مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلامی ریاست

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جس میں اسلام کو محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہ سمجھ کر، بلکہ زندگی کا ایک مکمل نظامِ حیات پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام کا نفاذ صرف وعظ و تبلیغ سے ممکن نہیں؛ بلکہ اس کے لیے سیاسی اقتدار اور ریاستی طاقت کا حصول ضروری ہے۔ مولانا مودودی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جدید دور کا سیکولر تصورِ ریاست، جو دین کو ذاتی معاملہ قرار دے کر سیاست سے الگ کرتا ہے، درحقیقت جاہلیت کے محدود تصورِ مذہب کی بازگشت ہے، جسے اسلام نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کتاب کی تدوین کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے نظریاتی اصولوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں منظم انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ نہ صرف علماء و طلبہ بلکہ عام مسلمان بھی اس نظام کی حقیقت سے آشنا ہو سکیں۔

کتاب کا آغاز دیباچے سے ہوتا ہے جس میں ناشر، مرتب اور مصنف کے تعارفی خیالات شامل ہیں۔ یہاں مولانا مودودی کی سیاسی جدوجہد، گرفتاریاں اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو مؤلف کے عملی تجربات کا ادراک ہو سکے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ یہ مضامین گذشتہ پچیس برسوں میں مختلف مواقع پر لکھے گئے تھے، جنہیں اب ادارۂ معارفِ اسلامی کے زیرِ اہتمام دو حصوں میں منظم کیا گیا ہے: پہلا حصہ نظری مباحث پر مشتمل ہے اور دوسرا پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق عملی مضامین پر۔

کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہے جنہیں موضوعاتی اعتبار سے کئی مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی ابواب (دین و سیاست، اسلام کا سیاسی نظریہ، قرآن کا فلسفۂ سیاست، معنیٔ خلافت، اسلامی تصورِ قومیت، اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ) اسلامی ریاست کے نظریاتی خدوخال—حاکمیتِ الٰہی، خلافت، قومیت اور قانون کے سرچشمے—کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرتے ہیں۔ اس کے بعد کے ابواب (اسلامی ریاست کی بنیادیں، اسلامی دستور کی بنیادیں، اسلامی ریاست کا مثالی دور، قانون سازی اور اجتہاد، چند دستوری و سیاسی مسائل) عملی سطح پر ریاست کی تشکیل، حکومت کے قیام کے طریقے، اجتہاد کے اصول اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کو موضوع بناتے ہیں۔ تین ابواب خصوصی طور پر حقوق کے مسئلے کے لیے وقف ہیں: انسان کے بنیادی حقوق، غیر مسلموں (ذمیوں) کے حقوق، اور عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور۔ آخری دو ابواب—اسلامی ریاست کے رہنما اصول اور اسلامی انقلاب کی راہ—اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایسا نظام کن اصولوں پر قائم ہو اور اسے پرامن، تدریجی اور جمہوری طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے، جس کے ضمن میں پاکستان کے اکتیس نامور علماء کے متفقہ دستوری فیصلے کا متن بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"اسلامی ریاست" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ ضخیم تصنیف ہے جو دراصل ایک نشست میں لکھی گئی کتاب نہیں بلکہ اسلامک پبلیکیشنز کی طرف سے مرتب کردہ ایک وسیع مجموعہ ہے، جس میں مولانا مودودی کی تقاریر، مضامین، انٹرویوز اور ان کی دیگر کتب (خصوصاً تفہیمات اور خلافت و ملوکیت) کے اقتباسات کو موضوعِ "اسلامی ریاست" کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتب خانے میں شامل مولانا کی تصانیف میں سب سے ضخیم کتاب ہے (312 ابواب، 16 بڑے حصوں پر مشتمل)، اور ان کے سیاسی فکر کا سب سے مربوط بیان سمجھی جاتی ہے۔

