اسلامی ریاست
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جس میں اسلام کو محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہ سمجھ کر، بلکہ زندگی کا ایک مکمل نظامِ حیات پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام کا نفاذ صرف وعظ و تبلیغ سے ممکن نہیں؛ بلکہ اس کے لیے سیاسی اقتدار اور ریاستی طاقت کا حصول ضروری ہے۔ مولانا مودودی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جدید دور کا سیکولر تصورِ ریاست، جو دین کو ذاتی معاملہ قرار دے کر سیاست سے الگ کرتا ہے، درحقیقت جاہلیت کے محدود تصورِ مذہب کی بازگشت ہے، جسے اسلام نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کتاب کی تدوین کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے نظریاتی اصولوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں منظم انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ نہ صرف علماء و طلبہ بلکہ عام مسلمان بھی اس نظام کی حقیقت سے آشنا ہو سکیں۔
کتاب کا آغاز دیباچے سے ہوتا ہے جس میں ناشر، مرتب اور مصنف کے تعارفی خیالات شامل ہیں۔ یہاں مولانا مودودی کی سیاسی جدوجہد، گرفتاریاں اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو مؤلف کے عملی تجربات کا ادراک ہو سکے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ یہ مضامین گذشتہ پچیس برسوں میں مختلف مواقع پر لکھے گئے تھے، جنہیں اب ادارۂ معارفِ اسلامی کے زیرِ اہتمام دو حصوں میں منظم کیا گیا ہے: پہلا حصہ نظری مباحث پر مشتمل ہے اور دوسرا پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق عملی مضامین پر۔
کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہے جنہیں موضوعاتی اعتبار سے کئی مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی ابواب (دین و سیاست، اسلام کا سیاسی نظریہ، قرآن کا فلسفۂ سیاست، معنیٔ خلافت، اسلامی تصورِ قومیت، اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ) اسلامی ریاست کے نظریاتی خدوخال—حاکمیتِ الٰہی، خلافت، قومیت اور قانون کے سرچشمے—کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرتے ہیں۔ اس کے بعد کے ابواب (اسلامی ریاست کی بنیادیں، اسلامی دستور کی بنیادیں، اسلامی ریاست کا مثالی دور، قانون سازی اور اجتہاد، چند دستوری و سیاسی مسائل) عملی سطح پر ریاست کی تشکیل، حکومت کے قیام کے طریقے، اجتہاد کے اصول اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کو موضوع بناتے ہیں۔ تین ابواب خصوصی طور پر حقوق کے مسئلے کے لیے وقف ہیں: انسان کے بنیادی حقوق، غیر مسلموں (ذمیوں) کے حقوق، اور عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور۔ آخری دو ابواب—اسلامی ریاست کے رہنما اصول اور اسلامی انقلاب کی راہ—اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایسا نظام کن اصولوں پر قائم ہو اور اسے پرامن، تدریجی اور جمہوری طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے، جس کے ضمن میں پاکستان کے اکتیس نامور علماء کے متفقہ دستوری فیصلے کا متن بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"اسلامی ریاست" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ ضخیم تصنیف ہے جو دراصل ایک نشست میں لکھی گئی کتاب نہیں بلکہ اسلامک پبلیکیشنز کی طرف سے مرتب کردہ ایک وسیع مجموعہ ہے، جس میں مولانا مودودی کی تقاریر، مضامین، انٹرویوز اور ان کی دیگر کتب (خصوصاً تفہیمات اور خلافت و ملوکیت) کے اقتباسات کو موضوعِ "اسلامی ریاست" کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتب خانے میں شامل مولانا کی تصانیف میں سب سے ضخیم کتاب ہے (312 ابواب، 16 بڑے حصوں پر مشتمل)، اور ان کے سیاسی فکر کا سب سے مربوط بیان سمجھی جاتی ہے۔
کتاب کی بنیادی دلیل سولہ ابواب میں اس ترتیب سے آگے بڑھتی ہے: (۱) سب سے پہلے اس نظریے کی تردید کی گئی ہے، جو جدیدیت پسند اور سیکولر قوم پرست دونوں طرح کے حلقوں میں مشترک ہے، کہ اسلام میں دین اور سیاست الگ الگ دائرے ہیں؛ (۲) اسلام کا سیاسی نظریہ پیش کیا گیا ہے، جس کی بنیاد یہ دعویٰ ہے کہ ہر نبی کا مشن دراصل انسانوں کی ناجائز حاکمیت کے خلاف دعوت تھا؛ (۳) قرآن کے فلسفہ سیاست کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۴) خلافت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے — یعنی انسان، اور خاص طور پر اہلِ ایمان کی جماعت، اللہ کے قانون کے تحت ایک تفویض شدہ اختیار استعمال کرتی ہے، اپنی خودمختار حیثیت میں حکومت نہیں کرتی؛ (۵) نسل، زبان یا علاقے کی بجائے عقیدے پر مبنی ایک مخصوص اسلامی تصورِ قومیت پیش کیا گیا ہے؛ (۶) اسلامی دستوری قانون کے مآخذ — قرآن، سنت، خلافتِ راشدہ کا تعامل، اور بعد کے مجتہدین کے فیصلے — کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۷-۸) اسلامی ریاست اور دستور کی بنیادیں بیان کی گئی ہیں، جہاں مولانا نے مشہور اصطلاح "الٰہی جمہوریت" وضع کی — ایسا نظامِ حکومت جو نہ پاپائیت ہے نہ مغربی سیکولر جمہوریت، بلکہ ایسی ریاست ہے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے جبکہ روزمرہ انتظام مشاورت، شوریٰ اور وقتاً فوقتاً حکمرانوں کے انتخاب کے ذریعے خود امت انجام دیتی ہے؛ (۹) عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو اسلامی ریاست کے "مثالی دور" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کی روشنی میں کسی بھی مدعیٔ اسلامی ریاست کو پرکھا جانا چاہیے؛ (۱۰) قانون سازی اور اجتہاد کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے — کہ انسانی مقننہ وحی کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آزادانہ اجتہاد کر سکتی ہے؛ (۱۱-۱۲) چند دستوری اور سیاسی مسائل (سیاست میں خواتین کا کردار، ارتداد کی سزا، جنگ اور غلامی کے احکام، صدرِ ریاست کا حقِ ویٹو) پر بحث کے بعد ایک پورا باب انسان کے بنیادی حقوق کے لیے وقف کیا گیا ہے — حقِ زندگی، کمزوروں کا تحفظ، عزت، معاشی تحفظ، آزادیٔ اظہار و ضمیر، ظلم کے خلاف احتجاج — جنہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ اور اس لیے خود ریاست کے لیے بھی ناقابلِ سلب قرار دیا گیا ہے؛ (۱۳) غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کے حقوق و حیثیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے — جان، مال، عبادت کی آزادی، فوجی خدمت سے استثنا، جزیہ — تاہم انہیں جدید معنوں میں "برابر شہری" کی بجائے ایک الگ قانونی درجہ دیا گیا ہے؛ (۱۴) اسلام کے تصورِ عدلِ اجتماعی کا سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے موازنہ کیا گیا ہے، اور یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام نجی ملکیت اور انفرادی کاروبار کی اجازت دیتا ہے مگر دولت کے حصول اور استعمال پر اخلاقی و قانونی حدود عائد کرتا ہے؛ (۱۵) اسلامی ریاست کے رہنما اصول دوبارہ مرتب کیے گئے ہیں؛ اور (۱۶) آخر میں مولانا نے اپنا یہ نقطۂ نظر بیان کیا ہے کہ اسلامی انقلاب دراصل کیسے برپا ہونا چاہیے — بتدریج، پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی کے ذریعے، نہ کہ اقتدار پر اچانک قبضے سے — اور اس ضمن میں 1951ء کا وہ اتفاقِ رائے شامل کیا گیا ہے جس پر پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے 31 علماء نے اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کے طور پر اتفاق کیا تھا۔
اہمیت۔ یہ کتاب (اور جس فکری سرمائے سے یہ مرتب کی گئی ہے) جماعتِ اسلامی کے سیاسی پروگرام کی اساس اور بیسویں صدی میں اسلام اور جدید ریاست کے تعلق پر ہونے والی بحث کی سب سے اہم دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔ مولانا کی اصطلاحات — حاکمیت، "الٰہی جمہوریت"، اور خلافت کا از سرِ نو تعین بطور اجتماعی امانت نہ کہ کسی ایک حکمران کا ذاتی منصب — نے پاکستان کے دستوری مباحث (اور بعد ازاں، فقہی اختلافات کے باوجود، ایران کے انقلابی گفتگو) میں استعمال ہونے والی وہ زبان فراہم کی جس کے ذریعے جدید قومی ریاست میں اسلام کے مقام پر بحث کی گئی۔ کتاب کے آخری باب میں شامل 1951ء کا علماء اتفاقِ رائے، پاکستان کی ابتدائی دستور سازی میں "قراردادِ مقاصد" پر ہونے والی بحث پر براہِ راست اثرانداز ہوا۔
تنقیدی جائزہ۔ ایک محقق کی حیثیت سے اس کتاب کو پڑھنے کا تقاضا ہے کہ اسے محض اس کے اپنے موقف تک محدود نہ رکھا جائے۔ سید ولی رضا نصر اور چارلس ایڈمز جیسے محققین، جنہوں نے مولانا مودودی کے سیاسی فکر پر سب سے تفصیلی علمی مطالعے کیے ہیں، کا موقف ہے کہ ان کا نظریہ روایتی زبان میں لپٹی ہوئی ایک حقیقی جدید تشکیل ہے: قدیم فقہ سیاسیہ کی روایت "حاکمیت" کو اس طرح کسی ایک بنیادی تصور کے گرد مرتب نہیں کرتی جیسا مولانا مودودی نے کیا — یہ طرزِ استدلال جتنا کلاسیکی فقہ سے ماخوذ ہے، اتنا ہی مغرب میں مقبول عوامی حاکمیت کے تصور کے خلاف ردعمل سے بھی متاثر ہے، جس کی مولانا واضح طور پر تردید کر رہے ہیں۔ ناقدین نے کتاب کے حقوق سے متعلق ابواب میں ایک اندرونی تناؤ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے: ایک باب میں شہریوں کے لیے وسیع "بنیادی حقوق" کا اثبات کیا گیا ہے، جبکہ اگلے باب میں غیر مسلم باشندوں کو ایک الگ قانونی درجے (ذمی) میں رکھا گیا ہے جس میں سیاسی حقوق محدود ہیں (مثلاً منصبِ سربراہِ مملکت یا مکمل قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا) — حقوق کی آفاقی زبان اور شہریت کے مخصوص نظریے کے مابین یہ تناؤ بعد کے محققین، بشمول خود اسلامی فکر کی روایت کے اندر، زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ روایتی علماء کی جانب سے مولانا کے خلافت کو ایک اجتماعی/عوامی منصب کے طور پر (بجائے ایک متعین خلیفہ کے) نئے سرے سے متعین کرنے پر، اور محض عام مسلمانوں کی اکثریتی مقننہ کو اجتہاد کے وسیع اختیارات دینے پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ مطالعاتی حلقے کو چاہیے کہ اس کتاب کے دستوری نظریے کو صرف اس کے اپنے منطقی فریم ورک میں نہیں بلکہ ان تنقیدوں کی روشنی میں بھی پڑھے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- دین اور سیاست: مولانا مودودی دین اور سیاست کی علیحدگی کو رد کرتے ہیں۔ اس تفریق کے حق میں سب سے مضبوط دلائل کیا ہو سکتے ہیں، اور کتاب ان کا کیا جواب دیتی ہے؟ کیا آپ کو یہ جواب مطمئن کن لگتا ہے؟
- حاکمیتِ الٰہی بمقابلہ عوامی حاکمیت: مولانا مودودی جائز حکومت کی بنیاد عوام کی مرضی کی بجائے اللہ کی حاکمیت پر رکھتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر جدید جمہوری نظریے — کہ سیاسی اختیار عوام کی رضامندی سے حاصل ہوتا ہے — سے کس طرح مختلف ہے، اور اس سے کیا تناؤ پیدا ہوتا ہے؟
- "الٰہی جمہوریت": کیا یہ ایک مفید تیسری قسم ہے، یا تفصیل میں جانے پر یہ پاپائیت یا جمہوریت میں سے کسی ایک میں ضم ہو جاتی ہے؟ ایک حقیقی "الٰہی جمہوری" ریاست کو کسی مذہبی سیاسی جماعت کی محض حکمرانی سے کیا چیز ممتاز کرے گی؟
