تاریخ کی طویل ترین اور سب سے وسیع مسلم سلطنتوں میں سے ایک، جس نے 1453ء میں قسطنطنیہ فتح کیا اور تین براعظموں پر حکومت کی۔ 1922ء میں سلطنت اور 1924ء میں خلافت کا باضابطہ خاتمہ ہوا۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
- سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
- سلطنتِ سلاجقہ 1038ء–1194ء
- سلاجقہ روم 1061ء–1307ء
- سلطنتِ عثمانیہ
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
- الجزائر: عثمانی ایالت 1516ء–1830ء
- طرابلس الغرب: عثمانی دور اور قرہ مانلی 1551ء–1911ء
- تونس: عثمانی ایالت اور حسینی بے 1574ء–1881ء
- مصر: محمد علی پاشا کا خاندان (خدیویت) 1805ء–1922ء
- مملکتِ حجاز (ہاشمی) 1916ء–1925ء
- عراق: برطانوی انتداب 1920ء–1932ء
- شام و لبنان: فرانسیسی انتداب 1920ء–1946ء
- فلسطین و شرقِ اردن: برطانوی انتداب 1920ء–1948ء
- جمہوریہ ترکیہ 1923ء–تاحال
عروج کے اسباب
عثمان اول نے اناطولیہ کی ایک چھوٹی امارت سے آغاز کیا؛ بعد کے سلاطین نے مسلسل فوجی مہمات، بالخصوص 1453ء میں سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی فتح کے ذریعے سلطنت کو تین براعظموں پر پھیلایا۔
زوال کے اسباب
سترہویں صدی کے بعد یورپی طاقتوں کے مقابلے میں فوجی و تکنیکی برتری کھونے، اندرونی زوال اور قوم پرستانہ تحریکوں کے باعث سلطنت کمزور ہوتی گئی، یہاں تک کہ پہلی جنگِ عظیم میں شکست کے بعد 1922ء میں سلطنت کا باضابطہ خاتمہ ہوا۔
حکمران (37)
عثمان اول
1299ء – 1326ءآلِ عثمان سلطنت کی بنیاد رکھی۔
اورخان اول
1326ء – 1362ءبورصہ کو دارالحکومت بنایا اور یورپ (روم ایلی) میں پہلی مہمات کیں۔
مراد اول
1362ء – 1389ءبلقان میں وسیع فتوحات کیں اور یانی چری فوجی دستے کی بنیاد رکھی۔
بایزید اول (یِلدرم)
1389ء – 1402ءتیمور کے ہاتھوں 1402ء کی جنگِ انقرہ میں شکست کھا کر اسیر ہوئے، جس سے سلطنت میں خانہ جنگی (فترت) شروع ہوئی۔
محمد اول (چلپی)
1413ء – 1421ءبھائیوں کے ساتھ خانہ جنگی کے بعد سلطنت کو دوبارہ متحد کیا۔
مراد دوم
1421ء – 1451ءدو مرتبہ تخت نشین ہوئے؛ ورنا کی جنگ میں یورپی صلیبی اتحاد کو شکست دی۔
سلطان محمد فاتح
1451ء – 1481ء1453ء میں قسطنطنیہ فتح کی، جو بازنطینی سلطنت کے خاتمے کی علامت بنی۔
بایزید دوم
1481ء – 1512ءبحری قوت کو مضبوط کیا اور اندلس سے نکالے گئے مسلمانوں و یہودیوں کو پناہ دی۔
سلیم اول
1512ء – 1520ء1517ء میں مصر کی مملوک سلطنت فتح کر کے خلافت کا دعویٰ حاصل کیا اور صفوی سلطنت کو چالدران میں شکست دی۔
سلطان سلیمان القانونی
1520ء – 1566ءسلطنت اپنے جغرافیائی اور قانونی نظام کے عروج پر پہنچی۔
سلیم دوم
1566ء – 1574ءقبرص فتح کیا؛ ان کے دور میں بحری قوت کو جنگِ لپانتو میں نقصان پہنچا۔
