اسلامی ریاست
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جس میں اسلام کو محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہ سمجھ کر، بلکہ زندگی کا ایک مکمل نظامِ حیات پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام کا نفاذ صرف وعظ و تبلیغ سے ممکن نہیں؛ بلکہ اس کے لیے سیاسی اقتدار اور ریاستی طاقت کا حصول ضروری ہے۔ مولانا مودودی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جدید دور کا سیکولر تصورِ ریاست، جو دین کو ذاتی معاملہ قرار دے کر سیاست سے الگ کرتا ہے، درحقیقت جاہلیت کے محدود تصورِ مذہب کی بازگشت ہے، جسے اسلام نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کتاب کی تدوین کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے نظریاتی اصولوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں منظم انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ نہ صرف علماء و طلبہ بلکہ عام مسلمان بھی اس نظام کی حقیقت سے آشنا ہو سکیں۔
کتاب کا آغاز دیباچے سے ہوتا ہے جس میں ناشر، مرتب اور مصنف کے تعارفی خیالات شامل ہیں۔ یہاں مولانا مودودی کی سیاسی جدوجہد، گرفتاریاں اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو مؤلف کے عملی تجربات کا ادراک ہو سکے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ یہ مضامین گذشتہ پچیس برسوں میں مختلف مواقع پر لکھے گئے تھے، جنہیں اب ادارۂ معارفِ اسلامی کے زیرِ اہتمام دو حصوں میں منظم کیا گیا ہے: پہلا حصہ نظری مباحث پر مشتمل ہے اور دوسرا پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق عملی مضامین پر۔
کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہے جنہیں موضوعاتی اعتبار سے کئی مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی ابواب (دین و سیاست، اسلام کا سیاسی نظریہ، قرآن کا فلسفۂ سیاست، معنیٔ خلافت، اسلامی تصورِ قومیت، اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ) اسلامی ریاست کے نظریاتی خدوخال—حاکمیتِ الٰہی، خلافت، قومیت اور قانون کے سرچشمے—کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرتے ہیں۔ اس کے بعد کے ابواب (اسلامی ریاست کی بنیادیں، اسلامی دستور کی بنیادیں، اسلامی ریاست کا مثالی دور، قانون سازی اور اجتہاد، چند دستوری و سیاسی مسائل) عملی سطح پر ریاست کی تشکیل، حکومت کے قیام کے طریقے، اجتہاد کے اصول اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کو موضوع بناتے ہیں۔ تین ابواب خصوصی طور پر حقوق کے مسئلے کے لیے وقف ہیں: انسان کے بنیادی حقوق، غیر مسلموں (ذمیوں) کے حقوق، اور عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور۔ آخری دو ابواب—اسلامی ریاست کے رہنما اصول اور اسلامی انقلاب کی راہ—اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایسا نظام کن اصولوں پر قائم ہو اور اسے پرامن، تدریجی اور جمہوری طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے، جس کے ضمن میں پاکستان کے اکتیس نامور علماء کے متفقہ دستوری فیصلے کا متن بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"اسلامی ریاست" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ ضخیم تصنیف ہے جو دراصل ایک نشست میں لکھی گئی کتاب نہیں بلکہ اسلامک پبلیکیشنز کی طرف سے مرتب کردہ ایک وسیع مجموعہ ہے، جس میں مولانا مودودی کی تقاریر، مضامین، انٹرویوز اور ان کی دیگر کتب (خصوصاً تفہیمات اور خلافت و ملوکیت) کے اقتباسات کو موضوعِ "اسلامی ریاست" کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتب خانے میں شامل مولانا کی تصانیف میں سب سے ضخیم کتاب ہے (312 ابواب، 16 بڑے حصوں پر مشتمل)، اور ان کے سیاسی فکر کا سب سے مربوط بیان سمجھی جاتی ہے۔
