مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلامی ریاست

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جس میں اسلام کو محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہ سمجھ کر، بلکہ زندگی کا ایک مکمل نظامِ حیات پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام کا نفاذ صرف وعظ و تبلیغ سے ممکن نہیں؛ بلکہ اس کے لیے سیاسی اقتدار اور ریاستی طاقت کا حصول ضروری ہے۔ مولانا مودودی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جدید دور کا سیکولر تصورِ ریاست، جو دین کو ذاتی معاملہ قرار دے کر سیاست سے الگ کرتا ہے، درحقیقت جاہلیت کے محدود تصورِ مذہب کی بازگشت ہے، جسے اسلام نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کتاب کی تدوین کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے نظریاتی اصولوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں منظم انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ نہ صرف علماء و طلبہ بلکہ عام مسلمان بھی اس نظام کی حقیقت سے آشنا ہو سکیں۔

کتاب کا آغاز دیباچے سے ہوتا ہے جس میں ناشر، مرتب اور مصنف کے تعارفی خیالات شامل ہیں۔ یہاں مولانا مودودی کی سیاسی جدوجہد، گرفتاریاں اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو مؤلف کے عملی تجربات کا ادراک ہو سکے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ یہ مضامین گذشتہ پچیس برسوں میں مختلف مواقع پر لکھے گئے تھے، جنہیں اب ادارۂ معارفِ اسلامی کے زیرِ اہتمام دو حصوں میں منظم کیا گیا ہے: پہلا حصہ نظری مباحث پر مشتمل ہے اور دوسرا پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق عملی مضامین پر۔

کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہے جنہیں موضوعاتی اعتبار سے کئی مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی ابواب (دین و سیاست، اسلام کا سیاسی نظریہ، قرآن کا فلسفۂ سیاست، معنیٔ خلافت، اسلامی تصورِ قومیت، اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ) اسلامی ریاست کے نظریاتی خدوخال—حاکمیتِ الٰہی، خلافت، قومیت اور قانون کے سرچشمے—کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرتے ہیں۔ اس کے بعد کے ابواب (اسلامی ریاست کی بنیادیں، اسلامی دستور کی بنیادیں، اسلامی ریاست کا مثالی دور، قانون سازی اور اجتہاد، چند دستوری و سیاسی مسائل) عملی سطح پر ریاست کی تشکیل، حکومت کے قیام کے طریقے، اجتہاد کے اصول اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کو موضوع بناتے ہیں۔ تین ابواب خصوصی طور پر حقوق کے مسئلے کے لیے وقف ہیں: انسان کے بنیادی حقوق، غیر مسلموں (ذمیوں) کے حقوق، اور عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور۔ آخری دو ابواب—اسلامی ریاست کے رہنما اصول اور اسلامی انقلاب کی راہ—اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایسا نظام کن اصولوں پر قائم ہو اور اسے پرامن، تدریجی اور جمہوری طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے، جس کے ضمن میں پاکستان کے اکتیس نامور علماء کے متفقہ دستوری فیصلے کا متن بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"اسلامی ریاست" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ ضخیم تصنیف ہے جو دراصل ایک نشست میں لکھی گئی کتاب نہیں بلکہ اسلامک پبلیکیشنز کی طرف سے مرتب کردہ ایک وسیع مجموعہ ہے، جس میں مولانا مودودی کی تقاریر، مضامین، انٹرویوز اور ان کی دیگر کتب (خصوصاً تفہیمات اور خلافت و ملوکیت) کے اقتباسات کو موضوعِ "اسلامی ریاست" کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتب خانے میں شامل مولانا کی تصانیف میں سب سے ضخیم کتاب ہے (312 ابواب، 16 بڑے حصوں پر مشتمل)، اور ان کے سیاسی فکر کا سب سے مربوط بیان سمجھی جاتی ہے۔

کتاب کی بنیادی دلیل سولہ ابواب میں اس ترتیب سے آگے بڑھتی ہے: (۱) سب سے پہلے اس نظریے کی تردید کی گئی ہے، جو جدیدیت پسند اور سیکولر قوم پرست دونوں طرح کے حلقوں میں مشترک ہے، کہ اسلام میں دین اور سیاست الگ الگ دائرے ہیں؛ (۲) اسلام کا سیاسی نظریہ پیش کیا گیا ہے، جس کی بنیاد یہ دعویٰ ہے کہ ہر نبی کا مشن دراصل انسانوں کی ناجائز حاکمیت کے خلاف دعوت تھا؛ (۳) قرآن کے فلسفہ سیاست کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۴) خلافت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے — یعنی انسان، اور خاص طور پر اہلِ ایمان کی جماعت، اللہ کے قانون کے تحت ایک تفویض شدہ اختیار استعمال کرتی ہے، اپنی خودمختار حیثیت میں حکومت نہیں کرتی؛ (۵) نسل، زبان یا علاقے کی بجائے عقیدے پر مبنی ایک مخصوص اسلامی تصورِ قومیت پیش کیا گیا ہے؛ (۶) اسلامی دستوری قانون کے مآخذ — قرآن، سنت، خلافتِ راشدہ کا تعامل، اور بعد کے مجتہدین کے فیصلے — کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۷-۸) اسلامی ریاست اور دستور کی بنیادیں بیان کی گئی ہیں، جہاں مولانا نے مشہور اصطلاح "الٰہی جمہوریت" وضع کی — ایسا نظامِ حکومت جو نہ پاپائیت ہے نہ مغربی سیکولر جمہوریت، بلکہ ایسی ریاست ہے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے جبکہ روزمرہ انتظام مشاورت، شوریٰ اور وقتاً فوقتاً حکمرانوں کے انتخاب کے ذریعے خود امت انجام دیتی ہے؛ (۹) عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو اسلامی ریاست کے "مثالی دور" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کی روشنی میں کسی بھی مدعیٔ اسلامی ریاست کو پرکھا جانا چاہیے؛ (۱۰) قانون سازی اور اجتہاد کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے — کہ انسانی مقننہ وحی کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آزادانہ اجتہاد کر سکتی ہے؛ (۱۱-۱۲) چند دستوری اور سیاسی مسائل (سیاست میں خواتین کا کردار، ارتداد کی سزا، جنگ اور غلامی کے احکام، صدرِ ریاست کا حقِ ویٹو) پر بحث کے بعد ایک پورا باب انسان کے بنیادی حقوق کے لیے وقف کیا گیا ہے — حقِ زندگی، کمزوروں کا تحفظ، عزت، معاشی تحفظ، آزادیٔ اظہار و ضمیر، ظلم کے خلاف احتجاج — جنہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ اور اس لیے خود ریاست کے لیے بھی ناقابلِ سلب قرار دیا گیا ہے؛ (۱۳) غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کے حقوق و حیثیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے — جان، مال، عبادت کی آزادی، فوجی خدمت سے استثنا، جزیہ — تاہم انہیں جدید معنوں میں "برابر شہری" کی بجائے ایک الگ قانونی درجہ دیا گیا ہے؛ (۱۴) اسلام کے تصورِ عدلِ اجتماعی کا سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے موازنہ کیا گیا ہے، اور یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام نجی ملکیت اور انفرادی کاروبار کی اجازت دیتا ہے مگر دولت کے حصول اور استعمال پر اخلاقی و قانونی حدود عائد کرتا ہے؛ (۱۵) اسلامی ریاست کے رہنما اصول دوبارہ مرتب کیے گئے ہیں؛ اور (۱۶) آخر میں مولانا نے اپنا یہ نقطۂ نظر بیان کیا ہے کہ اسلامی انقلاب دراصل کیسے برپا ہونا چاہیے — بتدریج، پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی کے ذریعے، نہ کہ اقتدار پر اچانک قبضے سے — اور اس ضمن میں 1951ء کا وہ اتفاقِ رائے شامل کیا گیا ہے جس پر پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے 31 علماء نے اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کے طور پر اتفاق کیا تھا۔

