مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلامی ریاست

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جس میں اسلام کو محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہ سمجھ کر، بلکہ زندگی کا ایک مکمل نظامِ حیات پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام کا نفاذ صرف وعظ و تبلیغ سے ممکن نہیں؛ بلکہ اس کے لیے سیاسی اقتدار اور ریاستی طاقت کا حصول ضروری ہے۔ مولانا مودودی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جدید دور کا سیکولر تصورِ ریاست، جو دین کو ذاتی معاملہ قرار دے کر سیاست سے الگ کرتا ہے، درحقیقت جاہلیت کے محدود تصورِ مذہب کی بازگشت ہے، جسے اسلام نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کتاب کی تدوین کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے نظریاتی اصولوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں منظم انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ نہ صرف علماء و طلبہ بلکہ عام مسلمان بھی اس نظام کی حقیقت سے آشنا ہو سکیں۔

کتاب کا آغاز دیباچے سے ہوتا ہے جس میں ناشر، مرتب اور مصنف کے تعارفی خیالات شامل ہیں۔ یہاں مولانا مودودی کی سیاسی جدوجہد، گرفتاریاں اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو مؤلف کے عملی تجربات کا ادراک ہو سکے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ یہ مضامین گذشتہ پچیس برسوں میں مختلف مواقع پر لکھے گئے تھے، جنہیں اب ادارۂ معارفِ اسلامی کے زیرِ اہتمام دو حصوں میں منظم کیا گیا ہے: پہلا حصہ نظری مباحث پر مشتمل ہے اور دوسرا پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق عملی مضامین پر۔

کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہے جنہیں موضوعاتی اعتبار سے کئی مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی ابواب (دین و سیاست، اسلام کا سیاسی نظریہ، قرآن کا فلسفۂ سیاست، معنیٔ خلافت، اسلامی تصورِ قومیت، اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ) اسلامی ریاست کے نظریاتی خدوخال—حاکمیتِ الٰہی، خلافت، قومیت اور قانون کے سرچشمے—کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرتے ہیں۔ اس کے بعد کے ابواب (اسلامی ریاست کی بنیادیں، اسلامی دستور کی بنیادیں، اسلامی ریاست کا مثالی دور، قانون سازی اور اجتہاد، چند دستوری و سیاسی مسائل) عملی سطح پر ریاست کی تشکیل، حکومت کے قیام کے طریقے، اجتہاد کے اصول اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کو موضوع بناتے ہیں۔ تین ابواب خصوصی طور پر حقوق کے مسئلے کے لیے وقف ہیں: انسان کے بنیادی حقوق، غیر مسلموں (ذمیوں) کے حقوق، اور عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور۔ آخری دو ابواب—اسلامی ریاست کے رہنما اصول اور اسلامی انقلاب کی راہ—اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایسا نظام کن اصولوں پر قائم ہو اور اسے پرامن، تدریجی اور جمہوری طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے، جس کے ضمن میں پاکستان کے اکتیس نامور علماء کے متفقہ دستوری فیصلے کا متن بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"اسلامی ریاست" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ ضخیم تصنیف ہے جو دراصل ایک نشست میں لکھی گئی کتاب نہیں بلکہ اسلامک پبلیکیشنز کی طرف سے مرتب کردہ ایک وسیع مجموعہ ہے، جس میں مولانا مودودی کی تقاریر، مضامین، انٹرویوز اور ان کی دیگر کتب (خصوصاً تفہیمات اور خلافت و ملوکیت) کے اقتباسات کو موضوعِ "اسلامی ریاست" کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتب خانے میں شامل مولانا کی تصانیف میں سب سے ضخیم کتاب ہے (312 ابواب، 16 بڑے حصوں پر مشتمل)، اور ان کے سیاسی فکر کا سب سے مربوط بیان سمجھی جاتی ہے۔