کتاب کی بنیادی دلیل سولہ ابواب میں اس ترتیب سے آگے بڑھتی ہے: (۱) سب سے پہلے اس نظریے کی تردید کی گئی ہے، جو جدیدیت پسند اور سیکولر قوم پرست دونوں طرح کے حلقوں میں مشترک ہے، کہ اسلام میں دین اور سیاست الگ الگ دائرے ہیں؛ (۲) اسلام کا سیاسی نظریہ پیش کیا گیا ہے، جس کی بنیاد یہ دعویٰ ہے کہ ہر نبی کا مشن دراصل انسانوں کی ناجائز حاکمیت کے خلاف دعوت تھا؛ (۳) قرآن کے فلسفہ سیاست کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۴) خلافت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے — یعنی انسان، اور خاص طور پر اہلِ ایمان کی جماعت، اللہ کے قانون کے تحت ایک تفویض شدہ اختیار استعمال کرتی ہے، اپنی خودمختار حیثیت میں حکومت نہیں کرتی؛ (۵) نسل، زبان یا علاقے کی بجائے عقیدے پر مبنی ایک مخصوص اسلامی تصورِ قومیت پیش کیا گیا ہے؛ (۶) اسلامی دستوری قانون کے مآخذ — قرآن، سنت، خلافتِ راشدہ کا تعامل، اور بعد کے مجتہدین کے فیصلے — کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۷-۸) اسلامی ریاست اور دستور کی بنیادیں بیان کی گئی ہیں، جہاں مولانا نے مشہور اصطلاح "الٰہی جمہوریت" وضع کی — ایسا نظامِ حکومت جو نہ پاپائیت ہے نہ مغربی سیکولر جمہوریت، بلکہ ایسی ریاست ہے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے جبکہ روزمرہ انتظام مشاورت، شوریٰ اور وقتاً فوقتاً حکمرانوں کے انتخاب کے ذریعے خود امت انجام دیتی ہے؛ (۹) عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو اسلامی ریاست کے "مثالی دور" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کی روشنی میں کسی بھی مدعیٔ اسلامی ریاست کو پرکھا جانا چاہیے؛ (۱۰) قانون سازی اور اجتہاد کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے — کہ انسانی مقننہ وحی کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آزادانہ اجتہاد کر سکتی ہے؛ (۱۱-۱۲) چند دستوری اور سیاسی مسائل (سیاست میں خواتین کا کردار، ارتداد کی سزا، جنگ اور غلامی کے احکام، صدرِ ریاست کا حقِ ویٹو) پر بحث کے بعد ایک پورا باب انسان کے بنیادی حقوق کے لیے وقف کیا گیا ہے — حقِ زندگی، کمزوروں کا تحفظ، عزت، معاشی تحفظ، آزادیٔ اظہار و ضمیر، ظلم کے خلاف احتجاج — جنہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ اور اس لیے خود ریاست کے لیے بھی ناقابلِ سلب قرار دیا گیا ہے؛ (۱۳) غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کے حقوق و حیثیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے — جان، مال، عبادت کی آزادی، فوجی خدمت سے استثنا، جزیہ — تاہم انہیں جدید معنوں میں "برابر شہری" کی بجائے ایک الگ قانونی درجہ دیا گیا ہے؛ (۱۴) اسلام کے تصورِ عدلِ اجتماعی کا سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے موازنہ کیا گیا ہے، اور یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام نجی ملکیت اور انفرادی کاروبار کی اجازت دیتا ہے مگر دولت کے حصول اور استعمال پر اخلاقی و قانونی حدود عائد کرتا ہے؛ (۱۵) اسلامی ریاست کے رہنما اصول دوبارہ مرتب کیے گئے ہیں؛ اور (۱۶) آخر میں مولانا نے اپنا یہ نقطۂ نظر بیان کیا ہے کہ اسلامی انقلاب دراصل کیسے برپا ہونا چاہیے — بتدریج، پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی کے ذریعے، نہ کہ اقتدار پر اچانک قبضے سے — اور اس ضمن میں 1951ء کا وہ اتفاقِ رائے شامل کیا گیا ہے جس پر پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے 31 علماء نے اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کے طور پر اتفاق کیا تھا۔
اہمیت۔ یہ کتاب (اور جس فکری سرمائے سے یہ مرتب کی گئی ہے) جماعتِ اسلامی کے سیاسی پروگرام کی اساس اور بیسویں صدی میں اسلام اور جدید ریاست کے تعلق پر ہونے والی بحث کی سب سے اہم دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔ مولانا کی اصطلاحات — حاکمیت، "الٰہی جمہوریت"، اور خلافت کا از سرِ نو تعین بطور اجتماعی امانت نہ کہ کسی ایک حکمران کا ذاتی منصب — نے پاکستان کے دستوری مباحث (اور بعد ازاں، فقہی اختلافات کے باوجود، ایران کے انقلابی گفتگو) میں استعمال ہونے والی وہ زبان فراہم کی جس کے ذریعے جدید قومی ریاست میں اسلام کے مقام پر بحث کی گئی۔ کتاب کے آخری باب میں شامل 1951ء کا علماء اتفاقِ رائے، پاکستان کی ابتدائی دستور سازی میں "قراردادِ مقاصد" پر ہونے والی بحث پر براہِ راست اثرانداز ہوا۔
تنقیدی جائزہ۔ ایک محقق کی حیثیت سے اس کتاب کو پڑھنے کا تقاضا ہے کہ اسے محض اس کے اپنے موقف تک محدود نہ رکھا جائے۔ سید ولی رضا نصر اور چارلس ایڈمز جیسے محققین، جنہوں نے مولانا مودودی کے سیاسی فکر پر سب سے تفصیلی علمی مطالعے کیے ہیں، کا موقف ہے کہ ان کا نظریہ روایتی زبان میں لپٹی ہوئی ایک حقیقی جدید تشکیل ہے: قدیم فقہ سیاسیہ کی روایت "حاکمیت" کو اس طرح کسی ایک بنیادی تصور کے گرد مرتب نہیں کرتی جیسا مولانا مودودی نے کیا — یہ طرزِ استدلال جتنا کلاسیکی فقہ سے ماخوذ ہے، اتنا ہی مغرب میں مقبول عوامی حاکمیت کے تصور کے خلاف ردعمل سے بھی متاثر ہے، جس کی مولانا واضح طور پر تردید کر رہے ہیں۔ ناقدین نے کتاب کے حقوق سے متعلق ابواب میں ایک اندرونی تناؤ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے: ایک باب میں شہریوں کے لیے وسیع "بنیادی حقوق" کا اثبات کیا گیا ہے، جبکہ اگلے باب میں غیر مسلم باشندوں کو ایک الگ قانونی درجے (ذمی) میں رکھا گیا ہے جس میں سیاسی حقوق محدود ہیں (مثلاً منصبِ سربراہِ مملکت یا مکمل قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا) — حقوق کی آفاقی زبان اور شہریت کے مخصوص نظریے کے مابین یہ تناؤ بعد کے محققین، بشمول خود اسلامی فکر کی روایت کے اندر، زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ روایتی علماء کی جانب سے مولانا کے خلافت کو ایک اجتماعی/عوامی منصب کے طور پر (بجائے ایک متعین خلیفہ کے) نئے سرے سے متعین کرنے پر، اور محض عام مسلمانوں کی اکثریتی مقننہ کو اجتہاد کے وسیع اختیارات دینے پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ مطالعاتی حلقے کو چاہیے کہ اس کتاب کے دستوری نظریے کو صرف اس کے اپنے منطقی فریم ورک میں نہیں بلکہ ان تنقیدوں کی روشنی میں بھی پڑھے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- دین اور سیاست: مولانا مودودی دین اور سیاست کی علیحدگی کو رد کرتے ہیں۔ اس تفریق کے حق میں سب سے مضبوط دلائل کیا ہو سکتے ہیں، اور کتاب ان کا کیا جواب دیتی ہے؟ کیا آپ کو یہ جواب مطمئن کن لگتا ہے؟