اہمیت۔ یہ کتاب (اور جس فکری سرمائے سے یہ مرتب کی گئی ہے) جماعتِ اسلامی کے سیاسی پروگرام کی اساس اور بیسویں صدی میں اسلام اور جدید ریاست کے تعلق پر ہونے والی بحث کی سب سے اہم دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔ مولانا کی اصطلاحات — حاکمیت، "الٰہی جمہوریت"، اور خلافت کا از سرِ نو تعین بطور اجتماعی امانت نہ کہ کسی ایک حکمران کا ذاتی منصب — نے پاکستان کے دستوری مباحث (اور بعد ازاں، فقہی اختلافات کے باوجود، ایران کے انقلابی گفتگو) میں استعمال ہونے والی وہ زبان فراہم کی جس کے ذریعے جدید قومی ریاست میں اسلام کے مقام پر بحث کی گئی۔ کتاب کے آخری باب میں شامل 1951ء کا علماء اتفاقِ رائے، پاکستان کی ابتدائی دستور سازی میں "قراردادِ مقاصد" پر ہونے والی بحث پر براہِ راست اثرانداز ہوا۔

تنقیدی جائزہ۔ ایک محقق کی حیثیت سے اس کتاب کو پڑھنے کا تقاضا ہے کہ اسے محض اس کے اپنے موقف تک محدود نہ رکھا جائے۔ سید ولی رضا نصر اور چارلس ایڈمز جیسے محققین، جنہوں نے مولانا مودودی کے سیاسی فکر پر سب سے تفصیلی علمی مطالعے کیے ہیں، کا موقف ہے کہ ان کا نظریہ روایتی زبان میں لپٹی ہوئی ایک حقیقی جدید تشکیل ہے: قدیم فقہ سیاسیہ کی روایت "حاکمیت" کو اس طرح کسی ایک بنیادی تصور کے گرد مرتب نہیں کرتی جیسا مولانا مودودی نے کیا — یہ طرزِ استدلال جتنا کلاسیکی فقہ سے ماخوذ ہے، اتنا ہی مغرب میں مقبول عوامی حاکمیت کے تصور کے خلاف ردعمل سے بھی متاثر ہے، جس کی مولانا واضح طور پر تردید کر رہے ہیں۔ ناقدین نے کتاب کے حقوق سے متعلق ابواب میں ایک اندرونی تناؤ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے: ایک باب میں شہریوں کے لیے وسیع "بنیادی حقوق" کا اثبات کیا گیا ہے، جبکہ اگلے باب میں غیر مسلم باشندوں کو ایک الگ قانونی درجے (ذمی) میں رکھا گیا ہے جس میں سیاسی حقوق محدود ہیں (مثلاً منصبِ سربراہِ مملکت یا مکمل قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا) — حقوق کی آفاقی زبان اور شہریت کے مخصوص نظریے کے مابین یہ تناؤ بعد کے محققین، بشمول خود اسلامی فکر کی روایت کے اندر، زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ روایتی علماء کی جانب سے مولانا کے خلافت کو ایک اجتماعی/عوامی منصب کے طور پر (بجائے ایک متعین خلیفہ کے) نئے سرے سے متعین کرنے پر، اور محض عام مسلمانوں کی اکثریتی مقننہ کو اجتہاد کے وسیع اختیارات دینے پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ مطالعاتی حلقے کو چاہیے کہ اس کتاب کے دستوری نظریے کو صرف اس کے اپنے منطقی فریم ورک میں نہیں بلکہ ان تنقیدوں کی روشنی میں بھی پڑھے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. دین اور سیاست: مولانا مودودی دین اور سیاست کی علیحدگی کو رد کرتے ہیں۔ اس تفریق کے حق میں سب سے مضبوط دلائل کیا ہو سکتے ہیں، اور کتاب ان کا کیا جواب دیتی ہے؟ کیا آپ کو یہ جواب مطمئن کن لگتا ہے؟
  2. حاکمیتِ الٰہی بمقابلہ عوامی حاکمیت: مولانا مودودی جائز حکومت کی بنیاد عوام کی مرضی کی بجائے اللہ کی حاکمیت پر رکھتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر جدید جمہوری نظریے — کہ سیاسی اختیار عوام کی رضامندی سے حاصل ہوتا ہے — سے کس طرح مختلف ہے، اور اس سے کیا تناؤ پیدا ہوتا ہے؟
  3. "الٰہی جمہوریت": کیا یہ ایک مفید تیسری قسم ہے، یا تفصیل میں جانے پر یہ پاپائیت یا جمہوریت میں سے کسی ایک میں ضم ہو جاتی ہے؟ ایک حقیقی "الٰہی جمہوری" ریاست کو کسی مذہبی سیاسی جماعت کی محض حکمرانی سے کیا چیز ممتاز کرے گی؟
  4. خلافت کی از سرِ نو تعریف: مولانا مودودی خلافت کو ایک ہی خلیفہ کی بجائے پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی امانت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ تصور خلافت کی روایتی/کلاسیکی تفہیم سے کس طرح مختلف ہے، اور روایتی علماء نے اس پر کیا اعتراضات کیے؟
  5. غیر مسلم شہریوں کے حقوق: کتاب ذمیوں کے لیے وسیع تحفظات (جان، مال، عبادت، ٹیکس میں رعایت) کا اثبات کرتی ہے مگر انہیں مسلم شہریوں سے الگ قانونی درجے میں رکھتی ہے۔ اس اور کتاب کے اپنے باب "بنیادی حقوق" کی زیادہ آفاقی زبان کے مابین تناؤ پر بحث کریں۔ یہ فریم ورک ایک جدید کثیر المذاہب قومی ریاست میں کس طرح کام کرے گا؟
  6. بنیادی حقوق بمقابلہ بین الاقوامی انسانی حقوق: کتاب کے باب "بنیادی حقوق" میں درج حقوق کا جدید انسانی حقوق کے فریم ورک (مثلاً اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ) سے موازنہ کریں۔ کہاں مشترکات ہیں اور کہاں — بالخصوص مذہب یا جنس سے قطع نظر مساوات کے معاملے میں — اختلاف ہے؟
  7. اجتہاد کا دائرہ: مولانا مودودی مقننہ کو کس حد تک آزادانہ اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں، اور اس کی اہلیت کس کے پاس ہے؟ کیا عام اکثریتی مقننہ (بمقابلہ تربیت یافتہ مجتہدین) خود مولانا کے اپنے فریم ورک سے ہم آہنگ ہے؟
  8. سیاست میں خواتین کا کردار: کتاب اسلامی ریاست میں خواتین کو کیا کردار دیتی ہے، اور مطالعاتی حلقہ اسے صنف اور سیاسی شرکت کے معاصر مباحث کی روشنی میں کیسے پرکھ سکتا ہے؟
  9. سرمایہ داری، اشتراکیت اور مولانا کا تصورِ عدلِ اجتماعی: کتاب کی سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں پر تنقید کا خلاصہ کریں۔ کیا اس کا متبادل (نجی ملکیت مع سخت اخلاقی و قانونی حدود) دوسرے دو نظاموں میں نشاندہی کردہ مسائل کو حل کرتا ہے، یا اسے بھی نفاذ اور تعریف کے اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے؟
  10. "مثالی دور": مولانا مودودی عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو کسی بھی اسلامی ریاست کے لیے معیار قرار دیتے ہیں۔ ایک جدید ریاست کو ساتویں صدی کے نمونے کے مطابق پرکھنے کے فوائد اور خطرات کیا ہیں؟
  11. تبدیلی کا طریقہ، بتدریج یا انقلابی: مولانا مودودی اقتدار حاصل کرنے سے پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی پر زور دیتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی بیسویں صدی کی دیگر اسلامی تحریکوں سے کس طرح مختلف ہے، اور کیا یہ عملاً کامیاب رہی — مثلاً پاکستان میں خود جماعتِ اسلامی کے سفر میں؟
  12. آج کی معنویت: چونکہ یہ کتاب بیسویں صدی کے وسط میں پاکستان کے قیام کے مخصوص تناظر میں مرتب کی گئی، اس کے کون سے دلائل آپ کے خیال میں کسی بھی جدید مسلم اکثریتی ریاست کے لیے آج بھی متعلقہ ہیں، اور کون سے اس مخصوص لمحے تک محدود یا پرانے محسوس ہوتے ہیں؟

