مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلامی ریاست

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جس میں اسلام کو محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہ سمجھ کر، بلکہ زندگی کا ایک مکمل نظامِ حیات پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام کا نفاذ صرف وعظ و تبلیغ سے ممکن نہیں؛ بلکہ اس کے لیے سیاسی اقتدار اور ریاستی طاقت کا حصول ضروری ہے۔ مولانا مودودی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جدید دور کا سیکولر تصورِ ریاست، جو دین کو ذاتی معاملہ قرار دے کر سیاست سے الگ کرتا ہے، درحقیقت جاہلیت کے محدود تصورِ مذہب کی بازگشت ہے، جسے اسلام نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کتاب کی تدوین کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے نظریاتی اصولوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں منظم انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ نہ صرف علماء و طلبہ بلکہ عام مسلمان بھی اس نظام کی حقیقت سے آشنا ہو سکیں۔

کتاب کا آغاز دیباچے سے ہوتا ہے جس میں ناشر، مرتب اور مصنف کے تعارفی خیالات شامل ہیں۔ یہاں مولانا مودودی کی سیاسی جدوجہد، گرفتاریاں اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو مؤلف کے عملی تجربات کا ادراک ہو سکے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ یہ مضامین گذشتہ پچیس برسوں میں مختلف مواقع پر لکھے گئے تھے، جنہیں اب ادارۂ معارفِ اسلامی کے زیرِ اہتمام دو حصوں میں منظم کیا گیا ہے: پہلا حصہ نظری مباحث پر مشتمل ہے اور دوسرا پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق عملی مضامین پر۔

کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہے جنہیں موضوعاتی اعتبار سے کئی مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی ابواب (دین و سیاست، اسلام کا سیاسی نظریہ، قرآن کا فلسفۂ سیاست، معنیٔ خلافت، اسلامی تصورِ قومیت، اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ) اسلامی ریاست کے نظریاتی خدوخال—حاکمیتِ الٰہی، خلافت، قومیت اور قانون کے سرچشمے—کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرتے ہیں۔ اس کے بعد کے ابواب (اسلامی ریاست کی بنیادیں، اسلامی دستور کی بنیادیں، اسلامی ریاست کا مثالی دور، قانون سازی اور اجتہاد، چند دستوری و سیاسی مسائل) عملی سطح پر ریاست کی تشکیل، حکومت کے قیام کے طریقے، اجتہاد کے اصول اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کو موضوع بناتے ہیں۔ تین ابواب خصوصی طور پر حقوق کے مسئلے کے لیے وقف ہیں: انسان کے بنیادی حقوق، غیر مسلموں (ذمیوں) کے حقوق، اور عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور۔ آخری دو ابواب—اسلامی ریاست کے رہنما اصول اور اسلامی انقلاب کی راہ—اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایسا نظام کن اصولوں پر قائم ہو اور اسے پرامن، تدریجی اور جمہوری طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے، جس کے ضمن میں پاکستان کے اکتیس نامور علماء کے متفقہ دستوری فیصلے کا متن بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"اسلامی ریاست" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ ضخیم تصنیف ہے جو دراصل ایک نشست میں لکھی گئی کتاب نہیں بلکہ اسلامک پبلیکیشنز کی طرف سے مرتب کردہ ایک وسیع مجموعہ ہے، جس میں مولانا مودودی کی تقاریر، مضامین، انٹرویوز اور ان کی دیگر کتب (خصوصاً تفہیمات اور خلافت و ملوکیت) کے اقتباسات کو موضوعِ "اسلامی ریاست" کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتب خانے میں شامل مولانا کی تصانیف میں سب سے ضخیم کتاب ہے (312 ابواب، 16 بڑے حصوں پر مشتمل)، اور ان کے سیاسی فکر کا سب سے مربوط بیان سمجھی جاتی ہے۔

