مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · اناطولیہ

سلطنتِ عثمانیہ

الدولة العثمانية

1300ء (699ھ) – تقریباً 1922ء (1341ھ)622 برس

آغاز1300ء (699ھ)
اختتامتقریباً 1922ء (1341ھ)
مدت622 برس
خطہاناطولیہ
بانیعثمان اول
دارالحکومتاستنبول (قسطنطنیہ)

تاریخ کی طویل ترین اور سب سے وسیع مسلم سلطنتوں میں سے ایک، جس نے 1453ء میں قسطنطنیہ فتح کیا اور تین براعظموں پر حکومت کی۔ 1922ء میں سلطنت اور 1924ء میں خلافت کا باضابطہ خاتمہ ہوا۔

تاریخی تسلسل

  1. ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
  2. خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
  3. بنو امیہ 662ء–750ء
  4. بنو عباس 748ء–1258ء
  5. سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
  6. سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
  7. سلطنتِ سلاجقہ 1038ء–1194ء
  8. سلاجقہ روم 1061ء–1307ء
  9. سلطنتِ عثمانیہ

عروج کے اسباب

عثمان اول نے اناطولیہ کی ایک چھوٹی امارت سے آغاز کیا؛ بعد کے سلاطین نے مسلسل فوجی مہمات، بالخصوص 1453ء میں سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی فتح کے ذریعے سلطنت کو تین براعظموں پر پھیلایا۔

زوال کے اسباب

سترہویں صدی کے بعد یورپی طاقتوں کے مقابلے میں فوجی و تکنیکی برتری کھونے، اندرونی زوال اور قوم پرستانہ تحریکوں کے باعث سلطنت کمزور ہوتی گئی، یہاں تک کہ پہلی جنگِ عظیم میں شکست کے بعد 1922ء میں سلطنت کا باضابطہ خاتمہ ہوا۔

حکمران (37)

  1. عثمان اول

    1299ء – 1326ء

    آلِ عثمان سلطنت کی بنیاد رکھی۔

  2. اورخان اول

    1326ء – 1362ء

    بورصہ کو دارالحکومت بنایا اور یورپ (روم ایلی) میں پہلی مہمات کیں۔

  3. مراد اول

    1362ء – 1389ء

    بلقان میں وسیع فتوحات کیں اور یانی چری فوجی دستے کی بنیاد رکھی۔

  4. بایزید اول (یِلدرم)

    1389ء – 1402ء

    تیمور کے ہاتھوں 1402ء کی جنگِ انقرہ میں شکست کھا کر اسیر ہوئے، جس سے سلطنت میں خانہ جنگی (فترت) شروع ہوئی۔

  5. محمد اول (چلپی)

    1413ء – 1421ء

    بھائیوں کے ساتھ خانہ جنگی کے بعد سلطنت کو دوبارہ متحد کیا۔

  6. مراد دوم

    1421ء – 1451ء

    دو مرتبہ تخت نشین ہوئے؛ ورنا کی جنگ میں یورپی صلیبی اتحاد کو شکست دی۔

  7. 1453ء میں قسطنطنیہ فتح کی، جو بازنطینی سلطنت کے خاتمے کی علامت بنی۔

  8. بایزید دوم

    1481ء – 1512ء

    بحری قوت کو مضبوط کیا اور اندلس سے نکالے گئے مسلمانوں و یہودیوں کو پناہ دی۔

  9. سلیم اول

    1512ء – 1520ء

    1517ء میں مصر کی مملوک سلطنت فتح کر کے خلافت کا دعویٰ حاصل کیا اور صفوی سلطنت کو چالدران میں شکست دی۔

  10. سلطنت اپنے جغرافیائی اور قانونی نظام کے عروج پر پہنچی۔

  11. سلیم دوم

    1566ء – 1574ء

    قبرص فتح کیا؛ ان کے دور میں بحری قوت کو جنگِ لپانتو میں نقصان پہنچا۔

  12. مراد ثالث

    1574ء – 1595ء

    ایران کے ساتھ طویل جنگیں لڑیں۔

  13. محمد ثالث

    1595ء – 1603ء

    ہنگری میں مہمات جاری رکھیں۔

  14. احمد اول

    1603ء – 1617ء

    استنبول میں سلطان احمد مسجد (بلیو مسجد) تعمیر کروائی۔

  15. مصطفی اول (پہلا دور)