- خلافت کی از سرِ نو تعریف: مولانا مودودی خلافت کو ایک ہی خلیفہ کی بجائے پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی امانت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ تصور خلافت کی روایتی/کلاسیکی تفہیم سے کس طرح مختلف ہے، اور روایتی علماء نے اس پر کیا اعتراضات کیے؟
- غیر مسلم شہریوں کے حقوق: کتاب ذمیوں کے لیے وسیع تحفظات (جان، مال، عبادت، ٹیکس میں رعایت) کا اثبات کرتی ہے مگر انہیں مسلم شہریوں سے الگ قانونی درجے میں رکھتی ہے۔ اس اور کتاب کے اپنے باب "بنیادی حقوق" کی زیادہ آفاقی زبان کے مابین تناؤ پر بحث کریں۔ یہ فریم ورک ایک جدید کثیر المذاہب قومی ریاست میں کس طرح کام کرے گا؟
- بنیادی حقوق بمقابلہ بین الاقوامی انسانی حقوق: کتاب کے باب "بنیادی حقوق" میں درج حقوق کا جدید انسانی حقوق کے فریم ورک (مثلاً اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ) سے موازنہ کریں۔ کہاں مشترکات ہیں اور کہاں — بالخصوص مذہب یا جنس سے قطع نظر مساوات کے معاملے میں — اختلاف ہے؟
- اجتہاد کا دائرہ: مولانا مودودی مقننہ کو کس حد تک آزادانہ اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں، اور اس کی اہلیت کس کے پاس ہے؟ کیا عام اکثریتی مقننہ (بمقابلہ تربیت یافتہ مجتہدین) خود مولانا کے اپنے فریم ورک سے ہم آہنگ ہے؟
- سیاست میں خواتین کا کردار: کتاب اسلامی ریاست میں خواتین کو کیا کردار دیتی ہے، اور مطالعاتی حلقہ اسے صنف اور سیاسی شرکت کے معاصر مباحث کی روشنی میں کیسے پرکھ سکتا ہے؟
- سرمایہ داری، اشتراکیت اور مولانا کا تصورِ عدلِ اجتماعی: کتاب کی سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں پر تنقید کا خلاصہ کریں۔ کیا اس کا متبادل (نجی ملکیت مع سخت اخلاقی و قانونی حدود) دوسرے دو نظاموں میں نشاندہی کردہ مسائل کو حل کرتا ہے، یا اسے بھی نفاذ اور تعریف کے اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے؟
- "مثالی دور": مولانا مودودی عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو کسی بھی اسلامی ریاست کے لیے معیار قرار دیتے ہیں۔ ایک جدید ریاست کو ساتویں صدی کے نمونے کے مطابق پرکھنے کے فوائد اور خطرات کیا ہیں؟
- تبدیلی کا طریقہ، بتدریج یا انقلابی: مولانا مودودی اقتدار حاصل کرنے سے پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی پر زور دیتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی بیسویں صدی کی دیگر اسلامی تحریکوں سے کس طرح مختلف ہے، اور کیا یہ عملاً کامیاب رہی — مثلاً پاکستان میں خود جماعتِ اسلامی کے سفر میں؟
- آج کی معنویت: چونکہ یہ کتاب بیسویں صدی کے وسط میں پاکستان کے قیام کے مخصوص تناظر میں مرتب کی گئی، اس کے کون سے دلائل آپ کے خیال میں کسی بھی جدید مسلم اکثریتی ریاست کے لیے آج بھی متعلقہ ہیں، اور کون سے اس مخصوص لمحے تک محدود یا پرانے محسوس ہوتے ہیں؟
اسلامی تحریک کا مخصوص طریقِ کار
اب میں ایک مختصر تاریخی بیان کے ذریعے سے آپ کے سامنے اس امر کی تشریح کرنا چاہتا ہوں کہ اسلامی انقلاب کے لیے اجتماعی زندگی کی بنیادیں بدلنے اور ازسرنو تیار کرنے کی صورت کیا ہوتی ہے‘ اور اس جدوجہد کا وہ مخصوص طریق کار (technique)کیا ہے جس سے یہ کامیابی کی منزل تک پہنچتی ہے۔
اسلام دراصل اس تحریک کا نام ہے جو خدائے واحد کی حاکمیت کے نظریے پر انسانی زندگی کی پوری عمارت تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ یہ تحریک قدیم ترین زمانے سے ایک ہی بنیاد اور ایک ہی ڈھنگ پر چلی آرہی ہے۔ اس کے لیڈر وہ لوگ تھے جن کو رسول اللہ (اللہ کے فرستادے) کہا جاتا ہے۔ ہمیں اگر اس تحریک کو چلانا ہے تو لامحالہ ان ہی لیڈروں کے طرز عمل کی پیروی کرنی ہوگی‘ کیونکہ اس کے سوا کوئی اور طرز عمل اس خاص نوعیت کی تحریک کے لیے نہ ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں جب ہم انبیاء علیہم السلام کے نقشِ قدم کا سراغ لگانے کے لیے نکلتے ہیں تو ہمیں ایک بڑی دقت کا سامنا ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں جو انبیاعلیھم السلام گزرے ہیں ان کے کام کے متعلق ہمیں کچھ زیادہ معلومات نہیں ملتیں۔ قرآن میں کچھ مختصر اشارات ملتے ہیں، مگر ان سے مکمل اسکیم نہیں بن سکتی۔ بائبل کے عہد جدید (new testament)میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے کچھ غیر مستند اقوال ملتے ہیں‘ جن سے کسی حد تک اس پہلو پر روشنی پڑتی ہے کہ اسلامی تحریک اپنے بالکل ابتدائی مرحلے میں کس طرح چلائی جاتی ہے اور کن مسائل سے اسے سابقہ پیش آتا ہے، لیکن بعد کے مراحل حضرت مسیح ؑ کو پیش ہی نہیں آئے کہ ان کے متعلق کوئی اشارہ وہاں سے مل سکے۔ اس معاملے میں ہم کو صرف ایک ہی جگہ سے صاف اور مکمل رہنمائی ملتی ہے، اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے۔اس طرف ہمارے رجوع کرنے کی وجہ نری عقیدت مندی ہی نہیں ہے، بلکہ دراصل اس راہ کے نشیب و فراز معلوم کرنے کے لیے ہم اسی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔ اسلامی تحریک کے تمام لیڈروں میں صرف ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ تنہا لیڈر ہیں جن کی زندگی میں ہم کو اس تحریک کی ابتدائی دعوت سے لے کر اسلامی اسٹیٹ کے قیام تک اور پھر قیام کے بعد اس اسٹیٹ کی شکل‘ دستور‘ داخلی و خارجی پالیسی اور نظمِ مملکت کے نہج تک ایک ایک مرحلے اور ایک ایک پہلو کی پوری تفصیلات اور نہایت مستند تفصیلات ملتی ہیں۔ لہٰذا میں اسی ماخذ سے اس تحریک کے طریقِ کار کا ایک مختصر نقشہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسلام کی دعوت پر مامور ہوئے ہیں تو آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں بہت سے اخلاقی‘ تمدنی‘ معاشی اور سیاسی مسائل حل طلب تھے۔ رومی اور ایرانی امپیریلزم بھی موجود تھا۔ طبقاتی امتیازات بھی تھے۔ ناجائز معاشی انتفاع (economic exploitation) بھی ہو رہا تھا۔ اخلاقی ذمائم بھی پھیلے ہوئے تھے۔ خود آپ کے اپنے ملک میں ایسے پیچیدہ مسائل موجود تھے جو ایک لیڈر کے ناخنِ تدبیر کا انتظار کر رہے تھے۔ ساری قوم جہالت‘ اخلاقی پستی‘ افلاس‘ طوائف الملوکی اور خانہ جنگی میں مبتلا تھی۔ بحرین سے یمن تک عرب کے تمام ساحلی علاقے، عراق کے زرخیز صوبے سمیت ایرانی تسلط میں تھے۔ شمال میں عین حجاز کی سرحد تک رومی تسلط پہنچ چکا تھا۔ خود حجاز میں یہودی سرمایہ داروں کے بڑے بڑے گڑھ بنے ہوئے تھے اور انھوں نے عربوں کو اپنی سُود خوری کے جال میں پھانس رکھا تھا۔ مشرقی ساحل کے عین مقابل افریقہ میں حبش کی عیسائی حکومت موجود تھی جو چند ہی سال پہلے مکہ پر چڑھائی کر چکی تھی۔ اس کے ہم مذہبوں اور اس سے ایک گونہ معاشی و سیاسی تعلق رکھنے والوں کا ایک جتھا خود حجاز اور یمن کے درمیان نجران کے مقام پر موجود تھا۔ یہ سب کچھ تھا‘ مگر جس لیڈر کو اللہ نے راہنمائی کے لیے مقرر کیا تھا اس نے دنیا کے‘ اور خود اپنے ملک کے ان بہت سے مسائل میں سے کسی ایک مسئلے کی طرف بھی توجہ نہ کی‘ بلکہ دعوت اس چیز کی طرف دی کہ خدا کے سوا تمام الہٰوں کو چھوڑ دو‘ اور صرف اسی ایک الٰہ کی بندگی قبول کرو۔
اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ اس رہنما کی نگاہ میں دوسرے مسائل کوئی اہمیت نہ رکھتے تھے، یا وہ کسی توجہ کے لائق نہ تھے۔ آپ کو معلوم ہے کہ آگے چل کر اس نے ان سب مسئلوں کی طرف توجہ کی اور سب کو ایک ایک کرکے حل کیا، مگر ابتدا میں سب طرف سے نظر پھیر کر اسی ایک چیز پر تمام زور صرف کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اسلامی تحریک کے نقطۂ نظر سے انسان کی اخلاقی و تمدنی زندگی میں جتنی خرابیاں بھی پیدا ہوتی ہیں‘ ان سب کی بنیادی علت انسان کا اپنے آپ کو خود مختار (independent)اور غیر ذمے دار (irresponsible) سمجھنا،بالفاظ دیگر آپ اپنا الٰہ بننا ہے۔ یا پھر یہ ہے کہ وہ الٰہ العالمین کے سوا کسی دوسرے کو صاحبِ امرتسلیم کرے۔ خواہ دوسرا کوئی انسان ہو یا غیر انسان۔ یہ چیز جب تک جڑ میں موجود ہے اسلامی نظریے کی رُو سے کوئی اوپری اصلاح انفرادی بگاڑ یا اجتماعی خرابیوں کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ایک طرف سے خرابی کو دور کیا جائے گا اور کسی دوسری طرف سے وہ سر نکال لے گی۔ لہٰذا اصلاح کا آغاز اگر ہوسکتا ہے تو صرف اسی چیز سے ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو انسان کے دماغ سے خود مختاری کی ہوا کو نکالا جائے اور اسے بتایا جائے کہ تو جس دنیا میں رہتا ہے وہ درحقیقت بے بادشاہ کی سلطنت نہیں ہے‘ بلکہ فی الواقع اس کا ایک بادشاہ موجود ہے‘ اور اس کی بادشاہی نہ تیرے تسلیم کرنے کی محتاج ہے‘ نہ تیرے مٹانے سے مٹ سکتی ہے‘ اور نہ تو اس کے حدود سلطنت سے نکل کر کہیں جاسکتا ہے۔ اس اَمِٹ اور اٹل واقعے کی موجودگی میں تیرا خود مختاری کا زعم ایک احمقانہ غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے جس کا نقصان لامحالہ تیرے ہی اوپر عاید ہوگا۔ عقل اور حقیقت پسندی (realism)کا تقاضا یہ ہے کہ سیدھی طرح اس کے آگے سرجھکا دے اور مطیع بندہ بن کر رہ۔ دوسری طرف اس کو واقعے کا یہ پہلو بھی دکھا دیا جائے کہ اس پوری کائنات میں صرف ایک ہی بادشاہ‘ ایک ہی مالک اور ایک ہی مختار ہے۔ کسی دوسرے کو نہ یہاں حکم چلانے کا حق ہے اور نہ واقع میں کسی کا حکم چلتا ہے۔ اس لیے تُو اس کے سوا کسی کا بندہ نہ بن‘ کسی کا حکم نہ مان‘ کسی کے آگے سر نہ جھکا۔ یہاں کوئی ہزمیجسٹی نہیں ہے‘ میجسٹی اسی ایک کے لیے مختص ہے۔ یہاں کوئی ہزہولی نس نہیں ہے‘ ہولی نس ساری کی ساری اسی کے لیے خاص ہے۔ یہاں کوئی ہزہائی نس نہیں ہے‘ ہائی نس صرف اسی ایک کو زیبا ہے۔ یہاں کوئی ہزلارڈشپ نہیں ہے‘ لارڈ شپ بالکلیہ اسی ایک کا حصہ ہے۔ یہاں کوئی قانون ساز نہیں ہے‘ قانون اسی کا ہے اور وہی قانون بنانے کا حق دار و سزاوار ہے۔ یہاں کوئی سرکار‘ کوئی اَن داتا‘ کوئی راجہ‘ مہاراجہ‘ کوئی ولی یا کارساز‘ کوئی دعائیں سننے والا اور فریاد رس نہیں ہے۔ کسی کے پاس اقتدار کی کنجیاں نہیں ہیں۔ کسی کو برتری و فوقیت حاصل نہیں ہے۔ زمین سے آسمان تک سب بندے ہی بندے ہیں۔ رب اور مولیٰ صرف ایک ہے۔ لہٰذا تو ہر غلامی‘ ہر اطاعت‘ ہر پابندی سے انکار کر دے‘ اور اسی ایک کا غلام‘ مطیع اور پابند ِ حکم بن جا۔ یہ تمام اصلاحات کی جڑ اور بنیاد ہے۔ اسی بنیاد پر انفرادی سیرت اور اجتماعی نظام کی پوری عمارت ادھیڑ کر اَز سرِ نو ایک نقشے پر بنتی ہے، اور سارے مسائل جو انسانی زندگی میں آدم سے لے کر اب تک پیدا ہوئے اور اب سے قیامت تک پیدا ہوں گے‘ اسی بنیاد پر ایک نئے طریقے سے حل ہوتے ہیں۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بنیادی اصلاح کی دعوت کو بغیر کسی سابق تیاری اور بغیر کسی تمہیدی کارروائی کے براہ راست پیش کر دیا۔ انھوں نے اس دعوت کی منزل تک پہنچنے کے لیے کوئی ہیر پھیر کا راستہ اختیار نہیں کیا کہ پہلے کچھ سیاسی اور سوشل طرز کاکام کرکے لوگوں میں اثر پیدا کیا جائے‘ پھر اس اثر سے کام لے کر رفتہ رفتہ کچھ حاکمانہ اختیارات حاصل کرلیے جائیں، پھر ان اختیارات سے کام لے کر رفتہ رفتہ لوگوں کو چلاتے ہوئے اس مقام تک بڑھا لائیں۔ یہ سب کچھ‘ کچھ نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک شخص اٹھا اور چھوٹتے ہی اس نے <<لَآاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ>> کا اعلان کر دیا۔ اس سے کم کسی چیز پر اس کی نظر ایک لمحے کے لیے بھی نہ ٹھیری۔ اس کی وجہ پیغمبرانہ جرأت اور تبلیغی جوش ہی نہیں ہے۔ دراصل اسلامی تحریک کا طریقِ کار یہی ہے۔ وہ اثر یا وہ نفوذ و اقتدار جو دوسرے ذرائع سے پیدا کیا جائے‘ اس اصلاح کے کام میں کچھ بھی مددگار نہیں ہوتا۔ جو لوگ <<لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ>> کے سوا کسی اور بنیاد پر آپ کا ساتھ دیتے رہے ہوں وہ اس بنیاد پر تعمیرِ جدید کرنے میں آپ کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اس کام میں تو وہی لوگ مفید ہوسکتے ہیں جو آپ کی طرف <<لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ>> کی آواز سن کر ہی آئیں۔ اسی چیز میں ان کے لیے کشش ہو‘ اسی حقیقت کو وہ زندگی کی بنیاد بنائیں‘ اور اسی اساس پر وہ کام کرنے کے لیے اٹھیں۔ لہٰذا اسلامی تحریک چلانے کے لیے جس خاص قسم کے تدبر اور حکمت عملی کی ضرورت ہے، اس کا تقاضا یہی ہے کہ کسی تمہید کے بغیر کام کا آغاز توحید کی دعوت ہی سے کیا جائے۔
توحید کا یہ تصور محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں ہے۔ جیسا کہ میں ابھی عرض کر چکا ہوں۔ اس سے اجتماعی زندگی کا وہ پورا نظام جو انسان کی خود مختاری یا غیر اللہ کی حاکمیت و الوہیت کی بنیاد پر بنا ہو‘ جڑ بنیاد سے اکھڑ جاتا ہے اور ایک دوسری اساس پر ایک نئی عمارت تیار ہوتی ہے۔ آج دنیا آپ کے مؤذنوں کو <<اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہ اِلاَّ اللّٰہُ>> کی صدا بلند کرتے ہوئے اس لیے ٹھنڈے پیٹوں سن لیتی ہے کہ نہ پکارنے والا جانتا ہے کہ کیا پکار رہا ہوں‘ نہ سننے والوں کو اس میں کوئی معنی اور کوئی مقصد نظر آتا ہے، لیکن اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اس اعلان کا مقصد یہ ہے‘ اور اعلان کرنے والا جان بوجھ کر اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ میرا کوئی بادشاہ یا فرماںروا نہیں ہے‘ کوئی حکومت مَیں تسلیم نہیں کرتا‘ کسی قانون کو میں نہیں مانتا‘ کسی عدالت کے حدود اختیارات (jurisdictions)مجھ تک نہیں پہنچتے‘ کسی کا حکم میرے لیے حکم نہیں ہے‘ کوئی رواج اور کوئی رسم مجھے تسلیم نہیں‘ کسی کے امتیازی حقوق‘ کسی کی ریاست‘ کسی کا تقدس‘ کسی کے اختیارات میں نہیں مانتا‘ ایک اللہ کے سوا میں سب سے باغی اور سب سے منحرف ہوں‘ تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس صدا کو کہیں بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ آپ خواہ کسی سے لڑنے جائیں یا نہ جائیں‘ دنیا خود آپ سے لڑنے آجائے گی۔ یہ آواز بلند کرتے ہی آپ کو یوں محسوس ہوگا کہ یکایک زمین و آسمان آپ کے دشمن ہوگئے ہیں‘ اور ہر طرف آپ کے لیے سانپ‘ بچھو‘ اور درندے ہی درندے ہیں۔
یہی صورت اس وقت پیش آئی جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز بلند کی۔ پکارنے والے نے جان کر پکارا تھا‘ اور سننے والے سمجھتے تھے کہ کیا پکار رہا ہے‘ اس لیے جس جس پر جس پہلو سے بھی اس پکار کی ضرب پڑتی تھی وہ اس آواز کو دبانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ پجاریوں کو اپنی برہمنیت و پاپائیت کا خطرہ اس میں نظر آیا۔ رئیسوں کو اپنی ریاست کا‘ ساہوکاروں کو اپنی ساہوکاری کا‘ نسل پرستوں کو اپنے نسلی تفوق (racial superiority)کا‘ قوم پرستوں کو اپنی قومیت کا‘ اجداد پرستوں کو اپنے باپ دادا کے موروثی طریقے کا‘ غرض ہربت کے پرستار کو اپنے بت کے ٹوٹنے کا خطرہ اسی ایک آواز میں محسوس ہوا، اس لیے <<اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ>> وہ سب جو آپس میں لڑا کرتے تھے اس نئی تحریک سے لڑنے کے لیے ایک ہوگئے۔ اس حالت میں صرف وہی لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے جن کا ذہن صاف تھا‘ جو حقیقت کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کی استعداد رکھتے تھے‘ جن کے اندر اتنی صداقت پسندی موجود تھی کہ جب ایک چیز کے متعلق جان لیں کہ حق یہ ہے تو اس کی خاطر آگ میں کودنے اور موت سے کھیلنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ ایسے ہی لوگوں کی اس تحریک کے لیے ضرورت تھی۔ وہ ایک ایک‘ دو دو‘ چار چار کرکے آتے رہے اور کشمکش بڑھتی رہی۔ کسی کا روزگار چھوٹا‘ کسی کو گھر والوں نے نکال دیا‘ کسی کے عزیز‘ دوست‘ آشنا سب چھوٹ گئے۔ کسی پر مار پڑی‘ کسی کو قید میں ڈالا گیا۔ کسی کو تپتی ہوئی ریت پر گھسیٹا گیا۔ کسی کی سربازار پتھروں اور گالیوں سے تواضع کی گئی۔ کسی کی آنکھ پھوڑ دی گئی۔ کسی کا سر پھاڑ دیا گیا۔ کسی کو عورت‘ مال‘ حکومت و ریاست اور ہر ممکن چیز کا لالچ دے کر خریدنے کی کوشش کی گئی۔ یہ سب چیزیں آئیں۔ ان کا آنا ضروری تھا۔ ان کے بغیر اسلامی تحریک نہ مستحکم ہوسکتی تھی اور نہ بڑھ سکتی تھی۔
ان کا پہلا فائدہ یہ تھا کہ گھٹیا قسم کے‘ کچے کیرکٹر اور ضعیف ارادہ رکھنے والے لوگ اس طرف آہی نہ سکتے تھے۔ جو بھی آیا وہ نسلِ آدم کا بہترین جوہر تھا‘ جس کی دراصل ضرورت تھی۔ کوئی دوسری صورت، کام کے آدمیوں کو ناکارہ آدمیوں سے چھانٹ کر الگ نکال لینے کی اس کے سوا نہ تھی کہ جو بھی آئے وہ اس بھٹی میں سے گزر کر آئے۔