کتاب کی بنیادی دلیل سولہ ابواب میں اس ترتیب سے آگے بڑھتی ہے: (۱) سب سے پہلے اس نظریے کی تردید کی گئی ہے، جو جدیدیت پسند اور سیکولر قوم پرست دونوں طرح کے حلقوں میں مشترک ہے، کہ اسلام میں دین اور سیاست الگ الگ دائرے ہیں؛ (۲) اسلام کا سیاسی نظریہ پیش کیا گیا ہے، جس کی بنیاد یہ دعویٰ ہے کہ ہر نبی کا مشن دراصل انسانوں کی ناجائز حاکمیت کے خلاف دعوت تھا؛ (۳) قرآن کے فلسفہ سیاست کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۴) خلافت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے — یعنی انسان، اور خاص طور پر اہلِ ایمان کی جماعت، اللہ کے قانون کے تحت ایک تفویض شدہ اختیار استعمال کرتی ہے، اپنی خودمختار حیثیت میں حکومت نہیں کرتی؛ (۵) نسل، زبان یا علاقے کی بجائے عقیدے پر مبنی ایک مخصوص اسلامی تصورِ قومیت پیش کیا گیا ہے؛ (۶) اسلامی دستوری قانون کے مآخذ — قرآن، سنت، خلافتِ راشدہ کا تعامل، اور بعد کے مجتہدین کے فیصلے — کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۷-۸) اسلامی ریاست اور دستور کی بنیادیں بیان کی گئی ہیں، جہاں مولانا نے مشہور اصطلاح "الٰہی جمہوریت" وضع کی — ایسا نظامِ حکومت جو نہ پاپائیت ہے نہ مغربی سیکولر جمہوریت، بلکہ ایسی ریاست ہے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے جبکہ روزمرہ انتظام مشاورت، شوریٰ اور وقتاً فوقتاً حکمرانوں کے انتخاب کے ذریعے خود امت انجام دیتی ہے؛ (۹) عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو اسلامی ریاست کے "مثالی دور" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کی روشنی میں کسی بھی مدعیٔ اسلامی ریاست کو پرکھا جانا چاہیے؛ (۱۰) قانون سازی اور اجتہاد کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے — کہ انسانی مقننہ وحی کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آزادانہ اجتہاد کر سکتی ہے؛ (۱۱-۱۲) چند دستوری اور سیاسی مسائل (سیاست میں خواتین کا کردار، ارتداد کی سزا، جنگ اور غلامی کے احکام، صدرِ ریاست کا حقِ ویٹو) پر بحث کے بعد ایک پورا باب انسان کے بنیادی حقوق کے لیے وقف کیا گیا ہے — حقِ زندگی، کمزوروں کا تحفظ، عزت، معاشی تحفظ، آزادیٔ اظہار و ضمیر، ظلم کے خلاف احتجاج — جنہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ اور اس لیے خود ریاست کے لیے بھی ناقابلِ سلب قرار دیا گیا ہے؛ (۱۳) غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کے حقوق و حیثیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے — جان، مال، عبادت کی آزادی، فوجی خدمت سے استثنا، جزیہ — تاہم انہیں جدید معنوں میں "برابر شہری" کی بجائے ایک الگ قانونی درجہ دیا گیا ہے؛ (۱۴) اسلام کے تصورِ عدلِ اجتماعی کا سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے موازنہ کیا گیا ہے، اور یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام نجی ملکیت اور انفرادی کاروبار کی اجازت دیتا ہے مگر دولت کے حصول اور استعمال پر اخلاقی و قانونی حدود عائد کرتا ہے؛ (۱۵) اسلامی ریاست کے رہنما اصول دوبارہ مرتب کیے گئے ہیں؛ اور (۱۶) آخر میں مولانا نے اپنا یہ نقطۂ نظر بیان کیا ہے کہ اسلامی انقلاب دراصل کیسے برپا ہونا چاہیے — بتدریج، پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی کے ذریعے، نہ کہ اقتدار پر اچانک قبضے سے — اور اس ضمن میں 1951ء کا وہ اتفاقِ رائے شامل کیا گیا ہے جس پر پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے 31 علماء نے اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کے طور پر اتفاق کیا تھا۔

اہمیت۔ یہ کتاب (اور جس فکری سرمائے سے یہ مرتب کی گئی ہے) جماعتِ اسلامی کے سیاسی پروگرام کی اساس اور بیسویں صدی میں اسلام اور جدید ریاست کے تعلق پر ہونے والی بحث کی سب سے اہم دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔ مولانا کی اصطلاحات — حاکمیت، "الٰہی جمہوریت"، اور خلافت کا از سرِ نو تعین بطور اجتماعی امانت نہ کہ کسی ایک حکمران کا ذاتی منصب — نے پاکستان کے دستوری مباحث (اور بعد ازاں، فقہی اختلافات کے باوجود، ایران کے انقلابی گفتگو) میں استعمال ہونے والی وہ زبان فراہم کی جس کے ذریعے جدید قومی ریاست میں اسلام کے مقام پر بحث کی گئی۔ کتاب کے آخری باب میں شامل 1951ء کا علماء اتفاقِ رائے، پاکستان کی ابتدائی دستور سازی میں "قراردادِ مقاصد" پر ہونے والی بحث پر براہِ راست اثرانداز ہوا۔

