مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلامی ریاست

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جس میں اسلام کو محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہ سمجھ کر، بلکہ زندگی کا ایک مکمل نظامِ حیات پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام کا نفاذ صرف وعظ و تبلیغ سے ممکن نہیں؛ بلکہ اس کے لیے سیاسی اقتدار اور ریاستی طاقت کا حصول ضروری ہے۔ مولانا مودودی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جدید دور کا سیکولر تصورِ ریاست، جو دین کو ذاتی معاملہ قرار دے کر سیاست سے الگ کرتا ہے، درحقیقت جاہلیت کے محدود تصورِ مذہب کی بازگشت ہے، جسے اسلام نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کتاب کی تدوین کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے نظریاتی اصولوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں منظم انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ نہ صرف علماء و طلبہ بلکہ عام مسلمان بھی اس نظام کی حقیقت سے آشنا ہو سکیں۔

کتاب کا آغاز دیباچے سے ہوتا ہے جس میں ناشر، مرتب اور مصنف کے تعارفی خیالات شامل ہیں۔ یہاں مولانا مودودی کی سیاسی جدوجہد، گرفتاریاں اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو مؤلف کے عملی تجربات کا ادراک ہو سکے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ یہ مضامین گذشتہ پچیس برسوں میں مختلف مواقع پر لکھے گئے تھے، جنہیں اب ادارۂ معارفِ اسلامی کے زیرِ اہتمام دو حصوں میں منظم کیا گیا ہے: پہلا حصہ نظری مباحث پر مشتمل ہے اور دوسرا پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق عملی مضامین پر۔

کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہے جنہیں موضوعاتی اعتبار سے کئی مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی ابواب (دین و سیاست، اسلام کا سیاسی نظریہ، قرآن کا فلسفۂ سیاست، معنیٔ خلافت، اسلامی تصورِ قومیت، اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ) اسلامی ریاست کے نظریاتی خدوخال—حاکمیتِ الٰہی، خلافت، قومیت اور قانون کے سرچشمے—کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرتے ہیں۔ اس کے بعد کے ابواب (اسلامی ریاست کی بنیادیں، اسلامی دستور کی بنیادیں، اسلامی ریاست کا مثالی دور، قانون سازی اور اجتہاد، چند دستوری و سیاسی مسائل) عملی سطح پر ریاست کی تشکیل، حکومت کے قیام کے طریقے، اجتہاد کے اصول اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کو موضوع بناتے ہیں۔ تین ابواب خصوصی طور پر حقوق کے مسئلے کے لیے وقف ہیں: انسان کے بنیادی حقوق، غیر مسلموں (ذمیوں) کے حقوق، اور عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور۔ آخری دو ابواب—اسلامی ریاست کے رہنما اصول اور اسلامی انقلاب کی راہ—اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایسا نظام کن اصولوں پر قائم ہو اور اسے پرامن، تدریجی اور جمہوری طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے، جس کے ضمن میں پاکستان کے اکتیس نامور علماء کے متفقہ دستوری فیصلے کا متن بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"اسلامی ریاست" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ ضخیم تصنیف ہے جو دراصل ایک نشست میں لکھی گئی کتاب نہیں بلکہ اسلامک پبلیکیشنز کی طرف سے مرتب کردہ ایک وسیع مجموعہ ہے، جس میں مولانا مودودی کی تقاریر، مضامین، انٹرویوز اور ان کی دیگر کتب (خصوصاً تفہیمات اور خلافت و ملوکیت) کے اقتباسات کو موضوعِ "اسلامی ریاست" کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتب خانے میں شامل مولانا کی تصانیف میں سب سے ضخیم کتاب ہے (312 ابواب، 16 بڑے حصوں پر مشتمل)، اور ان کے سیاسی فکر کا سب سے مربوط بیان سمجھی جاتی ہے۔

