کے مطابق جو اللہ نے اتاری ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور ہوشیار رہو کہ وہ تمھیں فتنے میں مبتلا کرکے اس ہدایت کے کسی جز سے نہ پھیر دیں جو اللہ نے تمھاری طرف نازل کی ہے۔
۴۔ <<اَفَحُکْمَ الْجَاھِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ ۔>> المائدہ5:50
کیا یہ لوگ جاہلیت کی حکومت چاہتے ہیں؟
۵۔ <<یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۔>> ص38:26
اے دائود! ہم نے تم کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔ لہٰذا تم حق کے ساتھ لوگوں کے درمیان حکومت کرو اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو کہ اللہ کے راستے سے وہ تم کو بھٹکا لے جائے گی۔
اس کے برعکس ہر وہ حکومت اور ہر وہ عدالت باغیانہ ہے جو خداوند عالم کی طرف سے اس کے پیغمبروں کے لائے ہوئے قانون کے بجائے کسی دوسری بنیاد پر قائم ہو۔ بلالحاظ اس کے کہ تفصیلات میں ایسی حکومتوں اور عدالتوں کی نوعیتیں باہم کتنی ہی مختلف ہوں۔ ان کے تمام افعال بے اصل‘ بے وزن اور باطل ہیں۔ ان کے حکم اور فیصلے کے لیے سرے سے کوئی جائز بنیاد ہی نہیں ہے۔ حقیقی مالک الملک نے جب انھیں سلطان (charter)عطا ہی نہیں کیا تو وہ جائز حکومتیں اور عدالتیں کس طرح ہوسکتی ہیں۔ [چارٹر یا سلطان سے ہماری مراد یہ ہے کہ جو خدا کو مالک الملک اور اپنے آپ کو اس کا خلیفہ (نہ کہ خود مختار) تسلیم کرے‘ پیغمبر کو اس کا پیغمبر اور کتاب کو اس کی کتاب مانے اور شریعت الٰہی کے تحت رہ کر کام کرنا قبول کرے۔ صرف ایسی ہی حکومت اور عدالت کو خداوند عالم کا چارٹر حاصل ہے۔ یہ چارٹر خود قرآن میں دے دیا گیا ہے کہ اَنِ احْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ ] المائدۃ ۵:[۴۹ (لوگوں کے درمیان حکومت کرو اُس قانون کے مطابق جو اس نے نازل کیا ہے)] وہ تو جو کچھ کرتی ہیںخدا کے قانون کی رو سے سب کا سب کالعدم ہے۔ اہل ایمان (یعنی خدا کی وفادار رعایا) ان کے وجود کو بطور ایک خارجی واقعے (defacto) کے تسلیم کرسکتے ہیں، مگر بطور ایک جائز وسیلہ انتظام و فصل قضایا (dejure)کے تسلیم نہیں کرسکتے۔ ان کاکام اپنے اصل فرماںروا (اللہ) کے باغیوں کی اطاعت کرنا اور ان سے اپنے معاملات کا فیصلہ چاہنا نہیں ہے اور جو ایسا کریں‘ ادّعائے اسلام و ایمان کے باوجود‘ وفاداروں کے زمرے سے خارج ہیں۔ یہ بات صریح عقل کے خلاف ہے کہ کوئی حکومت ایک گروہ کو باغی بھی قرار دے اور پھر اپنی رعایا پر ان باغیوں کے اقتدار کو جائز بھی تسلیم کرے اور اپنی رعایا کو ان کا حکم ماننے کی اجازت دے دے:
۱۔ <<قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا o اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا o اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ لِقَآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا ۔>> الکہف18:103-105
اے نبیؐ! ان سے کہو: کیا میں تمھیں بتائوں کہ اپنے اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ ناکام و نامراد کون ہیں؟ وہ یہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی پوری سعی بھٹک گئی (یعنی انسانی کوششوں کے فطری مقصودرضائے الٰہی سے ہٹ کر دوسرے مقاصد کی راہ میں صرف ہوئی) اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم خوب کام کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کیا اور اس کی ملاقات (یعنی اس کے سامنے حاضر ہو کر حساب دینے) کا عقیدہ قبول نہ کیا۔ اس لیے ان کے سب اعمال حبط (کالعدم) ہوگئے اور قیامت کے روز ہم انھیں کوئی وزن نہ دیں گے۔
۲۔ <<تِلْکَ عَادٌ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَہٗ وَ اتَّبَعُوْٓا اَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ۔>> ھود11:59
یہ عاد ہیں جنھوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کیا اور اس کے رسولوں کی اطاعت نہ کی اور ہر جبار دشمنِ حق کے امر کا اتباع کیا۔
۳۔ <<وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَ مَلَاْئِہٖ فَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ فِرْعَوْنَ وَ مَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ ۔>> ھود11:96-97
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح روشن سلطان کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان ریاست کے پاس بھیجا مگر ان لوگوں نے (ہمارے فرستادہ شخص کے بجائے) فرعون کے امر کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا امر درست نہ تھا۔ (یعنی مالک الملک کے سلطان پر مبنی نہ تھا)
۴۔ <<لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَ اتَّبَعَ ھَوٰہُ وَ کَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا ۔>> الکہف18:28
اور تو کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے (یعنی اس حقیقت کے شعور و ادراک سے کہ ہم اس کے رب ہیں) غافل کر دیا ہے‘ جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی اور جس کا امر حق سے ہٹا ہوا ہے۔
