مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلامی ریاست

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جس میں اسلام کو محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہ سمجھ کر، بلکہ زندگی کا ایک مکمل نظامِ حیات پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام کا نفاذ صرف وعظ و تبلیغ سے ممکن نہیں؛ بلکہ اس کے لیے سیاسی اقتدار اور ریاستی طاقت کا حصول ضروری ہے۔ مولانا مودودی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جدید دور کا سیکولر تصورِ ریاست، جو دین کو ذاتی معاملہ قرار دے کر سیاست سے الگ کرتا ہے، درحقیقت جاہلیت کے محدود تصورِ مذہب کی بازگشت ہے، جسے اسلام نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کتاب کی تدوین کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے نظریاتی اصولوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں منظم انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ نہ صرف علماء و طلبہ بلکہ عام مسلمان بھی اس نظام کی حقیقت سے آشنا ہو سکیں۔

کتاب کا آغاز دیباچے سے ہوتا ہے جس میں ناشر، مرتب اور مصنف کے تعارفی خیالات شامل ہیں۔ یہاں مولانا مودودی کی سیاسی جدوجہد، گرفتاریاں اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو مؤلف کے عملی تجربات کا ادراک ہو سکے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ یہ مضامین گذشتہ پچیس برسوں میں مختلف مواقع پر لکھے گئے تھے، جنہیں اب ادارۂ معارفِ اسلامی کے زیرِ اہتمام دو حصوں میں منظم کیا گیا ہے: پہلا حصہ نظری مباحث پر مشتمل ہے اور دوسرا پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق عملی مضامین پر۔

کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہے جنہیں موضوعاتی اعتبار سے کئی مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی ابواب (دین و سیاست، اسلام کا سیاسی نظریہ، قرآن کا فلسفۂ سیاست، معنیٔ خلافت، اسلامی تصورِ قومیت، اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ) اسلامی ریاست کے نظریاتی خدوخال—حاکمیتِ الٰہی، خلافت، قومیت اور قانون کے سرچشمے—کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرتے ہیں۔ اس کے بعد کے ابواب (اسلامی ریاست کی بنیادیں، اسلامی دستور کی بنیادیں، اسلامی ریاست کا مثالی دور، قانون سازی اور اجتہاد، چند دستوری و سیاسی مسائل) عملی سطح پر ریاست کی تشکیل، حکومت کے قیام کے طریقے، اجتہاد کے اصول اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کو موضوع بناتے ہیں۔ تین ابواب خصوصی طور پر حقوق کے مسئلے کے لیے وقف ہیں: انسان کے بنیادی حقوق، غیر مسلموں (ذمیوں) کے حقوق، اور عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور۔ آخری دو ابواب—اسلامی ریاست کے رہنما اصول اور اسلامی انقلاب کی راہ—اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایسا نظام کن اصولوں پر قائم ہو اور اسے پرامن، تدریجی اور جمہوری طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے، جس کے ضمن میں پاکستان کے اکتیس نامور علماء کے متفقہ دستوری فیصلے کا متن بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"اسلامی ریاست" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ ضخیم تصنیف ہے جو دراصل ایک نشست میں لکھی گئی کتاب نہیں بلکہ اسلامک پبلیکیشنز کی طرف سے مرتب کردہ ایک وسیع مجموعہ ہے، جس میں مولانا مودودی کی تقاریر، مضامین، انٹرویوز اور ان کی دیگر کتب (خصوصاً تفہیمات اور خلافت و ملوکیت) کے اقتباسات کو موضوعِ "اسلامی ریاست" کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتب خانے میں شامل مولانا کی تصانیف میں سب سے ضخیم کتاب ہے (312 ابواب، 16 بڑے حصوں پر مشتمل)، اور ان کے سیاسی فکر کا سب سے مربوط بیان سمجھی جاتی ہے۔

