اسلامی ریاست
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جس میں اسلام کو محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہ سمجھ کر، بلکہ زندگی کا ایک مکمل نظامِ حیات پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام کا نفاذ صرف وعظ و تبلیغ سے ممکن نہیں؛ بلکہ اس کے لیے سیاسی اقتدار اور ریاستی طاقت کا حصول ضروری ہے۔ مولانا مودودی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جدید دور کا سیکولر تصورِ ریاست، جو دین کو ذاتی معاملہ قرار دے کر سیاست سے الگ کرتا ہے، درحقیقت جاہلیت کے محدود تصورِ مذہب کی بازگشت ہے، جسے اسلام نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کتاب کی تدوین کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے نظریاتی اصولوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں منظم انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ نہ صرف علماء و طلبہ بلکہ عام مسلمان بھی اس نظام کی حقیقت سے آشنا ہو سکیں۔
کتاب کا آغاز دیباچے سے ہوتا ہے جس میں ناشر، مرتب اور مصنف کے تعارفی خیالات شامل ہیں۔ یہاں مولانا مودودی کی سیاسی جدوجہد، گرفتاریاں اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو مؤلف کے عملی تجربات کا ادراک ہو سکے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ یہ مضامین گذشتہ پچیس برسوں میں مختلف مواقع پر لکھے گئے تھے، جنہیں اب ادارۂ معارفِ اسلامی کے زیرِ اہتمام دو حصوں میں منظم کیا گیا ہے: پہلا حصہ نظری مباحث پر مشتمل ہے اور دوسرا پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق عملی مضامین پر۔
کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہے جنہیں موضوعاتی اعتبار سے کئی مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی ابواب (دین و سیاست، اسلام کا سیاسی نظریہ، قرآن کا فلسفۂ سیاست، معنیٔ خلافت، اسلامی تصورِ قومیت، اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ) اسلامی ریاست کے نظریاتی خدوخال—حاکمیتِ الٰہی، خلافت، قومیت اور قانون کے سرچشمے—کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرتے ہیں۔ اس کے بعد کے ابواب (اسلامی ریاست کی بنیادیں، اسلامی دستور کی بنیادیں، اسلامی ریاست کا مثالی دور، قانون سازی اور اجتہاد، چند دستوری و سیاسی مسائل) عملی سطح پر ریاست کی تشکیل، حکومت کے قیام کے طریقے، اجتہاد کے اصول اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کو موضوع بناتے ہیں۔ تین ابواب خصوصی طور پر حقوق کے مسئلے کے لیے وقف ہیں: انسان کے بنیادی حقوق، غیر مسلموں (ذمیوں) کے حقوق، اور عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور۔ آخری دو ابواب—اسلامی ریاست کے رہنما اصول اور اسلامی انقلاب کی راہ—اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایسا نظام کن اصولوں پر قائم ہو اور اسے پرامن، تدریجی اور جمہوری طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے، جس کے ضمن میں پاکستان کے اکتیس نامور علماء کے متفقہ دستوری فیصلے کا متن بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"اسلامی ریاست" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ ضخیم تصنیف ہے جو دراصل ایک نشست میں لکھی گئی کتاب نہیں بلکہ اسلامک پبلیکیشنز کی طرف سے مرتب کردہ ایک وسیع مجموعہ ہے، جس میں مولانا مودودی کی تقاریر، مضامین، انٹرویوز اور ان کی دیگر کتب (خصوصاً تفہیمات اور خلافت و ملوکیت) کے اقتباسات کو موضوعِ "اسلامی ریاست" کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتب خانے میں شامل مولانا کی تصانیف میں سب سے ضخیم کتاب ہے (312 ابواب، 16 بڑے حصوں پر مشتمل)، اور ان کے سیاسی فکر کا سب سے مربوط بیان سمجھی جاتی ہے۔