کتاب کی بنیادی دلیل سولہ ابواب میں اس ترتیب سے آگے بڑھتی ہے: (۱) سب سے پہلے اس نظریے کی تردید کی گئی ہے، جو جدیدیت پسند اور سیکولر قوم پرست دونوں طرح کے حلقوں میں مشترک ہے، کہ اسلام میں دین اور سیاست الگ الگ دائرے ہیں؛ (۲) اسلام کا سیاسی نظریہ پیش کیا گیا ہے، جس کی بنیاد یہ دعویٰ ہے کہ ہر نبی کا مشن دراصل انسانوں کی ناجائز حاکمیت کے خلاف دعوت تھا؛ (۳) قرآن کے فلسفہ سیاست کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۴) خلافت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے — یعنی انسان، اور خاص طور پر اہلِ ایمان کی جماعت، اللہ کے قانون کے تحت ایک تفویض شدہ اختیار استعمال کرتی ہے، اپنی خودمختار حیثیت میں حکومت نہیں کرتی؛ (۵) نسل، زبان یا علاقے کی بجائے عقیدے پر مبنی ایک مخصوص اسلامی تصورِ قومیت پیش کیا گیا ہے؛ (۶) اسلامی دستوری قانون کے مآخذ — قرآن، سنت، خلافتِ راشدہ کا تعامل، اور بعد کے مجتہدین کے فیصلے — کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۷-۸) اسلامی ریاست اور دستور کی بنیادیں بیان کی گئی ہیں، جہاں مولانا نے مشہور اصطلاح "الٰہی جمہوریت" وضع کی — ایسا نظامِ حکومت جو نہ پاپائیت ہے نہ مغربی سیکولر جمہوریت، بلکہ ایسی ریاست ہے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے جبکہ روزمرہ انتظام مشاورت، شوریٰ اور وقتاً فوقتاً حکمرانوں کے انتخاب کے ذریعے خود امت انجام دیتی ہے؛ (۹) عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو اسلامی ریاست کے "مثالی دور" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کی روشنی میں کسی بھی مدعیٔ اسلامی ریاست کو پرکھا جانا چاہیے؛ (۱۰) قانون سازی اور اجتہاد کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے — کہ انسانی مقننہ وحی کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آزادانہ اجتہاد کر سکتی ہے؛ (۱۱-۱۲) چند دستوری اور سیاسی مسائل (سیاست میں خواتین کا کردار، ارتداد کی سزا، جنگ اور غلامی کے احکام، صدرِ ریاست کا حقِ ویٹو) پر بحث کے بعد ایک پورا باب انسان کے بنیادی حقوق کے لیے وقف کیا گیا ہے — حقِ زندگی، کمزوروں کا تحفظ، عزت، معاشی تحفظ، آزادیٔ اظہار و ضمیر، ظلم کے خلاف احتجاج — جنہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ اور اس لیے خود ریاست کے لیے بھی ناقابلِ سلب قرار دیا گیا ہے؛ (۱۳) غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کے حقوق و حیثیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے — جان، مال، عبادت کی آزادی، فوجی خدمت سے استثنا، جزیہ — تاہم انہیں جدید معنوں میں "برابر شہری" کی بجائے ایک الگ قانونی درجہ دیا گیا ہے؛ (۱۴) اسلام کے تصورِ عدلِ اجتماعی کا سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے موازنہ کیا گیا ہے، اور یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام نجی ملکیت اور انفرادی کاروبار کی اجازت دیتا ہے مگر دولت کے حصول اور استعمال پر اخلاقی و قانونی حدود عائد کرتا ہے؛ (۱۵) اسلامی ریاست کے رہنما اصول دوبارہ مرتب کیے گئے ہیں؛ اور (۱۶) آخر میں مولانا نے اپنا یہ نقطۂ نظر بیان کیا ہے کہ اسلامی انقلاب دراصل کیسے برپا ہونا چاہیے — بتدریج، پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی کے ذریعے، نہ کہ اقتدار پر اچانک قبضے سے — اور اس ضمن میں 1951ء کا وہ اتفاقِ رائے شامل کیا گیا ہے جس پر پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے 31 علماء نے اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کے طور پر اتفاق کیا تھا۔

اہمیت۔ یہ کتاب (اور جس فکری سرمائے سے یہ مرتب کی گئی ہے) جماعتِ اسلامی کے سیاسی پروگرام کی اساس اور بیسویں صدی میں اسلام اور جدید ریاست کے تعلق پر ہونے والی بحث کی سب سے اہم دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔ مولانا کی اصطلاحات — حاکمیت، "الٰہی جمہوریت"، اور خلافت کا از سرِ نو تعین بطور اجتماعی امانت نہ کہ کسی ایک حکمران کا ذاتی منصب — نے پاکستان کے دستوری مباحث (اور بعد ازاں، فقہی اختلافات کے باوجود، ایران کے انقلابی گفتگو) میں استعمال ہونے والی وہ زبان فراہم کی جس کے ذریعے جدید قومی ریاست میں اسلام کے مقام پر بحث کی گئی۔ کتاب کے آخری باب میں شامل 1951ء کا علماء اتفاقِ رائے، پاکستان کی ابتدائی دستور سازی میں "قراردادِ مقاصد" پر ہونے والی بحث پر براہِ راست اثرانداز ہوا۔