کتاب کی بنیادی دلیل سولہ ابواب میں اس ترتیب سے آگے بڑھتی ہے: (۱) سب سے پہلے اس نظریے کی تردید کی گئی ہے، جو جدیدیت پسند اور سیکولر قوم پرست دونوں طرح کے حلقوں میں مشترک ہے، کہ اسلام میں دین اور سیاست الگ الگ دائرے ہیں؛ (۲) اسلام کا سیاسی نظریہ پیش کیا گیا ہے، جس کی بنیاد یہ دعویٰ ہے کہ ہر نبی کا مشن دراصل انسانوں کی ناجائز حاکمیت کے خلاف دعوت تھا؛ (۳) قرآن کے فلسفہ سیاست کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۴) خلافت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے — یعنی انسان، اور خاص طور پر اہلِ ایمان کی جماعت، اللہ کے قانون کے تحت ایک تفویض شدہ اختیار استعمال کرتی ہے، اپنی خودمختار حیثیت میں حکومت نہیں کرتی؛ (۵) نسل، زبان یا علاقے کی بجائے عقیدے پر مبنی ایک مخصوص اسلامی تصورِ قومیت پیش کیا گیا ہے؛ (۶) اسلامی دستوری قانون کے مآخذ — قرآن، سنت، خلافتِ راشدہ کا تعامل، اور بعد کے مجتہدین کے فیصلے — کا جائزہ لیا گیا ہے؛ (۷-۸) اسلامی ریاست اور دستور کی بنیادیں بیان کی گئی ہیں، جہاں مولانا نے مشہور اصطلاح "الٰہی جمہوریت" وضع کی — ایسا نظامِ حکومت جو نہ پاپائیت ہے نہ مغربی سیکولر جمہوریت، بلکہ ایسی ریاست ہے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے جبکہ روزمرہ انتظام مشاورت، شوریٰ اور وقتاً فوقتاً حکمرانوں کے انتخاب کے ذریعے خود امت انجام دیتی ہے؛ (۹) عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو اسلامی ریاست کے "مثالی دور" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کی روشنی میں کسی بھی مدعیٔ اسلامی ریاست کو پرکھا جانا چاہیے؛ (۱۰) قانون سازی اور اجتہاد کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے — کہ انسانی مقننہ وحی کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آزادانہ اجتہاد کر سکتی ہے؛ (۱۱-۱۲) چند دستوری اور سیاسی مسائل (سیاست میں خواتین کا کردار، ارتداد کی سزا، جنگ اور غلامی کے احکام، صدرِ ریاست کا حقِ ویٹو) پر بحث کے بعد ایک پورا باب انسان کے بنیادی حقوق کے لیے وقف کیا گیا ہے — حقِ زندگی، کمزوروں کا تحفظ، عزت، معاشی تحفظ، آزادیٔ اظہار و ضمیر، ظلم کے خلاف احتجاج — جنہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ اور اس لیے خود ریاست کے لیے بھی ناقابلِ سلب قرار دیا گیا ہے؛ (۱۳) غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کے حقوق و حیثیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے — جان، مال، عبادت کی آزادی، فوجی خدمت سے استثنا، جزیہ — تاہم انہیں جدید معنوں میں "برابر شہری" کی بجائے ایک الگ قانونی درجہ دیا گیا ہے؛ (۱۴) اسلام کے تصورِ عدلِ اجتماعی کا سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے موازنہ کیا گیا ہے، اور یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام نجی ملکیت اور انفرادی کاروبار کی اجازت دیتا ہے مگر دولت کے حصول اور استعمال پر اخلاقی و قانونی حدود عائد کرتا ہے؛ (۱۵) اسلامی ریاست کے رہنما اصول دوبارہ مرتب کیے گئے ہیں؛ اور (۱۶) آخر میں مولانا نے اپنا یہ نقطۂ نظر بیان کیا ہے کہ اسلامی انقلاب دراصل کیسے برپا ہونا چاہیے — بتدریج، پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی کے ذریعے، نہ کہ اقتدار پر اچانک قبضے سے — اور اس ضمن میں 1951ء کا وہ اتفاقِ رائے شامل کیا گیا ہے جس پر پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے 31 علماء نے اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کے طور پر اتفاق کیا تھا۔

اہمیت۔ یہ کتاب (اور جس فکری سرمائے سے یہ مرتب کی گئی ہے) جماعتِ اسلامی کے سیاسی پروگرام کی اساس اور بیسویں صدی میں اسلام اور جدید ریاست کے تعلق پر ہونے والی بحث کی سب سے اہم دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔ مولانا کی اصطلاحات — حاکمیت، "الٰہی جمہوریت"، اور خلافت کا از سرِ نو تعین بطور اجتماعی امانت نہ کہ کسی ایک حکمران کا ذاتی منصب — نے پاکستان کے دستوری مباحث (اور بعد ازاں، فقہی اختلافات کے باوجود، ایران کے انقلابی گفتگو) میں استعمال ہونے والی وہ زبان فراہم کی جس کے ذریعے جدید قومی ریاست میں اسلام کے مقام پر بحث کی گئی۔ کتاب کے آخری باب میں شامل 1951ء کا علماء اتفاقِ رائے، پاکستان کی ابتدائی دستور سازی میں "قراردادِ مقاصد" پر ہونے والی بحث پر براہِ راست اثرانداز ہوا۔