کتاب کی بنیادی دلیل سولہ ابواب میں اس ترتیب سے آگے بڑھتی ہے: (۱) سب سے پہلے اس نظریے کی تردید کی گئی ہے، جو جدیدیت پسند اور سیکولر قوم پرست دونوں طرح کے حلقوں میں مشترک ہے، کہ اسلام میں دین اور سیاست الگ الگ دائرے ہیں؛ (۲) اسلام کا سیاسی نظریہ پیش کیا گیا ہے، جس کی بنیاد یہ دعویٰ ہے کہ ہر نبی کا مشن دراصل انسانوں کی ناجائز حاکمیت کے خلاف دعوت تھا؛ (۳) قرآن کے فلسفہ سیاست کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۴) خلافت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے — یعنی انسان، اور خاص طور پر اہلِ ایمان کی جماعت، اللہ کے قانون کے تحت ایک تفویض شدہ اختیار استعمال کرتی ہے، اپنی خودمختار حیثیت میں حکومت نہیں کرتی؛ (۵) نسل، زبان یا علاقے کی بجائے عقیدے پر مبنی ایک مخصوص اسلامی تصورِ قومیت پیش کیا گیا ہے؛ (۶) اسلامی دستوری قانون کے مآخذ — قرآن، سنت، خلافتِ راشدہ کا تعامل، اور بعد کے مجتہدین کے فیصلے — کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۷-۸) اسلامی ریاست اور دستور کی بنیادیں بیان کی گئی ہیں، جہاں مولانا نے مشہور اصطلاح "الٰہی جمہوریت" وضع کی — ایسا نظامِ حکومت جو نہ پاپائیت ہے نہ مغربی سیکولر جمہوریت، بلکہ ایسی ریاست ہے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے جبکہ روزمرہ انتظام مشاورت، شوریٰ اور وقتاً فوقتاً حکمرانوں کے انتخاب کے ذریعے خود امت انجام دیتی ہے؛ (۹) عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو اسلامی ریاست کے "مثالی دور" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کی روشنی میں کسی بھی مدعیٔ اسلامی ریاست کو پرکھا جانا چاہیے؛ (۱۰) قانون سازی اور اجتہاد کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے — کہ انسانی مقننہ وحی کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آزادانہ اجتہاد کر سکتی ہے؛ (۱۱-۱۲) چند دستوری اور سیاسی مسائل (سیاست میں خواتین کا کردار، ارتداد کی سزا، جنگ اور غلامی کے احکام، صدرِ ریاست کا حقِ ویٹو) پر بحث کے بعد ایک پورا باب انسان کے بنیادی حقوق کے لیے وقف کیا گیا ہے — حقِ زندگی، کمزوروں کا تحفظ، عزت، معاشی تحفظ، آزادیٔ اظہار و ضمیر، ظلم کے خلاف احتجاج — جنہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ اور اس لیے خود ریاست کے لیے بھی ناقابلِ سلب قرار دیا گیا ہے؛ (۱۳) غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کے حقوق و حیثیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے — جان، مال، عبادت کی آزادی، فوجی خدمت سے استثنا، جزیہ — تاہم انہیں جدید معنوں میں "برابر شہری" کی بجائے ایک الگ قانونی درجہ دیا گیا ہے؛ (۱۴) اسلام کے تصورِ عدلِ اجتماعی کا سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے موازنہ کیا گیا ہے، اور یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام نجی ملکیت اور انفرادی کاروبار کی اجازت دیتا ہے مگر دولت کے حصول اور استعمال پر اخلاقی و قانونی حدود عائد کرتا ہے؛ (۱۵) اسلامی ریاست کے رہنما اصول دوبارہ مرتب کیے گئے ہیں؛ اور (۱۶) آخر میں مولانا نے اپنا یہ نقطۂ نظر بیان کیا ہے کہ اسلامی انقلاب دراصل کیسے برپا ہونا چاہیے — بتدریج، پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی کے ذریعے، نہ کہ اقتدار پر اچانک قبضے سے — اور اس ضمن میں 1951ء کا وہ اتفاقِ رائے شامل کیا گیا ہے جس پر پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے 31 علماء نے اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کے طور پر اتفاق کیا تھا۔

اہمیت۔ یہ کتاب (اور جس فکری سرمائے سے یہ مرتب کی گئی ہے) جماعتِ اسلامی کے سیاسی پروگرام کی اساس اور بیسویں صدی میں اسلام اور جدید ریاست کے تعلق پر ہونے والی بحث کی سب سے اہم دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔ مولانا کی اصطلاحات — حاکمیت، "الٰہی جمہوریت"، اور خلافت کا از سرِ نو تعین بطور اجتماعی امانت نہ کہ کسی ایک حکمران کا ذاتی منصب — نے پاکستان کے دستوری مباحث (اور بعد ازاں، فقہی اختلافات کے باوجود، ایران کے انقلابی گفتگو) میں استعمال ہونے والی وہ زبان فراہم کی جس کے ذریعے جدید قومی ریاست میں اسلام کے مقام پر بحث کی گئی۔ کتاب کے آخری باب میں شامل 1951ء کا علماء اتفاقِ رائے، پاکستان کی ابتدائی دستور سازی میں "قراردادِ مقاصد" پر ہونے والی بحث پر براہِ راست اثرانداز ہوا۔