کتاب کی بنیادی دلیل سولہ ابواب میں اس ترتیب سے آگے بڑھتی ہے: (۱) سب سے پہلے اس نظریے کی تردید کی گئی ہے، جو جدیدیت پسند اور سیکولر قوم پرست دونوں طرح کے حلقوں میں مشترک ہے، کہ اسلام میں دین اور سیاست الگ الگ دائرے ہیں؛ (۲) اسلام کا سیاسی نظریہ پیش کیا گیا ہے، جس کی بنیاد یہ دعویٰ ہے کہ ہر نبی کا مشن دراصل انسانوں کی ناجائز حاکمیت کے خلاف دعوت تھا؛ (۳) قرآن کے فلسفہ سیاست کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۴) خلافت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے — یعنی انسان، اور خاص طور پر اہلِ ایمان کی جماعت، اللہ کے قانون کے تحت ایک تفویض شدہ اختیار استعمال کرتی ہے، اپنی خودمختار حیثیت میں حکومت نہیں کرتی؛ (۵) نسل، زبان یا علاقے کی بجائے عقیدے پر مبنی ایک مخصوص اسلامی تصورِ قومیت پیش کیا گیا ہے؛ (۶) اسلامی دستوری قانون کے مآخذ — قرآن، سنت، خلافتِ راشدہ کا تعامل، اور بعد کے مجتہدین کے فیصلے — کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۷-۸) اسلامی ریاست اور دستور کی بنیادیں بیان کی گئی ہیں، جہاں مولانا نے مشہور اصطلاح "الٰہی جمہوریت" وضع کی — ایسا نظامِ حکومت جو نہ پاپائیت ہے نہ مغربی سیکولر جمہوریت، بلکہ ایسی ریاست ہے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے جبکہ روزمرہ انتظام مشاورت، شوریٰ اور وقتاً فوقتاً حکمرانوں کے انتخاب کے ذریعے خود امت انجام دیتی ہے؛ (۹) عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو اسلامی ریاست کے "مثالی دور" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کی روشنی میں کسی بھی مدعیٔ اسلامی ریاست کو پرکھا جانا چاہیے؛ (۱۰) قانون سازی اور اجتہاد کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے — کہ انسانی مقننہ وحی کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آزادانہ اجتہاد کر سکتی ہے؛ (۱۱-۱۲) چند دستوری اور سیاسی مسائل (سیاست میں خواتین کا کردار، ارتداد کی سزا، جنگ اور غلامی کے احکام، صدرِ ریاست کا حقِ ویٹو) پر بحث کے بعد ایک پورا باب انسان کے بنیادی حقوق کے لیے وقف کیا گیا ہے — حقِ زندگی، کمزوروں کا تحفظ، عزت، معاشی تحفظ، آزادیٔ اظہار و ضمیر، ظلم کے خلاف احتجاج — جنہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ اور اس لیے خود ریاست کے لیے بھی ناقابلِ سلب قرار دیا گیا ہے؛ (۱۳) غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کے حقوق و حیثیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے — جان، مال، عبادت کی آزادی، فوجی خدمت سے استثنا، جزیہ — تاہم انہیں جدید معنوں میں "برابر شہری" کی بجائے ایک الگ قانونی درجہ دیا گیا ہے؛ (۱۴) اسلام کے تصورِ عدلِ اجتماعی کا سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے موازنہ کیا گیا ہے، اور یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام نجی ملکیت اور انفرادی کاروبار کی اجازت دیتا ہے مگر دولت کے حصول اور استعمال پر اخلاقی و قانونی حدود عائد کرتا ہے؛ (۱۵) اسلامی ریاست کے رہنما اصول دوبارہ مرتب کیے گئے ہیں؛ اور (۱۶) آخر میں مولانا نے اپنا یہ نقطۂ نظر بیان کیا ہے کہ اسلامی انقلاب دراصل کیسے برپا ہونا چاہیے — بتدریج، پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی کے ذریعے، نہ کہ اقتدار پر اچانک قبضے سے — اور اس ضمن میں 1951ء کا وہ اتفاقِ رائے شامل کیا گیا ہے جس پر پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے 31 علماء نے اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کے طور پر اتفاق کیا تھا۔

اہمیت۔ یہ کتاب (اور جس فکری سرمائے سے یہ مرتب کی گئی ہے) جماعتِ اسلامی کے سیاسی پروگرام کی اساس اور بیسویں صدی میں اسلام اور جدید ریاست کے تعلق پر ہونے والی بحث کی سب سے اہم دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔ مولانا کی اصطلاحات — حاکمیت، "الٰہی جمہوریت"، اور خلافت کا از سرِ نو تعین بطور اجتماعی امانت نہ کہ کسی ایک حکمران کا ذاتی منصب — نے پاکستان کے دستوری مباحث (اور بعد ازاں، فقہی اختلافات کے باوجود، ایران کے انقلابی گفتگو) میں استعمال ہونے والی وہ زبان فراہم کی جس کے ذریعے جدید قومی ریاست میں اسلام کے مقام پر بحث کی گئی۔ کتاب کے آخری باب میں شامل 1951ء کا علماء اتفاقِ رائے، پاکستان کی ابتدائی دستور سازی میں "قراردادِ مقاصد" پر ہونے والی بحث پر براہِ راست اثرانداز ہوا۔