تنقیدی جائزہ۔ ایک محقق کی حیثیت سے اس کتاب کو پڑھنے کا تقاضا ہے کہ اسے محض اس کے اپنے موقف تک محدود نہ رکھا جائے۔ سید ولی رضا نصر اور چارلس ایڈمز جیسے محققین، جنہوں نے مولانا مودودی کے سیاسی فکر پر سب سے تفصیلی علمی مطالعے کیے ہیں، کا موقف ہے کہ ان کا نظریہ روایتی زبان میں لپٹی ہوئی ایک حقیقی جدید تشکیل ہے: قدیم فقہ سیاسیہ کی روایت "حاکمیت" کو اس طرح کسی ایک بنیادی تصور کے گرد مرتب نہیں کرتی جیسا مولانا مودودی نے کیا — یہ طرزِ استدلال جتنا کلاسیکی فقہ سے ماخوذ ہے، اتنا ہی مغرب میں مقبول عوامی حاکمیت کے تصور کے خلاف ردعمل سے بھی متاثر ہے، جس کی مولانا واضح طور پر تردید کر رہے ہیں۔ ناقدین نے کتاب کے حقوق سے متعلق ابواب میں ایک اندرونی تناؤ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے: ایک باب میں شہریوں کے لیے وسیع "بنیادی حقوق" کا اثبات کیا گیا ہے، جبکہ اگلے باب میں غیر مسلم باشندوں کو ایک الگ قانونی درجے (ذمی) میں رکھا گیا ہے جس میں سیاسی حقوق محدود ہیں (مثلاً منصبِ سربراہِ مملکت یا مکمل قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا) — حقوق کی آفاقی زبان اور شہریت کے مخصوص نظریے کے مابین یہ تناؤ بعد کے محققین، بشمول خود اسلامی فکر کی روایت کے اندر، زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ روایتی علماء کی جانب سے مولانا کے خلافت کو ایک اجتماعی/عوامی منصب کے طور پر (بجائے ایک متعین خلیفہ کے) نئے سرے سے متعین کرنے پر، اور محض عام مسلمانوں کی اکثریتی مقننہ کو اجتہاد کے وسیع اختیارات دینے پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ مطالعاتی حلقے کو چاہیے کہ اس کتاب کے دستوری نظریے کو صرف اس کے اپنے منطقی فریم ورک میں نہیں بلکہ ان تنقیدوں کی روشنی میں بھی پڑھے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. دین اور سیاست: مولانا مودودی دین اور سیاست کی علیحدگی کو رد کرتے ہیں۔ اس تفریق کے حق میں سب سے مضبوط دلائل کیا ہو سکتے ہیں، اور کتاب ان کا کیا جواب دیتی ہے؟ کیا آپ کو یہ جواب مطمئن کن لگتا ہے؟
  2. حاکمیتِ الٰہی بمقابلہ عوامی حاکمیت: مولانا مودودی جائز حکومت کی بنیاد عوام کی مرضی کی بجائے اللہ کی حاکمیت پر رکھتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر جدید جمہوری نظریے — کہ سیاسی اختیار عوام کی رضامندی سے حاصل ہوتا ہے — سے کس طرح مختلف ہے، اور اس سے کیا تناؤ پیدا ہوتا ہے؟
  3. "الٰہی جمہوریت": کیا یہ ایک مفید تیسری قسم ہے، یا تفصیل میں جانے پر یہ پاپائیت یا جمہوریت میں سے کسی ایک میں ضم ہو جاتی ہے؟ ایک حقیقی "الٰہی جمہوری" ریاست کو کسی مذہبی سیاسی جماعت کی محض حکمرانی سے کیا چیز ممتاز کرے گی؟