پھر جو لوگ آئے ان کو اپنی کسی ذاتی غرض کے لیے، یا کسی خاندانی، یا قومی مقصد کے لیے مصائب کا مقابلہ نہیں کرنا پڑا، بلکہ صرف حق اور صداقت کے لیے‘ خدا اور اس کی رضا کے لیے۔ اسی کے لیے وہ پٹے‘ اسی کے لیے بھوکے مرے‘ اسی کے لیے دنیا بھر کی جفاکاریوں کا تختۂ مشق بنے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں وہ صحیح اسلامی ذہنیت پیدا ہوتی چلی گئی جس کی ضرورت تھی۔ ان کے اندر خالص اسلامی کیرکٹر پیدا ہوا۔ ان کی خدا پرستی میں خلوص آتا اور بڑھتا چلاگیا۔ مصائب کی اس زبردست تربیت گاہ میں کیفیت اسلامی کا طاری ہونا ایک طبعی امر تھا۔ جب کوئی شخص کسی مقصد کے لیے اٹھتا ہے اور اس کی راہ میں کشمکش‘ جدوجہد‘ مصیبت‘ تکلیف‘ پریشانی‘ مار‘ قید‘ فاقہ‘ جلاوطنی وغیرہ کے مرحلوں سے گزرتا ہے تو اس ذاتی تجربے کی بدولت اس مقصد کی تمام کیفیات اس کے قلب و روح پر چھا جاتی ہیں‘ اور اس کی پوری شخصیت اس مقصد میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس چیز کی تکمیل میں مدد دینے کے لیے نماز ان پر فرض کی گئی تاکہ نظر کی پراگندگی کا ہر امکان دور ہو جائے‘ اپنے نصب العین پر ان کی نگاہ جمی رہے‘ جس کو وہ حاکم مان رہے ہیں اس کی حاکمیت کا بار بار اقرار کرکے اپنے عقیدے میں مضبوط ہو جائیں‘ جس کے حکم کے مطابق انھیں اب دنیا میں کام کرنا ہے۔ اس کا <<عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃ>> ہونا‘ اس کا <<مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ>> ہونا‘ اس کا قَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ ہونا پوری طرح ان کے ذہن نشین ہو جائے اور کسی حال میں اس کی اطاعت کے سوا دوسرے کی اطاعت کا خیال تک ان کے دلوں میں نہ آنے پائے۔
ایک طرف آنے والوں کی تربیت اس طرح ہو رہی تھی اور دوسری طرف اسی کشمکش کی وجہ سے اسلامی تحریک بھی پھیل رہی تھی۔ جب لوگ دیکھتے تھے کہ چند انسان پیٹے جارہے ہیں‘ قید کیے جارہے ہیں، گھروں سے نکالے جارہے ہیں‘ تو خواہ مخواہ ان کے اندر یہ معلوم کرنے کا شوق پیدا ہوتا تھا کہ آخر یہ سارا ہنگامہ ہے کس لیے؟ اور جب انھیں یہ معلوم ہوتا تھا کہ زن‘ زر‘ زمین کسی چیز کے لیے بھی نہیں ہے‘ کوئی ان کی ذاتی غرض نہیں ہے۔ یہ اللہ کے بندے صرف اس لیے پٹ رہے ہیں کہ ایک چیز کی صداقت ان پر منکشف ہوئی ہے‘ تو ان کے دلوں میں آپ سے آپ یہ جذبہ پیدا ہوتا تھا کہ اس چیز کو معلوم کریں‘ آخر ایسی کیا چیز ہے جس کے لیے یہ لوگ ایسے ایسے مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ پھر جب انھیں معلوم ہوتا تھا کہ وہ چیز ہے لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اور اس سے انسانی زندگی میں اس نوعیت کا انقلاب رونما ہوتا ہے‘ اور اس دعوت کو لے کر ایسے لوگ اٹھے ہیں جو محض صداقت و حقیقت کی خاطر دنیا کے سارے فائدوں کو ٹھکرا رہے ہیں اور جان‘ مال‘ اولاد‘ ہر چیز کو قربان کر رہے ہیں‘ تو ان کی آنکھیں کھل جاتی تھیں‘ ان کے دلوں پر جتنے پردے پڑے ہوئے تھے وہ چاک ہونے لگتے تھے۔ اس پس منظر کے ساتھ یہ سچائی تیر کی طرح نشانے پر جاکر بیٹھتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بجز ان لوگوں کے جن کو ذاتی وجاہت کے تکبر، یا اجداد پرستی کی جہالت، یا اغراضِ دنیوی کی محبت نے اندھا بنا رکھا تھا اور سب لوگ اس تحریک کی طرف کھنچتے چلے گئے۔ کوئی جلدی کھنچا اور کوئی زیادہ دیر تک اس کشش کی مزاحمت کرتا رہا، مگر دیر یا سویر ہر صداقت پسند بے لوث آدمی کو اس کی طرف کھنچنا ہی پڑا۔
اس دوران میں تحریک کے لیڈر نے اپنی شخصی زندگی سے اپنی تحریک کے اصولوں کا اور ہر اس چیز کا جس کے لیے یہ تحریک اٹھی تھی‘ پورا پورا مظاہرہ کیا۔ ان کی ہر بات‘ ہر فعل اور ہر حرکت سے اسلام کی حقیقی روح ٹپکتی تھی اور آدمی کو سمجھ میں آتا تھا کہ اسلام کسے کہتے ہیں۔ یہ ایک بڑی تفصیل طلب بحث ہے جس کی تشریح کا یہاں موقع نہیں، مگر مختصراً چند نمایاں باتوں کا میں یہاں ذکر کروں گا:
۱۔ ان کی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا حجاز کی سب سے زیادہ مال دار عورت تھیں‘ اور وہ ان کے مال سے تجارت کرتے تھے۔ جب اسلام کی دعوت شروع ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا تجارتی کاروبار بیٹھ گیا، کیونکہ ہمہ تن اپنی دعوت میں مصروف ہو جانے اور تمام عرب کو اپنا دشمن بنا لینے کے بعد یہ کام نہ چل سکتا تھا۔ جو کچھ پچھلا اندوختہ تھا اس کو میاں اور بیوی دونوں نے اس تحریک کو پھیلانے پر چند سال میں لٹا دیا۔ آخر کار نوبت یہاں تک آئی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تبلیغ کے سلسلے میں طائف تشریف لے گئے تو وہ شخص جو کبھی حجاز کا مَلِکُ التُّجار کہلاتا تھا اُس کی سواری کے لیے ایک گدھا تک میسر نہ ہوا۔
۲۔ قریش کے لوگوں نے آنحضرتؐ کے سامنے حجاز کی حکومت کا تخت پیش کیا۔ کہا کہ ہم آپؐ کو اپنا بادشاہ بنالیں گے‘ عرب کی حسین ترین عورت آپؐ کے نکاح میں دیں گے‘ دولت کے ڈھیر آپؐ کے قدموں میں لگا دیں گے‘ بشرطیکہ آپؐ اس تحریک سے باز آجائیں‘ مگر وہ شخص جو انسان کی فلاح کے لیے اٹھا تھا‘ اس نے ان سب پیش کشوں کو ٹھکرا دیا اور گالیاں اور پتھر کھانے پر راضی ہوگیا۔
۳۔ قریش کے اور عرب کے سرداروں نے کہا کہ محمدؐ! ہم تمھارے پاس کیسے آکر بیٹھیں اور تمہاری باتیں کیسے سنیں جب کہ تمھاری مجلس میں ہر وقت غلام‘ مفلس‘ معاذ اللہ کمین لوگ بیٹھے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں جو سب سے نیچے طبقے کے لوگ ہیں ان کو تم نے اپنے گردوپیش جمع کر رکھا ہے‘ انھیں ہٹائو تو ہم تم سے ملیں، مگر وہ شخص جو انسانوں کی اونچ نیچ برابر کرنے آیا تھا‘ اس نے رئیسوں کی خاطر غریبوں کو دھتکارنے سے انکار کر دیا۔
۴۔ اپنی تحریک کے سلسلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ملک‘ اپنی قوم‘ اپنے قبیلے‘ اپنے خاندان‘ کسی کے مفاد کی کبھی پروا نہیں کی۔ اسی چیز نے دنیا کو یقین دلایا کہ آپؐ انسان بحیثیت انسان کی فلاح کے لیے اٹھے ہیں، اور اسی چیز نے آپؐ کی دعوت کی طرف ہر قوم کے انسانوں کو کھینچا۔ اگر آپؐ اپنے خاندان کی فکر کرتے تو غیر ہاشمیوں کو اس فکر سے کیا دلچسپی ہوسکتی تھی؟ اگر آپؐ اس بات کے لیے بے چین ہوتے کہ قریش کے اقتدار کو تو کسی طرح بچالوں‘ تو غیرقریشی عربوں کو کیا پڑی تھی کہ اس کام میں شریک ہوتے؟ اگر آپؐ عرب کی برتری کے لیے اٹھتے تو حبش کے بلالؓ ،رُوم کے صہیبؓ ، اور فارس کے سلمانؓ کو کیا پڑی تھی کہ اس کام میں آپؐ کا ساتھ دیتے؟ دراصل جس چیز نے سب کو کھینچا وہ خالص خدا پرستی تھی۔ ہر ذاتی‘ خاندانی‘ قومی‘ وطنی غرض سے مکمل بے لوثی تھی۔