تنقیدی جائزہ۔ ایک محقق کی حیثیت سے اس کتاب کو پڑھنے کا تقاضا ہے کہ اسے محض اس کے اپنے موقف تک محدود نہ رکھا جائے۔ سید ولی رضا نصر اور چارلس ایڈمز جیسے محققین، جنہوں نے مولانا مودودی کے سیاسی فکر پر سب سے تفصیلی علمی مطالعے کیے ہیں، کا موقف ہے کہ ان کا نظریہ روایتی زبان میں لپٹی ہوئی ایک حقیقی جدید تشکیل ہے: قدیم فقہ سیاسیہ کی روایت "حاکمیت" کو اس طرح کسی ایک بنیادی تصور کے گرد مرتب نہیں کرتی جیسا مولانا مودودی نے کیا — یہ طرزِ استدلال جتنا کلاسیکی فقہ سے ماخوذ ہے، اتنا ہی مغرب میں مقبول عوامی حاکمیت کے تصور کے خلاف ردعمل سے بھی متاثر ہے، جس کی مولانا واضح طور پر تردید کر رہے ہیں۔ ناقدین نے کتاب کے حقوق سے متعلق ابواب میں ایک اندرونی تناؤ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے: ایک باب میں شہریوں کے لیے وسیع "بنیادی حقوق" کا اثبات کیا گیا ہے، جبکہ اگلے باب میں غیر مسلم باشندوں کو ایک الگ قانونی درجے (ذمی) میں رکھا گیا ہے جس میں سیاسی حقوق محدود ہیں (مثلاً منصبِ سربراہِ مملکت یا مکمل قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا) — حقوق کی آفاقی زبان اور شہریت کے مخصوص نظریے کے مابین یہ تناؤ بعد کے محققین، بشمول خود اسلامی فکر کی روایت کے اندر، زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ روایتی علماء کی جانب سے مولانا کے خلافت کو ایک اجتماعی/عوامی منصب کے طور پر (بجائے ایک متعین خلیفہ کے) نئے سرے سے متعین کرنے پر، اور محض عام مسلمانوں کی اکثریتی مقننہ کو اجتہاد کے وسیع اختیارات دینے پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ مطالعاتی حلقے کو چاہیے کہ اس کتاب کے دستوری نظریے کو صرف اس کے اپنے منطقی فریم ورک میں نہیں بلکہ ان تنقیدوں کی روشنی میں بھی پڑھے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. دین اور سیاست: مولانا مودودی دین اور سیاست کی علیحدگی کو رد کرتے ہیں۔ اس تفریق کے حق میں سب سے مضبوط دلائل کیا ہو سکتے ہیں، اور کتاب ان کا کیا جواب دیتی ہے؟ کیا آپ کو یہ جواب مطمئن کن لگتا ہے؟
  2. حاکمیتِ الٰہی بمقابلہ عوامی حاکمیت: مولانا مودودی جائز حکومت کی بنیاد عوام کی مرضی کی بجائے اللہ کی حاکمیت پر رکھتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر جدید جمہوری نظریے — کہ سیاسی اختیار عوام کی رضامندی سے حاصل ہوتا ہے — سے کس طرح مختلف ہے، اور اس سے کیا تناؤ پیدا ہوتا ہے؟
  3. "الٰہی جمہوریت": کیا یہ ایک مفید تیسری قسم ہے، یا تفصیل میں جانے پر یہ پاپائیت یا جمہوریت میں سے کسی ایک میں ضم ہو جاتی ہے؟ ایک حقیقی "الٰہی جمہوری" ریاست کو کسی مذہبی سیاسی جماعت کی محض حکمرانی سے کیا چیز ممتاز کرے گی؟