  4. خلافت کی از سرِ نو تعریف: مولانا مودودی خلافت کو ایک ہی خلیفہ کی بجائے پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی امانت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ تصور خلافت کی روایتی/کلاسیکی تفہیم سے کس طرح مختلف ہے، اور روایتی علماء نے اس پر کیا اعتراضات کیے؟
  5. غیر مسلم شہریوں کے حقوق: کتاب ذمیوں کے لیے وسیع تحفظات (جان، مال، عبادت، ٹیکس میں رعایت) کا اثبات کرتی ہے مگر انہیں مسلم شہریوں سے الگ قانونی درجے میں رکھتی ہے۔ اس اور کتاب کے اپنے باب "بنیادی حقوق" کی زیادہ آفاقی زبان کے مابین تناؤ پر بحث کریں۔ یہ فریم ورک ایک جدید کثیر المذاہب قومی ریاست میں کس طرح کام کرے گا؟
  6. بنیادی حقوق بمقابلہ بین الاقوامی انسانی حقوق: کتاب کے باب "بنیادی حقوق" میں درج حقوق کا جدید انسانی حقوق کے فریم ورک (مثلاً اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ) سے موازنہ کریں۔ کہاں مشترکات ہیں اور کہاں — بالخصوص مذہب یا جنس سے قطع نظر مساوات کے معاملے میں — اختلاف ہے؟
  7. اجتہاد کا دائرہ: مولانا مودودی مقننہ کو کس حد تک آزادانہ اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں، اور اس کی اہلیت کس کے پاس ہے؟ کیا عام اکثریتی مقننہ (بمقابلہ تربیت یافتہ مجتہدین) خود مولانا کے اپنے فریم ورک سے ہم آہنگ ہے؟
  8. سیاست میں خواتین کا کردار: کتاب اسلامی ریاست میں خواتین کو کیا کردار دیتی ہے، اور مطالعاتی حلقہ اسے صنف اور سیاسی شرکت کے معاصر مباحث کی روشنی میں کیسے پرکھ سکتا ہے؟
  9. سرمایہ داری، اشتراکیت اور مولانا کا تصورِ عدلِ اجتماعی: کتاب کی سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں پر تنقید کا خلاصہ کریں۔ کیا اس کا متبادل (نجی ملکیت مع سخت اخلاقی و قانونی حدود) دوسرے دو نظاموں میں نشاندہی کردہ مسائل کو حل کرتا ہے، یا اسے بھی نفاذ اور تعریف کے اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے؟
  10. "مثالی دور": مولانا مودودی عہدِ نبویؐ اور خلافتِ راشدہ کو کسی بھی اسلامی ریاست کے لیے معیار قرار دیتے ہیں۔ ایک جدید ریاست کو ساتویں صدی کے نمونے کے مطابق پرکھنے کے فوائد اور خطرات کیا ہیں؟
  11. تبدیلی کا طریقہ، بتدریج یا انقلابی: مولانا مودودی اقتدار حاصل کرنے سے پہلے افراد اور رائے عامہ کی تبدیلی پر زور دیتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی بیسویں صدی کی دیگر اسلامی تحریکوں سے کس طرح مختلف ہے، اور کیا یہ عملاً کامیاب رہی — مثلاً پاکستان میں خود جماعتِ اسلامی کے سفر میں؟
  12. آج کی معنویت: چونکہ یہ کتاب بیسویں صدی کے وسط میں پاکستان کے قیام کے مخصوص تناظر میں مرتب کی گئی، اس کے کون سے دلائل آپ کے خیال میں کسی بھی جدید مسلم اکثریتی ریاست کے لیے آج بھی متعلقہ ہیں، اور کون سے اس مخصوص لمحے تک محدود یا پرانے محسوس ہوتے ہیں؟