۵۔ مکہ سے جب آپؐ کو ہجرت کرنی پڑی تو وہ تمام امانتیں جو دشمنوں نے آپؐ کے پاس رکھوائی تھیں‘ حضرت علی ؓ کے سپرد کرکے نکلے کہ میرے بعد ہر ایک کی امانت اس کو پہنچا دینا۔ دنیا پرست ایسے موقع پر جو کچھ ہاتھ لگتا ہے‘ لے کر چل دیتے ہیں، مگر خدا پرست نے اپنی جان کے دشمنوں اور اپنے خون کے پیاسوں کا مال بھی انھیں واپس پہنچانے کی کوشش کی‘ اور اس وقت کی جب کہ وہ اس کے قتل کا فیصلہ کر چکے تھے۔ یہ وہ اخلاق تھا جس کو دیکھ کر عرب کے لوگ دنگ رہ گئے ہوں گے‘ اور مجھے یقین ہے کہ جب وہ دو سال کے بعد میدانِ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑنے کھڑے ہوئے ہوں گے تو ان کے دل اندر سے کہہ رہے ہوں گے کہ یہ تم کس سے لڑ رہے ہو؟ اس فرشتہ خصلت انسان سے جو قتل گاہ سے رخصت ہوتے وقت بھی انسانوں کے حقوق اور امانت کی ذمے داری کو نہیں بھولتا؟ اس وقت ان کے ہاتھ ضد کی بنا پر لڑتے ہوں گے، مگر ان کے دل اندر سے بھنچ رہے ہوں گے۔ عجب نہیں کہ بدر میں کفار کی شکست کے اخلاقی اسباب میں سے یہ بھی ایک سبب ہو۔
۶۔ تیرہ برس کی شدید جدوجہد کے بعد وہ وقت آیا جب مدینہ میں اسلام کا ایک چھوٹا سا اسٹیٹ قائم کرنے کی نوبت آئی۔ اس وقت ڈھائی تین سو کی تعداد میں ایسے کارکن فراہم ہو چکے تھے جن میں سے ایک ایک اسلام کی پوری تربیت پاکر اس قابل ہو چکا تھا کہ جس حیثیت میں بھی اُسے کام کرنے کا موقع ملے‘ مسلمان کی حیثیت سے انجام دے سکے۔ اب یہ لوگ ایک اسلامی اسٹیٹ کو چلانے کے لیے تیار تھے‘ چنانچہ وہ قائم کر دیا گیا۔ دس برس تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اسٹیٹ کی رہنمائی کی اور اس مختصر سی مدت میں ہر شعبۂ حکومت کو اسلامی طرز پر چلانے کی پوری مشق ان لوگوں کو کرا دی۔ یہ دور اسلامی آئیڈیالوجی کے ایک مجرد تخیل (abstract idea)سے ترقی کرکے ایک مکمل نظام تمدن بننے کا دور ہے جس میں اسلام کے انتظامی‘ تعلیمی‘ عدالتی‘ معاشی‘ معاشرتی‘ مالی‘ جنگی‘ بین الاقوامی پالیسی کا ایک ایک پہلو واضح ہوا‘ ہر شعبۂ زندگی کے لیے اصول بنے‘ ان اصولوں کو عملی حالات پر منطبق کیا گیا‘ اس خاص طرز پر کام کرنے والے کارکن تعلیم اور تربیت اور عملی تجربے سے تیار کیے گئے‘ اور ان لوگوں نے اسلام کی حکمرانی کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ آٹھ سال کی مختصر مدت میں مدینہ جیسے ایک چھوٹے سے قصبے کا اسٹیٹ پورے عرب کی سلطنت میں تبدیل ہوگیا۔ جوں جوں لوگ اسلام کو اس کی عملی صورت میں اور اس کے نتائج کو محسوس شکل میں دیکھتے تھے‘ خود بخود اس بات کے قائل ہوتے جاتے تھے کہ فی الواقع انسانیت اس کا نام ہے اور انسانی فلاح اسی چیز میں ہے۔ بدترین دشمنوں کو بھی آخر قائل ہو کر اسی مسلک کو قبول کرنا پڑا جس کے خلاف وہ برسوں تک لڑتے رہے۔ خالدؓ بن ولیدقائل ہوئے۔ ابوجہل کے بیٹے عکرمہؓ قائل ہوئے۔ ابوسفیانؓ قائل ہوئے۔ قاتل حمزہؓ وحشیؓ قائل ہوئے۔ ہندؓ جگر خوار تک کو آخر کار اس شخص کی صداقت کے آگے سرِ تسلیم خم کر دینا پڑا جس سے بڑھ کر اس کی نگاہ میں کوئی مبغوض نہ تھا۔
۷۔ غلطی سے تاریخ نگاروں نے غزوات کو اتنا زیادہ نمایاں کر دیا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ عرب کا یہ انقلاب لڑائیوں سے ہوا۔ حالانکہ پانچ سال کی تمام لڑائیوںمیں‘ جن سے عرب جیسی جنگ جُو قوم مسخر ہوئی‘ طرفین کے جانی نقصانات کی تعداد ہزار بارہ سو سے زیادہ نہیں ہے۔ انقلاب کی تاریخ اگر آپ کے پیش نظر ہے تو آپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ انقلاب غیر خونی انقلاب (bloodless revolution)کہے جانے کا مستحق ہے۔پھر اس انقلاب میں فقط ملک کا طریق انتظام ہی تبدیل نہیں ہوا،بلکہ ذہنیتیں بدل گئیں‘ نگاہ کا زاویہ بدل گیا‘ سوچنے کا طریقہ بدل گیا‘ زندگی کا طرز بدل گیا‘ اخلاق کی دنیا بدل گئی‘ عادات اور خصائل بدل گئے۔ غرض ایک پوری قوم کی کایا پلٹ کر رہ گئی۔ جو زانی تھے وہ عورتوں کی عصمت کے محافظ بن گئے۔ جو شرابی تھے وہ منع شراب کی تحریک کے علم بردار بن گئے۔ جو چور اور اُچکے تھے ان کا احساس دیانت اتنا نازک ہوگیا کہ دوستوں کے گھر کھانا کھانے میں بھی ان کو اس بنا پر تامل تھا کہ مبادا ناجائز طریقے پر مال کھانے کا اطلاق اس فعل پر بھی نہ ہو جائے‘ حتیٰ کہ قرآن میں خود اللہ تعالیٰ کو انھیں اطمینان دلانا پڑا کہ اس طرح کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ جو ڈاکو اور لٹیرے تھے وہ اتنے متدین بن گئے کہ ان کے ایک معمولی سپاہی کو پایۂ تخت ایران کی فتح کے موقع پر کروڑوں کی قیمت کا تاج شاہی ہاتھ لگا اور وہ رات کی تاریکی میں اپنے پیوند لگے ہوئے کمبل میں اسے چھپا کر سپہ سالار کے حوالے کرنے کے لیے پہنچا، تاکہ اس غیر معمولی واقعے سے اس کی دیانت کی شہرت نہ ہو جائے اور اس کے خلوص پر ریاکاری کا میل نہ آجائے۔ وہ جن کی نگاہ میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہ تھی‘ جو اپنی بیٹیوں کو آپ اپنے ہاتھ سے زندہ دفن کرتے تھے‘ ان کے اندر جان کا اتنا احترام پیدا ہوگیا کہ کسی مرغ کو بھی بے رحمی سے قتل ہوتے نہ دیکھ سکتے تھے۔ وہ جن کو راست بازی اور انصاف کی ہوا تک نہ لگی تھی ان کے عدل اور راستی کا یہ حال ہوگیا کہ خیبر کی صلح کے بعد جب ان کا تحصیل دار یہودیوں سے سرکاری معاملہ وصول کرنے گیا تو یہودیوں نے اس کو بیش قرار رقم اس غرض کے لیے پیش کی کہ وہ سرکاری معاملے میں کچھ کمی کر دے‘ مگر اس نے رشوت لینے سے انکار کر دیا اور یہودیوں کے درمیان پیداوار کا آدھا حصہ اس طرح تقسیم کیا کہ دو برابر کے ڈھیر آمنے سامنے لگا دیے، اور یہودیوں کو اختیار دیا کہ دونوں میں سے جس ڈھیر کو چاہیں اٹھالیں۔ اس نرالی قسم کے تحصیل دار کا یہ طرز عمل دیکھ کر یہودی انگشت بدنداں رہ گئے اور بے اختیار ان کی زبان سے نکلا کہ اسی عدل پر زمین و آسمان قائم ہیں۔