تنقیدی جائزہ۔ ایک محقق کی حیثیت سے اس کتاب کو پڑھنے کا تقاضا ہے کہ اسے محض اس کے اپنے موقف تک محدود نہ رکھا جائے۔ سید ولی رضا نصر اور چارلس ایڈمز جیسے محققین، جنہوں نے مولانا مودودی کے سیاسی فکر پر سب سے تفصیلی علمی مطالعے کیے ہیں، کا موقف ہے کہ ان کا نظریہ روایتی زبان میں لپٹی ہوئی ایک حقیقی جدید تشکیل ہے: قدیم فقہ سیاسیہ کی روایت "حاکمیت" کو اس طرح کسی ایک بنیادی تصور کے گرد مرتب نہیں کرتی جیسا مولانا مودودی نے کیا — یہ طرزِ استدلال جتنا کلاسیکی فقہ سے ماخوذ ہے، اتنا ہی مغرب میں مقبول عوامی حاکمیت کے تصور کے خلاف ردعمل سے بھی متاثر ہے، جس کی مولانا واضح طور پر تردید کر رہے ہیں۔ ناقدین نے کتاب کے حقوق سے متعلق ابواب میں ایک اندرونی تناؤ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے: ایک باب میں شہریوں کے لیے وسیع "بنیادی حقوق" کا اثبات کیا گیا ہے، جبکہ اگلے باب میں غیر مسلم باشندوں کو ایک الگ قانونی درجے (ذمی) میں رکھا گیا ہے جس میں سیاسی حقوق محدود ہیں (مثلاً منصبِ سربراہِ مملکت یا مکمل قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا) — حقوق کی آفاقی زبان اور شہریت کے مخصوص نظریے کے مابین یہ تناؤ بعد کے محققین، بشمول خود اسلامی فکر کی روایت کے اندر، زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ روایتی علماء کی جانب سے مولانا کے خلافت کو ایک اجتماعی/عوامی منصب کے طور پر (بجائے ایک متعین خلیفہ کے) نئے سرے سے متعین کرنے پر، اور محض عام مسلمانوں کی اکثریتی مقننہ کو اجتہاد کے وسیع اختیارات دینے پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ مطالعاتی حلقے کو چاہیے کہ اس کتاب کے دستوری نظریے کو صرف اس کے اپنے منطقی فریم ورک میں نہیں بلکہ ان تنقیدوں کی روشنی میں بھی پڑھے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. دین اور سیاست: مولانا مودودی دین اور سیاست کی علیحدگی کو رد کرتے ہیں۔ اس تفریق کے حق میں سب سے مضبوط دلائل کیا ہو سکتے ہیں، اور کتاب ان کا کیا جواب دیتی ہے؟ کیا آپ کو یہ جواب مطمئن کن لگتا ہے؟
  2. حاکمیتِ الٰہی بمقابلہ عوامی حاکمیت: مولانا مودودی جائز حکومت کی بنیاد عوام کی مرضی کی بجائے اللہ کی حاکمیت پر رکھتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر جدید جمہوری نظریے — کہ سیاسی اختیار عوام کی رضامندی سے حاصل ہوتا ہے — سے کس طرح مختلف ہے، اور اس سے کیا تناؤ پیدا ہوتا ہے؟
  3. "الٰہی جمہوریت": کیا یہ ایک مفید تیسری قسم ہے، یا تفصیل میں جانے پر یہ پاپائیت یا جمہوریت میں سے کسی ایک میں ضم ہو جاتی ہے؟ ایک حقیقی "الٰہی جمہوری" ریاست کو کسی مذہبی سیاسی جماعت کی محض حکمرانی سے کیا چیز ممتاز کرے گی؟