مراد ثالث
1574ء – 1595ءایران کے ساتھ طویل جنگیں لڑیں۔
محمد ثالث
1595ء – 1603ءہنگری میں مہمات جاری رکھیں۔
احمد اول
1603ء – 1617ءاستنبول میں سلطان احمد مسجد (بلیو مسجد) تعمیر کروائی۔
مصطفی اول (پہلا دور)
1617ء – 1618ءذہنی کمزوری کے باعث مختصر عرصے بعد معزول ہوئے۔
عثمان دوم
1618ء – 1622ءیانی چری فوج کی طاقت کم کرنے کی کوشش میں قتل ہوئے۔
مصطفی اول (دوسرا دور)
1622ء – 1623ءدوبارہ تخت نشین ہوئے، مگر جلد ہی حتمی طور پر معزول کر دیے گئے۔
مراد چہارم
1623ء – 1640ءداخلی نظم بحال کیا اور بغداد کو دوبارہ فتح کیا۔
ابراہیم اول
1640ء – 1648ءکریٹ کی مہم شروع کی، بعد میں معزول اور قتل ہوئے۔
محمد چہارم
1648ء – 1687ءطویل دور، 1683ء میں ویانا کا محاصرہ ناکام ہوا جو سلطنت کے یورپی زوال کا آغاز ثابت ہوا۔
سلیمان دوم
1687ء – 1691ءمقدس اتحاد کے خلاف جنگوں کا سامنا کیا۔
احمد دوم
1691ء – 1695ءیورپی محاذ پر دفاعی جنگیں جاری رکھیں۔
مصطفی دوم
1695ء – 1703ءمعاہدۂ کارلووِٹز کے تحت وسیع علاقے کھو دیے۔
احمد ثالث
1703ء – 1730ء'دورِ لالہ' کے نام سے مشہور ثقافتی و تعمیراتی دور۔
محمود اول
1730ء – 1754ءفوجی اصلاحات کا آغاز کیا۔
عثمان ثالث
1754ء – 1757ءمختصر اور غیر نمایاں دور۔
مصطفی ثالث
1757ء – 1774ءروس کے ساتھ جنگ میں شکستوں کا سامنا کیا۔
عبدالحمید اول
1774ء – 1789ءروس کے ساتھ معاہدۂ کوچک قینارجہ پر دستخط کیے۔
سلیم ثالث
1789ء – 1807ء'نظامِ جدید' کے تحت جدید فوجی اصلاحات متعارف کروائیں، مگر باغی یانی چریوں کے ہاتھوں معزول و قتل ہوئے۔
مصطفی چہارم
1807ء – 1808ءمختصر اور بحرانی دور۔
محمود دوم
1808ء – 1839ءیانی چری فوج کا خاتمہ کر کے جدید فوجی و انتظامی اصلاحات نافذ کیں۔
عبدالمجید اول
1839ء – 1861ء'تنظیمات' کی اصلاحات کے ذریعے سلطنت کو جدید بنانے کی کوشش کی۔
عبدالعزیز
1861ء – 1876ءبحری بیڑے کو جدید بنایا، مگر مالی بدانتظامی کے باعث معزول ہوئے۔
مراد خامس
1876ءذہنی صحت کی خرابی کے باعث چند ماہ بعد ہی معزول ہوئے۔
عبدالحمید ثانی
1876ء – 1909ءطویل دور میں پہلی آئینی مشروطیت کو معطل کیا؛ 1908ء کی مشروطیت کی بحالی کے بعد معزول ہوئے۔
محمد خامس
1909ء – 1918ءپہلی جنگِ عظیم میں سلطنت کی شمولیت کے دور کے سلطان۔
محمد ششم (وحید الدین)
1918ء – 1922ءسلطنتِ عثمانیہ کے آخری سلطان — 1922ء میں ترک قومی اسمبلی کے ہاتھوں سلطنت کا خاتمہ ہوا۔
متعلقہ واقعات
ماخذ و وضاحت
سلطنتِ عثمانیہ 1922ء میں باضابطہ طور پر ختم ہوئی؛ خلافتِ عثمانیہ کا مکمل خاتمہ 1924ء میں ہوا — ٹائم لائن میں موجود 'خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ' اندراج ملاحظہ کریں۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