۸۔ ان کے اندر وہ گورنر پیدا ہوئے جو گورنمنٹ ہائوسوں میں نہیں بلکہ رعایا کے درمیان انھی جیسے گھروں میں رہتے تھے‘ بازاروں میں پیدل پھرتے تھے‘ دروازوں پر دربان تک نہ رکھتے تھے‘ رات دن میں ہر وقت جو چاہتا تھا ان سے انٹرویو کرسکتا تھا۔
۹۔ ان کے اندر وہ قاضی پیدا ہوئے جن میں سے ایک نے ایک یہودی کے خلاف خود خلیفۂ وقت کا دعویٰ اس بنا پر خارج کر دیا کہ خلیفہ اپنے غلام اور بیٹے کے سوا کوئی گواہ پیش نہ کرسکا۔
۱۰۔ کے اندر وہ سپہ سالار پیدا ہوئے جن میں سے ایک نے دوران جنگ میں ایک شہر خالی کرتے وقت پورا جزیہ یہ کہہ کر واپس دے دیا کہ ہم اب تمھاری حفاظت سے قاصر ہیں‘ لہٰذا جو ٹیکس ہم نے حفاظت کے معاوضے میں وصول کیا تھا اسے رکھنے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔
۱۱۔ ان میں وہ ایلچی پیدا ہوئے جن میں سے ایک نے سپہ سالارانِ ایران کے بھرے دربار میں اسلام کے اصول مساوات انسانی کا ایسا مظاہرہ کیا اور ایران کے طبقاتی امتیازات پر ایسی برمحل تنقید کی کہ خدا جانے کتنے ایرانی سپاہیوں کے دلوںمیں اس مذہب انسانیت کی عزت و وقعت کا بیج اسی وقت پڑ گیا ہوگا۔
۱۲۔ ان میں وہ شہری پیدا ہوئے جن کے اندر اخلاقی ذمے داری کا احساس اتنا زبردست تھا کہ جن جرائم کی سزا ہاتھ کاٹنے اور پتھر مار مار کر ہلاک کر دینے کی صورت میں دی جاتی تھی ان کا اقبال خود آکر کرتے تھے اور تقاضا کرتے تھے کہ سزا دے کر انھیں گناہ سے پاک کر دیا جائے تاکہ وہ چور یا زانی کی حیثیت سے خدا کے سامنے پیش نہ ہوں۔
۱۳۔ ان میں وہ سپاہی پیدا ہوئے جو تنخواہ لے کر نہیں لڑتے تھے بلکہ اس مسلک کی خاطر جس پر وہ ایمان لائے تھے اپنے خرچ سے میدانِ جنگ میں جاتے اور پھر جو مال غنیمت ہاتھ لگتا وہ سارے کا سارا سپہ سالار کے سامنے لاکر رکھ دیتے تھے۔
کیا اجتماعی اخلاق اور اجتماعی ذہنیت کا اتنا زبردست تغیر محض لڑائیوں کے زور سے ہوسکتا تھا؟ تاریخ آپ کے سامنے موجود ہے کہیں آپ کو کوئی ایسی مثال ملتی ہے کہ تلوار نے انسانوں کو اس طرح پر بدل ڈالا ہو؟
درحقیقت یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ تیرہ برس کی مدت میں توکل ڈھائی تین سو مسلمان پیدا ہوئے‘ مگر بعد کے دس سال میں سارا ملک مسلمان ہوگیا۔ اس معمے کو لوگ حل نہیں کرسکتے‘ اس لیے عجیب عجیب توجیہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ بات بالکل صاف ہے۔ جب تک اس نئی آئیڈیالوجی پر زندگی کا نقشہ نہیں بنا تھا لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ نرالی قسم کا لیڈر آخر کیا بنانا چاہتا ہے۔ طرح طرح کے شبہات دلوں میں پیدا ہوتے تھے۔ کوئی کہتا: یہ نری شاعرانہ باتیں ہیں۔ کوئی کہتا کہ یہ شخص مجنون ہوگیا ہے‘ اور کوئی اسے محض خیالی آدمی (visionary)قرار دے کر گویا اپنے نزدیک رائے زنی کا حق ادا کر دیتا۔ اس وقت صرف غیر معمولی ذہانت اور سمجھ رکھنے والے لوگ ہی ایمان لائے جن کی نگاہِ حقیقت بیں اس نئے مسلک میں انسانی فلاح کی صورت صاف دیکھ سکتی تھی، مگر جب اس نظامِ فکر پر ایک مکمل نظامِ حیات بن گیا اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے اس کو کام کرتے دیکھ لیا اور اس کے نتائج ان کے سامنے عیاناً آگئے‘ تب ان کی سمجھ میں آیا کہ یہ وہ چیز تھی جس کو بنانے کے لیے وہ اللہ کا نیک بندہ دنیا بھر کے ظلم سہہ رہا تھا۔ اس کے بعد ضد اور ہٹ دھرمی کے لیے پائوں جمانے کا کوئی موقع باقی نہ رہا۔ جس کی پیشانی پر دو آنکھیں تھیں اور ان آنکھوں میں نور تھا اس کے لیے آنکھوں دیکھی حقیقت سے انکار کرنا غیر ممکن ہوگیا۔
یہ ہے اس اجتماعی انقلاب کے لانے کا طریقہ جس کو اسلام برپا کرنا چاہتا ہے۔ یہی اس کا راستہ ہے۔ اسی ڈھنگ پر وہ شروع ہوتا ہے اور اسی تدریج سے وہ آگے بڑھتا ہے۔ لوگ اس کو معجزے کی قسم کا واقعہ سمجھ کر کہہ دیتے ہیں کہ: اب یہ کہاں ہو سکتا ہے۔ نبی ہی آئے تو یہ کام ہو، مگر تاریخ کا واقعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ بالکل ایک طبعی قسم کا واقعہ ہے۔ اس میں علت اور معلول کا پورا منطقی اور سائنٹفک ربط ہمیں نظر آتا ہے۔ آج ہم اس ڈھنگ پر کام کریں تو وہی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، البتہ یہ صحیح ہے کہ اس کام کے لیے ایمان‘ شعورِ اسلامی‘ ذہن کی یکسوئی‘ مضبوط قوت فیصلہ‘ اور شخصی جذبات اور ذاتی امنگوں کی سخت قربانی درکار ہے۔ اس کے لیے جواں ہمت لوگوں کی ضرورت ہے جو حق پر ایمان لانے کے بعد اس پر پوری طرح نظر جما دیں‘ کسی دوسری چیز کی طرف توجہ نہ کریں‘ دنیا میں خواہ کچھ ہوا کرے وہ اپنے نصب العین کے راستے سے ایک انچ نہ ہٹیں‘ دنیوی زندگی میں اپنی ذاتی ترقی کے سارے امکانات کو قربان کر دیں‘ اپنی امیدوں کا اور اپنے والدین کی تمنائوں کا خون کرتے ہوئے نہ جھجھکیں ‘ عزیزوں اور دوستوں کے چھوٹ جانے کا غم نہ کریں‘ سوسائٹی‘ حکومت‘ قانون‘ قوم‘ وطن جو چیز بھی ان کے نصب العین کی راہ میں حائل ہو اُس سے لڑجائیں۔ ایسے ہی لوگوں نے پہلے بھی اللہ کا کلمہ بلند کیا تھا۔ ایسے ہی لوگ آج بھی کریں گے اور یہ کام ایسے ہی لوگوں کے کیے سے ہوسکتا ہے۔