  4. خلافت کی از سرِ نو تعریف: مولانا مودودی خلافت کو ایک ہی خلیفہ کی بجائے پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی امانت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ تصور خلافت کی روایتی/کلاسیکی تفہیم سے کس طرح مختلف ہے، اور روایتی علماء نے اس پر کیا اعتراضات کیے؟
  5. غیر مسلم شہریوں کے حقوق: کتاب ذمیوں کے لیے وسیع تحفظات (جان، مال، عبادت، ٹیکس میں رعایت) کا اثبات کرتی ہے مگر انہیں مسلم شہریوں سے الگ قانونی درجے میں رکھتی ہے۔ اس اور کتاب کے اپنے باب "بنیادی حقوق" کی زیادہ آفاقی زبان کے مابین تناؤ پر بحث کریں۔ یہ فریم ورک ایک جدید کثیر المذاہب قومی ریاست میں کس طرح کام کرے گا؟
  6. بنیادی حقوق بمقابلہ بین الاقوامی انسانی حقوق: کتاب کے باب "بنیادی حقوق" میں درج حقوق کا جدید انسانی حقوق کے فریم ورک (مثلاً اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ) سے موازنہ کریں۔ کہاں مشترکات ہیں اور کہاں — بالخصوص مذہب یا جنس سے قطع نظر مساوات کے معاملے میں — اختلاف ہے؟
  7. اجتہاد کا دائرہ: مولانا مودودی مقننہ کو کس حد تک آزادانہ اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں، اور اس کی اہلیت کس کے پاس ہے؟ کیا عام اکثریتی مقننہ (بمقابلہ تربیت یافتہ مجتہدین) خود مولانا کے اپنے فریم ورک سے ہم آہنگ ہے؟
  8. سیاست میں خواتین کا کردار: کتاب اسلامی ریاست میں خواتین کو کیا کردار دیتی ہے، اور مطالعاتی حلقہ اسے صنف اور سیاسی شرکت کے معاصر مباحث کی روشنی میں کیسے پرکھ سکتا ہے؟
  9. سرمایہ داری، اشتراکیت اور مولانا کا تصورِ عدلِ اجتماعی: کتاب کی سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں پر تنقید کا خلاصہ کریں۔ کیا اس کا متبادل (نجی ملکیت مع سخت اخلاقی و قانونی حدود) دوسرے دو نظاموں میں نشاندہی کردہ مسائل کو حل کرتا ہے، یا اسے بھی نفاذ اور تعریف کے اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے؟
  10. "مثالی دور": مولانا مودودی عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو کسی بھی اسلامی ریاست کے لیے معیار قرار دیتے ہیں۔ ایک جدید ریاست کو ساتویں صدی کے نمونے کے مطابق پرکھنے کے فوائد اور خطرات کیا ہیں؟
  11. تبدیلی کا طریقہ، بتدریج یا انقلابی: مولانا مودودی اقتدار حاصل کرنے سے پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی پر زور دیتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی بیسویں صدی کی دیگر اسلامی تحریکوں سے کس طرح مختلف ہے، اور کیا یہ عملاً کامیاب رہی — مثلاً پاکستان میں خود جماعتِ اسلامی کے سفر میں؟
  12. آج کی معنویت: چونکہ یہ کتاب بیسویں صدی کے وسط میں پاکستان کے قیام کے مخصوص تناظر میں مرتب کی گئی، اس کے کون سے دلائل آپ کے خیال میں کسی بھی جدید مسلم اکثریتی ریاست کے لیے آج بھی متعلقہ ہیں، اور کون سے اس مخصوص لمحے تک محدود یا پرانے محسوس ہوتے ہیں؟

