اسلامی ریاست
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جس میں اسلام کو محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہ سمجھ کر، بلکہ زندگی کا ایک مکمل نظامِ حیات پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام کا نفاذ صرف وعظ و تبلیغ سے ممکن نہیں؛ بلکہ اس کے لیے سیاسی اقتدار اور ریاستی طاقت کا حصول ضروری ہے۔ مولانا مودودی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جدید دور کا سیکولر تصورِ ریاست، جو دین کو ذاتی معاملہ قرار دے کر سیاست سے الگ کرتا ہے، درحقیقت جاہلیت کے محدود تصورِ مذہب کی بازگشت ہے، جسے اسلام نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کتاب کی تدوین کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے نظریاتی اصولوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں منظم انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ نہ صرف علماء و طلبہ بلکہ عام مسلمان بھی اس نظام کی حقیقت سے آشنا ہو سکیں۔
کتاب کا آغاز دیباچے سے ہوتا ہے جس میں ناشر، مرتب اور مصنف کے تعارفی خیالات شامل ہیں۔ یہاں مولانا مودودی کی سیاسی جدوجہد، گرفتاریاں اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو مؤلف کے عملی تجربات کا ادراک ہو سکے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ یہ مضامین گذشتہ پچیس برسوں میں مختلف مواقع پر لکھے گئے تھے، جنہیں اب ادارۂ معارفِ اسلامی کے زیرِ اہتمام دو حصوں میں منظم کیا گیا ہے: پہلا حصہ نظری مباحث پر مشتمل ہے اور دوسرا پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق عملی مضامین پر۔
کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہے جنہیں موضوعاتی اعتبار سے کئی مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی ابواب (دین و سیاست، اسلام کا سیاسی نظریہ، قرآن کا فلسفۂ سیاست، معنیٔ خلافت، اسلامی تصورِ قومیت، اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ) اسلامی ریاست کے نظریاتی خدوخال—حاکمیتِ الٰہی، خلافت، قومیت اور قانون کے سرچشمے—کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرتے ہیں۔ اس کے بعد کے ابواب (اسلامی ریاست کی بنیادیں، اسلامی دستور کی بنیادیں، اسلامی ریاست کا مثالی دور، قانون سازی اور اجتہاد، چند دستوری و سیاسی مسائل) عملی سطح پر ریاست کی تشکیل، حکومت کے قیام کے طریقے، اجتہاد کے اصول اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کو موضوع بناتے ہیں۔ تین ابواب خصوصی طور پر حقوق کے مسئلے کے لیے وقف ہیں: انسان کے بنیادی حقوق، غیر مسلموں (ذمیوں) کے حقوق، اور عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور۔ آخری دو ابواب—اسلامی ریاست کے رہنما اصول اور اسلامی انقلاب کی راہ—اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایسا نظام کن اصولوں پر قائم ہو اور اسے پرامن، تدریجی اور جمہوری طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے، جس کے ضمن میں پاکستان کے اکتیس نامور علماء کے متفقہ دستوری فیصلے کا متن بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"اسلامی ریاست" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ ضخیم تصنیف ہے جو دراصل ایک نشست میں لکھی گئی کتاب نہیں بلکہ اسلامک پبلیکیشنز کی طرف سے مرتب کردہ ایک وسیع مجموعہ ہے، جس میں مولانا مودودی کی تقاریر، مضامین، انٹرویوز اور ان کی دیگر کتب (خصوصاً تفہیمات اور خلافت و ملوکیت) کے اقتباسات کو موضوعِ "اسلامی ریاست" کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتب خانے میں شامل مولانا کی تصانیف میں سب سے ضخیم کتاب ہے (312 ابواب، 16 بڑے حصوں پر مشتمل)، اور ان کے سیاسی فکر کا سب سے مربوط بیان سمجھی جاتی ہے۔
کتاب کی بنیادی دلیل سولہ ابواب میں اس ترتیب سے آگے بڑھتی ہے: (۱) سب سے پہلے اس نظریے کی تردید کی گئی ہے، جو جدیدیت پسند اور سیکولر قوم پرست دونوں طرح کے حلقوں میں مشترک ہے، کہ اسلام میں دین اور سیاست الگ الگ دائرے ہیں؛ (۲) اسلام کا سیاسی نظریہ پیش کیا گیا ہے، جس کی بنیاد یہ دعویٰ ہے کہ ہر نبی کا مشن دراصل انسانوں کی ناجائز حاکمیت کے خلاف دعوت تھا؛ (۳) قرآن کے فلسفہ سیاست کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۴) خلافت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے — یعنی انسان، اور خاص طور پر اہلِ ایمان کی جماعت، اللہ کے قانون کے تحت ایک تفویض شدہ اختیار استعمال کرتی ہے، اپنی خودمختار حیثیت میں حکومت نہیں کرتی؛ (۵) نسل، زبان یا علاقے کی بجائے عقیدے پر مبنی ایک مخصوص اسلامی تصورِ قومیت پیش کیا گیا ہے؛ (۶) اسلامی دستوری قانون کے مآخذ — قرآن، سنت، خلافتِ راشدہ کا تعامل، اور بعد کے مجتہدین کے فیصلے — کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۷-۸) اسلامی ریاست اور دستور کی بنیادیں بیان کی گئی ہیں، جہاں مولانا نے مشہور اصطلاح "الٰہی جمہوریت" وضع کی — ایسا نظامِ حکومت جو نہ پاپائیت ہے نہ مغربی سیکولر جمہوریت، بلکہ ایسی ریاست ہے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے جبکہ روزمرہ انتظام مشاورت، شوریٰ اور وقتاً فوقتاً حکمرانوں کے انتخاب کے ذریعے خود امت انجام دیتی ہے؛ (۹) عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو اسلامی ریاست کے "مثالی دور" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کی روشنی میں کسی بھی مدعیٔ اسلامی ریاست کو پرکھا جانا چاہیے؛ (۱۰) قانون سازی اور اجتہاد کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے — کہ انسانی مقننہ وحی کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آزادانہ اجتہاد کر سکتی ہے؛ (۱۱-۱۲) چند دستوری اور سیاسی مسائل (سیاست میں خواتین کا کردار، ارتداد کی سزا، جنگ اور غلامی کے احکام، صدرِ ریاست کا حقِ ویٹو) پر بحث کے بعد ایک پورا باب انسان کے بنیادی حقوق کے لیے وقف کیا گیا ہے — حقِ زندگی، کمزوروں کا تحفظ، عزت، معاشی تحفظ، آزادیٔ اظہار و ضمیر، ظلم کے خلاف احتجاج — جنہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ اور اس لیے خود ریاست کے لیے بھی ناقابلِ سلب قرار دیا گیا ہے؛ (۱۳) غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کے حقوق و حیثیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے — جان، مال، عبادت کی آزادی، فوجی خدمت سے استثنا، جزیہ — تاہم انہیں جدید معنوں میں "برابر شہری" کی بجائے ایک الگ قانونی درجہ دیا گیا ہے؛ (۱۴) اسلام کے تصورِ عدلِ اجتماعی کا سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے موازنہ کیا گیا ہے، اور یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام نجی ملکیت اور انفرادی کاروبار کی اجازت دیتا ہے مگر دولت کے حصول اور استعمال پر اخلاقی و قانونی حدود عائد کرتا ہے؛ (۱۵) اسلامی ریاست کے رہنما اصول دوبارہ مرتب کیے گئے ہیں؛ اور (۱۶) آخر میں مولانا نے اپنا یہ نقطۂ نظر بیان کیا ہے کہ اسلامی انقلاب دراصل کیسے برپا ہونا چاہیے — بتدریج، پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی کے ذریعے، نہ کہ اقتدار پر اچانک قبضے سے — اور اس ضمن میں 1951ء کا وہ اتفاقِ رائے شامل کیا گیا ہے جس پر پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے 31 علماء نے اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کے طور پر اتفاق کیا تھا۔
اہمیت۔ یہ کتاب (اور جس فکری سرمائے سے یہ مرتب کی گئی ہے) جماعتِ اسلامی کے سیاسی پروگرام کی اساس اور بیسویں صدی میں اسلام اور جدید ریاست کے تعلق پر ہونے والی بحث کی سب سے اہم دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔ مولانا کی اصطلاحات — حاکمیت، "الٰہی جمہوریت"، اور خلافت کا از سرِ نو تعین بطور اجتماعی امانت نہ کہ کسی ایک حکمران کا ذاتی منصب — نے پاکستان کے دستوری مباحث (اور بعد ازاں، فقہی اختلافات کے باوجود، ایران کے انقلابی گفتگو) میں استعمال ہونے والی وہ زبان فراہم کی جس کے ذریعے جدید قومی ریاست میں اسلام کے مقام پر بحث کی گئی۔ کتاب کے آخری باب میں شامل 1951ء کا علماء اتفاقِ رائے، پاکستان کی ابتدائی دستور سازی میں "قراردادِ مقاصد" پر ہونے والی بحث پر براہِ راست اثرانداز ہوا۔
تنقیدی جائزہ۔ ایک محقق کی حیثیت سے اس کتاب کو پڑھنے کا تقاضا ہے کہ اسے محض اس کے اپنے موقف تک محدود نہ رکھا جائے۔ سید ولی رضا نصر اور چارلس ایڈمز جیسے محققین، جنہوں نے مولانا مودودی کے سیاسی فکر پر سب سے تفصیلی علمی مطالعے کیے ہیں، کا موقف ہے کہ ان کا نظریہ روایتی زبان میں لپٹی ہوئی ایک حقیقی جدید تشکیل ہے: قدیم فقہ سیاسیہ کی روایت "حاکمیت" کو اس طرح کسی ایک بنیادی تصور کے گرد مرتب نہیں کرتی جیسا مولانا مودودی نے کیا — یہ طرزِ استدلال جتنا کلاسیکی فقہ سے ماخوذ ہے، اتنا ہی مغرب میں مقبول عوامی حاکمیت کے تصور کے خلاف ردعمل سے بھی متاثر ہے، جس کی مولانا واضح طور پر تردید کر رہے ہیں۔ ناقدین نے کتاب کے حقوق سے متعلق ابواب میں ایک اندرونی تناؤ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے: ایک باب میں شہریوں کے لیے وسیع "بنیادی حقوق" کا اثبات کیا گیا ہے، جبکہ اگلے باب میں غیر مسلم باشندوں کو ایک الگ قانونی درجے (ذمی) میں رکھا گیا ہے جس میں سیاسی حقوق محدود ہیں (مثلاً منصبِ سربراہِ مملکت یا مکمل قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا) — حقوق کی آفاقی زبان اور شہریت کے مخصوص نظریے کے مابین یہ تناؤ بعد کے محققین، بشمول خود اسلامی فکر کی روایت کے اندر، زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ روایتی علماء کی جانب سے مولانا کے خلافت کو ایک اجتماعی/عوامی منصب کے طور پر (بجائے ایک متعین خلیفہ کے) نئے سرے سے متعین کرنے پر، اور محض عام مسلمانوں کی اکثریتی مقننہ کو اجتہاد کے وسیع اختیارات دینے پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ مطالعاتی حلقے کو چاہیے کہ اس کتاب کے دستوری نظریے کو صرف اس کے اپنے منطقی فریم ورک میں نہیں بلکہ ان تنقیدوں کی روشنی میں بھی پڑھے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- دین اور سیاست: مولانا مودودی دین اور سیاست کی علیحدگی کو رد کرتے ہیں۔ اس تفریق کے حق میں سب سے مضبوط دلائل کیا ہو سکتے ہیں، اور کتاب ان کا کیا جواب دیتی ہے؟ کیا آپ کو یہ جواب مطمئن کن لگتا ہے؟
- حاکمیتِ الٰہی بمقابلہ عوامی حاکمیت: مولانا مودودی جائز حکومت کی بنیاد عوام کی مرضی کی بجائے اللہ کی حاکمیت پر رکھتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر جدید جمہوری نظریے — کہ سیاسی اختیار عوام کی رضامندی سے حاصل ہوتا ہے — سے کس طرح مختلف ہے، اور اس سے کیا تناؤ پیدا ہوتا ہے؟
- "الٰہی جمہوریت": کیا یہ ایک مفید تیسری قسم ہے، یا تفصیل میں جانے پر یہ پاپائیت یا جمہوریت میں سے کسی ایک میں ضم ہو جاتی ہے؟ ایک حقیقی "الٰہی جمہوری" ریاست کو کسی مذہبی سیاسی جماعت کی محض حکمرانی سے کیا چیز ممتاز کرے گی؟
- خلافت کی از سرِ نو تعریف: مولانا مودودی خلافت کو ایک ہی خلیفہ کی بجائے پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی امانت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ تصور خلافت کی روایتی/کلاسیکی تفہیم سے کس طرح مختلف ہے، اور روایتی علماء نے اس پر کیا اعتراضات کیے؟
- غیر مسلم شہریوں کے حقوق: کتاب ذمیوں کے لیے وسیع تحفظات (جان، مال، عبادت، ٹیکس میں رعایت) کا اثبات کرتی ہے مگر انہیں مسلم شہریوں سے الگ قانونی درجے میں رکھتی ہے۔ اس اور کتاب کے اپنے باب "بنیادی حقوق" کی زیادہ آفاقی زبان کے مابین تناؤ پر بحث کریں۔ یہ فریم ورک ایک جدید کثیر المذاہب قومی ریاست میں کس طرح کام کرے گا؟
- بنیادی حقوق بمقابلہ بین الاقوامی انسانی حقوق: کتاب کے باب "بنیادی حقوق" میں درج حقوق کا جدید انسانی حقوق کے فریم ورک (مثلاً اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ) سے موازنہ کریں۔ کہاں مشترکات ہیں اور کہاں — بالخصوص مذہب یا جنس سے قطع نظر مساوات کے معاملے میں — اختلاف ہے؟
- اجتہاد کا دائرہ: مولانا مودودی مقننہ کو کس حد تک آزادانہ اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں، اور اس کی اہلیت کس کے پاس ہے؟ کیا عام اکثریتی مقننہ (بمقابلہ تربیت یافتہ مجتہدین) خود مولانا کے اپنے فریم ورک سے ہم آہنگ ہے؟
- سیاست میں خواتین کا کردار: کتاب اسلامی ریاست میں خواتین کو کیا کردار دیتی ہے، اور مطالعاتی حلقہ اسے صنف اور سیاسی شرکت کے معاصر مباحث کی روشنی میں کیسے پرکھ سکتا ہے؟