کتاب کی بنیادی دلیل سولہ ابواب میں اس ترتیب سے آگے بڑھتی ہے: (۱) سب سے پہلے اس نظریے کی تردید کی گئی ہے، جو جدیدیت پسند اور سیکولر قوم پرست دونوں طرح کے حلقوں میں مشترک ہے، کہ اسلام میں دین اور سیاست الگ الگ دائرے ہیں؛ (۲) اسلام کا سیاسی نظریہ پیش کیا گیا ہے، جس کی بنیاد یہ دعویٰ ہے کہ ہر نبی کا مشن دراصل انسانوں کی ناجائز حاکمیت کے خلاف دعوت تھا؛ (۳) قرآن کے فلسفہ سیاست کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۴) خلافت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے — یعنی انسان، اور خاص طور پر اہلِ ایمان کی جماعت، اللہ کے قانون کے تحت ایک تفویض شدہ اختیار استعمال کرتی ہے، اپنی خودمختار حیثیت میں حکومت نہیں کرتی؛ (۵) نسل، زبان یا علاقے کی بجائے عقیدے پر مبنی ایک مخصوص اسلامی تصورِ قومیت پیش کیا گیا ہے؛ (۶) اسلامی دستوری قانون کے مآخذ — قرآن، سنت، خلافتِ راشدہ کا تعامل، اور بعد کے مجتہدین کے فیصلے — کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۷-۸) اسلامی ریاست اور دستور کی بنیادیں بیان کی گئی ہیں، جہاں مولانا نے مشہور اصطلاح "الٰہی جمہوریت" وضع کی — ایسا نظامِ حکومت جو نہ پاپائیت ہے نہ مغربی سیکولر جمہوریت، بلکہ ایسی ریاست ہے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے جبکہ روزمرہ انتظام مشاورت، شوریٰ اور وقتاً فوقتاً حکمرانوں کے انتخاب کے ذریعے خود امت انجام دیتی ہے؛ (۹) عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو اسلامی ریاست کے "مثالی دور" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کی روشنی میں کسی بھی مدعیٔ اسلامی ریاست کو پرکھا جانا چاہیے؛ (۱۰) قانون سازی اور اجتہاد کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے — کہ انسانی مقننہ وحی کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آزادانہ اجتہاد کر سکتی ہے؛ (۱۱-۱۲) چند دستوری اور سیاسی مسائل (سیاست میں خواتین کا کردار، ارتداد کی سزا، جنگ اور غلامی کے احکام، صدرِ ریاست کا حقِ ویٹو) پر بحث کے بعد ایک پورا باب انسان کے بنیادی حقوق کے لیے وقف کیا گیا ہے — حقِ زندگی، کمزوروں کا تحفظ، عزت، معاشی تحفظ، آزادیٔ اظہار و ضمیر، ظلم کے خلاف احتجاج — جنہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ اور اس لیے خود ریاست کے لیے بھی ناقابلِ سلب قرار دیا گیا ہے؛ (۱۳) غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کے حقوق و حیثیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے — جان، مال، عبادت کی آزادی، فوجی خدمت سے استثنا، جزیہ — تاہم انہیں جدید معنوں میں "برابر شہری" کی بجائے ایک الگ قانونی درجہ دیا گیا ہے؛ (۱۴) اسلام کے تصورِ عدلِ اجتماعی کا سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے موازنہ کیا گیا ہے، اور یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام نجی ملکیت اور انفرادی کاروبار کی اجازت دیتا ہے مگر دولت کے حصول اور استعمال پر اخلاقی و قانونی حدود عائد کرتا ہے؛ (۱۵) اسلامی ریاست کے رہنما اصول دوبارہ مرتب کیے گئے ہیں؛ اور (۱۶) آخر میں مولانا نے اپنا یہ نقطۂ نظر بیان کیا ہے کہ اسلامی انقلاب دراصل کیسے برپا ہونا چاہیے — بتدریج، پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی کے ذریعے، نہ کہ اقتدار پر اچانک قبضے سے — اور اس ضمن میں 1951ء کا وہ اتفاقِ رائے شامل کیا گیا ہے جس پر پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے 31 علماء نے اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کے طور پر اتفاق کیا تھا۔