  4. خلافت کی از سرِ نو تعریف: مولانا مودودی خلافت کو ایک ہی خلیفہ کی بجائے پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی امانت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ تصور خلافت کی روایتی/کلاسیکی تفہیم سے کس طرح مختلف ہے، اور روایتی علماء نے اس پر کیا اعتراضات کیے؟
  5. غیر مسلم شہریوں کے حقوق: کتاب ذمیوں کے لیے وسیع تحفظات (جان، مال، عبادت، ٹیکس میں رعایت) کا اثبات کرتی ہے مگر انہیں مسلم شہریوں سے الگ قانونی درجے میں رکھتی ہے۔ اس اور کتاب کے اپنے باب "بنیادی حقوق" کی زیادہ آفاقی زبان کے مابین تناؤ پر بحث کریں۔ یہ فریم ورک ایک جدید کثیر المذاہب قومی ریاست میں کس طرح کام کرے گا؟
  6. بنیادی حقوق بمقابلہ بین الاقوامی انسانی حقوق: کتاب کے باب "بنیادی حقوق" میں درج حقوق کا جدید انسانی حقوق کے فریم ورک (مثلاً اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ) سے موازنہ کریں۔ کہاں مشترکات ہیں اور کہاں — بالخصوص مذہب یا جنس سے قطع نظر مساوات کے معاملے میں — اختلاف ہے؟
  7. اجتہاد کا دائرہ: مولانا مودودی مقننہ کو کس حد تک آزادانہ اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں، اور اس کی اہلیت کس کے پاس ہے؟ کیا عام اکثریتی مقننہ (بمقابلہ تربیت یافتہ مجتہدین) خود مولانا کے اپنے فریم ورک سے ہم آہنگ ہے؟
  8. سیاست میں خواتین کا کردار: کتاب اسلامی ریاست میں خواتین کو کیا کردار دیتی ہے، اور مطالعاتی حلقہ اسے صنف اور سیاسی شرکت کے معاصر مباحث کی روشنی میں کیسے پرکھ سکتا ہے؟
  9. سرمایہ داری، اشتراکیت اور مولانا کا تصورِ عدلِ اجتماعی: کتاب کی سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں پر تنقید کا خلاصہ کریں۔ کیا اس کا متبادل (نجی ملکیت مع سخت اخلاقی و قانونی حدود) دوسرے دو نظاموں میں نشاندہی کردہ مسائل کو حل کرتا ہے، یا اسے بھی نفاذ اور تعریف کے اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے؟
  10. "مثالی دور": مولانا مودودی عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو کسی بھی اسلامی ریاست کے لیے معیار قرار دیتے ہیں۔ ایک جدید ریاست کو ساتویں صدی کے نمونے کے مطابق پرکھنے کے فوائد اور خطرات کیا ہیں؟
  11. تبدیلی کا طریقہ، بتدریج یا انقلابی: مولانا مودودی اقتدار حاصل کرنے سے پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی پر زور دیتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی بیسویں صدی کی دیگر اسلامی تحریکوں سے کس طرح مختلف ہے، اور کیا یہ عملاً کامیاب رہی — مثلاً پاکستان میں خود جماعتِ اسلامی کے سفر میں؟
  12. آج کی معنویت: چونکہ یہ کتاب بیسویں صدی کے وسط میں پاکستان کے قیام کے مخصوص تناظر میں مرتب کی گئی، اس کے کون سے دلائل آپ کے خیال میں کسی بھی جدید مسلم اکثریتی ریاست کے لیے آج بھی متعلقہ ہیں، اور کون سے اس مخصوص لمحے تک محدود یا پرانے محسوس ہوتے ہیں؟