۲۔ اسلامی قومیت کا حقیقی مفہوم

زمانۂ حال میں مسلمانوں کی جماعت کے لیے لفظ ’قوم‘ کا استعمال کثرت کے ساتھ کیا گیا ہے اور عموماً یہی اصطلاح ہماری اجتماعی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے رائج ہو چکی ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے اس کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن اور حدیث میں مسلمانوں کے لیے لفظ ’قوم‘ (یانیشن کے معنی میں کسی دوسرے لفظ کو) اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ میں مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان الفاظ میں اصلی قباحت کیا ہے جس کی وجہ سے اسلام میں ان سے پرہیز کیا گیا اور وہ دوسرے الفاظ کون سے ہیں جن کو قرآن و حدیث میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ محض ایک علمی بحث نہیں ہے‘ بلکہ اس سے ہمارے ان بہت سے تصورات کی غلطی واضح ہو جاتی ہے جن کی بدولت زندگی میں ہمارا رویہ بنیادی طور پر غلط ہو کر رہ گیا ہے۔

لفظ ’قوم‘ اور اس کے ہم معنی انگریزی لفظ nation‘ دونوں دراصل جاہلیت کی اصطلاحیں ہیں۔ اہل جاہلیت نے ’’قومیت‘‘ (nationality)کو کبھی خالص تہذیبی بنیاد (cultural basis)پر قائم نہیں کیا‘ نہ قدیم جاہلیت کے دور میں اور نہ جدید جاہلیت کے دور میں۔ ان کے دل و دماغ کے ریشوں میں نسلی اور روایتی علائق کی محبت کچھ اس طرح پلا دی گئی ہے کہ وہ نسلی روابط اور تاریخی روایات کی وابستگی سے قومیت کے تصور کو کبھی پاک نہ کرسکے۔ جس طرح قدیم عرب میں قوم کا لفظ عموماً ایک نسل یا ایک قبیلے کے لوگوں پر بولا جاتا تھا اسی طرح آج بھی لفظ ’نیشن‘ کے مفہوم میں مشترک جنسیت (common descent) کا تصور لازمی طور پر شامل ہے اور یہ چیز چونکہ بنیادی طور پر اسلامی تصورِ اجتماع کے خلاف ہے، اس وجہ سے قرآن میں لفظ قوم اور اس کے ہم معنی دوسرے عربی الفاظ مثلاً شُعَب وغیرہ کو مسلمانوں کی جماعت کے لیے اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی اصطلاح اس جماعت کے لیے کیوں کر استعمال کی جاسکتی تھی جس کے اجتماع کی اساس میں خون اور خاک اور رنگ اور اس نوع کی دوسری چیزوں کا قطعاً کوئی دخل نہ تھا‘ جس کی تالیف و ترکیب محض اصول اور مسلک کی بنیاد پر کی گئی تھی اور جس کا آغاز ہی ہجرت اور قطعِ نسب اور ترکِ علائق مادی سے ہوا تھا۔