اہمیت۔ یہ کتاب (اور جس فکری سرمائے سے یہ مرتب کی گئی ہے) جماعتِ اسلامی کے سیاسی پروگرام کی اساس اور بیسویں صدی میں اسلام اور جدید ریاست کے تعلق پر ہونے والی بحث کی سب سے اہم دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔ مولانا کی اصطلاحات — حاکمیت، "الٰہی جمہوریت"، اور خلافت کا از سرِ نو تعین بطور اجتماعی امانت نہ کہ کسی ایک حکمران کا ذاتی منصب — نے پاکستان کے دستوری مباحث (اور بعد ازاں، فقہی اختلافات کے باوجود، ایران کے انقلابی گفتگو) میں استعمال ہونے والی وہ زبان فراہم کی جس کے ذریعے جدید قومی ریاست میں اسلام کے مقام پر بحث کی گئی۔ کتاب کے آخری باب میں شامل 1951ء کا علماء اتفاقِ رائے، پاکستان کی ابتدائی دستور سازی میں "قراردادِ مقاصد" پر ہونے والی بحث پر براہِ راست اثرانداز ہوا۔
تنقیدی جائزہ۔ ایک محقق کی حیثیت سے اس کتاب کو پڑھنے کا تقاضا ہے کہ اسے محض اس کے اپنے موقف تک محدود نہ رکھا جائے۔ سید ولی رضا نصر اور چارلس ایڈمز جیسے محققین، جنہوں نے مولانا مودودی کے سیاسی فکر پر سب سے تفصیلی علمی مطالعے کیے ہیں، کا موقف ہے کہ ان کا نظریہ روایتی زبان میں لپٹی ہوئی ایک حقیقی جدید تشکیل ہے: قدیم فقہ سیاسیہ کی روایت "حاکمیت" کو اس طرح کسی ایک بنیادی تصور کے گرد مرتب نہیں کرتی جیسا مولانا مودودی نے کیا — یہ طرزِ استدلال جتنا کلاسیکی فقہ سے ماخوذ ہے، اتنا ہی مغرب میں مقبول عوامی حاکمیت کے تصور کے خلاف ردعمل سے بھی متاثر ہے، جس کی مولانا واضح طور پر تردید کر رہے ہیں۔ ناقدین نے کتاب کے حقوق سے متعلق ابواب میں ایک اندرونی تناؤ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے: ایک باب میں شہریوں کے لیے وسیع "بنیادی حقوق" کا اثبات کیا گیا ہے، جبکہ اگلے باب میں غیر مسلم باشندوں کو ایک الگ قانونی درجے (ذمی) میں رکھا گیا ہے جس میں سیاسی حقوق محدود ہیں (مثلاً منصبِ سربراہِ مملکت یا مکمل قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا) — حقوق کی آفاقی زبان اور شہریت کے مخصوص نظریے کے مابین یہ تناؤ بعد کے محققین، بشمول خود اسلامی فکر کی روایت کے اندر، زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ روایتی علماء کی جانب سے مولانا کے خلافت کو ایک اجتماعی/عوامی منصب کے طور پر (بجائے ایک متعین خلیفہ کے) نئے سرے سے متعین کرنے پر، اور محض عام مسلمانوں کی اکثریتی مقننہ کو اجتہاد کے وسیع اختیارات دینے پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ مطالعاتی حلقے کو چاہیے کہ اس کتاب کے دستوری نظریے کو صرف اس کے اپنے منطقی فریم ورک میں نہیں بلکہ ان تنقیدوں کی روشنی میں بھی پڑھے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- دین اور سیاست: مولانا مودودی دین اور سیاست کی علیحدگی کو رد کرتے ہیں۔ اس تفریق کے حق میں سب سے مضبوط دلائل کیا ہو سکتے ہیں، اور کتاب ان کا کیا جواب دیتی ہے؟ کیا آپ کو یہ جواب مطمئن کن لگتا ہے؟