- سرمایہ داری، اشتراکیت اور مولانا کا تصورِ عدلِ اجتماعی: کتاب کی سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں پر تنقید کا خلاصہ کریں۔ کیا اس کا متبادل (نجی ملکیت مع سخت اخلاقی و قانونی حدود) دوسرے دو نظاموں میں نشاندہی کردہ مسائل کو حل کرتا ہے، یا اسے بھی نفاذ اور تعریف کے اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے؟
- "مثالی دور": مولانا مودودی عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو کسی بھی اسلامی ریاست کے لیے معیار قرار دیتے ہیں۔ ایک جدید ریاست کو ساتویں صدی کے نمونے کے مطابق پرکھنے کے فوائد اور خطرات کیا ہیں؟
- تبدیلی کا طریقہ، بتدریج یا انقلابی: مولانا مودودی اقتدار حاصل کرنے سے پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی پر زور دیتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی بیسویں صدی کی دیگر اسلامی تحریکوں سے کس طرح مختلف ہے، اور کیا یہ عملاً کامیاب رہی — مثلاً پاکستان میں خود جماعتِ اسلامی کے سفر میں؟
- آج کی معنویت: چونکہ یہ کتاب بیسویں صدی کے وسط میں پاکستان کے قیام کے مخصوص تناظر میں مرتب کی گئی، اس کے کون سے دلائل آپ کے خیال میں کسی بھی جدید مسلم اکثریتی ریاست کے لیے آج بھی متعلقہ ہیں، اور کون سے اس مخصوص لمحے تک محدود یا پرانے محسوس ہوتے ہیں؟
اِستدراک
اس مضمون کی اشاعت کے بعد متعدد اصحاب نے اس شبہے کا اظہار کیا کہ ’اسلامی جماعت‘ کو ’قوم‘ کے بجائے پارٹی کہنے سے اس امر کی گنجائش نکلتی ہے کہ وہ کسی وطنی قومیت کی جز بن کر رہے۔ جس طرح ایک قوم میں مختلف سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں اور اپنا الگ الگ مسلک رکھنے کے باوجود سب کی سب اس بڑے مجموعے میں شامل رہتی ہیں جس کو’قوم‘ کہا جاتا ہے‘ اسی طرح اگر مسلمان ایک پارٹی ہیں تو وہ بھی اپنے وطن کی قوم کا ایک جز بن کر رہ سکتے ہیں۔
چونکہ جماعت یا پارٹی کے لفظ کو عام طور پر لوگ سیاسی یا پولیٹیکل پارٹی کے معنی میں لیتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ غلط فہمی پیدا ہوئی جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن یہ اس لفظ کا اصلی مفہوم نہیں ہے بلکہ ایک خاص معنی میں بکثرت استعمال ہونے سے پیدا ہوگیا ہے۔ اصلی مفہوم اس لفظ کا یہ ہے کہ جو لوگ ایک مخصوص عقیدے‘ نظریے‘ مسلک اور مقصد پر مجتمع ہوں وہ ایک جماعت ہیں۔ اس معنی میں قرآن نے ’حزب‘ اور ’امت‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں‘ اور اسی معنی میں ’جماعت‘ کا لفظ احادیث اور آثار میں مستعمل ہوا ہے اور یہی مفہوم ’پارٹی‘ کا بھی ہے۔
اب ایک جماعت تو وہ ہوتی ہے جس کے پیشِ نظر ایک قوم یا ملک کے مخصوص حالات کے لحاظ سے، سیاسی تدبیر کا ایک خاص نظریہ اور پروگرام ہوتا ہے۔ اس قسم کی جماعت محض ایک سیاسی جماعت ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اس قوم کا جز بن کر کام کرسکتی ہے اور کرتی ہے جس میں وہ پیدا ہو۔