تنقیدی جائزہ۔ ایک محقق کی حیثیت سے اس کتاب کو پڑھنے کا تقاضا ہے کہ اسے محض اس کے اپنے موقف تک محدود نہ رکھا جائے۔ سید ولی رضا نصر اور چارلس ایڈمز جیسے محققین، جنہوں نے مولانا مودودی کے سیاسی فکر پر سب سے تفصیلی علمی مطالعے کیے ہیں، کا موقف ہے کہ ان کا نظریہ روایتی زبان میں لپٹی ہوئی ایک حقیقی جدید تشکیل ہے: قدیم فقہ سیاسیہ کی روایت "حاکمیت" کو اس طرح کسی ایک بنیادی تصور کے گرد مرتب نہیں کرتی جیسا مولانا مودودی نے کیا — یہ طرزِ استدلال جتنا کلاسیکی فقہ سے ماخوذ ہے، اتنا ہی مغرب میں مقبول عوامی حاکمیت کے تصور کے خلاف ردعمل سے بھی متاثر ہے، جس کی مولانا واضح طور پر تردید کر رہے ہیں۔ ناقدین نے کتاب کے حقوق سے متعلق ابواب میں ایک اندرونی تناؤ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے: ایک باب میں شہریوں کے لیے وسیع "بنیادی حقوق" کا اثبات کیا گیا ہے، جبکہ اگلے باب میں غیر مسلم باشندوں کو ایک الگ قانونی درجے (ذمی) میں رکھا گیا ہے جس میں سیاسی حقوق محدود ہیں (مثلاً منصبِ سربراہِ مملکت یا مکمل قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا) — حقوق کی آفاقی زبان اور شہریت کے مخصوص نظریے کے مابین یہ تناؤ بعد کے محققین، بشمول خود اسلامی فکر کی روایت کے اندر، زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ روایتی علماء کی جانب سے مولانا کے خلافت کو ایک اجتماعی/عوامی منصب کے طور پر (بجائے ایک متعین خلیفہ کے) نئے سرے سے متعین کرنے پر، اور محض عام مسلمانوں کی اکثریتی مقننہ کو اجتہاد کے وسیع اختیارات دینے پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ مطالعاتی حلقے کو چاہیے کہ اس کتاب کے دستوری نظریے کو صرف اس کے اپنے منطقی فریم ورک میں نہیں بلکہ ان تنقیدوں کی روشنی میں بھی پڑھے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. دین اور سیاست: مولانا مودودی دین اور سیاست کی علیحدگی کو رد کرتے ہیں۔ اس تفریق کے حق میں سب سے مضبوط دلائل کیا ہو سکتے ہیں، اور کتاب ان کا کیا جواب دیتی ہے؟ کیا آپ کو یہ جواب مطمئن کن لگتا ہے؟
  2. حاکمیتِ الٰہی بمقابلہ عوامی حاکمیت: مولانا مودودی جائز حکومت کی بنیاد عوام کی مرضی کی بجائے اللہ کی حاکمیت پر رکھتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر جدید جمہوری نظریے — کہ سیاسی اختیار عوام کی رضامندی سے حاصل ہوتا ہے — سے کس طرح مختلف ہے، اور اس سے کیا تناؤ پیدا ہوتا ہے؟
  3. "الٰہی جمہوریت": کیا یہ ایک مفید تیسری قسم ہے، یا تفصیل میں جانے پر یہ پاپائیت یا جمہوریت میں سے کسی ایک میں ضم ہو جاتی ہے؟ ایک حقیقی "الٰہی جمہوری" ریاست کو کسی مذہبی سیاسی جماعت کی محض حکمرانی سے کیا چیز ممتاز کرے گی؟
  4. خلافت کی از سرِ نو تعریف: مولانا مودودی خلافت کو ایک ہی خلیفہ کی بجائے پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی امانت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ تصور خلافت کی روایتی/کلاسیکی تفہیم سے کس طرح مختلف ہے، اور روایتی علماء نے اس پر کیا اعتراضات کیے؟
  5. غیر مسلم شہریوں کے حقوق: کتاب ذمیوں کے لیے وسیع تحفظات (جان، مال، عبادت، ٹیکس میں رعایت) کا اثبات کرتی ہے مگر انہیں مسلم شہریوں سے الگ قانونی درجے میں رکھتی ہے۔ اس اور کتاب کے اپنے باب "بنیادی حقوق" کی زیادہ آفاقی زبان کے مابین تناؤ پر بحث کریں۔ یہ فریم ورک ایک جدید کثیر المذاہب قومی ریاست میں کس طرح کام کرے گا؟
  6. بنیادی حقوق بمقابلہ بین الاقوامی انسانی حقوق: کتاب کے باب "بنیادی حقوق" میں درج حقوق کا جدید انسانی حقوق کے فریم ورک (مثلاً اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ) سے موازنہ کریں۔ کہاں مشترکات ہیں اور کہاں — بالخصوص مذہب یا جنس سے قطع نظر مساوات کے معاملے میں — اختلاف ہے؟
  7. اجتہاد کا دائرہ: مولانا مودودی مقننہ کو کس حد تک آزادانہ اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں، اور اس کی اہلیت کس کے پاس ہے؟ کیا عام اکثریتی مقننہ (بمقابلہ تربیت یافتہ مجتہدین) خود مولانا کے اپنے فریم ورک سے ہم آہنگ ہے؟
  8. سیاست میں خواتین کا کردار: کتاب اسلامی ریاست میں خواتین کو کیا کردار دیتی ہے، اور مطالعاتی حلقہ اسے صنف اور سیاسی شرکت کے معاصر مباحث کی روشنی میں کیسے پرکھ سکتا ہے؟
  9. سرمایہ داری، اشتراکیت اور مولانا کا تصورِ عدلِ اجتماعی: کتاب کی سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں پر تنقید کا خلاصہ کریں۔ کیا اس کا متبادل (نجی ملکیت مع سخت اخلاقی و قانونی حدود) دوسرے دو نظاموں میں نشاندہی کردہ مسائل کو حل کرتا ہے، یا اسے بھی نفاذ اور تعریف کے اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے؟
  10. "مثالی دور": مولانا مودودی عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو کسی بھی اسلامی ریاست کے لیے معیار قرار دیتے ہیں۔ ایک جدید ریاست کو ساتویں صدی کے نمونے کے مطابق پرکھنے کے فوائد اور خطرات کیا ہیں؟
  11. تبدیلی کا طریقہ، بتدریج یا انقلابی: مولانا مودودی اقتدار حاصل کرنے سے پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی پر زور دیتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی بیسویں صدی کی دیگر اسلامی تحریکوں سے کس طرح مختلف ہے، اور کیا یہ عملاً کامیاب رہی — مثلاً پاکستان میں خود جماعتِ اسلامی کے سفر میں؟
  12. آج کی معنویت: چونکہ یہ کتاب بیسویں صدی کے وسط میں پاکستان کے قیام کے مخصوص تناظر میں مرتب کی گئی، اس کے کون سے دلائل آپ کے خیال میں کسی بھی جدید مسلم اکثریتی ریاست کے لیے آج بھی متعلقہ ہیں، اور کون سے اس مخصوص لمحے تک محدود یا پرانے محسوس ہوتے ہیں؟