۳۔اسلامی تصورِ حیات

قرآن اس دنیا میں انسان کے صحیح مقام اور زندگی کے متعلق اس کے پورے نظریے کو ایک آیت میں بیان کرتا ہے:

<< اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ وَ مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖ وَ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔>> التوبۃ 9:111

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور مارتے مرتے ہیں۔ ان سے (جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے‘ تورات اور انجیل اور قرآن میں، اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو؟ پس خوشیاں منائو اپنے سودے پر جو تم نے اللہ سے چکا لیا ہے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

یہاں ایمان کے اس معاملے کو جو اللہ اور بندے کے درمیان طے ہوتا ہے بیع سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایمان محض ایک مابعد الطبیعیاتی عقیدہ نہیں ہے بلکہ فی الواقع وہ ایک معاہدہ ہے جس کی رو سے بندہ اپنا نفس اور اپنا مال اللہ کے ہاتھ فروخت کر دیتا ہے اور اس کے معاوضے میںاللہ کی طرف سے اس وعدے کو قبول کرلیتا ہے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں وہ اسے جنت عطا کرے گا۔ اس اہم مضمون کے مضمرات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس بَیع کی حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیا جائے۔

جہاں تک اصل حقیقت کا تعلق ہے‘ اس کے لحاظ سے تو انسان کی جان و مال کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے‘ کیونکہ وہی اس کا اور ان ساری چیزوں کا خالق ہے جو اس کے پاس ہیں اور اسی نے وہ سب کچھ اسے بخشا ہے جس پر وہ تصرُّف کر رہا ہے۔ لہٰذا اس حیثیت سے تو خریدو فروخت کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ نہ انسان کا اپنا کچھ ہے کہ وہ اسے بیچے‘ نہ کوئی چیز اللہ کی ملکیت سے خارج ہے کہ وہ اسے خریدے، لیکن ایک چیز انسان کے اندر ایسی بھی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کلیتاً اس کے حوالے کر دیا ہے اور وہ ہے اس کا اختیار‘ یعنی اس کا اپنے انتخاب و ارادے میں آزاد ہونا (free will and freedom of choice)۔اس اختیار کی بنا پر حقیقت نفس الامری تو نہیں بدلتی مگر انسان کو اس امر کی خود مختاری حاصل ہو جاتی ہے کہ چاہے تو حقیقت کو تسلیم کرے، ورنہ انکار کر دے۔ بالفاظ دیگر اس اختیار کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انسان فی الحقیقت اپنے نفس کا اور اپنے ذہن و جسم کی قوتوں کا اور ان اقتدارات کا جو اسے دنیا میں حاصل ہیں‘ مالک ہوگیا ہے اور اسے یہ حق مل گیا ہے کہ ان چیزوں کو جس طرح چاہے استعمال کرے، بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ اسے اس امر کی آزادی دے دی گئی ہے کہ اللہ کی طرف سے کسی جبر کے بغیر وہ خود ہی اپنی ذات پر اور اپنی ہر چیز پر اللہ کے حقوق مالکانہ کو تسلیم کرنا چاہے تو کرے، ورنہ آپ ہی اپنا مالک بن بیٹھے اور اپنے زعم میں یہ خیال کرلے کہ وہ اللہ سے بے نیاز ہو کر اپنے حدود اختیار میں اپنے حسب منشا تصرّف کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے بیع کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ دراصل یہ بیع اس معنی میں نہیں ہے کہ جو چیز انسان کی ہے اللہ اُسے خریدنا چاہتا ہے، بلکہ اس معاملے کی صحیح نوعیت یہ ہے کہ جو چیز خدا کی ہے اور جسے اس نے امانت کے طور پر انسان کے حوالے کیا ہے اور جس میں امین رہنے یا خائن بن جانے کی آزادی اس نے انسان کو دے رکھی ہے‘ اس کے بارے میں وہ انسان سے مطالبہ کرتا ہے کہ تو برضا و رغبت (نہ کہ بہ مجبوری) میری چیز کو میری ہی چیز مان لے اور زندگی بھر اس میں خود مختار مالک کی حیثیت سے نہیں، بلکہ امین ہونے کی حیثیت سے تصرف کرنا قبول کر لے اور خیانت کی جو آزادی تجھے میں نے دی ہے اس سے خود بخود دست بردار ہو جا۔ اس طرح اگر تو دنیا کی موجودہ عارضی زندگی میں اپنی خود مختاری کو (جو تیری حاصل کردہ نہیں، بلکہ میری عطا کردہ ہے) میرے ہاتھ فروخت کر دے گا تو میں تجھے بعد کی جاودانی زندگی میں اس کی قیمت بصورت جنت ادا کروں گا۔ جو انسان اللہ کے ساتھ بیع کا یہ معاملہ طے کرلے‘ وہ مومن ہے اور ایمان دراصل اسی بیع کا دوسرا نام ہے اور جو شخص اس سے انکار کر دے، یا اقرار کرنے کے باوجود ایسا رویہ اختیار کرے جو بیع نہ کرنے کی صورت ہی میں اختیار کیا جاسکتا ہے‘ وہ کافر ہے اور اس بیع ہی سے گریز کا اصطلاحی نام کفر ہے۔

بیع کی اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد اب اس کے تضمّنات کا تجزیہ کیجیے:

۱۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو بہت بڑی آزمائشوں میں ڈالا ہے۔ پہلی آزمائش اس امر کی کہ آزاد چھوڑ دیے جانے پر اتنی شرافت دکھاتا ہے یا نہیں کہ مالک ہی کو مالک سمجھے اور نمک حرامی و بغاوت پر نہ اتر آئے۔ دوسری آزمائش اس امر کی کہ یہ اپنےاللہ پر اتنا اعتماد کرتا ہے یا نہیں کہ جو قیمت آج نقد نہیں مل رہی ہے، بلکہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں ملے گی‘ جس کے ادا کرنے کا اللہ کی طرف سے وعدہ ہے‘ اس کے عوض اپنی آج کی خود مختاری اور اس کے مزے بیچ دینے پر بخوشی راضی ہو جائے۔

۲۔ دنیا میں جس فقہی قانون پر اسلامی سوسائٹی بنتی ہے اُس کی رُو سے تو ایمان بس چند عقائد کے اقرار کا نام ہے جس کے بعد کوئی قاضیِ شرع کسی کے غیر مومن یا خارج از ملت ہونے کا حکم نہیں لگا سکتا جب تک اس امر کا کوئی صریح ثبوت اسے نہ مل جائے کہ وہ اپنے اقرار میں جھوٹا ہے، لیکن اللہ کے ہاں جو ایمان معتبر ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ خیال اور عمل دونوں میں اپنی آزادی و خود مختاری کو اللہ کے ہاتھ بیچ دے اور اس کے حق میں اپنے ادّعائے ملکیت سے کلیتاً دست بردار ہو جائے۔ پس اگر کوئی شخص کلمۂ اسلام کا اقرار کرتا ہو، اور صوم و صلوٰۃ وغیرہ احکام کا بھی پابند ہو، لیکن اپنے جسم و جان کا‘ اپنے دل و دماغ اور بدن کی قوتوں کا‘ اپنے مال اور وسائل و ذرائع کا اور اپنے قبضہ و اختیار کی ساری چیزوں کا مالک اپنے آپ ہی کو سمجھتا ہو، اور ان میں اپنے حسبِ منشا تصرف کرنے کی آزادی اپنے لیے محفوظ رکھتا ہو‘ تو ہوسکتا ہے کہ دنیا میں وہ مومن سمجھا جاتا رہے‘ مگر اللہ کے ہاں یقیناً وہ غیر مومن ہی قرار پائے گا، کیونکہ اس نے اللہ کے ساتھ وہ بیع کا معاملہ سرے سے کیا ہی نہیں جو قرآن کی رُو سے ایمان کی اصل حقیقت ہے۔ جہاں اللہ کی مرضی ہو وہاں جان و مال کھپانے سے دریغ کرنا اور جہاں اس کی مرضی نہ ہو وہاں جان و مال کھپانا‘ یہ دونوں طرز عمل ایسے ہیں جو اس بات کا قطعی فیصلہ کر دیتے ہیں کہ مُدعیِ ایمان نے یا تو جان و مال کو اللہ کے ہاتھ بیچا نہیں ہے، یا بیع کا معاہدہ کر لینے کے بعد بھی وہ بیچی ہوئی چیز کو بدستور اپنی سمجھ رہا ہے۔

۳۔ ایمان کی یہ حقیقت اسلامی رویۂ زندگی اور کافرانہ رویۂ زندگی کو شروع سے آخر تک بالکل ایک دوسرے سے جدا کر دیتی ہے۔ مسلم جو صحیح معنی میں اللہ پر ایمان لایا ہو‘ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی مرضی کا تابع بن کر کام کرتا ہے اور اس کے رویّے میں کسی جگہ بھی خود مختاری کا رنگ نہیں آنے پاتا، اِلاَّیہ کہ عارضی طور پر کسی وقت اس پر غفلت طاری ہو جائے اور وہ اللہ کے ساتھ اپنے معاہدۂ بیع کو بھول کر کوئی خود مختارانہ حرکت کر بیٹھے۔ اسی طرح جو گروہ اہلِ ایمان سے مرکب ہو، وہ اجتماعی طور پر بھی کوئی پالیسی‘ کوئی سیاست‘ کوئی طرز تمدن و تہذیب‘ کوئی طریق معیشت و معاشرت اور کوئی بین الاقوامی رویہ اللہ کی مرضی اور اس کے قانونِ شرعی کی پابندی سے آزاد ہو کر اختیار نہیں کرسکتا اور اگر کسی عارضی غفلت کی بنا پر اختیار کر بھی جائے تو جس وقت اسے تَنَبُّہ ہوگا اسی وقت وہ آزادی کا رویہ چھوڑ کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئے گا۔ اللہ سے آزاد ہو کر کام کرنا اور اپنے نفس و متعلقات نفس کے بارے میں خود یہ فیصلہ کرنا کہ ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں، بہرحال ایک کافرانہ رویۂ زندگی ہے۔ خواہ اس پر چلنے والے لوگ ’مسلمان‘ کے نام سے موسوم ہوں یا ’غیر مسلم‘ کے نام سے۔