خلافت ِ راشدہ کا تعامل

قریب قریب یہی طریق کار عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافتِ راشدہ میں جاری رہا۔ فرق صرف یہ تھا کہ عہد رسالت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود موجود تھے، اس لیے معاملات کا آخری فیصلہ آپ سے شخصًا حاصل کیا جاسکتا تھا اور بعد کے دور میں مرجع آپؐ کی ذات نہ رہی، بلکہ وہ روایات ہوگئیں جو آپؐ کی سنت کے متعلق لوگوں کے پاس محفوظ تھیں۔ اس دور میں تین ادارے الگ الگ پائے جاتے تھے، جو اپنے اپنے مقام و موقف کے لحاظ سے <<فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ>> کا منشا پورا کرتے تھے:

۱۔ عام اہلِ علم جو کتاب اللہ کو جانتے تھے اور جن کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں یا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق عمل یا حضور اکرم کی تقریر [تقریر سے مراد یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کوئی عمل کیا گیا ہو، اور آپؐ نے اس کو برقرار رہنے دیا ہو۔] کے بارے میں کوئی علم موجود تھا، ان سے صرف عوام الناس ہی اپنی زندگی کے معاملات میں فتوے نہیں لیتے تھے بلکہ خود خلفائے راشدین کوبھی جب کسی مسئلے کا فیصلہ کرنے میں یہ معلوم کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی حکم دیا ہے یا نہیں‘ تو انھی لوگوں کی طرف رجوع فرمایا کرتے تھے۔ بارہا ایسا بھی ہوا ہے کہ خلیفۂ وقت نے علم نہ ہونے کی وجہ سے ایک مسئلے کا فیصلہ اپنی رائے سے کر دیا ہے اور بعد میں جب معلوم ہوا ہے کہ اس معاملے میں کوئی دوسری بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے تو اس فیصلے کو بدل دیا ہے۔ ان اہلِ علم کی موجودگی کا فائدہ صرف یہی نہ تھا کہ فردًافردًاوہ عوام اور اولی الامر کے لیے ایک ذریعۂ علم کاکام دیتے تھے‘ بلکہ اس سے بڑھ کر ان کا عظیم تر فائدہ یہ تھا کہ مجموعی طور پر وہ اس بات کی ضمانت تھے کہ کوئی عدالت اور کوئی حکومت اور کوئی مجلس شوریٰ کتاب اللہ و سنت رسولؐ اللہ کے خلاف فیصلہ نہ کرسکے۔ ان کی مضبوط رائے عام نظام اسلامی کی پشت پناہ تھی۔ ہر غلط فیصلے کو ٹوکنے کے لیے اُن کا چوکنّا رہنا نظام کے صحیح چلنے کا ضامن تھا۔کسی مسئلے میں ان کا اتفاق رائے اس بات کی دلیل تھا کہ اس مسئلۂ خاص میں دین کی راہ متعین ہے جس سے ہٹ کر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اور ان کا اختلاف رائے یہ معنی رکھتا تھا کہ اس مسئلے میں دو یا زیادہ اقوال کی گنجائش ہے، اگرچہ فیصلہ ایک ہی قول پر ہوچکا ہو۔ ان کی موجودگی میں یہ ممکن نہ تھا کہ امت کے اندر کوئی بدعت قبول عام حاصل کرلے جائے‘ کیونکہ ہر طرف دین کے جاننے والے لوگ اس پر گرفت کرنے کے لیے موجود تھے۔

۲۔ قضاء یعنی عدلیہ جس کے ضابطے کی وضاحت حضرت عمرؓ نے قاضی شریح کے نام اپنے ایک فرمان میں اس طرح کی ہے:

<<اِقْضِ بِمَا فِیْ کِتَابِ اللہِ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللہِ فَبِسُنَّۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللہِ وَلَافِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاقْضِ بِمَا قَضٰی بِہِ الصَّالِحُوْنَ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللہِ وَلاَ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ وَلَمْ یَقْضِ بِہِ الصَّالِحُوْنَ فَاِنْ شِئْتَ فَتَقَدَّمْ وَاِنْ شِئْتَ فَتَاَخَّرْ وَلَااَرَی التَّاَخُّرَ اِلاَّ خَیْرًا لَّکَ وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔>> (النسائی، کتاب آداب القضاۃ)

فیصلہ اس حکم پر کرو جو کتاب اللہ میں ہو‘ اگر کتاب اللہ میں نہ ہو تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر‘ اگر نہ کتاب اللہ میں ہو، نہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو پھر صالحین نے جو فیصلے کئے ہوں ان کے مطابق فیصلہ کرو، لیکن اگر کسی معاملے کا حکم نہ کتاب اللہ میں ملتا ہو، اور نہ سنت رسول اللہ میں اور نہ صالحین کے فیصلوں میں اس کے متعلق کوئی نظیر موجود ہوتو تمھیں اختیار ہے چاہے خود پیش قدمی کرو یا رک جائو‘ اور میرے نزدیک رک جانا تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ [رک جانے سے دو چیزیں مراد ہوسکتی ہیں: ایک یہ کہ قاضی کچھ دیر اس بات کا انتظار کرے کہ کوئی دوسری عدالت پیش قدمی کرکے اس طرح کے ایک معاملے میں نظیر قائم کرتی ہے یا نہیں۔ دوسرے یہ کہ قاضی خود فیصلہ کرنے کے بجائے اس معاملے میں اس تیسرے ادارے کی طرف رجوع کرے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔]