دوسری جماعت وہ ہوتی ہے جو ایک کلی نظریے اور جہانی تصور (world idea)لے کر اٹھتی ہے۔ جس کے سامنے تمام بنی نوع انسانی کے لیے بلا لحاظ قوم و وطن ایک عالم گیر مسلک ہوتا ہے، جو پوری زندگی کی تشکیل و تعمیر ایک نئے ڈھنگ پر کرنا چاہتی ہے۔ جس کا نظریہ و مسلک‘ عقائد و افکار اور اصول اخلاق سے لے کر انفرادی برتائو اور اجتماعی نظام کی تفصیلات تک ہر چیز کو اپنے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ جو ایک مستقل تہذیب اور ایک مخصوص تمدن (civilisation) کو وجود میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ جماعت بھی اگرچہ حقیقت میں ایک جماعت ہی ہوتی ہے‘ لیکن یہ اس قسم کی جماعت نہیں ہوتی جو کسی قوم کا جز بن کر کام کر سکتی ہو۔ یہ محدود قومیتوں سے بالا تر ہوتی ہے۔ اس کا تو مشن ہی یہ ہوتا ہے کہ ان نسلی و روایتی تعصبات کو توڑ دے جن پر دنیا میں مختلف قومیتیں بنتی ہیں۔ پھر یہ خود اپنے آپ کو کس طرح ان قومیتوں کے ساتھ وابستہ کرسکتی ہے؟ یہ نسلی و تاریخی قومیتوں کے بجائے ایک عقلی قومیت (rational nationality)بناتی ہے۔ جامد قومیتوں کی جگہ ایک نامی قومیت (expanding nationality)بناتی ہے۔ یہ خود ایک ایسی قومیت بنتی ہے جو عقلی و تہذیبی وحدت کی بنیاد پر روئے زمین کی پوری آبادی کو اپنے دائرے میں لینے کے لیے تیار ہوتی ہے، لیکن ایک قومیت بننے کے باوجود حقیقت میں یہ ایک جماعت ہی رہتی ہے کیونکہ اس میں شامل ہونے کا مدار پیدائش پر نہیں ہوتا، بلکہ اس نظریے و مسلک کی پیروی پر ہوتا ہے جس کی بنیاد پر یہ جماعت بنی ہے۔
مسلمان دراصل اسی دوسری قسم کی جماعت کا نام ہے۔ یہ اس قسم کی پارٹی نہیں ہے جیسی پارٹیاں ایک قوم میں بنا کرتی ہیں، بلکہ یہ اس قسم کی پارٹی ہے جو ایک مستقل نظام تہذیب و تمدن (civilisation)بنانے کے لیے اٹھتی ہے، اور چھوٹی چھوٹی قومیتوں کی تنگ سرحدوں کو توڑ کر عقلی بنیادوں پر ایک بڑی جہانی قومیت (world nationality)بنانا چاہتی ہے۔ اس کو ’قوم‘ کہنا اس لحاظ سے یقیناً درست ہوگا کہ یہ اپنے آپ کو دنیا کی نسلی یا تاریخی قومیتوں میں سے کسی قومیت کے ساتھ بھی باعتبار جذبات وابستہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی، بلکہ اپنے نظریۂ حیات اور فلسفۂ اجتماعی (social philosophy)کے مطابق خود اپنی تہذیب و مدنیت کی عمارت الگ بناتی ہے، لیکن اس معنی کے لحاظ سے ’قوم‘ ہونے کے باوجود یہ حقیقت میں ’جماعت‘ ہی رہتی ہے کیونکہ محض اتفاقی پیدائش (mere accident of birth)کسی شخص کو اس قوم کا ممبر نہیں بناسکتی، جب تک کہ وہ اس کے مسلک کا معتقد اور پیرو نہ ہو، اور اسی طرح کسی شخص کا کسی دوسری قوم میں پیدا ہونا اس کے لیے اس امر میں مانع بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنی قوم سے نکل کر اس قوم میں داخل ہوجائے جب کہ وہ اس کے مسلک پر ایمان لانے کے لیے تیار ہو۔ پس جو کچھ میں نے کہا ہے اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ مسلم قوم کی قومیت اس کے ایک جماعت یا پارٹی ہونے ہی کی بنا پر قائم ہے۔ جماعتی حیثیت جڑ کا حکم رکھتی ہے اور قومی حیثیت اس کی فرع ہے۔ اگر جماعتی حیثیت کو اس سے الگ کرلیا جائے اور یہ مجرد ایک قوم بن کر رہ جائے تو یہ اس کا تنزل (degeneration)ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانی اجتماعات کی تاریخ میں اسلامی جماعت کی حیثیت بالکل نرالی اور انوکھی واقع ہوئی ہے۔ اسلام سے پہلے بدھ مت اور مسیحیت نے قومیتوں کے حدود کو توڑ کر تمام عالم انسانی کو خطاب کیا اور ایک نظریے و مسلک کی بنیاد پر عالم گیر برادری بنانے کی کوشش کی، مگر ان دونوں مسلکوں کے پاس چند اخلاقی اصولوں کے سوا کوئی ایسا اجتماعی فلسفہ نہ تھا جس کی بنیاد پر یہ تہذیب و تمدن کا کوئی کلی نظام بنا سکتے۔ اس لیے یہ دونوں مسلک کوئی عالم گیر قومیت نہ بنا سکے، بلکہ ایک طرح کی برادری (brotherhood)بنا کر رہ گئے۔ اسلام کے بعد مغرب کی سائنٹیفک تہذیب اٹھی‘ جس نے اپنے خطاب کو بین الاقوامی بنانا چاہا‘ مگر اول یوم پیدائش سے اس پر نیشنلزم کا بھوت سوار ہوگیا، لہٰذا یہ بھی عالم گیر قومیت بنانے میں ناکام ہوئی۔ اب مار کسی اشتراکیت آگے بڑھی ہے اور قومیتوں کی حدوں کو توڑ کر جہانی تصور کی بنیاد پر ایک ایسی تہذیب وجود میں لانا چاہتی ہے جو عالم گیر ہو، لیکن چونکہ ابھی تک وہ نئی تہذیب پوری طرح وجود میں نہیں آئی ہے‘ جو اس کے پیش نظر ہے‘ اس لیے ابھی تک مارکسیت بھی ایک عالم گیر قومیت میں تبدیل نہیں ہو سکی ہے۔۷۹؎ اس وقت تک میدان میں تنہا اسلام ہی ایک ایسا نظریہ و مسلک ہے جو نسلی اور تاریخی قومیتوں کو توڑ کر تہذیبی بنیادوں پر ایک عالم گیر قومیت بناتا ہے‘ لہٰذا جو لوگ اسلام کی اسپرٹ سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک ہی اجتماعی ہیئت کس طرح بیک وقت قوم بھی اور پارٹی بھی ہوسکتی ہے۔ وہ دنیا کی جتنی قوموں کو جانتے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں ہے جس کے ارکان پیدا نہ ہوتے ہوں، بلکہ بنتے ہوں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ جو شخص اٹالین پیدا ہوا ہے وہ اٹالین قومیت کا رکن ہے، اور جو اٹالین پیدا نہیں ہوا وہ کسی طرح اٹالین نہیں بن سکتا۔ ایسی کسی قومیت سے وہ واقف نہیں ہیں جس کے اندر آدمی اعتقاد اور مسلک کی بنا پر داخل ہوتا ہو‘ اور اعتقاد و مسلک کے بدل جانے پر اس سے خارج ہو جاتا ہو۔ ان کے نزدیک یہ صفت ایک قوم کی نہیں بلکہ ایک پارٹی کی ہوسکتی ہے، مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ یہ نرالی پارٹی اپنی الگ تہذیب بناتی ہے‘ اپنی مستقل قومیت کا اِدّعا کرتی ہے اور کسی جگہ بھی مقامی قومیت کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرنے پر راضی نہیں ہوتی تو ان کے لیے یہ معاملہ ایک چیستان بن کر رہ جاتا ہے۔
یہی نافہمی غیر مسلموں کی طرح مسلمانوں کو بھی پیش آرہی ہے۔ مدتوں سے غیر اسلامی تعلیم و تربیت پاتے رہنے اور غیر اسلامی ماحول میں زندگی گزارنے کی وجہ سے ان کے اندر ’تاریخی قومیت‘ کا جاہلی تصور پیدا ہوگیا ہے۔ یہ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ ہماری اصلی حیثیت ایک ایسی جماعت کی تھی جو دنیا میں ایک عالم گیر انقلاب برپا کرنے کے لیے وجود میں آئی تھی‘ جس کی زندگی کا مقصد اپنے نظریے کو دنیا میں پھیلانا تھا‘ جس کاکام دنیا کے غلط اجتماعی نظامات کو توڑ پھوڑ کر اپنے فلسفۂ اجتماعی کی بنیاد پر ایک اجتماعی نظام مرتب کرنا تھا۔ یہ سب کچھ بھول بھال کر انھوں نے اپنے آپ کو بس اسی قسم کی ایک قوم سمجھ لیا ہے جیسی اور بہت سی قومیں موجود ہیں۔ اب ان کی مجلسوں اور انجمنوں میں‘ ان کی کانفرنسوں اور جمعیتوں میں‘ ان کے اخباروں اور رسالوں میں‘ کہیں بھی ان کی اجتماعی زندگی کے اس مشن کا ذکر نہیں آتا، جس کے لیے ان کو دنیا بھر کی قوموں میں سے نکال کر ایک امت بنایا گیا تھا۔ اس مشن کے بجائے اب جو چیز ان کی تمام توجہات کا مرکز بنی ہوئی ہے‘ وہ ’مسلمانوں‘ کا مفاد ہے۔ مسلمانوں سے مراد وہ سب لوگ ہیں جو مسلمان ماں باپ کی نسل سے پیدا ہوئے ہیں‘ اور مفاد سے مراد اُن نسلی مسلمانوں کا مادی و سیاسی مفاد ہے یا بدرجۂ آخر اس کلچر کا تحفظ ہے جو اُن کو آبائی ورثے میں ملا ہے ____ اس مفاد کی حفاظت اور ترقی کے لیے جو تدبیر بھی کارگر ہو‘ اس کی طرف یہ دوڑ جاتے ہیں‘ بالکل اسی طرح جس طرح مسولینی ہر اس طریقے کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے جو اطالویوں کے مفاد کے لیے مناسب ہو۔ کسی اصول اور نظریے کا نہ وہ پابند ہے نہ یہ۔ وہ کہتا ہے کہ جو کچھ اطالویوں کے لیے مفید ہو‘ وہ حق ہے۔ یہی چیز ہے جس کو میں مسلمانوں کا تنزل کہتا ہوں‘ اور اسی تنزل کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے مجھے یہ یاد دلانے کی ضرورت پیش آئی ہے کہ تم نسلی اور تاریخی قوموں کی طرح ایک قوم نہیں ہو، بلکہ حقیقت میں ایک جماعت ہو‘ اور تمھاری نجات صرف اس چیز میں ہے کہ اپنے اندر جماعتی احساس (partysense)پیدا کرو۔
اس جماعتی احساس کے فقدان یا خود فراموشی کے برے نتائج اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے۔ یہ اسی بے حسی و خود فراموشی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان ہر رہ روکے پیچھے چلنے اور ہر نظریے اور مسلک کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے‘ خواہ وہ اسلام کے نظریے اور اس کے مقاصد اور اس کے اصولوں سے کتنا ہی ہٹا ہوا ہو۔ وہ نیشنلسٹ بھی بنتا ہے، کمیونسٹ بھی بن جاتا ہے۔ فاشستی اصول تسلیم کرنے میں بھی اسے کوئی تامل نہیں ہوتا، مغرب کے مختلف اجتماعی فلسفوں اور مابعد الطبیعی افکار اور علمی نظریات میں سے قریب قریب ہر ایک کے پیرو آپ کو مسلمانوں میں مل جائیں گے۔ دنیا کی کوئی سیاسی‘ اجتماعی یا تمدنی تحریک ایسی نہیں جس کے ساتھ کچھ نہ کچھ مسلمان شریک نہ ہوں اور لطف یہ ہے کہ یہ سب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں‘ سمجھتے ہیں اور سمجھے جاتے ہیں۔ ان مختلف راہوں پر بھٹکنے اور دوڑنے والوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ یاد نہیں آتا کہ’مسلمان‘ کوئی پیدائشی لقب نہیں ہے، بلکہ اسلام کی راہ پر چلنے والے کا اسم صفت ہے۔ جو شخص اسلام کی راہ سے ہٹ کر کسی دوسری راہ پر چلے‘ اس کو مسلمان کہنا اس لفظ کا بالکل غلط استعمال ہے۔مسلم نیشنلسٹ اور مسلم کمیونسٹ اور اسی قسم کی دوسری اصطلاحیں بالکل اسی طرح کی متناقض اصطلاحیں ہیں جس طرح ’کمیونسٹ مہاجن‘ اور’بدھسٹ قصائی‘ کی اصطلاحیں متناقض ہیں۔