۴۔ اس بیع کی رُو سے اللہ کی جس مرضی کا اتباع آدمی پر لازم آتا ہے وہ آدمی کی اپنی تجویز کردہ مرضی نہیں، بلکہ وہ مرضی ہے جو اللہ خود بتائے۔ اپنے آپ کسی چیز کو اللہ کی مرضی ٹھیرا لینا اور اس کا اتباع کرنا اللہ کی مرضی کا اتباع نہیں‘ بلکہ اپنی ہی مرضی کا اتباع ہے اور یہ معاہدۂ بیع کے قطعی خلاف ہے۔ اللہ کے ساتھ اپنے معاہدۂ بیع پر صرف وہی شخص اور وہی گروہ قائم سمجھا جائے گا جو اپنا پورا رویۂ زندگی اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر علیہ السلام کی ہدایت سے اخذ کرتا ہو۔

یہ اس بیع کے تضمنات ہیں اور ان کو سمجھ لینے کے بعد یہ بات بھی خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس خرید و فروخت کے معاملے میں قیمت (یعنی جنت) کو موجودہ دنیوی زندگی کے خاتمے پر کیوں مؤخر کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جنت صرف اس اقرار کا معاوضہ نہیں ہے کہ ’’بائع نے اپنا نفس و مال اللہ کے ہاتھ بیچ دیا‘‘ بلکہ وہ اس عمل کا معاوضہ ہے کہ ’’بائع اپنی دنیوی زندگی میں اس بیچی ہوئی چیز پر خود مختارانہ تصرف چھوڑ دے اور اللہ کا امین بن کر اس کی مرضی کے مطابق تصرف کرے۔‘‘ لہٰذا یہ فروخت مکمل ہی اُس وقت ہوگی جب کہ بائع کی دنیوی زندگی ختم ہو جائے اور فی الواقع یہ ثابت ہو کہ اس نے معاہدۂ بیع کرنے کے بعد سے اپنی دنیوی زندگی کے آخری لمحے تک بیع کی شرائط پوری کی ہیں۔ اس سے پہلے وہ اَزرُوئے انصاف قیمت پانے کا مستحق نہیں ہوسکتا۔

ان امور کی توضیح کے ساتھ یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اس سلسلۂ بیان میں یہ مضمون کس مناسبت سے آیا ہے۔ اوپر سے جو سلسلۂ تقریر چل رہا تھا اس میں ان لوگوں کا ذکر تھا جنھوں نے ایمان لانے کا اقرار کیا تھا‘ مگر جب امتحان کا نازک موقع آیا تو ان میں سے بعض نے تساہل کی بنا پر‘ بعض نے اخلاص کی کمی کی وجہ سے اور بعض نے قطعی منافقت کی راہ سے اللہ اور اس کے دین کی خاطر اپنے وقت‘ اپنے مال‘ اپنے مفاد اور اپنی جان کو قربان کرنے میں دریغ کیا۔ لہٰذا ان مختلف اشخاص اور طبقوں کے رویے پر تنقید کرنے کے بعد اب ان کو صاف صاف بتایا جارہا ہے کہ وہ ایمان جسے قبول کرنے کا تم نے اقرار کیا ہے‘ محض یہ مان لینے کانام نہیں ہے کہ اللہ ہے اور وہ ایک ہی ہے‘ بلکہ دراصل وہ اس امر کا اقرار ہے کہ اللہ ہی تمھارے نفس اور تمھارے مال کا مالک ہے۔ پس یہ اقرار کرنے کے بعد اگر تم اس نفس و مال کو اللہ کے حکم پر قربان کرنے سے جی چراتے ہو اور دوسری طرف اپنے نفس کی قوتوں کو اور اپنے ذرائع کو اللہ کے منشا کے خلاف استعمال کرتے ہو‘ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم اپنے اقرار میں جھوٹے ہو۔ سچے اہلِ ایمان صرف وہ لوگ ہیں جو واقعی اپنا نفس و مال اللہ کے ہاتھ بیچ چکے ہیں اور اسی کو ان چیزوں کا مالک سمجھتے ہیں۔ جہاں اس کا حکم ہوتا ہے وہاں انھیں بے دریغ قربان کرتے ہیں اور جہاں اس کا حکم نہیں ہوتا وہاں نفس کی طاقتوں کا کوئی ادنیٰ ساجز اور مالی ذرائع کا کوئی ذرا سا حصہ بھی خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