دفاع اور اصولِ جنگ و صلح

اسلامی حکومت کی پالیسی کی ایک بنیاد یہ بھی ہے کہ وہ ہر اعتبار سے مضبوط ہو۔ عسکری اعتبار سے بھی اور معاشی اعتبار سے بھی۔ جو عظیم ذمے داری اسے ادا کرنی ہے وہ دفاعی قوت کی تیاری کے بغیر ادا نہیں ہوسکتی:

(الف) <<وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْـتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّاللہِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ۝۰ۚ لَا تَعْلَمُوْنَہُمْ۝۰ۚ اَللہُ يَعْلَمُہُمْ۝۰ۭ>> الانفال60:8

اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے‘ زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعدا کو خوف زدہ کردو جنھیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔

اس سے مطلب یہ ہے کہ تمھارے پاس سامان جنگ اور ایک مستقل فوج (standing army) ہر وقت تیار رہنی چاہیے تاکہ بوقت ضرورت فوراً جنگی کارروائی کرسکو۔ یہ نہ ہو کہ خطرہ سر پر آنے کے بعد گھبراہٹ میں جلدی جلدی رضاکار اور اسلحہ اورسامانِ رسد جمع کرنے کی کوشش کی جائے اور اس اثنا میں کہ یہ تیاری مکمل ہو‘ دشمن اپنا کام کر جائے۔ [تفہیم القرآن، ج۲،۔ ص۱۵۵۔۱۵۶، ح۴۴]