قرآن نے جو لفظ مسلمانوں کی جماعت کے لیے استعمال کیا ہے وہ’حزب‘ ہے، جس کے معنی پارٹی کے ہیں۔ قومیں نسل و نسب کی بنیاد پر اٹھتی ہیں اور پارٹیاں اصول و مسلک کی بنیاد پر۔ اس لحاظ سے مسلمان حقیقت میں قوم نہیں بلکہ ایک پارٹی ہیں، کیونکہ ان کو تمام دنیا سے الگ اور ایک دوسرے سے وابستہ صرف اس بنا پر کیا گیا ہے کہ یہ ایک اصول اور مسلک کے معتقد اور پیرو ہیں اور جن سے ان کا اصول و مسلک میں اشتراک نہیں، وہ خواہ ان سے قریب ترین مادی رشتے ہی کیوں نہ رکھتے ہوں‘ ان کے ساتھ ان کا کوئی میل نہیں ہے۔ قرآن رُوئے زمین کی اس پوری آبادی میں صرف دو ہی پارٹیاں دیکھتا ہے۔ ایک اللہ کی پارٹی (حِزبُ اللہ)، دوسرے شیطان کی پارٹی (حِزبُ الشیطان) شیطان کی پارٹی میں خواہ باہم اصول و مسلک کے اعتبار سے کتنے ہی اختلافات ہوں‘ قرآن ان سب کو ایک سمجھتا ہے، کیونکہ ان کا طریقِ فکر اور طریقِ عمل بہرحال اسلام نہیں ہے اور جزئی اختلافات کے باوجود بہرحال وہ سب شیطان کے اتباع پر متفق ہیں۔ قرآن کہتا ہے:

<<اِسْتَحْوَذَ عَلَيْہِمُ الشَّيْطٰنُ فَاَنْسٰـىہُمْ ذِكْرَ اللہِ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطٰنِ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ>> المجادلۃ 19:58

شیطان ان پر غالب آگیا اور اس نے خدا سے انھیں غافل کر دیا۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں اور جان رکھو کہ شیطان کی پارٹی آخر کار نامراد ہی رہنے والی ہے۔

برعکس اس کے اللہ کی پارٹی والے خواہ نسل اور وطن اور زبان اور تاریخی روایات کے اعتبار سے باہم کتنے ہی مختلف ہوں‘ بلکہ چاہے ان کے آبائواجداد میںباہم خونی عداوتیں ہی کیوں نہ رہ چکی ہوں، جب وہ خدا کے بتائے ہوئے طریقِ فکر اور مسلکِ حیات میں متفق ہوگئے تو گویا الٰہی رشتے (حَبلُ اللہ) سے باہم جڑ گئے اور اس نئی پارٹی میں داخل ہوتے ہی ان کے تمام تعلقات حِزبُ الشیطان والوں سے کٹ گئے۔

پارٹی کا یہ اختلاف باپ اور بیٹے تک کا تعلق توڑ دیتا ہے۔ حتیٰ کہ بیٹا باپ کی وراثت تک نہیں پاسکتا۔ حدیث کے الفاظ میں: <<لَایَتَوَارَثُ اَھْلُ مِلَّتَیْنِ۔>> (ترمذی ۲۱۰۸۔ مشکوۃ ۲۹۱۵ ابودائود، ابن ماجہ) دو مختلف ملتوں کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے‘۔

پارٹی کا یہ اختلاف بیوی کو شوہر سے جدا کر دیتا ہے حتیٰ کہ اختلاف رونما ہوتے ہی دونوں پر ایک دوسرے کی مواصلت حرام ہو جاتی ہے‘ محض اس لیے کہ دونوں کی زندگی کے راستے جدا ہوچکے۔ قرآن میں ہے: <<لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ يَحِلُّوْنَ لَہُنَّ۝۰ۭ>> الممتحنۃ 10:60

نہ وہ ان کے لیے حلال‘ نہ یہ ان کے لیے حلال۔

پارٹی کا یہ اختلاف ایک برادری‘ ایک خاندان کے آدمیوں میں پورا معاشرتی مقاطعہ کرا دیتا ہے‘ حتیٰ کہ حزب اللہ والے کے لیے خود اپنی نسلی برادری کے ان لوگوں میں شادی بیاہ کرنا حرام ہو جاتا ہے جو حزب الشیطان سے تعلق رکھتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے :

مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ مومن لونڈی‘ مشرک بیگم سے بہتر ہے‘ خواہ وہ تمھیں کتنی ہی پسند ہو اور اپنی عورتوں کے نکاح بھی مشرک مردوں سے نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ مومن غلام مشرک آزاد شخص سے بہتر ہے‘ چاہے وہ تمھیں کتنا ہی پسند ہو۔ (البقرہ۲:۲۲۱)

پارٹی کا یہ اختلاف نسلی و وطنی قومیت کا تعلق صرف کاٹ ہی نہیں دیتا، بلکہ دونوں میں ایک مستقل نزاع قائم کر دیتا ہے جو دائمًا قائم رہتی ہے تاوقتیکہ وہ اللہ کی پارٹی کے اصول تسلیم نہ کرلیں۔ قرآن کہتا ہے:

۱۔ <<قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَۃٌ حَسَـنَۃٌ فِيْٓ اِبْرٰہِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗ۝۰ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۡكَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَحْدَہٗٓ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰہِيْمَ لِاَبِيْہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ>> الممتحنہ 4:60

تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم ؑ اور اس کے ساتھیوں میں ہے۔ ان لوگوں نے اپنی (نسلی) قوم والوں سے صاف کہہ دیا تھا کہ ہمارا تم سے اور تمھارے ان مبعودوں سے جن کی تم خدا کو چھوڑ کر بندگی کرتے ہو‘ کوئی واسطہ نہیں۔ ہم تم سے بے تعلق ہو چکے اور ہمارے تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت پڑ گئی تاوقتیکہ تم خدائے واحد پر ایمان نہ لائو، مگر تمھارے لیے ابراہیمؑ کے اس قول میں نمونہ نہیں ہے کہ اس نے اپنے (کافر) باپ سے کہا کہ میں تیرے لیے بخشش کی دعا کروںگا:

۲۔ <<وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِيْمَ لِاَبِيْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاہُ۝۰ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ۝۰ۭ>> التوبہ 114:9

ابراہیم ؑ کا اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا کرنا محض اس وعدے کی بنا پر تھا جووہ اس سے کرچکا تھا، مگر جب اس پر کھل گیا کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے دستبردار ہوگیا۔

پارٹی کا یہ اختلاف ایک خاندان والوں اور قریب ترین رشتہ داروں کے درمیان بھی محبت کا تعلق حرام کر دیتا ہے‘ حتیٰ کہ اگر باپ اور بھائی اور بیٹے بھی حزب الشیطان میں شامل ہوں تو حزب اللہ والا اپنی پارٹی سے غداری کرے گا اگر ان سے محبت رکھے۔ قرآن میں ارشاد ہے:

<<لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِيْرَتَہُمْ۝۰ۭ …… اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ اللہِ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo

المجادلۃ>> 22:58

تم ایسا ہرگز نہ پائو گے کہ کوئی جماعت اللہ اور یوم آخر پر ایمان بھی رکھتی ہو، اور پھر اللہ اور رسولؐ کے دشمنوں سے دوستی بھی رکھے‘ خواہ وہ ان کے باپ‘ بیٹے‘ بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں…… یہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں اور جان رکھو کہ آخر کار اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔

دوسرا لفظ پارٹی ہی کے معنی میں قرآن نے مسلمانوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ وہ لفظ ’امت‘ ہے۔ حدیث میں بھی یہ لفظ کثرت سے مستعمل ہوا ہے۔ امت اس جماعت کو کہتے ہیں جس کو کسی امر جامع نے مجتمع کیا ہو۔ جن افراد کے درمیان کوئی اصل مشترک ہو، ان کو اسی اصل کے لحاظ سے’امت‘ کہا جاتا ہے۔ مثلاً: ایک زمانے کے لوگ بھی ’امت‘ کہے جاتے ہیں۔ ایک نسل یا ایک ملک کے لوگ بھی ’امت‘ کہے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو جس اصل مشترک کی بنا پر امت کہا گیا ہے وہ نسل یا وطن یا معاشی اغراض نہیں ہیں، بلکہ وہ ان کی زندگی کا مشن اور ان کی پارٹی کا اصول اور مسلک ہے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے:

۱۔ <<نْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ>> آل عمران 110:3

تم وہ بہترین امت ہو جسے نوعِ انسانی کے لیے نکالا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو۔

۲۔ <<وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۝۰ۭ>> البقرہ143:2

اور اس طرح ہم نے تم کو ایک بیچ کی امت بنایا ہے تاکہ تم نوع انسانی پر نگران ہو اور رسولؐ تم پر نگران ہو۔

ان آیات پر غور کیجیے۔ ’بیچ کی امت‘ سے مراد یہ ہے کہ’مسلمان‘ ایک بین الاقوامی جماعت (international party) کا نام ہے۔ دنیا کی ساری قوموں میں سے ان اشخاص کو چھانٹ کر نکالا گیا ہے جو ایک خاص اصول کو ماننے‘ ایک خاص پروگرام کو عمل میں لانے اور ایک خاص مشن کو انجام دینے کے لیے تیار ہوں۔ یہ لوگ چونکہ ہر قوم میں سے نکلے ہیں اور ایک پارٹی بن جانے کے بعد کسی قوم سے ان کا تعلق نہیں رہا ہے، اس لیے یہ بیچ کی امت ہیں۔ لیکن ہر ہر قوم سے تعلق توڑنے کے بعد سب قوموں سے ان کا ایک دوسرا تعلق قائم کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ دنیا میں خدائی قانون کو قائم کرنے کے فرائض انجام دیں۔ ’تم نوع انسانی پر نگران ہو‘ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ مسلمان خدا کی طرف سے دنیا میں فوج دار مقرر کیا گیا ہے اور ’نوع انسانی کے لیے نکالا گیا ہے‘ کا فقرہ صاف کہہ رہا ہے کہ مسلمان کا مشن ایک عالم گیر مشن ہے۔ اس مشن کا خلاصہ یہ ہے کہ ’حزب اللہ‘ کے لیڈر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فکر و عمل کا جو ضابطہ خدا نے دیا تھا اس کو تمام ذہنی‘ اخلاقی اور مادی طاقتوں سے کام لے کر دنیا میں نافذ کیا جائے اور اس کے مقابلے میں ہر دوسرے طریقے کو مغلوب کر دیا جائے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی بنیاد پر مسلمان ایک امت بنائے گئے ہیں۔

تیسرا اصطلاحی لفظ جو مسلمانوں کی اجتماعی حیثیت ظاہر کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت استعمال کیا ہے وہ لفظ ’جماعت‘ ہے اور یہ لفظ بھی ’حزب‘ کی طرح بالکل پارٹی کا ہم معنی ہے۔ <<عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ اور یَدُ اللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ>> (ترمذی‘ ۲۱۶۷) اور ایسی ہی بکثرت احادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ’قوم‘ یا ’شعب‘ یا اس کے ہم معنی دوسرے الفاظ استعمال کرنے سے قصداً احتراز فرمایا اور ان کے بجائے ’جماعت‘ ہی کی اصطلاح استعمال کی۔ آپؐ نے کبھی یہ نہ فرمایا کہ’ہمیشہ قوم کے ساتھ رہو‘ یا ’قوم پر خدا کا ہاتھ ہے‘ بلکہ ایسے تمام مواقع پر آپؐ جماعت ہی کا لفظ استعمال فرماتے تھے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے اور یہی ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں کے اجتماع کی نوعیت ظاہر کرنے کے لیے’قوم‘ کے بجائے جماعت‘ حزب اور پارٹی کے الفاظ ہی زیادہ مناسب ہیں۔ ’قوم‘ کا لفظ جن معنوں میں عموماً مستعمل ہوتا ہے، ان کے لحاظ سے ایک شخص خواہ وہ کسی مسلک اور کسی اصول کا پیرو ہو‘ ایک قوم میں شامل رہ سکتا ہے جب کہ وہ اس قوم میں پیدا ہوا ہو اور اپنے نام‘ طرز زندگی اور معاشرتی تعلقات کے اعتبار سے اس قوم کے ساتھ منسلک ہو، لیکن پارٹی‘ جماعت اور حزب کے الفاظ جن معنوں میں مستعمل ہوتے ہیں ان کے لحاظ سے اصول اور مسلک ہی پر پارٹی میں شامل ہونے‘ یا اس سے خارج ہونے کا مدار ہوتا ہے۔ آپ ایک پارٹی کے اصول و مسلک سے ہٹ جانے کے بعد ہرگز اس میں شامل نہیں رہ سکتے‘ نہ اس کا نام استعمال کرسکتے ہیں، نہ اُس کے نمایندے بن سکتے ہیں، نہ اُس کے مفاد کے محافظ بن کر نمودار ہوسکتے ہیںاور نہ پارٹی والوں سے آپ کا کسی طور پر تعاون ہوسکتا ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ میں پارٹی کے اصول و مسلک سے تو متفق نہیں ہوں‘ لیکن میرے والدین اس پارٹی کے ممبر رہ چکے ہیں‘ اور میرا نام اس کے ممبروں سے ملتا جلتا ہے اس لیے مجھ کو بھی ممبروں کے سے حقوق ملنے چاہییں تو آپ کا یہ استدلال اتنا مضحکہ انگیز ہوگا کہ شاید سننے والوں کو آپ کی دماغی حالت پر شبہہ ہونے لگے گا، لیکن پارٹی کے تصور کو قوم کے تصور سے بدل ڈالیے، اس کے بعد یہ سب حرکات کرنے کی گنجایش نکل آتی ہے۔

