مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · اناطولیہ

سلاجقہ روم

سلاجقة الروم

1061ء (453ھ) – 1307ء (706ھ)246 برس

آغاز1061ء (453ھ)
اختتام1307ء (706ھ)
مدت246 برس
خطہاناطولیہ
بانیسلیمان بن قتلمش
دارالحکومتقونیہ

عظیم سلجوقی سلطنت کی ایک شاخ جو اناطولیہ (موجودہ ترکی) میں قائم ہوئی اور بعد میں عثمانی سلطنت کے ظہور کی راہ ہموار کی۔

تاریخی تسلسل

  1. ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
  2. خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
  3. بنو امیہ 662ء–750ء
  4. بنو عباس 748ء–1258ء
  5. سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
  6. سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
  7. سلطنتِ سلاجقہ 1038ء–1194ء
  8. سلاجقہ روم
  9. سلطنتِ عثمانیہ 1300ء–1922ء

عروج کے اسباب

عظیم سلجوقی سلطنت کے ایک شہزادے سلیمان بن قتلمش نے 1071ء کی جنگِ ملازگرد کے بعد کھلنے والے مواقع سے فائدہ اٹھا کر اناطولیہ میں آزاد سلطنت قائم کی۔

زوال کے اسباب

صلیبی جنگوں کے دباؤ اور بالخصوص 1243ء میں منگولوں کے ہاتھوں جنگِ کوسہ داغ کی شکست نے سلطنت کو کمزور کر دیا، جس سے چھوٹی ترک امارتیں (بشمول آلِ عثمان) وجود میں آئیں۔

حکمران (15)

  1. سلاجقہ روم کی بنیاد رکھی۔

  2. قِلج ارسلان اول

    1092ء – 1107ء

    صلیبیوں کی پہلی مہم کے خلاف مہمات جاری رکھیں۔

  3. ملک شاہ

    1107ء – 1116ء

    مختصر و غیر مستحکم دور۔

  4. مسعود اول

    1116ء – 1156ء

    طویل دور میں سلطنت کو صلیبی و بازنطینی دباؤ سے محفوظ رکھا۔

  5. قِلج ارسلان دوم

    1156ء – 1192ء

    1176ء میں مریوکیفالون کی جنگ میں بازنطینیوں کو شکست دی۔

  6. غیاث الدین کیخسرو اول

    1192ء – 1211ء

    دو مرتبہ تخت نشین ہوئے؛ چوتھی صلیبی جنگ کے دور میں انطالیہ فتح کی۔

  7. رکن الدین سلیمان دوم

    1196ء – 1204ء

    سلطنت کو استحکام دیا اور ترابزون کے خلاف مہمات کیں۔

  8. قِلج ارسلان ثالث

    1204ء – 1205ء

    مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  9. عزالدین کیکاؤس اول

    1211ء – 1220ء

    1214ء میں انطاکیہ کی بندرگاہ سینوپ فتح کی۔

  10. سلطنت کے عروج کے دور کا حکمران، تعمیرات اور تجارت کو فروغ دیا۔

  11. غیاث الدین کیخسرو دوم

    1237ء – 1246ء

    1243ء میں جنگِ کوسہ داغ میں منگولوں سے شکست کھا کر سلطنت کو ان کا باجگزار بنا دیا۔

  12. عزالدین کیکاؤس دوم

    1246ء – 1260ء

    بھائیوں کے ساتھ مشترکہ حکمرانی کے دور میں سینئر سلطان رہے۔

  13. رکن الدین قِلج ارسلان چہارم

    1257ء – 1266ء

    منگول حمایت سے تنہا سلطان بنے۔

  14. غیاث الدین کیخسرو ثالث

    1265ء – 1284ء

    منگول ایلخانی سرپرستی میں برائے نام سلطان رہے۔

  15. غیاث الدین مسعود دوم

    1284ء – 1308ء

    سلطنت کے آخری برسوں میں کئی بار (وقفوں کے ساتھ) تخت نشین ہوئے، جب تک مقامی ترک امارتیں (بشمول آلِ عثمان) خودمختار نہ ہو گئیں۔

متعلقہ واقعات

ماخذ و وضاحت

1246ء کے بعد کا دور منگول ایلخانی سرپرستی اور بھائیوں کے درمیان مشترکہ یا متبادل حکمرانی کی وجہ سے پیچیدہ ہے — یہاں ہر دور کا صرف نمائندہ خلاصہ درج کیا گیا ہے۔