(ب) <<اِنَّمَا جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا اَوْ يُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُـقَطَّعَ اَيْدِيْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ۝۰ۭ ذٰلِكَ لَہُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَہُمْ فِي الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِيْمٌo>> المائدہ 33:5

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں‘ یا سولی چڑھائے جائیں‘ یا اُن کے ہاتھ اور پائوں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں‘ یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں۔ یہ ذلت و رسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے اس سے بڑی سزا ہے۔

زمین سے مراد یہاں وہ ملک یا وہ علاقہ ہے جس میں امن و انتظام قائم کرنے کی ذمے داری اسلامی حکومت نے لے رکھی ہو اور خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کا مطلب اس نظامِ صالح کے خلاف جنگ کرنا ہے جو اسلام کی حکومت نے ملک میں قائم کر رکھا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہے اور اسی لیے اس نے اپنا رسولؐ بھیجا تھا کہ زمین میں ایک ایسا صالح نظام قائم ہو جو انسان اور حیوان اور درخت اور ہر اس چیز کو جو زمین پر ہے امن بخشے‘ جس کے تحت انسانیت اپنی فطرت کے کمال مطلوب کو پہنچ سکے‘ جس کے تحت زمین کے وسائل اس طرح استعمال کیے جائیں کہ وہ انسان کی ترقی میں مددگار ہوں نہ کہ اس کی تباہی و بربادی میں۔ ایسا نظام جب کسی سرزمین میں قائم ہوجائے تو اس کو خراب کرنے کی سعی کرنا‘ قطع نظر اس سے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر قتل و غارت اور راہ زنی و ڈکیتی کی حد تک ہو یا بڑے پیمانے پر اس صالح نظام کو الٹنے اور اس کی جگہ کوئی فاسد نظام قائم کردینے کے لیے ہو‘ دراصل خدا اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تعزیرات ہند میں ہر اس شخص کو جو ہندستان کی برطانوی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے ’بادشاہ کے خلاف لڑائی‘ (waging war against the king)کامجرم قرار دیا گیا‘ چاہے اس کی کارروائی ملک کے کسی دور دراز گوشے میں ایک معمولی سپاہی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، اور بادشاہ اس کی دست رس سے کتنا ہی دور ہو۔

اس آیت میں مختلف سزائیں برسبیل اجمال بیان کر دی گئی ہیں تاکہ قاضی یا امام وقت اپنے اجتہاد سے ہر مجرم کو اس کے جرم کی نوعیت کے مطابق سزا دے۔ اصل مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ کسی شخص کا اسلامی حکومت کے اندر رہتے ہوئے اسلامی نظام کو الٹنے کی کوشش کرنا بدترین جرم ہے اور اسے ان انتہائی سزائوں میں سے کوئی سزا دی جاسکتی ہے۔ [تفہیم القرآن ج ا، ص۴۶۵۔حاشیہ ۵۵۔۵۶]

<<قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَۃَ عَنْ يَّدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوْنَo>> التوبۃ 29:9

جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسولؐ نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے‘ اور دینِ حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔

یہاں ان لوگوں سے جنگ کی اجازت دی گئی ہے جو اس شریعت کو اپنا قانون زندگی نہیں بناتے جو اللہ نے اپنے رسولؐ کے ذریعے سے نازل کی ہے۔لڑائی کی غایت یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان لے آئیں اور دینِ حق کے پیرو بن جائیں بلکہ اس کی غایت یہ ہے کہ ان کی خود مختاری اور بالادستی ختم ہو جائے۔ وہ زمین میں حاکم اور صاحب امر بن کر نہ رہیں بلکہ زمین کے نظامِ زندگی کی باگیں اور فرماں روائی اور امامت کے اختیارات متبعین دین حق کے ہاتھوں میں ہوں اور وہ ان کے ماتحت‘ تابع و مطیع بن کر رہیں۔

جزیہ بدل ہے اس امان اور اس حفاظت کا جو ذمیوں کو اسلامی حکومت میں عطا کی جائے گی۔ نیز وہ علامت ہے اس امر کی کہ یہ لوگ تابع امر بننے پر راضی ہیں۔’ہاتھ سے جزیہ دینے‘ کا مفہوم سیدھی طرح مطیعانہ شان کے ساتھ جزیہ ادا کرنا ہے اور ’چھوٹے بن کر رہنے‘ کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں بڑے وہ نہ ہوں‘ بلکہ وہ اہل ایمان بڑے ہوں جو خلافت ِ الٰہی کا فرض انجام دے رہے ہوں۔