- حاکمیتِ الٰہی بمقابلہ عوامی حاکمیت: مولانا مودودی جائز حکومت کی بنیاد عوام کی مرضی کی بجائے اللہ کی حاکمیت پر رکھتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر جدید جمہوری نظریے — کہ سیاسی اختیار عوام کی رضامندی سے حاصل ہوتا ہے — سے کس طرح مختلف ہے، اور اس سے کیا تناؤ پیدا ہوتا ہے؟
- "الٰہی جمہوریت": کیا یہ ایک مفید تیسری قسم ہے، یا تفصیل میں جانے پر یہ پاپائیت یا جمہوریت میں سے کسی ایک میں ضم ہو جاتی ہے؟ ایک حقیقی "الٰہی جمہوری" ریاست کو کسی مذہبی سیاسی جماعت کی محض حکمرانی سے کیا چیز ممتاز کرے گی؟
- خلافت کی از سرِ نو تعریف: مولانا مودودی خلافت کو ایک ہی خلیفہ کی بجائے پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی امانت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ تصور خلافت کی روایتی/کلاسیکی تفہیم سے کس طرح مختلف ہے، اور روایتی علماء نے اس پر کیا اعتراضات کیے؟
- غیر مسلم شہریوں کے حقوق: کتاب ذمیوں کے لیے وسیع تحفظات (جان، مال، عبادت، ٹیکس میں رعایت) کا اثبات کرتی ہے مگر انہیں مسلم شہریوں سے الگ قانونی درجے میں رکھتی ہے۔ اس اور کتاب کے اپنے باب "بنیادی حقوق" کی زیادہ آفاقی زبان کے مابین تناؤ پر بحث کریں۔ یہ فریم ورک ایک جدید کثیر المذاہب قومی ریاست میں کس طرح کام کرے گا؟
- بنیادی حقوق بمقابلہ بین الاقوامی انسانی حقوق: کتاب کے باب "بنیادی حقوق" میں درج حقوق کا جدید انسانی حقوق کے فریم ورک (مثلاً اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ) سے موازنہ کریں۔ کہاں مشترکات ہیں اور کہاں — بالخصوص مذہب یا جنس سے قطع نظر مساوات کے معاملے میں — اختلاف ہے؟
- اجتہاد کا دائرہ: مولانا مودودی مقننہ کو کس حد تک آزادانہ اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں، اور اس کی اہلیت کس کے پاس ہے؟ کیا عام اکثریتی مقننہ (بمقابلہ تربیت یافتہ مجتہدین) خود مولانا کے اپنے فریم ورک سے ہم آہنگ ہے؟
- سیاست میں خواتین کا کردار: کتاب اسلامی ریاست میں خواتین کو کیا کردار دیتی ہے، اور مطالعاتی حلقہ اسے صنف اور سیاسی شرکت کے معاصر مباحث کی روشنی میں کیسے پرکھ سکتا ہے؟
- سرمایہ داری، اشتراکیت اور مولانا کا تصورِ عدلِ اجتماعی: کتاب کی سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں پر تنقید کا خلاصہ کریں۔ کیا اس کا متبادل (نجی ملکیت مع سخت اخلاقی و قانونی حدود) دوسرے دو نظاموں میں نشاندہی کردہ مسائل کو حل کرتا ہے، یا اسے بھی نفاذ اور تعریف کے اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے؟
- "مثالی دور": مولانا مودودی عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو کسی بھی اسلامی ریاست کے لیے معیار قرار دیتے ہیں۔ ایک جدید ریاست کو ساتویں صدی کے نمونے کے مطابق پرکھنے کے فوائد اور خطرات کیا ہیں؟