اسی ضابطے کو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

<<قَدْ اَتٰی عَلَیْنَا زَمَانٌ وَلَسْنَا نَقْضِیْ وَلَسْنَا ھُنَالِکَ ثُمَّ اِنَّ اللہَ عَزَّوَجَلَّ قَدَّرَعَلَیْنَا اَنْ بَلَغْنَا مَاتَرَوْنَ فَمَنْ عُرِضَ لَہ‘ مِنْکُمْ قَضَائً بَعْدَ الْیَوْمِ فَلْیَقْضِ بِمَا فِیْ کِتَابِ اللہِ فَاِنْ جَائَ اَمْرٌ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللہِ فَلْیَقْضِ بِمَا قَضٰی بِہٖ نَبِیُّہ‘صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاِنْ جَائَ اَمْرٌ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللہِ وَلاَ قَضٰی بِہٖ نَبِیُّہ‘ فَلْیَقْضِ بِمَا قَضٰی بِہِ الصَّالِحُوْنَ فَاِنْ جَائَ اَمْرٌ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللہِ وَلَا قَضٰی بِہٖ نَبِیُّہ‘صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا قَضٰی بِہِ الصَّالِحُوْنَ فَلْیَجْتَھِدْ بِرَأْیِہٖ وَلَا یَقُوْلُ اِنِّیْ اَخَافُ وَاِنِّیْ اَخَافُ فَاِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ وَالْحَرَامَ بَیِّنٌ وَبَیْنَ ذٰلِکَ اُمُوْرٌ مُشْتَبِھَاتٌ فَدَعْ مَا یُرِ یْبُکَ اِلٰی مَالَایُرِیْبُکَ۔>> (النسائی‘ کتاب مذکور)

وہ زمانہ گزر چکا ہے جب ہم نہ فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہماری یہ حیثیت تھی کہ فیصلے کریں (یعنی سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا دور)۔ اب تقدیر الٰہی سے ہم اس حالت کو پہنچے ہیں جو تم لوگ دیکھ رہے ہو۔ پس اب تم میں سے جس کے سامنے کوئی معاملہ فیصلے کے لیے پیش ہو تو اسے چاہیے کہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرے اور اگر کوئی ایسا معاملہ آجائے جس کا حکم کتاب اللہ میں نہ ہو تو اس کا فیصلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق کرے اور اگر معاملہ ایسا ہو کہ اس کا حکم نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا ہو تو صالحین نے اس کا جو فیصلہ کیا ہو اس کی پیروی کرے۔ لیکن اگر ایک معاملہ ایسا آجائے جو نہ کتاب اللہ میں ہو‘ نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں میں، نہ صالحین نے اس سے پہلے کبھی اس کا فیصلہ کیا ہو‘ تو اپنی رائے سے (حق و صواب تک پہنچنے کی) پوری کوشش کرے اور یہ نہ کہے کہ میں ڈرتا ہوں‘ میں ڈرتا ہوں‘ کیونکہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح اور ان دونوں کے درمیان کچھ امور مشتبہ ہیں۔ سو مشتبہ امور میں آدمی کو وہ فیصلہ کرنا چاہیے جو اس کے ضمیر کو نہ کھٹکے اور ایسا فیصلہ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے جس کے متعلق خود اس کے ضمیر میں کھٹک ہو۔

یہ عدلیہ صرف عوام ہی کے باہمی نزاعات کا فیصلہ کرنے کی مجاز نہ تھی‘ بلکہ انتظامیہ (executive)کے خلاف بھی وہ لوگوں کے دعاوی سنتی اور ان کے فیصلے کرتی تھی۔ اس کے سامنے حاضر ہونے سے نہ کوئی گورنر مستثنیٰ تھا نہ خود خلیفۂ وقت۔ اسی طرح انتظامیہ کے بڑے سے بڑے شخص‘ حتیٰ کہ خلیفۂ وقت کو بھی اور خود حکومت کو بھی اگرکسی کے خلاف کوئی ذاتی یا سرکاری دعویٰ ہوتا تھا تو اسے عدالت میں جانا ہوتا تھا اور عدالت ہی یہ طے کرتی تھی کہ خدا اور رسولؐ کے قانون کی رُو سے اس کا صحیح فیصلہ کیا ہے۔