- حاکمیتِ الٰہی بمقابلہ عوامی حاکمیت: مولانا مودودی جائز حکومت کی بنیاد عوام کی مرضی کی بجائے اللہ کی حاکمیت پر رکھتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر جدید جمہوری نظریے — کہ سیاسی اختیار عوام کی رضامندی سے حاصل ہوتا ہے — سے کس طرح مختلف ہے، اور اس سے کیا تناؤ پیدا ہوتا ہے؟
- "الٰہی جمہوریت": کیا یہ ایک مفید تیسری قسم ہے، یا تفصیل میں جانے پر یہ پاپائیت یا جمہوریت میں سے کسی ایک میں ضم ہو جاتی ہے؟ ایک حقیقی "الٰہی جمہوری" ریاست کو کسی مذہبی سیاسی جماعت کی محض حکمرانی سے کیا چیز ممتاز کرے گی؟
- خلافت کی از سرِ نو تعریف: مولانا مودودی خلافت کو ایک ہی خلیفہ کی بجائے پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی امانت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ تصور خلافت کی روایتی/کلاسیکی تفہیم سے کس طرح مختلف ہے، اور روایتی علماء نے اس پر کیا اعتراضات کیے؟
- غیر مسلم شہریوں کے حقوق: کتاب ذمیوں کے لیے وسیع تحفظات (جان، مال، عبادت، ٹیکس میں رعایت) کا اثبات کرتی ہے مگر انہیں مسلم شہریوں سے الگ قانونی درجے میں رکھتی ہے۔ اس اور کتاب کے اپنے باب "بنیادی حقوق" کی زیادہ آفاقی زبان کے مابین تناؤ پر بحث کریں۔ یہ فریم ورک ایک جدید کثیر المذاہب قومی ریاست میں کس طرح کام کرے گا؟
- بنیادی حقوق بمقابلہ بین الاقوامی انسانی حقوق: کتاب کے باب "بنیادی حقوق" میں درج حقوق کا جدید انسانی حقوق کے فریم ورک (مثلاً اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ) سے موازنہ کریں۔ کہاں مشترکات ہیں اور کہاں — بالخصوص مذہب یا جنس سے قطع نظر مساوات کے معاملے میں — اختلاف ہے؟
- اجتہاد کا دائرہ: مولانا مودودی مقننہ کو کس حد تک آزادانہ اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں، اور اس کی اہلیت کس کے پاس ہے؟ کیا عام اکثریتی مقننہ (بمقابلہ تربیت یافتہ مجتہدین) خود مولانا کے اپنے فریم ورک سے ہم آہنگ ہے؟
- سیاست میں خواتین کا کردار: کتاب اسلامی ریاست میں خواتین کو کیا کردار دیتی ہے، اور مطالعاتی حلقہ اسے صنف اور سیاسی شرکت کے معاصر مباحث کی روشنی میں کیسے پرکھ سکتا ہے؟
- سرمایہ داری، اشتراکیت اور مولانا کا تصورِ عدلِ اجتماعی: کتاب کی سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں پر تنقید کا خلاصہ کریں۔ کیا اس کا متبادل (نجی ملکیت مع سخت اخلاقی و قانونی حدود) دوسرے دو نظاموں میں نشاندہی کردہ مسائل کو حل کرتا ہے، یا اسے بھی نفاذ اور تعریف کے اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے؟
- "مثالی دور": مولانا مودودی عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو کسی بھی اسلامی ریاست کے لیے معیار قرار دیتے ہیں۔ ایک جدید ریاست کو ساتویں صدی کے نمونے کے مطابق پرکھنے کے فوائد اور خطرات کیا ہیں؟
- تبدیلی کا طریقہ، بتدریج یا انقلابی: مولانا مودودی اقتدار حاصل کرنے سے پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی پر زور دیتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی بیسویں صدی کی دیگر اسلامی تحریکوں سے کس طرح مختلف ہے، اور کیا یہ عملاً کامیاب رہی — مثلاً پاکستان میں خود جماعتِ اسلامی کے سفر میں؟
- آج کی معنویت: چونکہ یہ کتاب بیسویں صدی کے وسط میں پاکستان کے قیام کے مخصوص تناظر میں مرتب کی گئی، اس کے کون سے دلائل آپ کے خیال میں کسی بھی جدید مسلم اکثریتی ریاست کے لیے آج بھی متعلقہ ہیں، اور کون سے اس مخصوص لمحے تک محدود یا پرانے محسوس ہوتے ہیں؟
۳۔ ملکی سیاست میں عورتوں کا حصہ