تنقیدی جائزہ۔ ایک محقق کی حیثیت سے اس کتاب کو پڑھنے کا تقاضا ہے کہ اسے محض اس کے اپنے موقف تک محدود نہ رکھا جائے۔ سید ولی رضا نصر اور چارلس ایڈمز جیسے محققین، جنہوں نے مولانا مودودی کے سیاسی فکر پر سب سے تفصیلی علمی مطالعے کیے ہیں، کا موقف ہے کہ ان کا نظریہ روایتی زبان میں لپٹی ہوئی ایک حقیقی جدید تشکیل ہے: قدیم فقہ سیاسیہ کی روایت "حاکمیت" کو اس طرح کسی ایک بنیادی تصور کے گرد مرتب نہیں کرتی جیسا مولانا مودودی نے کیا — یہ طرزِ استدلال جتنا کلاسیکی فقہ سے ماخوذ ہے، اتنا ہی مغرب میں مقبول عوامی حاکمیت کے تصور کے خلاف ردعمل سے بھی متاثر ہے، جس کی مولانا واضح طور پر تردید کر رہے ہیں۔ ناقدین نے کتاب کے حقوق سے متعلق ابواب میں ایک اندرونی تناؤ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے: ایک باب میں شہریوں کے لیے وسیع "بنیادی حقوق" کا اثبات کیا گیا ہے، جبکہ اگلے باب میں غیر مسلم باشندوں کو ایک الگ قانونی درجے (ذمی) میں رکھا گیا ہے جس میں سیاسی حقوق محدود ہیں (مثلاً منصبِ سربراہِ مملکت یا مکمل قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا) — حقوق کی آفاقی زبان اور شہریت کے مخصوص نظریے کے مابین یہ تناؤ بعد کے محققین، بشمول خود اسلامی فکر کی روایت کے اندر، زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ روایتی علماء کی جانب سے مولانا کے خلافت کو ایک اجتماعی/عوامی منصب کے طور پر (بجائے ایک متعین خلیفہ کے) نئے سرے سے متعین کرنے پر، اور محض عام مسلمانوں کی اکثریتی مقننہ کو اجتہاد کے وسیع اختیارات دینے پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ مطالعاتی حلقے کو چاہیے کہ اس کتاب کے دستوری نظریے کو صرف اس کے اپنے منطقی فریم ورک میں نہیں بلکہ ان تنقیدوں کی روشنی میں بھی پڑھے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. دین اور سیاست: مولانا مودودی دین اور سیاست کی علیحدگی کو رد کرتے ہیں۔ اس تفریق کے حق میں سب سے مضبوط دلائل کیا ہو سکتے ہیں، اور کتاب ان کا کیا جواب دیتی ہے؟ کیا آپ کو یہ جواب مطمئن کن لگتا ہے؟
  2. حاکمیتِ الٰہی بمقابلہ عوامی حاکمیت: مولانا مودودی جائز حکومت کی بنیاد عوام کی مرضی کی بجائے اللہ کی حاکمیت پر رکھتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر جدید جمہوری نظریے — کہ سیاسی اختیار عوام کی رضامندی سے حاصل ہوتا ہے — سے کس طرح مختلف ہے، اور اس سے کیا تناؤ پیدا ہوتا ہے؟
  3. "الٰہی جمہوریت": کیا یہ ایک مفید تیسری قسم ہے، یا تفصیل میں جانے پر یہ پاپائیت یا جمہوریت میں سے کسی ایک میں ضم ہو جاتی ہے؟ ایک حقیقی "الٰہی جمہوری" ریاست کو کسی مذہبی سیاسی جماعت کی محض حکمرانی سے کیا چیز ممتاز کرے گی؟
  4. خلافت کی از سرِ نو تعریف: مولانا مودودی خلافت کو ایک ہی خلیفہ کی بجائے پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی امانت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ تصور خلافت کی روایتی/کلاسیکی تفہیم سے کس طرح مختلف ہے، اور روایتی علماء نے اس پر کیا اعتراضات کیے؟
  5. غیر مسلم شہریوں کے حقوق: کتاب ذمیوں کے لیے وسیع تحفظات (جان، مال، عبادت، ٹیکس میں رعایت) کا اثبات کرتی ہے مگر انہیں مسلم شہریوں سے الگ قانونی درجے میں رکھتی ہے۔ اس اور کتاب کے اپنے باب "بنیادی حقوق" کی زیادہ آفاقی زبان کے مابین تناؤ پر بحث کریں۔ یہ فریم ورک ایک جدید کثیر المذاہب قومی ریاست میں کس طرح کام کرے گا؟
  6. بنیادی حقوق بمقابلہ بین الاقوامی انسانی حقوق: کتاب کے باب "بنیادی حقوق" میں درج حقوق کا جدید انسانی حقوق کے فریم ورک (مثلاً اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ) سے موازنہ کریں۔ کہاں مشترکات ہیں اور کہاں — بالخصوص مذہب یا جنس سے قطع نظر مساوات کے معاملے میں — اختلاف ہے؟
  7. اجتہاد کا دائرہ: مولانا مودودی مقننہ کو کس حد تک آزادانہ اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں، اور اس کی اہلیت کس کے پاس ہے؟ کیا عام اکثریتی مقننہ (بمقابلہ تربیت یافتہ مجتہدین) خود مولانا کے اپنے فریم ورک سے ہم آہنگ ہے؟
  8. سیاست میں خواتین کا کردار: کتاب اسلامی ریاست میں خواتین کو کیا کردار دیتی ہے، اور مطالعاتی حلقہ اسے صنف اور سیاسی شرکت کے معاصر مباحث کی روشنی میں کیسے پرکھ سکتا ہے؟
  9. سرمایہ داری، اشتراکیت اور مولانا کا تصورِ عدلِ اجتماعی: کتاب کی سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں پر تنقید کا خلاصہ کریں۔ کیا اس کا متبادل (نجی ملکیت مع سخت اخلاقی و قانونی حدود) دوسرے دو نظاموں میں نشاندہی کردہ مسائل کو حل کرتا ہے، یا اسے بھی نفاذ اور تعریف کے اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے؟
  10. "مثالی دور": مولانا مودودی عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو کسی بھی اسلامی ریاست کے لیے معیار قرار دیتے ہیں۔ ایک جدید ریاست کو ساتویں صدی کے نمونے کے مطابق پرکھنے کے فوائد اور خطرات کیا ہیں؟
  11. تبدیلی کا طریقہ، بتدریج یا انقلابی: مولانا مودودی اقتدار حاصل کرنے سے پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی پر زور دیتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی بیسویں صدی کی دیگر اسلامی تحریکوں سے کس طرح مختلف ہے، اور کیا یہ عملاً کامیاب رہی — مثلاً پاکستان میں خود جماعتِ اسلامی کے سفر میں؟
  12. آج کی معنویت: چونکہ یہ کتاب بیسویں صدی کے وسط میں پاکستان کے قیام کے مخصوص تناظر میں مرتب کی گئی، اس کے کون سے دلائل آپ کے خیال میں کسی بھی جدید مسلم اکثریتی ریاست کے لیے آج بھی متعلقہ ہیں، اور کون سے اس مخصوص لمحے تک محدود یا پرانے محسوس ہوتے ہیں؟

تفریقِ دین و سیاست کا تاریخی اور نفسیاتی جائزہ

مسلمان جب اپنے اصل مقصد کو بھول کر اور اپنے حقیقی مشن کو چھوڑ کر دنیا پرستی میں مبتلا ہوگئے اور دین داری کے معنی ان کی نگاہ میں صرف یہ رہ گئے کہ عبادات اور معاشرت میں چند شرعی طور طریقوں کی پابندی کی جاتی رہے‘ خواہ مقاصد ِ زندگی وہی ہوں جو دنیا پرستوں کے ہوتے ہیں‘ خواہ نظام اجتماعی کی زمامِ کار صالحین کے ہاتھ میں ہو یا فجار کے ہاتھ میں‘ اور خواہ اجتماعی امامت اپنے اصول اور نصب العین کے اعتبار سے اسلامی ہو یا غیر اسلامی‘ تو اس غفلت کی سزا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں اس شکل میں دی گئی کہ ان کی بڑی بڑی آبادیاں پے درپے کفار کی تابع فرمان ہوتی چلی گئیں، لیکن انھوں نے اور ان کے علما نے اسے سزا سمجھنے اور اس اصلی قصور کی‘ جس کی پاداش میں یہ سزا ملی تھی‘ تلافی کرنے کے بجائے الٹا یہ سوچنا شروع کر دیا کہ نظامِ کفر میں ’اسلامی زندگی‘ کیسے بسر کی جائے۔ چنانچہ ’اضطرار‘ کے بہانے سے اس شرعی اور اسلامی زندگی کا ایک نیا نقشہ مرتب کیا گیا جو غیر شرعی اور غیر اسلامی نظام کے اندر بسر کی جاسکے۔

اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید سزائوں کا سلسلہ شروع ہوا تاکہ انھیں آزمایا جائے کہ یہ سنبھل کر پلٹتے ہیں یا اپنی ضلالت میں بعید سے بعید تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اضطرار جسے ابتداء ً صرف ایک ہی اضطرار سمجھا گیا تھا‘ اللہ کی سنت کے مطابق آگے بڑھا اور اس نے دائمی‘ روز افزوں اور غیر متناہی اضطراروں کی شکل اختیار کرلی۔ ہر نئے اضطرار نے مطالبہ کیا کہ جو حدود تم نے کفر کے اندر اسلام اور کفر کے ماتحت اسلامی زندگی کے لیے تجویز کیے ہیں انھیں سکیڑو اور سکیڑتے چلے جائو، مگر یہ جتنے عذاب اللہ کی طرف سے آئے ان میں سے کسی نے بھی مسلمانوں کی آنکھیں نہ کھولیں اور انھوں نے مستقل طور پر یہ قاعدہ ہی طے کرلیا کہ واقعی ہر اضطرار کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اسلامی زندگی کے حدود سکیڑتے رہیں اور تسلط کفر کی حدوں کو پھیلنے دیں۔

پھر اس ’اضطرار‘کے تصور نے بھی انھیں ستانا شروع کیا، کیونکہ اضطرار کے نیچے حرمت کا تصور لازماً موجود رہتا ہے۔ کوئی صاحب عقل آدمی اس صریح بات کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جب آپ محض مضطر ہونے کی وجہ سے سور کا گوشت کھائیں گے تو بہرحال سور آپ کی نگاہ میں حرام تو ضرور ہی رہے گا اور جب اسے آپ فی الاصل حرام سمجھتے ہوئے مجبوراًکھائیں گے تو ناممکن ہے کہ آپ کے دل میں نفرت و کراہت نہ ہو،ٗ ناممکن ہے کہ آپ اس سے لذت لیں‘ شوق سے کھائیں‘ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے اور پیٹ بھر کر کھانے کی کوشش کریں اور اس کے کباب اور قورمہ اور پلائو پکوانے کی فکر کریں۔ ایسے ہی اجتناب اور تنفر کا جذبہ ان تمام معاملات میں ناگزیر طور پر پیدا ہوتا ہے جنھیں آپ حقیقت کے اعتبار سے حرام سمجھتے ہوں اور صرف اضطرار کی وجہ سے اپنے لیے عارضی طور پر جائز کرلیں، مگر ایک پوری قوم کا اپنی زندگی کے سارے تمدنی‘ معاشی‘ سیاسی معاملات میں دائماً اس طرح رہنا کہ اس پر اضطرار کی شرعی و نفسیاتی کیفیت طاری رہے‘ اور وہ حاضر الوقت نظام زندگی سے نفرت و کراہیت کے ساتھ ہمہ گیر اجتناب کرتی رہے‘ اور صرف اس حد تک اس سے تعلق رکھے جس حد تک ایسا تعلق جینے کے لیے ناگزیر ہو‘ عملاً محال ہے۔ ایسی حالت کو ایک قلیل مدت سے زیادہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ بہت جلدی طبائع اس سے تھک جاتی ہیں۔ چنانچہ یہ تھکاوٹ بھی مسلمانوں میں ٹھیک اپنے وقت پر پیدا ہوئی لیکن پہلے سے دینی انحطاط جس تسلسل کے ساتھ بڑھتا چلا آرہا تھا اس نے ان تھکنے والوں کے ذہن کو اس طرف متوجہ نہ ہونے دیا کہ اپنے اُس غلط نظریے پر نظر ثانی کرتے جو ’نظام کفر میں اسلامی زندگی‘ کے امکان کے متعلق انھوں نے ابتداء ً قائم کیا تھا اور اس حالتِ اضطرار کو ختم کرنے کی تدبیریں سوچتے جس کی وجہ سے وہ ہر طرف ہر شعبۂ زندگی میں حرمتوں سے محصور اور خبائث میں مبتلا ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اس کے برعکس دینی انحطاط کی سابق رفتار انھیں جس رخ پر بڑھا لے گئی وہ یہ تھا کہ سرے سے ’اضطرار‘ کے بہانے ہی کو ختم کر دیں‘ تاکہ جو حرمتیں نظامِ کفر میں ترقیات اور آسائشوں کے دروازے ان پر بند کیے ہوئے ہیں وہ ٹوٹ جائیں اور اباحت و حلت میں تبدیل ہو کر رہیں۔