- تبدیلی کا طریقہ، بتدریج یا انقلابی: مولانا مودودی اقتدار حاصل کرنے سے پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی پر زور دیتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی بیسویں صدی کی دیگر اسلامی تحریکوں سے کس طرح مختلف ہے، اور کیا یہ عملاً کامیاب رہی — مثلاً پاکستان میں خود جماعتِ اسلامی کے سفر میں؟
- آج کی معنویت: چونکہ یہ کتاب بیسویں صدی کے وسط میں پاکستان کے قیام کے مخصوص تناظر میں مرتب کی گئی، اس کے کون سے دلائل آپ کے خیال میں کسی بھی جدید مسلم اکثریتی ریاست کے لیے آج بھی متعلقہ ہیں، اور کون سے اس مخصوص لمحے تک محدود یا پرانے محسوس ہوتے ہیں؟
مزید تصریحات
[ماخوذ ازماہنامہ ترجمان القرآن‘ ذی العقدہ۔ ذی الحجہ ۱۳۶۳ھ، نومبر۔ دسمبر۱۹۴۴ء]
سوال: آپ کی جملہ تصانیف اورسابق عنایت نامہ پڑھنے کے بعد میں یہ فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ خالص اسلامی طرز کی حکومت قائم کرنے کے خواہاں ہیں اور اس اسلامی حکومت کے عہد میں ذمی اور اہل کتاب کی حیثیت بالکل ایسی ہی ہوگی جیسی ہندوئوں میں اچھوتوں کی۔
آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ’ہندوئوں کی عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی، انھیں ان کا انتظام کرنے کا حق دیا جائے گا‘ مگر آپ نے یہ نہیں تحریر فرمایا کہ آیا ہندوئوں کو تبلیغ کا حق بھی حاصل ہوگا، یا نہیں؟ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ’جو بھی اس حکومت کے اصول کو تسلیم کرلے وہ اس کے چلانے میں حصے دار ہوسکتا ہے؟ خواہ وہ ہندو زادہ ہو یا سکھ زادہ۔‘براہ کرم اس کی توضیح کیجیے کہ ایک ہندو ہندو رہتے ہوئے بھی کیا آپ کی حکومت کے اصولوں پر ایمان لاکر اسے چلانے میںشریک ہوسکتا ہے؟
پھرآپ نے فرمایا ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے مسلمان نکاح کر سکتے ہیں مگر آپ نے ساتھ ہی یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اہل کتاب بھی مسلم عورتوں سے نکاح کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو کیا آپ اس احساس برتری (superiority complex)کے بارے میں مزید روشنی ڈالیں گے؟ اگر آپ اس کے اثبات (justification)کے لیے اسلام پر ایمان کی اوٹ لیں تو کیا آپ یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ موجودہ نام نہاد مسلمان آپ کے قول……… کے مطابق ان اسلامی قواعد اور کریکٹر کے اصولوں پر پورے اتریں گے؟ آج کے مسلمان کی بات تو الگ رہی، کیا آپ یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ خلافت راشدہ کے عہد میں اکثر و بیش ترجو لوگ اسلام لائے وہ زیادہ تر سیاسی اقتدار کے خواہاں تھے؟ اگر آپ یہ تسلیم کرنے سے قاصر ہیں تو فرمائیے کہ پھر وہ اسلامی حکومت کیوں صرف تیس پینتیس(۳۰،۳۵) سال چل کر رہ گئی ؟ پھر کیوں حضرت علیؓ جیسے مدبر اور مجاہد کی اس قدر مخالفت ہوئی اور مخالفین میں حضرت عائشہ صاحبہ تک تھیں؟
نیز یہ گرہ بھی کھولیے کہ آپ موجودہ ماحول میں اس طرز حکومت کو چلانے کے لیے ایسے بلند اخلاق اور بہترین کریکٹر کی شخصیتیں کہاں سے پیدا کریں گے؟ جب کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان غنی ؓ، اور حضرت علیؓ جیسے عدیم المثال بزرگ اسے چند سالوں سے زیادہ نہ چلا سکے۔ چودہ سو سال کے بعد ایسے کون سے موافق حالات آپ کے پیشِ نظر ہیں جن کی بنا پر آپ کی دُور رَس نگاہیں حکومتِ الٰہیہ کو عملی صورت میں دیکھ رہی ہیں؟ اس میں شک نہیں کہ آپ کا پیغام ہر خیال کے مسلمانوں میں زورو شور سے پھیل رہا ہے اور مجھے جس قدر بھی مسلمانوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے، وہ سب اس خیال کے حامی ہیں کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ عین اسلام ہے،مگر ہرشخص کااعتراض یہی ہے جو میں نے گذشتہ سطور میں پیش کیا ہے‘ یعنی آپ کے پاس عہد خلافت راشدہ کی اصولی حکومت چلانے کے لیے فی زمانہ کریکٹر کے آدمی کہاں ہیں؟ پھر جب کہ وہ بہترین نمونے کی ہستیاں اس نظام کو نصف صدی تک بھی کامیابی سے نہ چلا سکیں تو اس دور میں اس طرز کی حکومت کا خیال خوش فہمی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟
جواب: آپ کے سوالات کا سرا حقیقت میں ابھی تک میں نہیں پاسکا ہوں۔ اس وجہ سے جو جوابات میں دیتا ہوں ان میں سے کچھ اور ایسے سوالات نکل آتے ہیں جن کے نکلنے کی مجھے توقع نہیں ہوتی۔ اگر آپ پہلے بنیادی امور سے بات شروع کریں اور پھر بتدریج فروعی معاملات اور وقتی سیاسیات (current politics)کی طرف آئیں تو چاہے آپ مجھ سے متفق نہ ہوں، لیکن کم از کم مجھے اچھی طرح سمجھ ضرور لیں گے۔ سردست تو میں ایسا محسوس کرتا ہوں کہ میری پوزیشن آپ کے سامنے پوری طرح واضح نہیں ہے۔
آپ نے اپنے عنایت نامے میں تحریر فرمایا ہے کہ’جس اسلامی حکومت کا میں خواب دیکھ رہا ہوں اس میں ذمی اور اہل کتاب کی حیثیت وہی ہوگی جو ہندوئوں میں اچھوتوں کی ہے۔‘‘ مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا، یا تو آپ ذمیوں کی حیثیت میرے صاف صاف بیان کر دینے کے باوجود نہیں سمجھے ہیں یا ہندوئوں میں اچھوتوں کی حیثیت سے واقف نہیں ہیں۔ اول تو اچھوتوں کی جو حیثیت منو کے دھرم شاستر سے معلوم ہوتی ہے اس کو ان حقوق و مراعات سے کوئی نسبت نہیں ہے جو اسلامی فقہ میں ذمیوں کو دیے گئے ہیں۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اچھوت پن کی بنیاد نسلی امتیاز پر ہے، اور ذمیت کی بنیاد محض عقیدے پر۔ اگر ذمی اسلام قبول کرلے تو وہ ہمارا امیر و امام تک بن سکتا ہے،مگر کیا ایک شودر کسی عقیدے و مسلک کو قبول کر لینے کے بعد ورن آشرم کی پابندیوں سے بری ہوسکتا ہے؟
آپ کا یہ سوال ہی عجیب ہے کہ:کیا ایک ہندو ہندو رہتے ہوئے بھی آپ کی حکومت کے اصولوں پر ایمان لاکر اسے چلانے میں شریک ہوسکتا ہے؟ شاید آپ نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اسلامی حکومت کے اصولوں پر ایمان لے آنے کے بعد ہندو ہندو کب رہے گا‘ وہ تو مسلم ہوجائے گا۔ آج جو کروڑوں’ہندو زادے‘ اس ملک میں مسلمان ہیں‘ وہ اسلام کے اصولوں پر ایمان لاکر ہی تو مسلمان ہوئے ہیں۔ اسی طرح آئندہ جو ہندو زادے اسے مان لیں گے وہ بھی مسلم ہو جائیں گے، اورجب وہ مسلم ہو جائیں گے تو یقیناً اسلامی حکومت کو چلانے میں ہمارے ساتھ برابر کے شریک ہوں گے۔
آپ کا یہ سوال کہ آیا ہندوئوں کو اسلامی ریاست میں تبلیغ کا حق بھی حاصل ہوگا یا نہیں۔ جتنا مختصر ہے اس کا جواب اتنا مختصر نہیں ہے۔ تبلیغ کی کئی شکلیں ہیں:
ایک شکل یہ ہے کہ کوئی مذہبی گروہ خود اپنی آئندہ نسلوں کو اور اپنے عوام کو اپنے مذہب کی تعلیم دے۔ اس کا حق تمام ذمی گروہوں کو حاصل ہوگا۔