مجالسِ قانون ساز میں عورتوں کی شرکت کا مسئلہ [ یہ تحریر ماہنامہ ترجمان القرآن، بابت ماہ فروری ۱۹۵۲ء سے لی جارہی ہے۔]
ہم سے پوچھا گیا ہے کہ آخر وہ کون سے اسلامی اصول یا احکام ہیں جو عورتوں کی رکنیت مجالسِ قانون ساز میں مانع ہیں؟ اور قرآن و حدیث کے وہ کون سے ارشادات ہیں جو ان مجالس کو صرف مردوں کے لیے مخصوص قرار دیتے ہیں؟
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم ان مجالس کی صحیح نوعیت اچھی طرح واضح کر دیں جن کی رکنیت کے لیے عورتوں کے استحقاق پر گفتگو کی جارہی ہے۔ ان مجالس کا نام مجالس قانون ساز رکھنے سے یہ غلط فہمی واقع ہوتی ہے کہ ان کاکام صرف قانون بنانا ہے اور پھر یہ غلط فہمی ذہن میں رکھ کر جب آدمی دیکھتا ہے کہ عہد صحابہ میں خواتین بھی قانونی مسائل پر بحث‘ گفتگو‘ اظہار رائے‘ سب کچھ کرتی تھیں اور بسا اوقات خود خلفا اُن سے رائے لیتے اور اس رائے کا لحاظ کرتے تھے‘ تو اسے حیرت ہوتی ہے کہ آج اسلامی اصولوں کا نام لے کر اس قسم کی مجالس میں عورتوں کی شرکت کو غلط کیسے کہا جاسکتا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو مجالس اس نام سے موسوم کی جاتی ہیں ان کاکام محض قانون سازی کرنا نہیں ہے، بلکہ عملاً وہی پوری ملکی سیاست کو کنٹرول کرتی ہیں‘ وہی وزارتیں بناتی اور توڑتی ہیں‘ وہی نظم و نسق کی پالیسی طے کرتی ہیں‘ وہی مالیات اور معاشیات کے مسائل طے کرتی ہیں اور انھی کے ہاتھ میںصلح و جنگ کی زمامِ کار ہوتی ہے۔ اس حیثیت سے ان مجالس کا مقام محض ایک فقیہہ اور مفتی کا مقام نہیں ہے، بلکہ پوری مملکت کے قَوَّام کا مقام ہے۔
اب ذرا دیکھیے‘ قرآن اجتماعی زندگی میں یہ مقام کس کو دیتا ہے اورکسے نہیں دیتا۔ سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
<<اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللہُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ۰ۭ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللہُ۰ۭ>> النساء 34:4
مرد عورتوں پر قَوّام ہیں‘ بوجہ اس فضیلت کے جو اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر دی ہے اور بوجہ اس کے کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس صالح عورتیں اطاعت شعار اور غیب کی حفاظت کرنے والیاں ہوتی ہیں اللہ کی حفاظت کے تحت۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں قوّامیت کا مقام مردوں کو دے رہا ہے اور صالح عورتوں کی دو خصوصیات بیان کرتا ہے۔ ایک یہ کہ: وہ اطاعت شعار ہوں‘ دوسرے یہ کہ: وہ مردوں کی غیر موجودگی میں ان چیزوں کی حفاظت کریں جن کی حفاظت اللہ کرانا چاہتا ہے۔
آپ کہیں گے یہ حکم تو خانگی معاشرت کے لیے ہے نہ کہ ملکی سیاست کے لیے‘ مگر یہاں اول تو مطلقاً <<اَلرِّجَالُ قوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَائِ>> کہا گیا ہے‘ <<فِی الْبُیُوْتِ>> کے الفاظ ارشاد نہیں ہوئے ہیں جن کو بڑھائے بغیر اس حکم کو خانگی معاشرت تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ پھر اگر آپ کی یہ بات مان بھی لی جائے تو ہم پوچھتے ہیں کہ جسے اللہ نے گھر میں قوّام نہ بنایا، بلکہ قنوت (اطاعت شعاری) کے مقام پر رکھا‘ آپ اسے تمام گھروں کے مجموعے‘ یعنی پوری مملکت میں قنوت کے مقام سے اٹھا کر قوامیت کے مقام پر لانا چاہتے ہیں؟ گھر کی قوامیت سے مملکت کی قوامیت تو زیادہ بڑی اور اونچے درجے کی ذمے داری ہے۔ اب کیا اللہ کے متعلق آپ کا یہ گمان ہے کہ وہ ایک گھر میں تو عورت کو قوام نہ بنائے گا مگر کئی لاکھ گھروں کے مجموعے پر اسے قوام بنا دے گا؟