اسلام نے اپنی بین الاقوامی پارٹی کے ارکان میں یک جہتی اور ان کی معاشرت میں یکسانی پیدا کرنے کے لیے اور ان کو ایک سوسائٹی بنا دینے کے لیے حکم دیا تھا کہ آپس ہی میں بیاہ شادی کرو۔ اس کے ساتھ ہی ان کی اولاد کے لیے تعلیم و تربیت کا ایسا انتظام تجویز کیا گیا تھا کہ وہ خودبخود پارٹی کے اصول و مسلک کے پیرو بن کر اٹھیں اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ افزائش نسل سے بھی پارٹی کی قوت بڑھتی رہے۔ یہیں سے اس پارٹی کے قوم بننے کی ابتدا ہوتی ہے۔ بعد میں مشترک معاشرت‘ نسلی تعلقات اور تاریخی روایات نے اس قومیت کو زیادہ مستحکم کر دیا۔

اس حد تک جو کچھ ہوا‘ درست ہوا، لیکن رفتہ رفتہ مسلمان اس حقیقت کو بھولتے چلے گئے کہ وہ دراصل ایک پارٹی ہیں‘ اور پارٹی ہونے کی حیثیت ہی پر ان کی قومیت کی اساس رکھی گئی ہے۔ یہ بھُلاوا بڑھتے بڑھتے اب یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ پارٹی کا تصور قومیت کے تصور میں بالکل ہی گم ہوگیا۔ مسلمان اب صرف ایک قوم بن کر رہ گئے ہیں۔ اسی طرح کی ایک قوم جیسی کہ جرمن ایک قوم ہے یا جاپانی ایک قوم ہے یا انگریز ایک قوم ہے۔ وہ بھول گئے ہیں کہ اصل چیز وہ اصول اور مسلک ہیں جس پر اسلام نے ان کو ایک امت بنایا تھا‘ وہ مشن ہے جس کو پورا کرنے کے لیے اس نے اپنے پیروئوں کو ایک پارٹی کی صورت میں منظم کیا تھا۔ اس حقیقت کو فراموش کرکے انھوں نے غیر مسلم قوموں سے ’قومیت‘ کا جاہلی تصور لے لیا ہے۔ یہ ایسی بنیادی غلطی ہے اور اس کے قبیح اثرات اتنے پھیل گئے ہیں کہ احیائے اسلام کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھ سکتا جب تک کہ اس غلطی کو دور نہ کر دیا جائے۔

ایک پارٹی کے ارکان میں باہمی محبت‘ رفاقت اور معاونت جو کچھ بھی ہوتی ہے شخصی یا خاندانی حیثیت سے نہیں ہوتی‘ بلکہ صرف اس بنا پر ہوتی ہے کہ وہ سب ایک اصول کے معتقد اور ایک مسلک کے پیرو ہوتے ہیں۔ پارٹی کا ایک رکن اگر جماعتی اصول اور مسلک سے ہٹ کر کوئی کام کرے تو صرف یہی نہیں کہ اس کی مدد کرنا پارٹی والوں کا فرض نہیں ہوتا‘ بلکہ اس کے برعکس پارٹی والوں کا فرض یہ ہوتا ہے کہ اس کو ایسے غدارانہ اور باغیانہ طرز عمل سے روکیں‘ نہ مانے تو اس کے خلاف جماعتی ضوابط کے تحت سخت کارروائی کریں‘ پھر بھی نہ مانے تو جماعت سے نکال باہر کریں۔ ایسی مثالیں بھی دنیا میں ناپید نہیں ہیں کہ جو شخص پارٹی کے مسلک سے شدید انحراف کرتا ہے اسے کچھ خاص حالتوں میں قتل تک کر دیا جاتا ہے۔ [ اسلام میں قتل مرتد کی یہی بِناہے۔ روسی اشتراکی بھی اشتراکیت سے مرتد ہونے کی یہی سزا دیتے ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’’مرتد کی سزا___ اسلام میں، از سید ابوالاعلیٰ مودودیؒمطبوعہ اسلامک پبلی کیشنز، لاہور۔] لیکن ذرا مسلمانوں کا حال دیکھیے کہ اپنے آپ کو پارٹی کے بجائے قوم سمجھنے کی وجہ سے یہ کیسی شدید غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ان میں سے جب کوئی شخص اپنے فائدے کے لیے غیر اسلامی اصولوں پر کوئی کام کرتا ہے تو دوسرے مسلمانوں سے توقع رکھتا ہے کہ اس کی مدد کریں گے۔ اگر مدد نہیں کی جاتی تو شکایت کرتا ہے کہ دیکھو‘ مسلمان مسلمان کے کام نہیں آتے۔ سفارش کرنے والے ان کی سفارش ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ایک مسلمان بھائی کا بھلا ہوتا ہے‘ اس کی مدد کرو۔ مدد کرنے والے بھی اگر اس کی مدد کرتے ہیں تو اپنے اس فعل کو اسلامی ہمدردی سے موسوم کرتے ہیں۔ اس سارے معاملے میں ہر ایک کی زبان پر اسلامی ہمدردی‘ اسلامی برادری‘ اسلام کے رشتۂ دینی کا نام بار بار آتا ہے۔ حالانکہ درحقیقت اسلام کے خلاف عمل کرنے میں خود اسلام ہی کا حوالہ دینا اور اس کے نام سے ہمدردی چاہنا یا ہمدردی کرنا صریح لغو بات ہے۔ جس اسلام کا یہ لوگ نام لیتے ہیں اگر حقیقت میں وہ ان کے اندر زندہ ہو تو جونہی ان کے علم میں یہ بات آئے کہ اسلامی جماعت کا کوئی شخص کوئی کام اسلامی نظریے کے خلاف کر رہا ہے‘ یہ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جائیں اور اس سے توبہ کرا کے چھوڑیں۔ کسی کا مدد چاہنا تو درکنار‘ ایک زندہ اسلامی سوسائٹی میں تو کوئی شخص اصول اسلام کی خلاف ورزی کا نام تک نہیں لے سکتا لیکن آپ کی سوسائٹی میں رات دن یہی معاملہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ آپ کے اندر جاہلی قومیت آگئی ہے۔ جس چیز کو آپ اسلامی اخوت کہہ رہے ہیں یہ دراصل جاہلی قومیت کا رشتہ ہے جو آپ نے غیر مسلموں سے لے لیا ہے۔