    1617ء – 1618ء

    ذہنی کمزوری کے باعث مختصر عرصے بعد معزول ہوئے۔

  16. عثمان دوم

    1618ء – 1622ء

    یانی چری فوج کی طاقت کم کرنے کی کوشش میں قتل ہوئے۔

  17. مصطفی اول (دوسرا دور)

    1622ء – 1623ء

    دوبارہ تخت نشین ہوئے، مگر جلد ہی حتمی طور پر معزول کر دیے گئے۔

  18. مراد چہارم

    1623ء – 1640ء

    داخلی نظم بحال کیا اور بغداد کو دوبارہ فتح کیا۔

  19. ابراہیم اول

    1640ء – 1648ء

    کریٹ کی مہم شروع کی، بعد میں معزول اور قتل ہوئے۔

  20. محمد چہارم

    1648ء – 1687ء

    طویل دور، 1683ء میں ویانا کا محاصرہ ناکام ہوا جو سلطنت کے یورپی زوال کا آغاز ثابت ہوا۔

  21. سلیمان دوم

    1687ء – 1691ء

    مقدس اتحاد کے خلاف جنگوں کا سامنا کیا۔

  22. احمد دوم

    1691ء – 1695ء

    یورپی محاذ پر دفاعی جنگیں جاری رکھیں۔

  23. مصطفی دوم

    1695ء – 1703ء

    معاہدۂ کارلووِٹز کے تحت وسیع علاقے کھو دیے۔

  24. احمد ثالث

    1703ء – 1730ء

    'دورِ لالہ' کے نام سے مشہور ثقافتی و تعمیراتی دور۔

  25. محمود اول

    1730ء – 1754ء

    فوجی اصلاحات کا آغاز کیا۔

  26. عثمان ثالث

    1754ء – 1757ء

    مختصر اور غیر نمایاں دور۔

  27. مصطفی ثالث

    1757ء – 1774ء

    روس کے ساتھ جنگ میں شکستوں کا سامنا کیا۔

  28. عبدالحمید اول

    1774ء – 1789ء

    روس کے ساتھ معاہدۂ کوچک قینارجہ پر دستخط کیے۔

  29. سلیم ثالث

    1789ء – 1807ء

    'نظامِ جدید' کے تحت جدید فوجی اصلاحات متعارف کروائیں، مگر باغی یانی چریوں کے ہاتھوں معزول و قتل ہوئے۔

  30. مصطفی چہارم

    1807ء – 1808ء

    مختصر اور بحرانی دور۔

  31. محمود دوم

    1808ء – 1839ء

    یانی چری فوج کا خاتمہ کر کے جدید فوجی و انتظامی اصلاحات نافذ کیں۔

  32. عبدالمجید اول

    1839ء – 1861ء

    'تنظیمات' کی اصلاحات کے ذریعے سلطنت کو جدید بنانے کی کوشش کی۔

  33. عبدالعزیز

    1861ء – 1876ء

    بحری بیڑے کو جدید بنایا، مگر مالی بدانتظامی کے باعث معزول ہوئے۔

  34. مراد خامس

    1876ء

    ذہنی صحت کی خرابی کے باعث چند ماہ بعد ہی معزول ہوئے۔

  35. عبدالحمید ثانی

    1876ء – 1909ء

    طویل دور میں پہلی آئینی مشروطیت کو معطل کیا؛ 1908ء کی مشروطیت کی بحالی کے بعد معزول ہوئے۔

  36. محمد خامس

    1909ء – 1918ء

    پہلی جنگِ عظیم میں سلطنت کی شمولیت کے دور کے سلطان۔

  37. سلطنتِ عثمانیہ کے آخری سلطان — 1922ء میں ترک قومی اسمبلی کے ہاتھوں سلطنت کا خاتمہ ہوا۔

متعلقہ واقعات

ماخذ و وضاحت

سلطنتِ عثمانیہ 1922ء میں باضابطہ طور پر ختم ہوئی؛ خلافتِ عثمانیہ کا مکمل خاتمہ 1924ء میں ہوا — ٹائم لائن میں موجود 'خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ' اندراج ملاحظہ کریں۔