اور دیکھیے، قرآن صاف الفاظ میں عورت کا دائرۂ عمل یہ کہہ کر معین کر دیتا ہے کہ:
<<وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاہِلِيَّۃِ الْاُوْلٰى>> الاحزاب33:33
اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ ٹھیری رہو اور پچھلی جاہلیت کے سے تَبَرُّج [تَبَرُّجْ کے معنی ہیں: بن سنور کر ناز و ادا کے ساتھ نکلنا۔] کا ارتکاب نہ کرو۔
آپ پھر فرمائیں گے کہ یہ حکم تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی خواتین کو دیا گیا تھا، مگر ہم پوچھتے ہیں کہ آپ کے خیال مبارک میں کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی خواتین کے اندر کوئی خاص نقص تھا جس کی وجہ سے وہ بیرون خانہ کی ذمہ داریوں کے لیے نا اہل تھیں؟ اور کیا دوسری خواتین کو اس لحاظ سے ان پرکوئی فوقیت حاصل ہے؟ پھر اگر اس سلسلے کی ساری آیات صرف اہل بیت نبوت کے لیے مخصوص ہیں تو کیا دوسری مسلمان عورتوں کو تبرج جاہلیت کی اجازت ہے؟ اور کیا انھیں غیر مردوں سے اس طرح کی باتیں کرنے کی بھی اجازت ہے کہ ان کے دل میں طمع پیدا ہو؟ اور کیا اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے سوا ہر مسلمان گھر کو رجس میں آلودہ دیکھنا چاہتا ہے۔
اس کے بعد حدیث کی طرف آئیے۔ یہاں ہم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ واضح ارشادات ملتے ہیں:
۱۔ <<اِذَا کَانَ اُمَرَائُکُمْ شِرَارَکُمْ وَاَغْنِیَائُ کُمْ بُخَلَائَکُمْ وَاُمُوْرُ کُمْ اِلٰی نِسَائِ کُمْ فَبَطْنُ الْاَرْضِ خَیْرٌ مِّنْ ظَھْرِھَا۔>> (ترمذی)
جب تمھارے امرا تمھارے بدترین لوگ ہوں اور جب تمھارے دولت مند بخیل ہوں اور جب تمھارے معاملات تمھاری عورتوں کے ہاتھ میں ہوں تو زمین کا پیٹ تمھارے لیے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے۔
۲۔ <<عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ لَمَّا بَلَغَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ اَھْلَ فَارَسَ مَلَّکُوْا عَلَیْھِمْ بِنْتَ کِسْرٰی قَالَ لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃً۔>> (بخاری‘ احمد‘ نسائی‘ ترمذی)
ابوبکرہؓ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ ایران والوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا بادشاہ بنالیا ہے تو آپؐ نے فرمایا: وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جس نے اپنے معاملات ایک عورت کے سپرد کیے ہوں۔
یہ دونوں حدیثیں اللہ تعالیٰ کے ارشاد <<اَلرِّجَالُ قَوَّا مُوْنَ عَلَی النِّسَائِ>> کی ٹھیک ٹھیک تفسیر بیان کرتی ہیں اور ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سیاست و ملک داری عورت کے دائرۂ عمل سے خارج ہے۔ رہا یہ سوال کہ عورت کا دائرہ عمل ہے کیا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات اس کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں:
۱۔ <<وَالْمَرْئَ ۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ بَعْلِھَا وَوَلِدِہٖ وَھِیَ مَسْئُوْلَۃٌ عَنْھُمْ۔>> (ابودائود)
اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی راعیہ ہے اور وہ ان کے بارے میں جواب دہ ہے۔
یہ ہے آیت <<وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ>> کی صحیح تفسیر‘ اور اس کی مزید تفسیر وہ احادیث ہیں جن میں عورت کو سیاست و ملک داری سے کم تر درجے کے خارج ازبیت فرائض و واجبات سے بھی مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