دوسری شکل یہ ہے کہ کوئی مذہبی گروہ تحریر یا تقریر کے ذریعے سے اپنے مذہب کو دوسروں کے سامنے پیش کرے اور اسلام سمیت دوسرے مسلکوں سے اپنے وجوہ اختلاف کو علمی حیثیت سے بیان کرے۔ اس کی اجازت بھی ذمیوں کو ہوگی‘ مگر ہم کسی مسلمان کو اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے اپنا دین تبدیل کرنے کی اجازت نہ دیں گے۔
تیسری شکل یہ ہے کہ کوئی گروہ اپنے مذہب کی بنیاد پر ایک منظم تحریک ایسی اٹھائے جس کی غرض یا جس کا مآل(انجام) یہ ہو کہ ملک کا نظام زندگی تبدیل ہو کر اسلامی اصولوں کے بجائے اس کے اصولوں پر قائم ہو جائے۔ ایسی تبلیغ کی اجازت ہم اپنے حدود اقتدار میں کسی کو نہیں دیں گے۔ اس مسئلے پر میرا مفصل مضمون:’’اسلام میں قتل مرتد کا حکم‘‘ ملاحظہ فرمائیے۔ [ اب کتابی شکل میں موجود ہے بعنوان:مرتد کی سزا، اسلامی قانون میں۔ مطبوعہ اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ لاہور۔]
اہلِ کتاب کی عورتوں سے مسلمان کا نکاح جائز اور مسلمان عورتوں سے اہل کتاب کا نکاح ناجائز ہونے کی بنیاد کسی احساس برتری پر نہیں ہے‘ بلکہ یہ ایک نفسیاتی حقیقت پر مبنی ہے۔ مرد بالعموم متاثر کم ہوتا ہے اور اثر زیادہ ڈالتا ہے۔ عورت بالعموم متاثر زیادہ ہوتی ہے اوراثر کم ڈالتی ہے۔ ایک غیر مسلمہ اگر کسی مسلمان کے نکاح میں آئے تو اس کا امکان کم ہوتا ہے کہ وہ اس مسلمان کو غیرمسلم بنالے گی اور اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ وہ مسلمان ہو جائے گی۔ لیکن ایک مسلمان عورت اگر کسی غیر مسلم کے نکاح میں چلی جائے تو اس کے غیر مسلمہ ہو جانے کا بہت زیادہ اندیشہ ہے اور اس بات کی توقع بہت کم ہے کہ وہ اپنے شوہر کو اور اپنی اولاد کو مسلمان بنا سکے گی۔ اسی لیے مسلمانوں کو اس کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اپنی لڑکیوں کا نکاح غیر مسلم سے کریں، البتہ اگر اہل کتاب میں سے کوئی شخص خود اپنی بیٹی مسلمان کودینے پر راضی ہو تو مسلمان اس سے نکاح کرسکتا ہے۔ لیکن قرآن میں جہاں اس چیز کی اجازت دی گئی ہے وہاں ساتھ ہی ساتھ یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر غیر مسلم بیوی کی محبت میں مبتلا ہو کر تم نے ایمان کھو دیا تو تمھارا سب کیا کرایا برباد ہوجائے گا اور آخرت میں تم خسارے میں رہو گے۔ نیز یہ اجازت ایسی ہے جس سے خاص ضرورتوں کے مواقع پر ہی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ یہ کوئی پسندیدہ فعل نہیں ہے جسے قبول عام حاصل ہو‘ بلکہ بعض حالات میں تو اس سے منع بھی کیا گیا ہے، تاکہ مسلمانوں کی سوسائٹی میں غیرمسلم عناصر کے داخل ہونے سے کسی نامناسب اخلاقی اور اعتقادی حالت کا نشوونما نہ ہوسکے۔
آپ کا یہ سوال کہ اسلامی حکومت صرف تیس پینتیس (۳۰،۳۵)سال چل کر کیوں رہ گئی‘ ایک اہم تاریخی مسئلے سے متعلق ہے۔ اگر آپ اسلامی تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو اس کے اسباب سمجھنا آپ کے لیے کچھ زیادہ مشکل نہ ہوگا۔ کسی خاص اصول کی عَلم بردار جماعت جو نظام زندگی قائم کرتی ہے اس کا اپنی پوری شان کے ساتھ چلنا اورقائم رہنا اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ لیڈر شپ ایک ایسے چیدہ گروہ کے ہاتھ میں رہے جو اس اصول کا سچا اور سرگرم پیرو ہے، اور لیڈر شپ ایسے گروہ کے ہاتھ میں صرف اسی حالت میں رہ سکتی ہے جب کہ عام باشندوں پر اس گروہ کی گرفت قائم رہے اور ان کی عظیم اکثریت کم از کم اس حد تک تعلیم و تربیت پائے ہوئے ہو کہ اسے اس خاص اصول کے ساتھ گہری وابستگی بھی ہو، اور