اسی جاہلیت کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ آپ کے اندر’قومی مفاد‘ کا ایک عجیب تصور پیدا ہوگیا ہے اور آپ اس کو بے تکلف ’اسلامی مفاد‘ بھی کہہ دیا کرتے ہیں۔ یہ نام نہاد اسلامی مفاد یا قومی مفاد کیا چیز ہے؟ یہ کہ جو لوگ ’مسلمان‘ کہلاتے ہیں ان کا بھلا ہو‘ ان کے پاس دولت آئے‘ ان کی عزت بڑھے‘ ان کو اقتدار نصیب ہو‘ اور کسی نہ کسی طرح ان کی دنیا بن جائے۔ بلا لحاظ اس کے کہ یہ سب فائدے اسلامی نظریے اور اسلامی اصول کی پیروی کرتے ہوئے حاصل ہوں، یا خلاف ورزی کرتے ہوئے۔ پیدائشی مسلمان یا خاندانی مسلمان کو آپ ’مسلمان‘ کہتے ہیں‘ چاہے اس کے خیالات اور اس کے طرز عمل میں اسلام کی صفت کہیں ڈھونڈے نہ ملتی ہو۔ گویا آپ کے نزدیک مسلمان روح کا نہیں، بلکہ جسم کا نام ہے اور صفت اسلام سے قطع نظر کرکے بھی ایک شخص کو مسلمان کہا جاسکتا ہے۔ اس غلط تصور کے ساتھ جن جسموں کا اسم ذات آپ نے مسلمان رکھ چھوڑا ہے ان کی حکومت کو آپ اسلامی حکومت‘ ان کی ترقی کو آپ اسلامی ترقی‘ ان کے فائدے کو آپ اسلامی مفاد قرار دیتے ہیں‘ خواہ یہ حکومت اور یہ ترقی اور یہ مفاد سراسر اصول اسلام کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔ جس طرح جرمنیت کسی اصول کا نام نہیں‘ محض ایک قومیت کا نام ہے‘ اور جس طرح ایک جرمن قوم پرست صرف جرمنوں کی سربلندی چاہتا ہے‘ خواہ کسی طریقے سے ہو‘ اسی طرح آپ نے بھی ’مسلمانیت‘ کو محض ایک قومیت بنا لیا ہے اور آپ کے مسلمان قوم پرست محض اپنی قوم کی سربلندی چاہتے ہیں، خواہ یہ سربلندی اصولاً اور عملاً اسلام کے بالکل برعکس طریقوں کی پیروی کا نتیجہ ہو۔ کیا یہ جاہلیت نہیں ہے؟ کیا درحقیقت آپ اس بات کو بھول نہیں گئے ہیں کہ مسلمان صرف اس بین الاقوامی پارٹی کا نام تھا جو دنیا میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک خاص نظریے اور ایک عملی پروگرام لے کر اٹھی تھی؟ اس نظریے اور پروگرام کو الگ کرنے کے بعد محض اپنی شخصی یا اجتماعی حیثیت سے جو لوگ کسی دوسرے نظریے اور پروگرام پر کام کرتے ہیں ان کے کاموں کو آپ ’اسلامی‘ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ جو شخص سرمایہ داری کے اصول پر کام کرتا ہو‘ اسے اشتراکی کے نام سے یاد کیا جائے؟ کیا سرمایہ دارانہ حکومت کو بھی آپ اشتراکی حکومت کہتے ہیں؟ کیا فاشستی طرز ادارہ کو آپ جمہوری طرز ادارہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں؟ اگر کوئی شخص اس طرح اصطلاحوں کو بے جا استعمال کرے تو آپ شاید اسے جاہل اور بے وقوف کہنے میں ذرا تأمل نہیں کریں گے، مگر یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اور مسلمان کی اصطلاح کو بالکل بے جا استعمال کیا جارہا ہے اور اس میں کسی کو جاہلیت کی بو تک محسوس نہیں ہوتی۔

مسلمان کا لفظ خود ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ’اسم ذات‘ نہیں بلکہ ’اسم صفت‘ ہی ہوسکتا ہے اور ’پیرو اسلام‘ کے سوا اس کا کوئی دوسرا مفہوم سرے سے ہے ہی نہیں۔ یہ انسان کی اس خاص ذہنی‘ اخلاقی اور عملی صفت کو ظاہر کرتا ہے جس کا نام ’اسلام‘ ہے۔ لہٰذا آپ اس لفظ کو شخص مسلمان کے لیے اس طرح استعمال نہیں کرسکتے جس طرح آپ ہندویا جاپانی یا چینی کے الفاظ شخصِ ہندو‘ شخصِ جاپانی یا شخصِ چینی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا سانام رکھنے والا جونہی اصول اسلام سے ہٹا‘ اس سے مسلمان ہونے کی حیثیت خود بخود سلب ہو جاتی ہے۔اب وہ جو کچھ کرتا ہے اپنی شخصی حیثیت میں کرتا ہے۔ اسلام کا نام استعمال کرنے کا اسے کوئی حق نہیں ہے۔ اسی طرح ’مسلمان کا مفاد‘ ’مسلمان کی ترقی‘، ’مسلمان کی حکومت و ریاست‘،’مسلمان کی وزارت‘، ’مسلمان کی تنظیم‘ اور ایسے ہی دوسرے الفاظ آپ صرف ان مواقع پر بول سکتے ہیں جب کہ یہ چیزیں اسلامی نظریے اور اصول کے مطابق ہوں اور اس مشن کو پورا کرنے سے متعلق ہوں جو اسلام لے کر آیا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہو تو ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی لفظ مسلمان کا استعمال درست نہیں۔[مسلمان کا مفاد بجائے خود کوئی غلط چیز نہیں ہے لیکن جو چیز اسلام کے خلاف ہو اس میں مسلمان کا مفاد ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لیے اصل چیز یہ ہے کہ تمام امور کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ (مرتب)] آپ ان کو جس دوسرے نام سے چاہیں‘ موسوم کریں‘ بہرحال مسلمان کے نام سے موسوم نہیں کرسکتے کیونکہ صفت اسلام سے قطع نظر کرکے مسلمان سرے سے کوئی شے ہے ہی نہیں۔ آپ کبھی اس بات کا تصور نہیں کرسکتے کہ اشتراکیت سے قطع نظر کرکے کسی شخص یا قوم کا نام اشتراکی ہے اور اس معنی میں کسی مفاد کو اشتراکی مفاد یا کسی حکومت یا کسی تنظیم کو اشتراکیوں کی حکومت یا تنظیم یا کسی ترقی کو اشتراکیوں کی ترقی کہا جاسکتا ہے۔ پھر آخر مسلمان کے معاملے میں آپ نے یہ کیوں سمجھ رکھا ہے کہ اسلام سے قطع نظر کرکے مسلمان کسی شخص یا قوم کا ذاتی نام ہے اور اس کی ہر چیز کو اسلامی کہہ دیا جاسکتا ہے۔