۲۔ <<اَلْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ اِلاَّ اَرْبَعَۃٍ عَبْدٌ مَمْلُوْکٌ اَوْاِمْرَاَۃٌ اَوْصَبِیٌّ اَوْمَرِیْضٌ۔>> (ابودائود)
جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ ادا کرنا حق اور واجب ہے۔ بجز چار قسم کے لوگوں کے: ایک غلام‘ دوسرے عورت‘ تیسرے بچہ‘ چوتھے مریض۔
۳۔ <<عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ نُھِیْنَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ۔>> (بخاری)
ام عطیہ سے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ ہم کو جنازوں کے ساتھ جانے سے روک دیا گیا تھا۔
اگرچہ ہمارے پاس اپنے نقطۂ نظر کی تائید میں مضبوط عقلی دلائل بھی ہیں اور کوئی چیلنج کرے تو ہم انھیں پیش کرسکتے ہیں‘ مگر اوّل تو ان کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا ہے‘ دوسرے ہم کسی مسلمان کا یہ حق ماننے کے لیے تیار بھی نہیں ہیں کہ وہ خدا اور رسولؐ کے واضح احکام سننے کے بعد ان کی تعمیل کرنے سے پہلے اور تعمیل کے لیے شرط کے طور پر‘ عقلی دلائل کا مطالبہ کرے۔ مسلمان کو اگر وہ واقعی مسلمان ہے‘ پہلے حکم کی تعمیل کرنی چاہیے‘ پھر وہ اپنے دماغی اطمینان کے لیے عقلی دلائل مانگ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ کہتا ہے کہ مجھے پہلے عقلی حیثیت سے مطمئن کرو، ورنہ میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہ مانوں گا، تو ہم اسے سرے سے مسلمان ہی نہیں مانتے‘ کجا کہ اس کو ایک اسلامی ریاست کے لیے دستور بنانے کا مجاز تسلیم کریں۔ تعمیل حکم کے لیے عقلی دلیل مانگنے والے کا مقام اسلام کی سرحد سے باہر ہے‘ نہ کہ اس کے اندر۔
سیاست و ملک داری میں عورت کے دخل کو جائز ٹھیرانے والے اگر کوئی دلیل رکھتے ہیں تو وہ بس یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عثمانؓ کے خون کا دعویٰ لے کر اٹھیں اور حضرت علیؓ کے خلاف جنگِ جمل میں نبرد آزما ہوئیں، مگر اول تو یہ دلیل اصولاً ہی غلط ہے، اس لیے کہ جس مسئلے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت موجود ہو‘ اس میں کسی صحابی کا کوئی ایسا انفرادی فعل جو اس ہدایت کے خلاف نظر آتا ہو‘ ہرگز حجت نہیں بن سکتا۔ صحابہ کی پاکیزہ زندگیاں بلاشبہ ہمارے لیے مشعلِ ہدایت ہیں، مگر اس غرض کے لیے کہ ہم ان کی روشنی میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں‘ نہ اس غرض کے لیے کہ ہم اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو چھوڑ کر ان میں سے کسی کی انفرادی لغزشوں کا اتباع کریں۔ پھر جس فعل کو اسی زمانے میں جلیل القدر صحابہ کرامؓ نے غلط قرار دیا تھا اور جس پر بعد میں خود ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نادم ہوئیں اسے آخر کس طرح اسلام میں ایک نئی بدعت کا آغاز کرنے کے لیے دلیل قرار دیا جاسکتا ہے؟
حضرت عائشہؓ کے اس اقدام کی اطلاع پاتے ہی ام المومنین حضرت ام سلمہؓ نے ان کو جو خط لکھا تھا وہ پورے کا پورا ابن قتیبہ نے ’’الامامۃ والسیاسۃ‘‘ میں اور اِبن عَبْدُ رَبِّہٖ نے ’’عقد الفرید‘‘ میں نقل کیا ہے۔ اسے ملاحظہ فرمائیے، کتنے پر زور الفاظ میں وہ فرماتی ہیں کہ آپ کے دامن کو قرآن نے سمیٹ دیا ہے‘ آپ اسے پھیلائیے نہیں۔ اور کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو دین میں افراط برتنے سے روکا ہے؟ اور یہ کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دیتیں، اگر وہ آپ کو اس طرح کسی صحرا میں ایک گھاٹ سے دوسرے گھاٹ کی طرف اونٹ دوڑاتے ہوئے دیکھ لیتے؟