اس غرض کے لیے دین کا ایک نیا نظریہ قائم کیا گیا۔ وہ نظریہ یہ تھا کہ دین کا تعلق صرف عقائد و عبادات اور چند معاشرتی امور مثل نکاح و طلاق وغیرہ سے ہے۔ اگر ان معاملات میں کوئی نظامِ حکومت مسلمانوں کو امن دینے کا ذمہ لے لے تو اسلامی زندگی کا اصل مدعا حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد دارالکفر، دارالامن ہے۔ اس کی وفاداری و اطاعت لازم ہے‘ اس کے تحت سارے تمدنی معاملات (جو اس نئے نظریے کے مطابق ’’دنیا بمقابلہ دین‘‘ کے زیر عنوان آجاتے ہیں) انھی قوانین کے مطابق چلنے چاہییں جو کافرانہ اصولوں پر بنائے گئے ہوں‘ اور اس کی قانونی و انتظامی مشین کو چلانے میں‘ بلکہ اس کے تحفظ اور اس کی توسیع کے لیے جان کی قربانیاں تک دینے میں بھی کوئی ’مضائقہ‘ نہیں ہے۔لیکن یہ معاملہ صرف ’عدم مضائقہ‘ یا اباحت و حلت پر بھی نہ رکا۔ دارالکفرمیں مسلمانوں کی ضروریات نے جلد ہی انھیں مجبور کرنا شروع کیا کہ اپنی نئی نسلوں کو خدمت کفر کا شوق دلانے کی کوشش کریں، تاکہ ان نقصانات کی تلافی ہو جو اول اول کچھ مدت کے ’’مضائقے‘‘ نے انھیں پہنچایا تھا۔ اس لیے ایک آخری دلیل یہ تصنیف کی گئی کہ مسلمانوں کی ترقی و فلاح اور بعض حالات میں ان کی زندگی کا انحصار ہی اس بات پر ہے کہ وہ نظامِ کفر کے عدالتی‘ تشریعی‘ انتظامی‘ فوجی‘ صنعتی‘ غرض تمام شعبوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں‘ ورنہ امت کے وفات پا جانے یا کم از کم ترقی کی دوڑ میں غیر مسلموں سے پیچھے رہ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس دلیل نے بہ یک جنبشِ قلم اسی چیز کو جو کل تک صرف مباح کے مقام پر تھی‘ فرض کے درجے پر پہنچا دیا اور واجب ہوگیا کہ اگر ساری قوم نہیں تو اس میں سے ایک طبقہ تو اس فرض کے انجام دینے کے لیے ضرور نکلتا ہی رہے‘ گویا حکم الٰہی یوں قرار پایا کہ:

<<فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَائِفَۃٌ لِیَتَفَقَّھُوْا فِی الْکُفْرِ وَلِیُضِلُّوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یُضِلُّوْنَ اور وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الشَّرِّ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْکَرِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ ‘>>

دین میں یہی وہ عظیم الشان ترمیم تھی جس کی بدولت بڑے بڑے متقی و دین دارحضرات تسبیحوں کو گردش دیتے ہوئے وکالت اور منصفی کے پیشوں میں داخل ہوئے‘ تاکہ جس قانون پر وہ ایمان نہیں رکھتے اس کے مطابق وہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کریں اور کرائیں، اور جس قانون پر ایمان رکھتے ہیں اس کی تلاوت صرف اپنے گھروں میں کرتے رہیں۔ اسی ترمیم کی بدولت بڑے بڑے صلحا و اتقیا کے بچے نئی درس گاہوں میں داخل ہوئے اور وہاں سے بے دینی و مادہ پرستی اور بداخلاقی کے سبق لے لے کر نکلے اور پھر اس نظامِ کفر کے صرف عملی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ اکثر حالات میں اخلاقی اور اعتقادی حیثیت سے بھی خدمت گزار بن گئے جو ان کے اسلاف کی غفلتوں اور کمزوریوں کی بدولت ان پر ابتداء ً محض اوپر سے مسلط ہوا تھا۔ پھر اسی ترمیم نے یہاں تک نوبت پہنچائی کہ مردوں سے گزر کر جاہلیت اور ضلالت اور بداخلاقی کا طوفان عورتوں تک پہنچا۔ وہی ’فرض کفایہ‘ جسے ادا کرنے کے لیے پہلے مرد اٹھے تھے‘ عورتوں پر بھی عائد ہوگیا‘ اور ان بے چاریوں کو بھی آخر اس ’دینی خدمت‘ کی بجا آوری کے لیے نکلنا پڑا۔ نہ نکلتیں تو خطرہ تھا کہ کہیں غیر مسلم ان سے بازی نہ لے جائیں۔ [قیام پاکستان کے بعد اب معاملہ اور آگے بڑھ گیا ہے۔ اب امت کے جینے کی صرف یہ صورت رہ گئی ہے کہ شرفا کی لڑکیاں کھلے میدانوں میں فوجی ڈرل کریں اور مسلمان صاحبزادیاں نرسنگ کی ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے مغربی ممالک میں جائیں اور غیر ممالک میں مسلمانوں کی نیابت کا فریضہ ان کے نمائندے ہی نہیں، بلکہ نمائندیاں بھی انجام دیا کریں۔ (مصنف)]

کہیں یہ گمان نہ کر لیجیے گا کہ دین میں یہ ترمیم آج کچھ نئی ہوئی ہے۔ درحقیقت اس کی بنا آج سے صدیوں پہلے پڑ چکی تھی‘ جبکہ تاتار کے کفار مسلمانوں پر مسلط ہوئے تھے۔ صرف یہی نہیں کہ ’نظام کفر میں اسلامی زندگی‘ کا نقشہ پہلی مرتبہ اسی دور کے علما نے مرتب کیا تھا‘ بلکہ اسی زمانے میں بڑے بڑے علما و صلحا نے خود نظامِ کفر کی خدمت گزاری اختیار فرمائی تھی اور ان میں بکثرت لوگ وہ تھے جن کی کتابیں پڑھ پڑھ کر آج ہمارے مدارس عربیہ میں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین تیار ہوتے ہیں۔ اسی قدامت کی وجہ سے یہ غلطی اب ایک مقدس غلطی بن چکی ہے اور کوئی تعجب نہیں ہے اگر ہمارے زمانے کے فقیہ اور محدث اور مفسر سب اس میں مبتلا نظر آتے ہیں، لیکن یہ ظاہر ہے کہ غلط بات نہ اس دلیل سے صحیح ہوسکتی ہے کہ وہ پہلے سے ہوتی چلی آ رہی ہے اور نہ اس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ بڑے بڑے لوگ اس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ حق کا اثبات اگر ہوسکتا ہے تو اللہ کی کتاب اور رسولوں کی سنت ہی سے ہوسکتا ہے۔