وہ ان لوگوں کی بات سننے کے لیے تیار بھی نہ ہو جو اس اصول سے ہٹ کر کسی دوسرے طریقے کی طرف بلانے والے ہوں۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینے کے بعد اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو تمدنی انقلاب رونما ہوا، اور جو نیا نظام زندگی قائم ہوا اس کی بنیاد یہ تھی کہ عرب کی آبادی میں ایک طرح کا اخلاقی انقلاب (moral revolution) واقع ہو چکا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں صالح انسانوں کا جو مختصر گروہ تیار ہوا تھا اس کی قیادت تمام اہل عرب نے تسلیم کرلی تھی۔ لیکن آگے چل کرعہد خلافت راشدہ میں جب ملک پر ملک فتح ہونے شروع ہوئے تو اسلام کی مملکت میں توسیع بہت تیزی کے ساتھ ہونے لگی اور استحکام اتنی تیزی کے ساتھ نہ ہوسکا۔ چونکہ اس زمانے میں نشر و اشاعت اور تعلیم و تبلیغ کے ذرائع اتنے نہ تھے جتنے آج ہیں اور نہ وسائل حمل و نقل موجودہ زمانے کے مانند تھے‘ اس لیے جوفوج در فوج انسان اس نئی مسلم سوسائٹی میں داخل ہونے شروع ہوئے، ان کو اخلاقی‘ ذہنی اور عملی حیثیت سے اسلامی تحریک میں مکمل طور پر جذب کرنے کا انتظام نہ ہوسکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی عام آبادی میں صحیح قسم کے مسلمانوں کا تناسب بہت کم رہ گیا اور خام قسم کے مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ لیکن اصولاً ان مسلمانوں کے حقوق اور اختیارات اور سوسائٹی میں ان کی حیثیت صحیح قسم کے مسلمانوں کی بہ نسبت کچھ بھی مختلف نہ ہوسکتی تھی۔ اسی وجہ سے جب حضرت علیؓ کے زمانے میں ارتجاعی تحریکیں [یعنی جن کا مقصد اسلام سے پھر کسی نہ کسی طرح جاہلیت کی طرف پلٹ جانا تھا۔] (reactionary movements) رونما ہوئیں تو مسلمان پبلک کا ایک بہت بڑا حصہ ان سے متاثر ہوگیا اور لیڈر شپ ان لوگوں کے ہاتھ سے نکل گئی جو ٹھیٹھ اسلامی طرز پر کام کرنے والے تھے۔ اس تاریخی حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد ہمیں یہ واقعہ ذرہ برابر بھی دل شکستہ نہیں کرتا، کہ خالص اسلامی حکومت تیس پینتیس سال سے زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکی۔
آج اگر ہم ایک صالح گروہ اس ذہنیت‘ اس اخلاق اور اس سیرت کے انسانوں کا منظم کرسکیں جو اسلام کے منشا کے مطابق ہو تو ہم امید رکھتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے ذرائع و وسائل سے فائدہ اٹھا کرنہ صرف اپنے ملک، بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی ہم ایک اخلاقی و تمدنی انقلاب برپا کرسکیں گے اور ہمیں پورا یقین ہے کہ ایسے گروہ کے منظم ہو جانے کے بعد عام انسانوں کی قیادت اس گروہ کے سوا کسی دوسری پارٹی کے ہاتھ میں نہیں جاسکتی۔ آپ مسلمانوں کی موجودہ حالت کو دیکھ کر جو رائے قائم کر رہے ہیں وہ اس حالت پر چسپاں نہیں ہو سکتی جو ہمارے پیش نظر ہے۔
اگر صحیح اخلاق کے حامل انسان میدان عمل میں آجائیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مسلمان عوام ہی نہیں، بلکہ ہندو‘ عیسائی‘ پارسی اور سکھ سب ان کے گرویدہ ہو جائیں گے اور خود اپنے ہم مذہب لیڈروں کو چھوڑ کر ان پر اعتماد کرنے لگیں گے۔ ایسے ہی ایک گروہ کو تربیت اور تعلیم اور تنظیم کے ذریعے سے تیار کرنا اس وقت میرے پیش نظر ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اس کام میں وہ میری مدد کرے۔