۴۔ذمیوں کے حقوق

[ماہنامہ ترجمان القرآن رجب‘ شوال ۱۳۶۳ھ۔ جولائی، اکتوبر ۱۹۴۴ء]

سوال: میں ہندو مہا سبھا کا ورکر ہوں۔ سال گذشتہ صوبے کی ہندو مہاسبھا کا پروپیگنڈا سیکرٹری منتخب ہوا تھا۔ میں حال ہی میں جناب کے نام سے شناسا ہوا ہوں۔ آپ کی چند کتابیں: مسلمان اور سیاسی کشمکش حصہ اول و سوم‘ اسلام کا نظریۂ سیاسی‘ اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے، سلامتی کا راستہ وغیرہ دیکھی ہیں‘ جن کے مطالعے سے اسلام کے متعلق میرا نظریہ قطعاً بدل گیا ہے اور میں ذاتی طور پر یہ خیال کرتا ہوں کہ اگر یہ چیز کچھ عرصہ پہلے ہوگئی ہوتی تو ہندو مسلم مسئلہ اس قدر پیچیدہ نہ ہوتا۔ جس حکومت الٰہیہ کی آپ دعوت دے رہے ہیں اس میں زندگی بسر کرنا قابلِ فخر ہوسکتا ہے، مگر چند امور دریافت طلب ہیں۔ خط و کتابت کے علاوہ ضرورت ہوگی تو جناب کا نیاز بھی حاصل کروں گا۔

سب سے پہلی چیز جودریافت طلب ہے وہ یہ ہے کہ ہندوئوں کو حکومت الٰہیہ کے اندر کس درجے میں رکھا جائے گا؟ آیا ان کو اہل کتاب کے حقوق دیے جائیں گے یا ذمی کے؟ اہل کتاب اور ذمی لوگوں کے حقوق کی تفصیل ان رسائل میں بھی نہیں ملتی۔ مجھے جہاں تک سندھ پر عربی حملے کی تاریخ کا علم ہے‘ محمد بن قاسم اور اس کے جانشینوں نے سندھ کے ہندوئوں کو اہل کتاب کے حقوق دیے تھے۔ امید ہے کہ آپ اس معاملے میں تفصیلی طور پر اظہار خیال کریں گے۔

نیز یہ بھی فرمائیے کہ اہلِ کتاب اور ذمی کے حقوق میں کیا فرق ہے؟ کیا وہ ملک کے نظم و نسق میں برابر کے شریک ہوسکتے ہیں؟ کیا پولیس‘ فوج اور قانون نافذ کرنے والی جماعت میں ہندوئوں کا حصہ ہوگا؟ اگر نہیں تو کیا ہندوئوں کی اکثریت والے صوبوں میں آپ مسلمانوں کے لیے وہ پوزیشن قبول کرنے کو تیار ہوں گے جو کہ آپ حکومت الٰہیہ میں ہندوئوں کو دیں گے؟

دوسری دریافت طلب چیز یہ ہے کہ کیا قرآن کے فوج داری اور دیوانی احکام مسلمانوں کی طرح ہندوئوں پر بھی حاوی ہوں گے؟ کیا ہندوئوں کا قومی قانون (personal law) ہندوئوں پر نافذ ہوگا، یا نہیں؟ میرا مدعا یہ ہے کہ ہندو اپنے قانون وراثت‘ مشترکہ فیملی سسٹم اور متبنّٰی وغیرہ بنانے کے قواعد (مطابق منوشاستر) کے مطابق زندگی بسر کریں گے یا نہیں؟

واضح رہے کہ یہ سوالات محض ایک متلاشیِ حق کی حیثیت سے پیش کیے جارہے ہیں۔

جواب: میں آپ کے ان خیالات کی دل سے قدر کرتا ہوں جو آپ نے اپنے عنایت نامے میں ظاہر کیے ہیں۔ یہ واقعہ ہے کہ ہندستان میں ہندو مسلم مسئلے کو پیچیدہ اور ناقابل حد تک پیچیدہ بنا دینے کی ذمے داری ان لوگوں پر ہے جنھوں نے اصول حق اور راستی کی بنیادوں پر مسائل زندگی حل کرنے کے بجائے شخصی، خاندانی‘ طبقاتی‘ نسلی اور قومی بنیادوں پر انھیں دیکھنے اور حل کرنے کی کوشش کی۔ اس کا انجام وہی کچھ ہونا چاہیے تھا جو آج ہم دیکھ رہے ہیں اور اس بدقسمتی میں ہم آپ سب برابر کے شریک ہیں‘ کوئی بھی فائدے میں نہیں ہے۔

آپ نے جو سوالات کیے ہیں ان کے مختصر جوابات نمبروار درج ذیل ہیں:

۱۔ اگر حکومت الٰہیہ قائم ہو تو اس کی حیثیت یہ نہ ہوگی کہ ایک قوم دوسری قوم یا اقوام پر حکمران ہے‘ بلکہ اس کی اصل حیثیت یہ ہوگی کہ ملک پر ایک اصول کی حکومت قائم ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ایسی حکومت کو چلانے کی ذمے داری باشندگانِ ملک میں سے وہی لوگ اٹھا سکیں گے جو اس اصول کو مانتے ہوں۔ دوسرے لوگ جو اس اصول کو نہ مانتے ہوں یا کم از کم اس پر مطمئن نہ ہوں‘ ان کو اس حکومت میں قدرتی طور پر’اہل ذمہ‘ کی حیثیت حاصل ہوگی‘ یعنی جن کی حفاظت کی ذمے داری وہ لوگ لیتے ہیں جو اس اصولی حکومت کو چلانے والے ہیں۔

۲۔ ’اہل کتاب‘ اور’عام اہل ذمہ‘ کے درمیان اس کے سوا کوئی فرق نہیں ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے مسلمان نکاح کرسکتے ہیں اوردوسرے ذمیوں کی عورتوں سے نہیں کرسکتے۔ لیکن حقوق میں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

۳۔ ذمیوں کے حقوق کے بارے میں تفصیلات تو میں اس خط میں نہیں دے سکتا‘ البتہ اصولی طور پر آپ کو بتائے دیتا ہوں کہ ذمی دو طرح کے ہوسکتے ہیں:

٭ ایک: وہ جو اسلامی حکومت کا ذمہ قبول کرتے وقت کوئی معاہدہ کریں۔

٭ دوسرے: وہ جو بغیر کسی معاہدے کے ذمہ میں داخل ہوں۔

پہلی قسم کے ذمیوں کے ساتھ تو وہی معاملہ کیا جائے گا جو معاہدے میں طے ہوا ہو۔ رہے دوسری قسم کے ذمی‘ تو ان کا ذمی ہونا ہی اس بات کو مستلزم ہے کہ ہم ان کی جان اور مال اور آبرو کی اسی طرح حفاظت کرنے کے ذمے دار ہیں جس طرح خود اپنی جان اور مال اور آبرو کی کریں گے۔ ان کے قانونی حقوق وہی ہوں گے جو مسلمانوں کے ہوں گے۔ ان کے خون کی قیمت وہی ہوگی جو مسلمان کے خون کی ہے۔ ان کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہوگی۔ ان کی عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی۔ ان کو اپنی مذہبی تعلیم کا انتظام کرنے کا حق دیا جائے گا اور اسلامی تعلیم بہ جبراُن پر نہیں ٹھونسی جائے گی۔

ذمیوں کے متعلق اسلام کے دستوری قانون کی تفصیلات ان شاء اللہ ہم ایک کتاب کی شکل میں الگ شائع کریں گے۔

۴۔ جہاں تک ذمیوں کے پرسنل لا کا تعلق ہے وہ ان کی مذہبی آزادی کا ایک لازمی جز ہے۔ اس لیے اسلامی حکومت ان کے قوانین نکاح و طلاق اور قوانین وراثت و تبنیت کو اور ایسے ہی دوسرے تمام قوانین کو جو ملکی قانون (law of the land) سے نہ ٹکراتے ہوں‘ ان پر جاری کرے گی اور صرف ان امور میں ان کے پرسنل لا کے نفاذ کو برداشت نہ کرے گی جن میں ان کا برا اثر دوسروں پر پڑتا ہو۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ذمی قوم سود کو جائز رکھتی ہو تو ہم اس کو اسلامی حکومت میں سودی لین دین کی اجازت نہ دیں گے، کیونکہ اس سے پورے ملک کی معاشی زندگی متاثر ہوتی ہے، یا مثلاً اگر کوئی ذمی قوم زنا کو جائز رکھتی ہو تو ہم اسے اجازت نہ دیں گے کہ وہ اپنے طور پر بدکاری (prostitution) کاکاروبارجاری رکھ سکے‘ کیونکہ یہ اخلاق انسانی کے مُسَلَّمات کے خلاف ہے اور یہ چیز ہمارے قانون تعزیرات (criminal law) سے بھی ٹکراتی ہے‘ جو ظاہر ہے کہ ملکی قانون بھی ہوگا۔ اسی پر آپ دوسرے امور کو قیاس کرسکتے ہیں۔