اس پورے انحطاط کے دوران میں‘ جو ابتدائی اضطرار کی بنا پر اسلام ’زیر سایہ کفر‘ کے نظریے سے شروع ہوا‘ پھر رفتہ رفتہ ’نظام کفر کی خدمت جائز ____ مستحب ____ فرض کفایہ ‘ کے نظریے تک پہنچا اور بالآخر گرتے گرتے اس انتہائی ذلیل نقطۂ نظر کی پستیوں میں جاگرا کہ ’معمولی آزادی دینے والے حکمرانوں کی وفاداری عین مقتضائے دین ہے۔‘ مسلمانوں کی کوشش برابر یہی رہی کہ اپنے تنزل کے ہر مرحلے میں نیچے اور زیادہ نیچے اترنے کے لیے دلیل بہرحال انھیں اللہ کے دین ہی سے ملنی چاہیے۔ یہ مطالبہ بظاہر تو ان کے زعم میں اس فارمولے پر مبنی تھا کہ’خدا کا دین چونکہ ہماری تمام ضرورتوں کا ضامن ہے، اس لیے جو ضرورتیں اب پیش آرہی ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے بھی اسی دین سے ہم کو رہنمائی ملنی چاہیے‘ لیکن دراصل اس ظاہر فارمولے کے باطن میں جو حقیقی فارمولا چھپا ہوا تھا اور جس پر فی الواقع یہ لوگ کام کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ جب ہم نے اس دین پر یہ احسان کیا ہے کہ اس کو اپنے ایمان سے سرفراز کیا تو اس کے بدلے میں کم سے کم جو فرض اس دین پر عائد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ہمارے آگے چلنے کے بجائے ہمارے پیچھے چلنا شروع کردے۔ یعنی اب ہمارا اور اس کا تعلق یہ نہ ہو کہ ہم اسے اپنے اوپر اور خدا کی زمین پر قائم کرنے کی سعی کریں اور اس سعی کے سلسلے میں جو جو ضرورتیں ہم کو پیش آتی جائیں یہ انھیں پورا کرنے کی ضمانت لیتا جائے‘ بلکہ تعلق کی صورت اب یہ ہونی چاہیے کہ ہم اس کی اقامت کاکام‘ حتیٰ کہ اُس کا خیال تک چھوڑ کر اپنے نفس کی پیروی میں جس جس وادی کی خاک چھانتے پھریں اس میں یہ ہمارے ساتھ ساتھ گردش کرتا رہے اور جن جن ادیانِ باطلہ کے ہم تابع فرمان بنتے جائیں ،ان کے ماتحت ساری غلامانہ حیثیتیں یہ بھی اختیار کرتا چلا جائے اور اس کے منشاء کے خلاف جو جو طرز زندگی ہم قبول کریں ان میں پیش آنے والی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا یہ ضامن ہو۔

چنانچہ اسی غلط نقطۂ نظر کو لیے ہوئے ان لوگوں نے قرآن و سنت میں رہنمائی تلاش کرنی شروع کی اور حاصل یہ ہوا کہ پورے قرآن میں اگر کسی چیز پر جاکر ان کی نگاہ ٹھیری تو وہ سورہ عنکبوت تھی‘ نہ بقرہ‘ نہ آل عمران‘ نہ انفال‘ نہ توبہ‘ بلکہ سورہ یوسف تھی۔ اور اس کے بھی صرف وہ مقامات جن سے خان بہادر صاحب استدلال فرما رہے ہیں۔ اسی طرح پوری سیرت نبوی میں بھی اگر کوئی چیز ان کو قابلِ اتباع ملی تو وہ نہ مکے کی تپتی ہوئی ریت تھی‘ نہ طائف کی سنگ باری‘ نہ بدر و احد کے میدان‘ بلکہ صرف یہ واقعہ کہ مسلمانوں کی ایک جماعت ہجرت کرکے حبش گئی تھی اور وہاں ایک عیسائی بادشاہ کے ماتحت چند سال رعایا بن کر رہی، لیکن جو شخص مطلب جُو ذہنیت نہ رکھتا ہو بلکہ طالب حق ہو اس کے لیے یہ سوال غایت درجہ اہمیت رکھتا ہے کہ درحقیقت یوسف علیہ السلام کے زیر بحث واقعات سے بھی کیا وہی نتیجہ نکلتا ہے‘ جو یہ حضرات نکالنا چاہتے ہیں؟ اور اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ وہی نتیجہ نکلتا ہے‘ یعنی یہ کہ ایک نبی نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت ایک نظامِ کفر کی خدمت اور غیر الٰہی قانون (دین الملک) کے اجراء و نفاذ کی ذمے داری اسی غرض کے لیے قبول کی تھی کہ ایسا کرنا فی نفسہٖ مقصود تھا‘ یہ کہ مسلمانوں نے مکہ سے حبش کی طرف اسی بنیاد پر ہجرت کی تھی کہ ایک مسلم جماعت کے لیے ایک غیر مسلم نظام تمدن و سیاست بالکل ایک موزوں جائے قیام ہے، بشرطیکہ وہ مسجد میں اپنے منشا کے مطابق پوجا کرلینے کی اور اپنے سینے میں کچھ عقائد رکھ لینے اور زبان سے ان کے پھاگ اڑا لینے کی اس کو اجازت دے دے‘ تو اس کے بعد کچھ مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں جو اوپر کے سوال سے بدرجہا زیادہ اہم اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ بات مان لینے کے بعد تو یہی امر تحقیق طلب ہو جاتا ہے کہ:

۱۔ اللہ تعالیٰ نے جو دین انبیاء علیہم السلام کے ذریعے سے نوع انسانی کے لیے بھیجا آیا وہ صرف عبادت گاہ کے لیے تھا یا پوری انسانی زندگی کے لیے؟

۲۔ اور جو انبیاء اس دین کو لے کر آئے وہ سارے کے سارے ایک ہی مقصد کے لیے آئے تھے اور ایک ہی ان کا مشن تھا، یا مختلف مقاصداور مختلف مشنوں کے لیے‘ جن میں سے بعض مشن بعض کی ضد پڑتے ہوں؟

۳۔ اور یہ کہ انسان سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ فی الواقع کیا ہے؟ ____ اپنی پوری زندگی میں اس کی بندگی کرے اور اسی کے قانون کی متابعت میں کام کرے، یا صرف پوجا اس کی کرتا رہے اور باقی اپنے سارے معاملات جن طریقوں پر چاہے چلائے؟

ان سوالات کا ایک جواب یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ نے جو دین بھیجا ہے اُس کا تعلق صرف اس محدود زندگی سے ہے جو آج کل کے تصور کے لحاظ سے ’مذہبی‘ کہلاتی ہے، مگر یہ مان لینے کے بعد قرآن میں اور دوسری کتب آسمانی میں تمدن‘ معاشرت‘ معیشت‘ سیاست‘ قانون دیوانی و فوج داری‘ ضوابط شہادت و عدالت اور مسائل صلح و جنگ وغیرہ کے متعلق جو ہدایات دی گئی ہیں وہ سب بے معنی قرار پاتی ہیں، یا پھر ان کی حیثیت احکام کی نہیں، بلکہ سفارشات کی رہ جاتی ہے جن پر عمل ہو جائے تو اچھا اور نہ ہو تو اللہ میاں کو کوئی خاص شکایت نہ ہوگی۔

اسی طرح دوسرے سوال کا جواب بھی یہ ہوسکتا ہے اور ہوسکتا کیا معنی‘ آج کل عام طور پر نبوت کا تصور یہی ہے کہ مختلف انبیاء مختلف مشن لے کر آئے ہیں، حتیٰ کہ ایک نبی کا مقصد بعثت اگر یہ رہا ہے کہ نظامِ کفر کو توڑنے کے لیے لڑے اور اس کی جگہ نظامِ اسلامی کو زمین پر حکمران ہونے کی حیثیت سے قائم کرے تو دوسرے نبی کا مقصد بعثت اس کے برعکس یہ رہا ہے کہ نظامِ کفر کے اندر نہ صرف یہ کہ محدود قسم کی مذہبی و اخلاقی اصلاح پر اکتفا کرے‘ بلکہ اس نظامِ کفر کا مطیع و وفادار بن کر رہے اور موقع ملے تو اس کو چلانے اور فروغ دینے کے لیے خود اپنی خدمات پیش کر دے، مگر یہ بات نہ تو قرآن کے بیان کے مطابق ہے جو پورے زور کے ساتھ یہ تصور پیش کرتا ہے کہ سارے انبیاء ؑ کا مقصد بعثت ایک ہی تھا اور نہ عقل یہ باور کرنے کے لیے تیار ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسی متضاد اور باہم متصادم حرکات کا ظہور ہوسکتا ہے۔ شاید کوئی معقول آدمی بھی اس خدا کوایک حکیم خدا ماننے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا جو انسانوں کی طرف اپنے پیغمبر کبھی کسی مقصد کے لیے بھیجے اور کبھی اس کے بالکل برعکس کسی دوسرے مقصد کے لیے۔

یہ الگ بات ہے کہ ایک نبی نظام اسلامی کو قائم کرنے کی جدوجہد میں کامیابی کے آخری مرحلوں پر پہنچ جائے‘ دوسرا نبی بیچ کے کسی مرحلے میں یا ابتدائی مرحلے ہی میں آخر وقت تک کام کرتا رہے اور کوئی تیسرا نبی دعوت و تبلیغ یا جنگ کے بجائے کسی درمیانی صورت کو اپنے مخصوص حالات میں قابل عمل پا کر اسے اختیار کرلے، اور ان اشکال کے اختلاف کے باوجود مقصد سب کا ایک ہی ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے نظام زندگی کو مکمل طور پر دنیا میں قائم کرنے کی سعی کرنا‘ لیکن اس اختلافِ اشکال کو یہ معنی پہنانا کہ انبیاء کے مقاصد بعثت ہی سرے سے مختلف و متضاد تھے‘ اللہ پر ایسا بہتان لگانا ہے جس سے بدتر بہتان شاید کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔

اس طرح تیسرے سوال کا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے اور آج کل کے مسلمان بالعموم یہی سمجھتے ہیں کہ انسان سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ صرف اتنا ہی ہے کہ وہ اس کی پوجا کرلیا کرے اور کچھ مسائل غسل و طہارت اور چند مخصوص حدودِ حلال و حرام کی پابندی کرلے۔ اس سے آگے نہ اللہ کا کوئی مطالبہ ہے اور نہ اس سے کچھ بحث کہ آدمی زندگی کے وسیع تر معاملات میں اپنے نفس کے قوانین کی پیروی کرتا ہے، یا ان شیاطینِ جن و انس کے احکام کی جو اس کی وسیع زمین پر مسلط ہوگئے، مگر یہ جواب موجودہ زمانے کے دنیا پرستوں کے لیے خواہ کتنا ہی اطمینان بخش ہو اور خواہ <<’الَدِّیْنُ یُسْرٌ‘>> اور <<وَ مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ >> الحج22:78 کا یہ منشا قرار دے کر وہ اپنے لیے اس سے کتنی ہی سہولتیں پیدا کر لیں‘ بہرحال یہ تصور عبدیت و بندگی کے تصور کی قطعی نفی ہے۔ بندگی کا شاید اس سے زیادہ مضحکہ انگیز مفہوم کوئی اور نہیں ہوسکتا کہ بندہ چوبیس گھنٹوں میں سے دو گھنٹوں کے لیے بندہ ہو اور باقی اوقات میں آزاد‘ یا صرف آقا کو سلامی دے دینے پر اس کی بندگی ختم ہوجائے اور پھر سارے کام اسے اپنے، یا دوسروں کے منشا کے مطابق کرتے رہنے کی آزادی حاصل ہو۔ پھر وہ اللہ تو ہرگز اللہ مانے جانے کے قابل نہیں ہے جو ایک طرف اپنے آپ کو انسان کا خالق اور رب بھی کہتا ہو، اور دوسری طرف پورے انسان کو چھوڑ کر صرف اس کے ایک نہایت ہی قلیل اور غیر اہم جز تک اپنی آقائی و فرماں روائی کو اور اس کی بندگی و غلامی کو محدود رکھنے پر راضی ہو جائے۔ کوئی باپ اپنے بیٹے پر اپنی پدرانہ حیثیت کو‘ کوئی شوہر اپنی بیوی پر شوہرانہ حیثیت کو‘ کوئی حاکم اپنی مملکت اور اپنی رعایا پر اپنی حاکمانہ حیثیت کو اس حد تک محدود کرنے پر راضی نہیں ہوتا کہ چند مراسم اطاعت و وفاداری ادا ہو جانے کے بعد پدریت اور شوہریت اور حاکمیت کا مقتضا پورا ہو جائے اور پھر بیٹے کو اختیار ہو کہ جس جس کو چاہے اپنا باپ بناتا پھرے اور عورت کو اختیار ہو کہ جس جس کے لیے مناسب سمجھے وجۂ سکون بنتی پھرے‘ اور رعایا کو اختیار ہو کہ جس جس کے قانون کی چاہے پیروی کرے‘ جس کو چاہے ٹیکس دے اور جس کے احکام کی چاہے اطاعت کرتی رہے، مگر یہ اللہ آخر کیسا اللہ ہے کہ جو انسان سارے کا سارا اس کی مخلوق اور اسی کا پروردہ ہے اور اسی کے بل پر قائم و موجود ہے‘ اس پر وہ اپنی آقائی کو محدود کر لینے اور اس سے بندگی کی چند رسمی باتیں قبول کرکے اسے خود مختار، یا ہر ایک کی غلامی کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دینے پر راضی رہے؟

دین اور نبوت اور تقاضائے عبدیت کے یہ تصورات اگر صحیح نہیں ہیں‘ اگر فی الواقع اللہ کا بھیجا ہوا دین انسان کی ساری اجتماعی و انفرادی زندگی سے تعلق رکھتا ہے‘ اگر اللہ کا مطالبہ اپنے بندوں سے یہی ہے کہ وہ ہر حیثیت سے اس کے قانون کے پیرو اور اس کی ہدایت کے متبع ہو کر رہیں اور اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو اسی غرض سے بھیجا تھا کہ وہ اس برحق نظام زندگی کو قائم کرنے کی دعوت دیں اور اسی کی اقامت کے لیے سعی کریں جو خدائے واحد کی اطاعت پر مبنی ہو‘ تو کسی معقول آدمی کے لیے یہ تسلیم کرنا سخت مشکل ہے کہ سارے نبیوں میں سے تنہا ایک حضرت یوسف علیہ السلام ہی ایسے انوکھی قسم کے نبی تھے جن کے سپرد دین اللہ کو قائم کرنے کی سعی کے بجائے یہ خدمت کی گئی تھی کہ دین ِ الملک کے تحت وزارت مال کی نوکری کریں اور اسی طرح کوئی معقول آدمی ان دو متضاد باتوں کو بھی باہم منطبق نہیں کرسکتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف تو عرب کے غیر اسلامی نظام میں دین حق کی اقامت کے لیے جدوجہد بھی فرما رہے تھے اور دوسری طرف آپؐ کے نزدیک حبش کا غیر اسلامی نظام اس درجہ برحق بھی تھا کہ ایک مسلم جماعت کے لیے وہ ایک مناسب جائے قیام ہو سکتا تھا۔ جو لوگ دین کو ایک معقول و متناسب نظام فکر کی حیثیت سے نہیں دیکھتے‘ بلکہ اس کو منتشر اور ایک دوسرے سے بے تعلق اجزا کا مجموعہ سمجھتے ہیں‘ ان کے لیے تویہ بہت آسان ہے کہ انبیاء کے حالات زندگی‘ قرآن کی تعلیمات اور دین کے احکام و اوامر کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہر ایک کی ایسی تاویلیں اور تفسیریں کریں جن سے ایک جز دوسرے جز سے اور ایک پہلو دوسرے پہلو سے صریح تناقض کا رنگ اختیار کرلے، لیکن اس دین کو ایک حکیم کے بنائے ہوئے مرتب و مربوط اور متناسب نظام کی حیثیت سے دیکھنے والوں کے لیے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ اس کے ہر پہلو اور ہر جز کی وہی تفسیر و تاویل اختیار کریں جو کلی نظام کے مزاج سے مناسبت رکھتی ہو اور کسی ایسی تعبیر کو‘ خواہ وہ کیسے ہی بڑے علما کی طرف سے پیش کی گئی ہو‘ قبول نہ کریں جس سے اس دین کے اندر تناقض اور اس کی تعلیمات اور انبیاء علیہم السلام کے کاموں کے درمیان تصادم لازم آتا ہو۔

اب ہم سورۂ یوسف کے زیر بحث مقامات اور ہجرت حبشہ کے واقعات سے براہ راست بحث کریں گے۔