۵۔ <<قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا۔>> الاعراف7:33
اے نبیؐ! کہہ دو کہ میرے رب نے حرام کیا ہے فحش کاموں کو خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور معصیت کو‘ اور حق کے بغیر ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کو‘ اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ (حاکمیت اور الوہیت میں) ان کو شریک کرو جن کے لیے اللہ نے کوئی سلطان نازل نہیں کیا ہے۔
۶۔ <<مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ۔>> یوسف12:40
تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی بندگی کرتے ہو‘ وہ تو محض نام ہیں، جو تم نے اور تمھارے اگلوں نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے کوئی سلطان نازل نہیں کیا ہے۔ حکم صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔
۷۔ <<وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرُّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی وَ نُصْلِہٖ جَھَنَّمَ وَ سَآئَ ت مَصِیْرًا۔>> النساء4:115
اور جو کوئی رسولؐ سے جھگڑا کرے در آں حالیکہ راہ راست اس کو دکھا دی گئی‘ اور ایمان داروں کا راستہ چھوڑ کر دوسری راہ چلنے لگے‘ اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود مڑ گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
۸۔ <<فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَھُمْ ۔>> النساء4:65
پس تیرے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ اے نبی! تجھ کو اپنے باہمی اختلاف میں فیصلہ کرنے والا نہ تسلیم کریں۔
۹۔ <<وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا۔>> النساء4:61
اور جب ان سے کہا گیا کہ آئو اس حکم کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے اور آئو رسولؐ کی طرف تو تونے منافقین کو دیکھا کہ وہ تمھاری طرف آنے سے کتراتے ہیں۔
۱۰۔ <<وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا ۔>> النساء4:141
اور اللہ نے کافروں (یعنی اپنی سلطنت کے باغیوں) کے لیے اہلِ ایمان (یعنی اپنی وفادار رعایا) پر کوئی راہ نہیں رکھی ہے۔
یہ قرآن کے محکمات ہیں۔ ان میں کچھ بھی متشابہ نہیں ہے اور یہی وہ مرکزی عقیدہ ہے جس پر اسلام کے نظام فکر‘ نظام اخلاق اور نظام تمدن کی بنیاد رکھی گئی ہے اور مسلمان اپنے ایمان کے تقاضے پورے نہیں کرسکتے جب تک وہ اسلامی معاشرہ اور اسلامی حکومت قائم نہ کرلیں۔ خدا کے قانون کی بالادستی قائم کیے بغیر بحیثیت مسلمان زندگی نہیں گزار سکتے، اس لیے ان کے دین و ایمان کا تقاضا ہے کہ خلافت الٰہی کا نظام قائم ہو، اور زندگی کے تمام معاملات خدا کے قانون کے مطابق طے ہوں۔ انبیائے کرام علیہم السلام اس مقصد کے لیے مبعوث کیے گئے کہ خدا کی حاکمیت کا نظام قائم کریں۔ اس لیے دیکھیے کہ ہجرت سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ دعا منگوائی جاتی ہے:
<<وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا ۔>> بنی اسرائیل 17:80
اور دعا کر کہ پروردگار! مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مدد گار بنا دے۔
یعنی یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر، یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے، تاکہ اس کی طاقت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کرسکوں‘ فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں‘ اور تیرے قانونِ عدل کو جاری کرسکوں۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصریؒ اور قتادہؒ نے کی ہے‘ اور اس کو ابن جریرؒ اور ابن کثیرؒ جیسے جلیل القدر مفسرین نے اختیار کیا ہے اور اسی کی تائید یہ حدیث کرتی ہے کہ:
<<اِنَّ اللّٰہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَالَایَزَعُ بِالْقُرَآنِ۔>> (تفسیر ابن کثیر، ج۳، ص ۵۹۔ البدایہ و النہایۃ، ج۲، ص۱۰۔تفسیر فتح القدیر للشوکانی ج۳، ص ۳۵۶، ص ۲۵۶۔ کنزالعُمال حدیث ۱۴۲۸۴)
یعنی اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کر دیتا ہے جن کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے‘وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جب کہ یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خود سکھائی ہے‘ تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز، بلکہ مطلوب و مندوب ہے‘ اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اسے دنیا پرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیا پرستی اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لیے حکومت کا طالب ہو۔ رہا خدا کے دین کے لیے حکومت کا طالب ہونا تو یہ دنیا پرستی نہیں، بلکہ خدا پرستی ہی کا عین تقاضا ہے۔ [تفہیم القرآن، ج۲،ص۶۳۸،ح ۱۰۰]