اس غلط فہمی نے بنیادی طور پر اپنی تہذیب‘ اپنے تمدن اور اپنی تاریخ کے متعلق آپ کے رویے کو غلط کر دیا ہے۔ جو بادشاہتیں اور حکومتیں غیر اسلامی اصولوں پر قائم ہوئی تھیں آپ ان کو ’اسلامی حکومتیں‘ کہتے ہیں۔ محض اس لیے کہ ان کے تخت نشین مسلمان تھے۔ جو تمدن قرطبہ و بغداد اور دہلی و قاہرہ کے عیش پرست درباروں میں پرورش پایا تھا‘ آپ اسے ’اسلامی تمدن‘ کہتے ہیں حالانکہ اسلام سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔

آپ سے جب اسلامی تہذیب کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو آپ جھٹ سے آگرہ[بھارت ]کے تاج محل کی طرف اشارہ کردیتے ہیں۔ گویا یہ ہے اس تہذیب کا سب سے زیادہ نمایاں نمونہ۔ حالانکہ اسلامی تہذیب سرے سے یہ ہے ہی نہیں کہ ایک میت کو سپرد خاک کرنے کے لیے ایکڑوں زمین مستقل طور پر گھیر لی جائے اور اس پر لاکھوں روپے کی عمارت تعمیر کی جائے۔ آپ جب اسلامی تاریخ کے مفاخر بیان کرنے پر آتے ہیں تو عباسیوں‘ سلجوقیوں اور مغلوں کے کارنامے بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقی اسلامی تاریخ کے نقطۂ نظر سے ان کارناموں کا بڑا حصہ آب زر سے نہیں، بلکہ سیاہ روشنائی سے جرائم کی فہرست میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ آپ نے مسلمان بادشاہوں کی تاریخ کا نام ’اسلامی تاریخ‘ رکھ چھوڑا ہے‘ بلکہ آپ اسے ’تاریخ اسلام‘ بھی کہہ دیتے ہیں‘ گویا ان بادشاہوں کا نام اسلام ہے۔ آپ بجائے اس کے کہ اسلام کے مشن اور اس کے اصول و نظریات کو سامنے رکھ کر اپنی گزشتہ تاریخ کا احتساب کریں‘ اور پورے انصاف کے ساتھ اسلامی حرکات کو غیر اسلامی حرکات سے ممتاز کرکے دیکھیں اور دکھائیں۔ اسلامی تاریخ کی خدمت آپ اس کو سمجھتے ہیں کہ مسلمان حکمرانوں کی حمایت و مدافعت کریں۔ آپ کے زاویۂ نظر میں یہ کجی صرف اس لیے پیدا ہوئی کہ آپ مسلمان کی ہر چیز کو ’اسلامی‘ سمجھتے ہیں اور آپ کا گمان یہ ہے کہ جو شخص مسلمان کہلاتا ہے وہ اگر غیر مسلمانہ طریق پر بھی کام کرے تو اس کے کام کو مسلمان کاکام کہا جاسکتا ہے۔

یہی ٹیڑھا زاویۂ نظر آپ نے اپنی ملّی سیاست میں بھی اختیار کر رکھا ہے۔ اسلام کے اصول و نظریات اور اس کے مشن سے قطع نظر کرکے آپ ایک قوم کو ’مسلم قوم‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اس قوم کی طرف سے‘ یا اس کے نام سے‘ یا اس کے لیے ہر شخص اور ہر گروہ من مانی کارروائیاں کرسکتا ہے۔ آپ کے نزدیک ہر وہ شخص مسلمانوں کا نمایندہ، بلکہ ان کا لیڈر بھی بن سکتا ہے جو ’مسلمانوں کی قوم‘ سے تعلق رکھتا ہو‘ خواہ اس غریب کو اسلام کے متعلق کچھ بھی معلوم نہ ہو۔ آپ ہر اس پارٹی کے ساتھ لگ چکنے کو تیار ہو جاتے ہیں جس کی پیروی میں آپ کو کسی نوعیت کا فائدہ نظر آئے‘ خواہ اس کا مشن اسلام کے مشن سے کتنا ہی مختلف ہو۔ آپ خوش ہو جاتے ہیں جب مسلمانوں کو چار روٹیاں ملنے کا کوئی انتظام ہو جائے‘ خواہ اسلام کی نگاہ میں وہ حرام کی روٹیاں ہی کیوں نہ ہوں۔ آپ پھولے نہیں سماتے جب کسی جگہ مسلمان آپ کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھا نظر آتا ہے‘ خواہ وہ اس اقتدار کو بالکل اسی طرح غیر اسلامی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہو‘ جس طرح ایک غیر مسلم کرسکتا ہے۔ آپ اکثر ان چیزوں کا نام اسلامی مفاد رکھتے ہیں جو حقیقتاً غیر اسلامی ہیں‘ ا ن اداروں کی حمایت و حفاظت پر اپنا زور صرف کرتے ہیں جو اصول اسلام کے بالکل خلاف قائم ہوئے ہیں‘ اور ان مقاصد کے پیچھے اپنا روپیہ اور اپنی قومی طاقت ضائع کرتے ہیں جو ہرگز اسلامی نہیں ہیں۔ یہ سب نتائج اسی ایک بنیادی غلطی کے ہیں کہ آپ نے اپنے آپ کو محض ایک ’قوم‘ سمجھ لیا ہے اور اس حقیقت کو آپ بھول گئے ہیں کہ دراصل آپ ایک ’بین الاقوامی پارٹی‘ ہیں جس کا کوئی مفاد اور کوئی مقصد اپنی پارٹی کے اصولوں کو دنیا میں حکمران بنانے کے سوا نہیں ہے۔ جب تک آپ اپنے اندر قوم کے بجائے پارٹی کا تصور پیدا نہ کریں گے اور اس کو ایک زندہ تصور نہ بنائیں گے‘ زندگی کے کسی معاملے میں بھی آپ کا رویہ درست نہ ہوگا۔