۳۔ اولی الامر‘ یعنی خلیفہ اور اس کی مجلس شوریٰ۔ یہ وہ آخری بااختیار ادارہ تھا جو قرآن کی ہدایت کے مطابق باہمی مشورے سے یہ طے کرتا تھا کہ معاشرے اور مملکت کو پیش آنے والے مختلف معاملات میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا حکم ثابت ہے اور کسی معاملے کا حکم کتاب و سنت میں نہیں ہے تو اس کے بارے میں کون سا طرز عمل دین کے اصول اور اس کی روح اور جماعتِ مسلمین کی مصلحت کے لحاظ سے اقرب الی الصواب ہے۔ اس ادارے کے بکثرت فیصلے احادیث وآثار اور فقہ کی کتابوں میں مستند ذرائع سے نقل ہوئے ہیں اور اکثر و بیش تر کے ساتھ وہ تفصیلی بحثیں بھی منقول ہوئی ہیں جو فیصلہ کرتے وقت صحابہؓ کی مجلس میں ہوئی تھیں۔ ان کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ادارہ پوری سختی کے ساتھ جس قاعدے کلیے کی پابندی کرتا تھا وہ یہ تھا کہ ہر معاملے میں سب سے پہلے کتاب اللہ کی طرف رجوع کیا جائے‘ پھر یہ معلوم کیا جائے کہ اگر اس طرح کا کوئی معاملہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا ہے تو آپؐ نے اس کے بارے میں کیا فیصلہ فرمایا ہے اور اپنی صواب دید پر صرف اس صورت میں فیصلہ کیا جائے جب کہ یہ دونوں ماخذِ ہدایت خاموش ہوں۔ جس معاملے میں بھی اللہ کی کتاب سے کوئی آیت یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے کوئی نظیر ان کو مل گئی ہے‘ اس میں کبھی انھوں نے اس سے ہٹ کر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ پورے دور صحابہؓ میں اس قاعدے کے خلاف ایک مثال بھی ہم کو نہیں ملتی۔ اگرچہ عملاً مملکت میں آخری فیصلے کے اختیارات اولی الامر ہی کو حاصل تھے‘ لیکن قانوناً وہ قرآن اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری فیصلہ کن سند تسلیم کرتے تھے اور مسلم معاشرہ بھی ان کے اقتدار کی اطاعت اسی اطمینان و اعتماد کی بنا پر کرتا تھا کہ وہ اپنے فیصلوں میں قرآن و سنت کی پیروی سے تجاوز نہ کریں گے۔ ان میں سے کسی کے ذہن میں یہ وہم و گمان تک نہ تھا کہ وہ نصِ قرآن کے خلاف کوئی قانون بنانے یا حکم دینے کے مجاز ہیں۔ اسی طرح کسی کے حاشیۂ خیال میں بھی اس تصور نے کبھی راہ نہیں پائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانے کے صاحب امر تھے اور ہم اپنے زمانے کے صاحب امر ہیں، ہم اس کے پابند نہیں ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور حکومت میں جو احکام دیے ہوں ان کے نظائر کی پیروی کریں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کا ادارہ جس روز وجود میں آیا اسی روز خلیفۂ اول نے اپنے خطبے میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ:

<<اَطِیْعُوْنِیْ مَا اَطَعْتُ اللہَ وَرَسُوْلَہ‘ فَاِنْ عَصَیْتُ اللہَ وَرَسُوْلَہ‘ فَلاَ طَاعَۃَ لِیْ عَلَیْکُمْ۔>>

میری اطاعت کرو جب تک کہ میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرتا رہوں، اور اگر میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کروں تو میرے لیے کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے۔

اس اعلان سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ خلافت کا یہ ادارہ قائم ہی اس معاہدے پر ہوا تھا کہ خلیفہ خدا اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گا اور امت خلیفہ کی اطاعت کرے گی۔ دوسرے الفاظ میں امت پر خلیفہ کی اطاعت اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ وہ خدا اور رسولؐ کے احکام کی پیروی کرے گا۔ اس شرط کے فوت ہوتے ہی امت پر سے خلیفہ کی اطاعت کا فریضہ آپ سے آپ ساقط ہو جاتا تھا۔