پھر حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے اس قول کو یاد کیجیے کہ عائشہؓ کے لیے اُن کا گھر اُن کے ہودے سے بہتر ہے۔
اور حضرت ابوبکرہؓ کا یہ قول بخاری میں ملاحظہ فرمالیجیے کہ میں جنگِ جمل کے فتنے میں مبتلا ہونے سے صرف اس لیے بچ گیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد آگیا کہ:وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جس نے اپنے معاملات ایک عورت کے سپرد کر دیے ہوں۔
حضرت علیؓ سے بڑھ کر اس زمانے میں کون شریعت کا جاننے والا تھا؟ انھوں نے صاف الفاظ میں حضرت عائشہؓ کو لکھا کہ آپ کا یہ اقدام حدود شریعت سے متجاوز ہے اور حضرت عائشہؓ اپنی کمال درجے کی ذہانت و فقاہت کے باوجود اس کے جواب میں کوئی دلیل نہ پیش کرسکیں۔ حضرت علیؓ کے الفاظ یہ تھے کہ:
بلاشبہ آپ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی خاطر غضب ناک ہو کر نکلی ہیں‘ مگر آپ ایک ایسے کام کے پیچھے پڑی ہیں جس کی ذمے داری آپ پر نہیں ڈالی گئی۔ عورتوں کو آخر جنگ اور اصلاح بین الناس سے کیا تعلق؟ آپ عثمانؓ کے خون کا دعویٰ لے کر اٹھی ہیں‘ مگر میں سچ کہتا ہوں کہ جس شخص نے آپ کو اس بلا میں ڈالا اور اس معصیت پر آمادہ کیا وہ آپ کے حق میں عثمانؓ کے قاتلوں سے زیادہ گناہ گار ہے۔
دیکھیے‘ اس خط میں سیدنا علیؓ حضرت عائشہؓ کے فعل کو صریحًا خلافِ شرع قرار دے رہے ہیں، مگر حضرت عائشہؓ اس کا کوئی جواب اس کے سوا نہ دے سکیں کہ:
جَلَّ الْاَمْرُ عَنِ الْعِتَابِ
معاملہ اب اس حد سے گزر چکا ہے کہ عتاب و ملامت سے کام چل سکے۔
پھر جنگ جمل کے خاتمے پر جب حضرت علیؓ ام المومنینؓ سے ملنے تشریف لے گئے تو انھوں نے کہا: <<یَاصَاحِبَۃَ الْھَوْدَجِ قَدْ اَمَرَکِ اللہُ اَنْ تَقْعُدِیْ فِیْ بَیْتِکِ ثُمَّ خَرَجْتِ تُقَاتِلِیْنَ؟>>
اے ہودے والی! اللہ نے آپ کو گھر بیٹھنے کا حکم دیا تھا اور آپ لڑنے کے لیے نکل پڑیں۔
مگر اس وقت بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ نہ کہہ سکیں کہ اللہ نے ہم عورتوں کو گھر بیٹھنے کا حکم نہیں دیا ہے اور ہمیں سیاست اور جنگ میں حصہ لینے کا حق ہے۔
پھر یہ بھی ثابت ہے کہ آخر کار حضرت عائشہ ؓ خود اپنے اس فعل پر پچھتاتی رہیں۔ چنانچہ علامہ ابن عبدالبر استیعاب میں یہ روایت لائے ہیں کہ ام المومنینؓ نے عبداللہ بن عمرؓ سے شکایتاً فرمایا:اے ابوعبدالرحمن! تم نے کیوں نہ مجھے اس کام پر جانے سے منع کیا؟
انھوں نے جواب دیا: میں نے دیکھا کہ ایک شخص (یعنی عبداللہ بن زبیرؓ) آپ کی رائے پر حاوی ہوگیا ہے اور مجھے امید نہ تھی کہ آپ اس کے خلاف چل سکیں گی۔ اس پر ام المومنینؓ نے فرمایا: کاش! تم مجھے منع کر دیتے تو میں نہ نکلتی۔
اس کے بعد جناب صدیقہ رضی اللہ عنہا کے عمل میں آخر کیا دلیل باقی رہ جاتی ہے جس کے بل بوتے پر کوئی صاحب علم یہ دعویٰ کرسکتا ہو کہ اسلام میں عورتیں بھی سیاست اور نظمِ مملکت کی ذمے داری میں شریک قرار دی گئی ہیں؟ رہے وہ لوگ جن کے لیے اصل معیار حق صرف دنیا کی غالب قوموں کا طرز عمل ہے اور جنھیں بہرحال چلنا اسی طرف ہے جس طرف انبوہ جارہا ہو‘ تو انھیں کس نے کہا ہے کہ اسلام کو اپنے ساتھ ضرور لے چلیں؟ ان کا جدھر جی چاہے شوق سے جائیں‘ مگر کم از کم اتنی راست بازی تو ان میں ہونی چاہیے کہ جس مقتدا کے دراصل وہ پیرو ہیں اسی کا نام لیں‘ بلادلیل اسلام کی طرف وہ باتیں منسوب نہ کریں جن سے خدا کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور <<قرونِ مَشْہُوْدٌ لَھَا بِالْخَیر>> کی تاریخ صاف صاف انکار کر رہی ہے۔