ابتداء ً یہ حکم یہود و نصاریٰ کے متعلق دیا گیا تھا لیکن آگے چل کر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوس سے جزیہ لے کر انھیں ذمی بنایا۔ اس کے بعد صحابہ کرامؓ نے بالاتفاق بیرونِ عرب کی تمام قوموں پر اس حکم کو عام کر دیا۔

یہ جزیہ وہ چیز ہے جس کے لیے بڑی بڑی معذرتیں انیسویں صدی عیسوی کے دور مُذلّت میں مسلمانوں کی طرف سے پیش کی گئی ہیں اور اس دور کی یادگار کچھ لوگ اب بھی موجود ہیں جو صفائی دینے میں لگے ہوئے ہیں، لیکن خدا کا دین اس سے بہت بالاو برتر ہے کہ اسے خدا کے باغیوں کے سامنے معذرت پیش کرنے کی کوئی حاجت ہو۔ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ جو لوگ خدا کے دین کو اختیار نہیں کرتے اور اپنی یا دوسروں کی نکالی ہوئی غلط راہ پر چلتے ہیں وہ حد سے حد بس اتنی ہی آزادی کے مستحق ہیں کہ خود جو غلطی کرنا چاہتے ہیں کریں‘ لیکن انھیں اس کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے کہ خدا کی زمین پر کسی جگہ بھی اقتدار و فرماں روائی کی باگیں ان کے ہاتھوں میں ہوں اور وہ انسانوں کی اجتماعی زندگی کا نظام اپنی گمراہیوں کے مطابق قائم کریں اور چلائیں۔ یہ چیز جہاں کہیں ان کو حاصل ہوگی‘ فساد رونما ہوگا اور اہلِ ایمان کا فرض ہوگا کہ ان کو اس سے بے دخل کرنے اور انھیں نظام صالح کا مطیع بنانے کی کوشش کریں۔

اب رہا یہ سوال کہ یہ جزیہ آخر کس چیز کی قیمت ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اس آزادی کی قیمت ہے جو انھیں اسلامی اقتدار کے تحت اپنی گمراہیوں پر قائم رہنے کے لیے دینی پڑتی ہے اور اس قیمت کو اس صالح نظام حکومت کے نظم و نسق پر صرف ہونا چاہیے جو انھیں اس آزادی کے استعمال کی اجازت دیتا ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ جزیہ ادا کرتے وقت ہر سال ذمیوں میں یہ احساس تازہ ہوتا رہے گا کہ خدا کی راہ میں زکوٰۃ دینے کے شرف سے محرومی اور اس کے بجائے گمراہیوں پر قائم رہنے کی قیمت ادا کرنا کتنی بڑی بدقسمتی ہے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ [تفہیم القرآن،ج۲،ص ۱۸۸،ح۲۷۔۲۸]

(د) <<اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْہِمْ۝۰ۚ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo>> المائدہ34:5

مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پائو_____ تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

یعنی اگر وہ سعی فساد سے باز آگئے ہوں اور صالح نظام کو درہم برہم کرنے یا الٹنے کی کوشش چھوڑ چکے ہوں اور ان کا بعد کا طرز عمل ثابت کر رہا ہو کہ وہ امن پسند، مطیع قانون اور نیک چلن انسان بن چکے ہیں اور اس کے بعد ان کے سابق جرائم کا پتہ چلے تو ان سزائوں میں سے کوئی سزا ان کو نہ دی جائے گی جو اوپر بیان ہوئی ہیں‘ البتہ آدمیوں کے حقوق پر کوئی دست درازی اگر انھوں نے کی تھی تو اس کی ذمے داری ان پر سے ساقط نہ ہوگی مثلاً: اگر کسی انسان کو انھوں نے قتل کیا تھا، یا کسی کا مال لیا تھا، یا کوئی اور جرم انسانی جان و مال کے خلاف کیا تھا تو اسی جرم کے بارے میں فوج داری مقدمہ ان پر قائم کیا جائے گا لیکن بغاوت اور غداری اور خدا اور رسولؐ کے خلاف محاربہ کا کوئی مقدمہ نہ چلایا جائے گا۔ [ تفہیم القرآن ،ج۱،ص ۴۶۶۔ح۵۷]