۵۔ آپ کا یہ سوال کہ آیا ذمی ملک کے نظم و نسق میں برابر کے شریک ہوسکتے ہیں۔ مثلاً پولیس‘ فوج اور قانون نافذ کرنے والی جماعت میں ہندوئوں کا حصہ ہو گا، یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیا ہندوئوں کی اکثریت والے صوبوں میں آپ مسلمانوں کے لیے وہ پوزیشن منظور کریں گے جو آپ ہندوئوں کو حکومت الٰہیہ میں دیں گے؟ یہ سوال میرے نزدیک دو غلط فہمیوں پر مبنی ہے۔ ایک یہ کہ اصولی غیر قومی حکومت (ideological non-national state)کی صحیح حیثیت آپ نے اس میں ملحوظ نہیں رکھی ہے۔دوسرے یہ کہ کاروباری لین دین کی ذہنیت اس میں جھلکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

جیسا کہ میں نمبر اول میں تصریح کر چکا ہوں اصولی حکومت کو چلانے اور اس کی حفاظت کرنے کی ذمے داری صرف وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اس اصول پر یقین رکھتے ہوں۔ وہی اس کی روح کو سمجھ سکتے ہیں‘ انھی سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ پورے خلوص کے ساتھ اپنا دین و ایمان سمجھتے ہوئے اس ’ریاست‘ کے کام کو چلائیں گے اور انھی سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اس ریاست کی حمایت کے لیے اگر ضرورت پڑے تو میدانِ جنگ میں قربانی دے سکیں گے۔ دوسرے لوگ جو اس اصول پر ایمان نہیں رکھتے‘ اگر حکومت میں شریک کیے بھی جائیں گے تو نہ وہ اس کی اصولی اور اخلاقی روح کو سمجھ سکیں گے، نہ اس روح کے مطابق کام کرسکیں گے اور نہ ان کے اندر ان اصولوں کے لیے اخلاص ہوگا جن پر اس حکومت کی عمارت قائم ہوگی۔ سول محکموں میں اگر وہ کام کریں گے تو ان کے اندر ملازمانہ ذہنیت کار فرما ہوگی اور محض روزگار کی خاطر وہ اپنا وقت اور اپنی قابلیتیں بیچیں گے اور اگر وہ فوج میں جائیں گے تو ان کی حیثیت کرائے کے سپاہیوں (merecenaries)جیسی ہوگی اور وہ ان اخلاقی مطالبات کو پورا نہ کرسکیں گے جو اسلامی حکومت اپنے مجاہدوں سے کرتی ہے۔ اس لیے اصولاً اور اخلاقی اعتبار سے اسلامی حکومت کی پوزیشن اس معاملے میں یہ ہے کہ وہ فوج میں اہل ذمہ سے کوئی خدمت نہیں لیتی، بلکہ اس کے برعکس فوجی حفاظت کا پورا پورا بار مسلمانوں پر ڈال دیتی ہے اور اہلِ ذمہ سے صرف ایک دفاعی ٹیکس لینے پر اکتفا کرتی ہے، لیکن یہ ٹیکس اور فوجی خدمت دونوں بیک وقت اہلِ ذمہ سے نہیں لیے جاسکتے۔ اگر اہلِ ذمہ بطور فوجی خدمت کے اپنے آپ کو پیش کریں تو وہ ان سے قبول کرلی جائے گی اور اس صورت میں دفاعی ٹیکس ان سے نہ لیا جائے گا۔ رہے سول محکمے تو ان میں سے کلیدی مناصب (key positions)اور وہ عہدے جو پالیسی کے تعین و تحفظ سے تعلق رکھتے ہیں‘ بہرحال اہلِ ذمہ کو نہیں دیے جاسکتے، البتہ کارکنوں کی حیثیت سے ذمیوں کی خدمت حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔اسی طرح جو اسمبلی شوریٰ کے لیے منتخب کی جائے گی اس میں بھی اہل ذمہ کو رکنیت یا رائے دہندگی کا حق نہیں ملے گا، البتہ ذمیوں کی الگ کونسلیں بنا دی جائیں گی جو ان کی تہذیبی خود اختیاری کے انتظام کی دیکھ بھال بھی کریں گی اور اس کے علاوہ ملکی نظم و نسق کے متعلق اپنی خواہشات‘ اپنی ضروریات اور شکایات اور اپنی تجاویز کا اظہار بھی کرسکیں گی جن کا پورا پورا لحاظ اسلامی مجلس شوریٰ (assembly)کرے گی۔

صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ حکومتِ الٰہیہ کسی قوم کا اجارہ نہیں ہے‘ جو بھی اس کے اصول کو تسلیم کرے وہ اس حکومت کو چلانے میں حصے دار ہوسکتا ہے۔ خواہ وہ ہندو زادہ ہو یا سکھ زادہ، لیکن جو اس کے اصول کو تسلیم نہ کرے وہ خواہ مسلم زادہ ہی کیوں نہ ہو‘ حکومت کی محافظت (protection) سے فائدہ تو اٹھا سکتا ہے لیکن اس کے چلانے میں حصے دار نہیں ہوسکتا۔

آپ کا یہ سوال کہ:’کیا ہندو اکثریت والے صوبوں میں مسلمانوں کی وہی پوزیشن قبول کروگے جو حکومت الٰہیہ میں ہندوئوں کو دو گے؟‘

دراصل یہ سوال مسلم لیگ کے لیڈروں سے کیا جانا چاہیے تھا‘ کیونکہ لین دین کی باتیں وہی کرسکتے ہیں۔ ہم سے آپ پوچھیں گے تو ہم تو اس کا بے لاگ اصولی جواب دیں گے۔جہاں حکومت قائم کرنے کے اختیارات ہندوؤں کو حاصل ہوں، وہاں آپ اصولاً دو ہی طرح کی حکومتیں قائم کرسکتے ہیں:

۱۔ یا ایسی حکومت جو ہندو مذہب کی بنیاد پر قائم ہو۔

۲۔ یا پھر ایسی حکومت جو وطنی قومیت کی بنیاد پر ہو۔

پہلی صورت میں آپ کے لیے یہ کوئی سوال نہیں ہونا چاہیے کہ جیسے حقوق حکومت الٰہیہ میں ہندوئوں کو ملیں گے ویسے ہی حقوق ہم ’’رام راج‘‘ میں مسلمانوں کودے دیں گے، بلکہ آپ کو اس معاملے میں اگر کوئی رہنمائی ہندو مذہب میں ملتی ہے تو بے کم و کاست اسی پر عمل کریں گے‘ قطع نظر اس سے کہ دوسرے کس طرح عمل کرتے ہیں۔ اگر آپ کا معاملہ ہمارے معاملے سے بہتر ہوگا تو اخلاق کے میدان میں آپ ہم پر فتح پالیں گے‘ اور بعید نہیں کہ ایک روز ہماری حکومت الٰہیہ آپ کے رام راج میں تبدیل ہو جائے، اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہوا تو ظاہر ہے کہ دیریا سویر نتیجہ بھی برعکس نکل کر ہی رہے گا۔

رہی دوسری صورت کہ آپ کی حکومت وطنی قومیت کی بنیاد پر قائم ہو تو اس صورت میں بھی آپ کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ یا تو جمہوری (democratic)اصول اختیار کریں اور مسلمانوں کو ان کی تعداد کے لحاظ سے حصہ دیں‘ یا پھر صاف صاف کہہ دیں کہ یہ ہندو قوم کی حکومت ہے اور مسلمانوں کو اس میں ایک مغلوب قوم (subject nation)کی حیثیت سے رہنا ہوگا۔

ان دونوں صورتوں میں سے جس صورت پر بھی آپ چاہیں مسلمانوں سے معاملہ کریں۔ بہرحال آپ کے برتائو کو دیکھ کر اسلامی ریاست ان اصولوں میں ذرہ برابر بھی کوئی تغیر نہ کرے گی جو ذمیوں سے معاملہ کرنے کے لیے قرآن و حدیث میں مقرر کر دیے گئے ہیں۔آپ چاہیں تو اپنی قومی ریاست میں مسلمانوں کا قتل ِ عام کردیں اور ایک مسلمان بچے تک کو زندہ نہ چھوڑیں۔ اسلامی ریاست میں اس کا انتقام لینے کے لیے کسی ذمی کا بال تک بیکا نہ کیا جائے گا۔ اس کے برعکس آپ کا جی چاہے تو ہندو ریاست میں صدر جمہوریہ اور وزیراعظم اور کمانڈر انچیف سب ہی کچھ مسلمان باشندوں کو بنا دیں۔ بہرحال اس کے جواب میں کوئی ایک ذمی بھی کسی ایسی پوزیشن پر مقرر نہیں کیا جائے گا جو اسلامی ریاست کی پالیسی کی شکل اور سمت معیّن کرنے میں دخل رکھتی ہو۔