اس امر پر بہت اعتراضات کیے گئے ہیں کہ جس وعدے کا یہاں ذکر ہے وہ تورات اور انجیل میں موجود نہیں ہے، مگر جہاں تک انجیل کا تعلق ہے یہ اعتراضات بے بنیاد ہیں۔ جو اناجیل اس وقت دنیا میں موجود ہیں، ان میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعدد اقوال ہم کو ایسے ملتے ہیں جو اس آیت کے ہم معنی ہیں‘ مثلاً:

۱۔ مبارک ہیں وہ جو راست بازی کے سبب ستائے گئے ہیں‘ کیونکہ آسمان کی بادشاہت انھی کی ہے۔ (متی ۵:۱۰)

۲۔ جوکوئی اپنی جان بچاتا ہے اسے کھوئے گا اور جو کوئی میرے سبب اپنی جان کھوتا ہے اسے بچائے گا۔ (متی۱۰: ۳۹)

۳۔ جس کسی نے گھروں‘ یا بھائیوں‘ یا بہنوں‘ یا باپ‘ یا ماں‘ یا بچوں‘ یا کھیتوں کو میرے نام کی خاطر چھوڑ دیا ہے اس کو سوگنا ملے گا اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہوگا۔ (متی۱۹: ۲۹)

البتہ تورات جس صورت میں اس وقت موجود ہے اس میں بلاشبہ یہ مضمون نہیں پایا جاتا اور یہی مضمون کیا‘ وہ تو حیات بعد الموت اور یوم الحساب اور اخروی جزا و سزا کے تصور ہی سے خالی ہے۔ حالانکہ یہ عقیدہ ہمیشہ سے دین حق کا جزو لَایَنْفک رہا ہے۔ لیکن موجودہ تورات میں اس مضمون کے نہ پائے جانے سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ واقعی تورات اس سے خالی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہود اپنے زمانۂ تنزل میں کچھ ایسے مادہ پرست اور دنیا کی خوش حالی کے بھوکے ہوگئے تھے کہ ان کے نزدیک نعمت اور انعام کے کوئی معنی اس کے سوا نہ رہے تھے کہ وہ اسی دنیا میں حاصل ہو۔ اسی لیے کتاب الٰہی میں بندگی و اطاعت کے بدلے جن جن انعامات کے وعدے ان سے کیے گئے تھے ان سب کو وہ دنیا ہی میں اتار لائے اور جنت کی ہر تعریف کو انھوں نے فلسطین کی سرزمین پر چسپاں کر دیا جس کے وہ امیدوار تھے۔ مثال کے طور پر تورات میں متعدد مقامات پر ہم کو یہ مضمون ملتا ہے:

۱۔ سن اے اسرائیل! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔ تو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت کر۔ (استثناء۶: ۴‘۵)

اور یہ کہ:

۲۔ کیا وہ تمھارا باپ نہیں جس نے تم کو خریدا ہے؟ اسی نے تم کو بنایا اور قیام بخشا۔ (استثناء ۳۲:۶)

لیکن اس تعلق باللہ کی جو جزا بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ تم اس ملک کے مالک ہو جائو گے جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے‘ یعنی فلسطین۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ توراۃ جس صورت میں اس وقت پائی جاتی ہے اول تو پوری نہیں ہے اور پھر وہ خالص کلام الٰہی پر بھی مشتمل نہیں ہے، بلکہ اس میں بہت سا تفسیری کلام اللہ کے کلام کے ساتھ ساتھ شامل کر دیا گیا ہے۔ اس کے اندر یہودیوں کی قومی روایات‘ ان کے نسلی تعصبات‘ ان کے اوہام‘ ان کی آرزوئوں اور تمنائوں‘ ان کی غلط فہمیوں اور ان کے فقہی اجتہادات کا ایک معتدبہ حصہ ایک ہی سلسلۂ عبارت میں کلام الٰہی کے ساتھ کچھ اس طرح رَل مِل گیا ہے کہ اکثر مقامات پر اصل کلام کو ان زوائد سے ممیز کرنا قطعاً غیر ممکن ہو جاتا ہے۔ [تفہیم القرآن، ج ۲، ص ۲۳۵۔۲۳۹، حاشیہ۱۰۶۔۱۰۷]